Urdu Deccan

Sunday, November 14, 2021

اقبال بالے

 جو لکھ گئی تھی ہماری قسمت وہی ہوئی ہے

"کہ یہ اداسی ہمارا سایہ بنی ہوئی ہے"


حسین زلفوں کے پیچ و خم میں الجھ گئے تھے

گزرتے لمحوں کے ساتھ پھر آگہی ہوئی ہے


روش کو اپنایا قیس و فرہاد کی تبھی تو

ہماری الفت کی داستاں سنسنی ہوئی ہے


نہیں ہے مجھ میں کوئی کمال اور شعور و دانش

کرم ہے رب کا جو بات اب تک بنی ہوئی ہے


اسی لئے جی رہا ہوں میں اس جہاں میں ،بالے

یہاں کی ہر شے میں وجہِ نسیاں بھری ہوئی ہے


اقبال بالے


ظہیر مشتاق

 یوم پیدائش 14 نومبر 1982


بچھڑتے وقت بھی ہارا نہیں گیا مجھ سے 

وہ جا رہا تھا پکارا نہیں گیا مجھ سے 


جو سچ کہوں تو زمانہ تری جدائی کا 

گزر گیا ہے گزارا نہیں گیا مجھ سے 


لچکتی شاخ بلاتی ہی رہ گئی لیکن

پرایا پھول اتارا نہیں گیا مجھ سے 


بدل چکا ہوں میں اتنا سوانگ بھرتے ہوئے

خود اپنا روپ ہی دھارا نہیں گیا مجھ سے 


جو ایک بارِ زیاں تھا ظہیر شانے پر

گرا دیا ہے اتارا نہیں گیا مجھ سے


ظہیر مشتاق


اطہر عطو


 وہ چاند ہے ستارہ ہے یا آفتاب ہے ؟

آنکھوں میں روشنی کی جگہ جس کا خواب ہے


میں آرزو کے گاوں کی لڑکی ہوں خار سی

تو شہرِ ممکنات کا کھلتا گلاب ہے


 مرنا ہی اب روا ہے مجھے ربِ کائنات

اس نامراد دور میں جینا عذاب ہے


اطہر عطو

Saturday, November 13, 2021

شعیب زمان

 یوم پیدائش 14 نومبر


چاہے جس چاک پر گھماؤ مجھے

تم مرا آئینہ بناؤ مجھے


ڈوب سکتی نہیں مری آواز

لگنے والا نہیں یہ گھاؤ مجھے


ورنہ دل میں اتر بھی سکتا ہوں

پہلی فرصت میں بھول جاؤ مجھے


قید کرنا بھی سیکھ جاؤں گا

پہلے زنجیر تو بناؤ مجھے


ٹوٹ جانے سے بچ گیا ہوں میں

راس آیا ہے یہ جھکاؤ مجھے


شعیب زمان


ظہیر ناصری

 خزانہ دل میں علم وآگہی کا ہم بھی رکھتے ہیں

مٹانے تشنگی مٹّی کا کوزہ ہم بھی رکھتے ہیں


قلندرہیں ہمیں دربارِشاہی سے ھے کیا مطلب

وہاں تک باریابی کا وثیقہ ہم بھی رکھتے ہیں


چمن میں پھولنے پھلنے کا موقع کیوں نہیں حاصل

سرِشاخِ تمنّاآشیانہ ہم بھی رکھتے ہیں


ابھی طاقِ گماں میں کچھ دھواں باقی ھے ماضی کا

یقیں انگیز بنناہوتو سرمہ ہم بھی رکھتے ہیں


نواحِ شہرِ جاں میں آگ برسانے کی خوُ کب تک

بجھانے آگ نوحی پاک دریا ہم بھی رکھتے ہیں


ترے نقشِ قدم ہیں چاند کے سینے پہ، حیرت کیا

اُسے دونیم کرنے کا اشارا ہم بھی رکھتے ہیں


اگر زنخیر ٹوٹے پاسداری کی ظہیر اک دن

ہُنر حلقوں کو پھر سے جوڑنے کا ہم بھی رکھتے ہیں


ظہیر ناصری محبوب نگر


شاہین فصیح ربانی

 یوم پیدائش 14 نومبر 1964


خواب کے حسن کا الطاف نہیں پاتا ہوں

اس کو تعبیر کا ملبوس جو پہناتا ہوں


جب کبهی حسنِ سماعت کا بدن پاتا ہوں

"تیری آواز کے قدموں سے لپٹ جاتا ہوں"


مجھ کو دستک پہ بهی ملتی نہیں کردار کی بھیک

درِ افسانہ سے خالی ہی پلٹ آتا ہوں


آ گئی راس مجھے ہجر کی بے چین فضا

اب تری پیشکشِ قرب کو ٹھکراتا ہوں


جب بھی تنہائی تری یاد سے ملواتی ہے

دل پہ کھائی ہوئی اک چوٹ کو سہلاتا ہوں


دن فقط سوچ کی دیتا ہے سہولت پیارے

رات ہونے دے، ترے خواب میں آ جاتا ہوں


یوں رہِ زیست سرابوں سے اٹی ہے کہ نہ پوچھ

پانی بھرنے کے لیے دشت میں آ جاتا ہوں


عمر آوازوں کے جنگل میں گزاری ہے فصیح

بات کرتا ہوں تو لگتا ہے کہ چِلّاتا ہوں


شاہین فصیح ربانی


پیر نصیر الدین شاہ نصیر

 یوم پیدائش 14 نومبر 1949


کبھی ان کا نام لینا کبھی ان کی بات کرنا

مرا ذوق ان کی چاہت مرا شوق ان پہ مرنا


وہ کسی کی جھیل آنکھیں وہ مری جنوں مزاجی

کبھی ڈوبنا ابھر کر کبھی ڈوب کر ابھرنا


ترے منچلوں کا جگ میں یہ عجب چلن رہا ہے

نہ کسی کی بات سننا، نہ کسی سے بات کرنا


شب غم نہ پوچھ کیسے ترے مبتلا پہ گزری

کبھی آہ بھر کے گرنا کبھی گر کے آہ بھرنا


وہ تری گلی کے تیور، وہ نظر نظر پہ پہرے

وہ مرا کسی بہانے تجھے دیکھتے گزرنا


کہاں میرے دل کی حسرت، کہاں میری نارسائی

کہاں تیرے گیسوؤں کا، ترے دوش پر بکھرنا


چلے لاکھ چال دنیا ہو زمانہ لاکھ دشمن

جو تری پناہ میں ہو اسے کیا کسی سے ڈرنا


وہ کریں گے نا خدائی تو لگے گی پار کشتی

ہے نصیرؔ ورنہ مشکل، ترا پار یوں اترنا


پیر نصیر الدین شاہ نصیر


سیدہ مظلوم فاطمہ جعفری

 علم وادب کی خود میں ہے چاشنی سمیٹے

کتنی یہ منفرد ہے اردو زبان اپنی


سیدہ مظلوم فاطمہ جعفری


رانا التمش ماشی

 یہ نگر وہ نگر قیامت تک 

زندگی ہے سفر قیامت تک


اس کی مرضی ہے کب ملے نہ ملے

میں تو ہوں منتظر قیامت تک


جسم میں روح ڈال کر بولا

آدمی موج کر قیامت تک


وہ کسی اور کا نہ ہو جائے 

رکھ نظر پر نظر قیامت تک


چاندنی آتی جاتی رہنی ہے 

چاند ہے عرش پر قیامت تک


ایک پل ہی ہمیں ڈراتا ہے  

اور رہتا ہے ڈر قیامت تک


مرتے جائیں گے باری باری سب 

چلتا جائے گا گھر قیامت تک


چہرے مٹتے رہیں گے لمحوں میں 

یاد ہو گی مگر قیامت تک


چار دن کی ہے چاندنی دنیا 

چار دن کا اثر قیامت تک


یہ قیامت ہے کیا بھلا ماشی

نہیں ملنی خبر قیامت تک


رانا التمش ماشی


اظہر

 کوئی دل سے اتر گیا شاید

زخم امید بھر گیا شاید


اب وہ روتا ہے روز روتا ہے

کوئی اپنا مکر گیا شاید


اس کا کوچہ پڑا ہے ویرانہ

لوٹ کر اپنے گھر گیا شاید۔


اس کے سانسیں رکی اچانک سے

سن کے آواز ڈر گیا شاید


تیرے لب پر جو مسکراہٹ ہے

دل کا غم اب اتر گیا شاید


یہ جو ہلچل سی دل میں ہے اظہر

پھر سے ارماں ابھر گیا شاید


اظہر


محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...