Urdu Deccan

Friday, April 23, 2021

ہری چند اختر

 یوم پیدائش 15 اپریل 1900


ملے گی شیخ کو جنت، ہمیں دوزخ عطا ہوگا

بس اتنی بات ہے جس کے لیے محشر بپا ہوگا


رہے دو دو فرشتے ساتھ اب انصاف کیا ہوگا

کسی نے کچھ لکھا ہوگا کسی نے کچھ لکھا ہوگا


بروز حشر حاکم قادر مطلق خدا ہوگا

فرشتوں کے لکھے اور شیخ کی باتوں سے کیا ہوگا


تری دنیا میں صبر و شکر سے ہم نے بسر کر لی

تری دنیا سے بڑھ کر بھی ترے دوزخ میں کیا ہوگا


سکون مستقل دل بے تمنا شیخ کی صحبت

یہ جنت ہے تو اس جنت سے دوزخ کیا برا ہوگا


مرے اشعار پر خاموش ہے جز بز نہیں ہوتا

یہ واعظ واعظوں میں کچھ حقیقت آشنا ہوگا


بھروسہ کس قدر ہے تجھ کو اخترؔ اس کی رحمت پر

اگر وہ شیخ صاحب کا خدا نکلا تو کیا ہوگا


ہری چند اختر


نشور واحدی

 یوم پیدائش 15 اپریل 1912


وقت کا قافلہ آتا ہے گزر جاتا ہے

آدمی اپنی ہی منزل میں ٹھہر جاتا ہے


ایک بگڑی ہوئی قسمت پہ نہ ہنسنا اے دوست

جانے کس وقت یہ انسان سنور جاتا ہے


اس طرف عیش کی شمعیں تو ادھر دل کے چراغ

دیکھنا یہ ہے کہ پروانہ کدھر جاتا ہے


جام و صہبا کی مجھے فکر نہیں اے غم دل

میرا پیمانہ تو اشکوں ہی سے بھر جاتا ہے


ایک رشتہ بھی محبت کا اگر ٹوٹ گیا

دیکھتے دیکھتے شیرازہ بکھر جاتا ہے


حال میرے لیے ہے لمحۂ آئندہ نشورؔ

وقت شاعر کے لیے پہلے گزر جاتا ہے


نشور واحدی


حسرت جے پوری

 یوم پیدائش 15 اپریل 1922


شعلہ ہی سہی آگ لگانے کے لیے آ

پھر نور کے منظر کو دکھانے کے لیے آ


یہ کس نے کہا ہے مری تقدیر بنا دے

آ اپنے ہی ہاتھوں سے مٹانے کے لیے آ


اے دوست مجھے گردش حالات نے گھیرا

تو زلف کی کملی میں چھپانے کے لیے آ


دیوار ہے دنیا اسے راہوں سے ہٹا دے

ہر رسم محبت کو مٹانے کے لیے آ


مطلب تری آمد سے ہے درماں سے نہیں ہے

حسرتؔ کی قسم دل ہی دکھانے کے لئے آ


حسرتؔ جے پوری


Wednesday, April 14, 2021

شاہین کاظمی

 آرزو کے سراب 


اُسی نیم شب کے سکوت میں

وہی چاپ تھی وہی آہٹیں


وہ رُکی رُکی سی ہوائےشب

وہ تھمی تھمی سی تھیں دھڑکنیں


وہی عشقِ پیچاں کی بیل تھی 

مری کھڑکیوں پہ جھکی ہوئی


وہی بام و در وہی راستے 

وہی موڑ تھا وہی بے بسی


وہی ڈھلتے چاند کی چاندنی

وہی دُکھتے سانس کے روگ تھے


وہی خواہشیں وہی زندگی

وہی سارے غم وہی سوگ تھے


وہی آنکھ تھی وہی رتجگے

وہی راکھ راکھ سے خواب تھے


وہی فاصلوں کی رداء رہی

وہی آبلوں کے عذاب تھے


وہی طاقچوں میں دھری ہوئی 

مری آس تھی مرے خواب تھے


وہی عشقِ پیچاں کی بیل ہے

وہی اَدھ جلے سے گلاب ہیں


انھیں طاقچوں میں دھری ہوئی

مری آس ہے مرے خواب ہیں


وہی دھوپ ہے وہی دشتِ جاں 

وہی آرزو کے سراب ہیں


شاھین کاظمی


ارشد عبد الحمید

 یوم پیدائش 13 اپریل 1958


سخن کے چاک میں پنہاں تمہاری چاہت ہے

وگرنہ کوزہ گری کی کسے ضرورت ہے


زمیں کے پاس کسی درد کا علاج نہیں

زمین ہے کہ مرے عہد کی سیاست ہے


یہ انتظار نہیں شمع ہے رفاقت کی

اس انتظار سے تنہائی خوبصورت ہے


میں کیسے وار دوں تجھ پر مرے ستارۂ شام

یہ حرف خواب تو اک چاند کی امانت ہے


میں خاک خواب پلک سے جھٹکنے والا تھا

پتا چلا کہ یہی حاصل مسافت ہے


یہ مستطیل سا خاکہ کہ جس کو گھر کہیے

اسی کے دائرہ و در میں میری جنت ہے


یہ خوشہ چینی خوان انیسؔ ہے ارشدؔ

نمک نمط جو مرے شعر میں فصاحت ہے


ارشد عبد الحمید


فضل حیات حیات

 یوم پیدائش 13اپریل 1970


خداؤں سے بغاوت کر رہا ہوں 

میں اپنی جان غارت کر رہا ہوں 


فقط اللہ ہے سجدے کے لائق 

سبھی کو یہ نصیحت کر رہا ہوں


گریباں سے پکڑنا ہے سبھی کو 

دلیری کی جسارت کر رہا ہوں


 اندھیرے بھی پلٹ جائیں گے آخر

 میں قرآں کی تلاوت کر رہا ہوں


ہمیشہ خواب یہ دیکھا ہے آقا

ترے در کی زیارت کر رہا ہوں


فضل حیات حیات


طلعت منیر

 ترک دنیا کو بھی اک کار خطا رکھا ہے

عشق مخلص کو بھی دنیا میں پھنسا رکھا ہے


ہجر کی آگ میں جلتا رہا بے لوث جنوں

وصل پر جسم کا چلمن سا گرا رکھا ہے


تیری قربت ہو میسر تو الگ ہے ورنہ

تیری حوروں تری جنت ہی میں کیا رکھا ہے


ان خطاؤں کی سزا میری محبت کو نہ دے

جن کو خود تو نے جبلت میں اٹھا رکھا یے


اپنے ہونے کا سبب پوچھتے پھرتے ہیں یہ سب

جن سے عالم کو تو نے اپنے سجا رکھا ہے 


طلعت منیر


زاہد ساویز

 یوم پیدائش 12 اپریل 1967


وہم وحشت خوف دھڑکا کیا بچالے گا تجھے

تیرے اندر کا یہ ڈر ہی مار ڈالے گا تجھے


ہر کسی کو مت سنایا کر تو اپنی داستاں

ہر کوئی پھر چسکے لے لے کے اچھالے گا تجھے


کچھ نہ کہہ پائے گا تو جذبات کو قابو میں رکھ

وہ ہمیشہ کی طرح اب بھی دبا لے گا تجھے


تو سمجھتا ہے بہت ہشیار خود کو پر وہ شخص

دیکھنا پھر اپنے چنگل میں پھسا لے گا تجھے


جاتو تو ایسے رہا ہےاس سے ملنے کے لئے

جیسے اٹھ کر وہ گلے سے ہی لگا لے گا تجھے


وقت اور حالات پہلے سے موافق اب نہیں

کون اب ساویز ایسے میں سنبھالے گا تجھے


زاہد ساویز


طاہر گل

 یوم پیدائش 12 اپریل 1968


اے دوست دل حیات سے محوِ نبرد ہے

مت یہ گمان کر کہ مرا خون سرد ہے


میں ہوں تلاشِ منزلِ ہستی کو گامزن

چہرے پہ میرے دیکھ لے صدیوں کی گرد ہے


اس کو بھی میری حالتِ دل کی ہے کچھ خبر

معمول سے زیادہ خزاں اب کے زرد ہے


تو نے بس اک غبار کو منزل سمجھ لیا

اک دشتِ بے کراں پسِ دیوارِ گرد ہے


گزرے ہیں جس کے قیس اور فرہاد نامور

طاہر اسی قبیلہء وحشی کا فرد ہے


طاہرگل


سید انصر

 یوم پیدائش 10 اپریل 


کبھی کبھار ملاقات کا بہانہ بنے

پھر اس کے بعد بلا سے کوئی فسانہ بنے


عجب نہیں ہے کہ اس بار دو اناوں کی جنگ

جہان بھر کی تباہی کا شاخسانہ بنے


وہ سب جہان کا ہے سب جہان اس کا ہے

بس ایک میرے لئے اس کے دل میں جا نہ بنے


ہزار شکر کہ ہم پر گلوں کی بارش ہے

مگر وہ لوگ جو بارود کا نشانہ بنے


حسینیت کی کرامات کا ظہور کہاں 

کہ جب تلک کوئی جنگاہ کربلا نہ بنے


  سید انصر


محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...