کچھ نہیں ملتا محبت میں یہی سچ ہے سحر
پیار کے کھیل میں انسان بکھر جاتا ہے
نادیہ سحر
وم پیدائش 14 جولائی 1936
ذہن بے سمت خیالوں کا نشانہ ہے یہاں
زندگی جیسے یوں ہی ٹھوکریں کھانا ہے یہاں
نغمہ نوحہ ہے یہاں چیخ ترانہ ہے یہاں
بات سو ڈھنگ سے کرنے کا بہانہ ہے یہاں
قہقہہ اپنی تباہی پہ لگانا ہے یہاں
اس خزانہ کو بہر حال لٹانا ہے یہاں
کل کتب خانوں کی ہم لوگ بھی رونق ہوں گے
ہر حقیقت کے مقدر میں فسانہ ہے یہاں
اس خرابے سے نکل کر لب دریا کیا جائیں
ایک قطرے میں سمندر کا فسانا ہے یہاں
کیسے بے حرف و صدا درد کی روداد کہیں
ایک ایک لفظ تو صدیوں کا پرانا ہے یہاں
گھر سے گھبرا کے جو نکلا تو یہ بولی دہلیز
پاؤں شل ہوں گے تو پھر لوٹ کے آنا ہے یہاں
ہر طرف سوچ میں ڈوبے ہوئے یکساں چہرے
جیسے ہر چار طرف آئینہ خانہ ہے یہاں
ساغر مہدی
یوم پیدائش 14 جولائی 1926
ہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگ
دیکھتے ہی دیکھتے کتنے بدل جاتے ہیں لوگ
کس لیے کیجے کسی گم گشتہ جنت کی تلاش
جب کہ مٹی کے کھلونوں سے بہل جاتے ہیں لوگ
کتنے سادہ دل ہیں اب بھی سن کے آواز جرس
پیش و پس سے بے خبر گھر سے نکل جاتے ہیں لوگ
اپنے سائے سائے سرنہوڑائے آہستہ خرام
جانے کس منزل کی جانب آج کل جاتے ہیں لوگ
شمع کے مانند اہل انجمن سے بے نیاز
اکثر اپنی آگ میں چپ چاپ جل جاتے ہیں لوگ
شاعرؔ ان کی دوستی کا اب بھی دم بھرتے ہیں آپ
ٹھوکریں کھا کر تو سنتے ہیں سنبھل جاتے ہیں لوگ
حمایت علی شاعر
یوم پیدائش 13 جولائی 1975
عجیب خواب تھا ہم باغ میں کھڑے ہوئے تھے
ہمارے سامنے پھولوں کے سر پڑے ہوئے تھے
برہنہ تتلیاں رقصاں تھیں عریاں شاخوں پر
زمیں میں سارے شجر شرم سے گڑے ہوئے تھے
تمام پات تھے نیلے بزرگ برگد کے
اسی کو ڈسنے سے سانپوں کے پھن بڑے ہوئے تھے
ضعیف پیڑ تھے بوڑھی ہوا سے شرمندہ
جواں پرندے کسی بات پر اڑے ہوئے تھے
نہ کوئی نغمۂ بلبل نہ کوئی نغمۂ گل
خدائے صبح سے سب خوش گلو لڑے ہوئے تھے
پھر ایک قبر ہوئی شق تو اس میں تھے دو دل
اور ان دلوں میں محبت کے نگ جڑے ہوئے تھے
وہیں پہ سامنے واصفؔ تھا ایک قبرستاں
جہاں یہاں وہاں سب نامور سڑے ہوئے تھے
جبار واصف
یوم پیدائش 13 جولائی 1864
ہمارے زخم میں ٹھنڈک لہو سے ہوتی رہتی ہے
تسّلی دل کی تکلیفِ رفو سے ہوتی رہتی ہے
زمانہ قدر داں ہوتا ہے صورت اور سیرت کا
گلوں کی قدر جیسے رنگ و بو سے ہوتی رہتی ہے
نہیں تکلیف سے خالی کسی کا پھولنا پھلنا
شجر پر سنگ باری چار سو سے ہوتی رہتی ہے
جو میں آپ آپ کہتا ہوں حقارت وہ سمجھتے ہیں
مری عزت فزائی لفظ ” تُو “ سے ہوتی رہتی ہے
قناعت کرتی رہتی ہے جو سیپی اگر نیساں پر
بسر دُرِّ عدن کی آبرو سے ہوتی رہتی ہے
ہے مجھ پہ مہرباں اس قدر تکلیف زنداں کی
کہ خم گردن میری طوق گلو سے ہوتی رہتی ہے
میانِ میکدہ جب دیر تک ساقی نہیں ملتا
تشفی رند کی جام و سبو سے ہوتی رہتی ہے
افق کی میکشی کی حافظِ شیراز کی صورت
زمانے میں شہرت لکھنؤ سے ہوتی رہتی ہے
افق لکھنؤی
یوم پیدائش 13 جولائی 1969
عین ممکن تھا کسی رنگ میں ڈھالے جاتے
گر ترے درد مرے دل سے سنبھالے جاتے
میں جو آدابِ محبت سے شناسا ہوتا
تیری محفل میں دیئے میرے حوالے جاتے
تم اگر کرتے حمایت میں مری لفظ ادا
میری ہر بات میں کیوں نقص نکالے جاتے
مجھ کو دولت سے اگر رب نے نوازا ہوتا
عیب میرے نہ زمانے میں اُچھالے جاتے
میں نے اچھا ہی کیا دوست بنائے ہی نہیں
آستینوں میں کہاں مجھ سے یہ پالے جاتے
تُو بھی کہتا کہ وفادار ہے عابدؔ تیرا
تیرے ارشاد اگر مجھ سے نہ ۔۔۔ ٹالے جاتے
ایس،ڈی،عابدؔ
حَشمت و جَاہ کی توقِیر بدل جاتی ہے
بَخت ڈَھل جاتے ہیں ' تقدیر بدل جاتی ہے
وَجد میں ہوش کہاں رہتا ہے دِیوانے کو
رَقص میں پاؤں کی زنجیر بدل جاتی ہے
روز بدلے ہوئے لگتے ہیں مَنَاظَر مُجھ کو
روز ہی شہر کی تعمِیر بدل جاتی ہے
میں بناتی ہوں جوانی کے خَد و خَال مگر
عُمر ڈَھلتی ہے تو تصویر بدل جاتی ہے
تیرے چُھوتے ہی مُحبت کے مسِیحا میرے
جِسم میں خُون کی تاثِیر بدل جاتی ہے
کُچھ بھی رہتا نہیں تادیر مُحبت کے سِوا
نَقش مِٹ جاتے ہیں تحریر بدل جاتی ہے
حنا کوثر
یوم پیدائش 12 جولائی 1936
عادت مری دنیا سے چھپانے کی نہیں تھی
وہ بات بھی کہہ دی جو بتانے کی نہیں تھی
میں خوش ہوں بہت گرد کو آئینے پہ رکھ کر
دی وہ مجھے صورت جو دکھانے کی نہیں تھی
ہم کھا گئے دھوکا تری آنکھوں کی نمی سے
وہ چوٹ دکھا دی جو دکھانے کی نہیں تھی
اچھا ہوا نیند آ گئی ارباب وفا کو
آگے یہ کہانی بھی سنانے کی نہیں تھی
یوں دل کو کیا شعلۂ غم تیرے حوالے
اس گھر میں کوئی چیز بچانے کی نہیں تھی
کچھ اس لئے اپنا نہ سکا اس کو زمانہ
صولتؔ کی جو عادت تھی زمانے کی نہیں تھی
صولت زیدی
یوم پیدائش 12 جولائی 1885
حجاب رنگ و بو ہے اور میں ہوں
یہ دھوکا تھا کہ تو ہے اور میں ہوں
مقام بے نیازی آ گیا ہے
وہ جان آرزو ہے اور میں ہوں
فریب شوق سے اکثر یہ سمجھا
کہ وہ بیگانہ خو ہے اور میں ہوں
کبھی سودا تھا تیری جستجو کا
اب اپنی جستجو ہے اور میں ہوں
کبھی دیکھا تھا اک خواب محبت
اب اس کی آرزو ہے اور میں ہوں
فقط اک تم نہیں تو کچھ نہیں ہے
چمن ہے آب جو ہے اور میں ہوں
پھر اس کے بعد ہے اس ہو کا عالم
بس اک حد تک ہی تو ہے اور میں ہوں
اثر لکھنوی
یوم پیدائش 12 جولائی 1924
پھوٹ چکی ہیں صبح کی کرنیں سورج چڑھتا جائے گا
رات تو خود مرتی ہے ستارو تم کو کون بچائے گا
جو ذرہ جنتا میں رہے گا وہ تارا بن جائے گا
جو سورج ان کو بھولے گا وہ آخر بجھ جائے گا
تنہا تنہا رو لینے سے کچھ نہ بنے گا کچھ نہ بنا
مل جل کر آواز اٹھاؤ پربت بھی ہل جائے گا
مانا آج کڑا پہرا ہے ہم بپھرے انسانوں پر
لیکن سوچو تنکا کب تک طوفاں کو ٹھہرائے گا
کیوں چنتا زنجیروں کی ہتھکڑیوں سے ڈرنا کیسا
تم انگارہ بن جاؤ لوہا خود ہی گل جائے گا
جنتا کی آواز دبا دے یہ ہے کس کے بس کی بات
ہر وہ شیشہ ٹوٹے گا جو پتھر سے ٹکرائے گا
پونجی پتیو یاد رکھو وہ دن بھی اب کچھ دور نہیں
بند تجوری میں ہر سکہ انگارہ بن جائے گا
دکھ میں رونا دھونا کیسا مورکھ انساں ہوش میں آ
تو اس بھٹی میں تپ تپ کر کندن بنتا جائے گا
تن کے ناسوروں کو اجلے کپڑوں سے ڈھانپا لیکن
کس پردے میں لے جا کر تو من کا کوڑھ چھپائے گا
کس نے سمجھا ہے ڈھلتے سورج کا یہ سندیش یہاں
جو بھی بول بڑا بولے گا اک دن منہ کی کھائے گا
نازش پرتاپ گڑھی
یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...