یوم پیدائش 25 نومبر
فاتحہ پڑھنے کو آتے ہیں ملک صبح و مسا
ہے جہاں روضہ ترا شاہ ھدا کیا کہنے
غلام صمدانی عافی
یوم پیدائش 25 نومبر
فاتحہ پڑھنے کو آتے ہیں ملک صبح و مسا
ہے جہاں روضہ ترا شاہ ھدا کیا کہنے
غلام صمدانی عافی
یوم پیدائش 25 نومبر 1925
گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے
لیکن اتنا تو ہوا کچھ لوگ پہچانے گئے
گرمئ محفل فقط اک نعرۂ مستانہ ہے
اور وہ خوش ہیں کہ اس محفل سے دیوانے گئے
میں اسے شہرت کہوں یا اپنی رسوائی کہوں
مجھ سے پہلے اس گلی میں میرے افسانے گئے
وحشتیں کچھ اس طرح اپنا مقدر بن گئیں
ہم جہاں پہنچے ہمارے ساتھ ویرانے گئے
یوں تو وہ میری رگ جاں سے بھی تھے نزدیک تر
آنسوؤں کی دھند میں لیکن نہ پہچانے گئے
اب بھی ان یادوں کی خوشبو ذہن میں محفوظ ہے
بارہا ہم جن سے گلزاروں کو مہکانے گئے
کیا قیامت ہے کہ خاطرؔ کشتۂ شب تھے بھی ہم
صبح بھی آئی تو مجرم ہم ہی گردانے گئے
خاطر غزنوی
یوم پیدائش 25 نومبر 1909
یہ کریں اور وہ کریں ایسا کریں ویسا کریں
زندگی دو دن کی ہے دو دن میں ہم کیا کیا کریں
دوسروں سے کب تلک ہم پیاس کا شکوہ کریں
لاؤ تیشہ ایک دریا دوسرا پیدا کریں
حسن خود آئے طواف عشق کرنے کے لیے
عشق والے زندگی میں حسن تو پیدا کریں
چڑھ کے سولی پر خریدیں گے خریدار آپ کو
آپ اپنے حسن کا بازار تو اونچا کریں
جی میں آتا ہے کہ دیں پردے سے پردے کا جواب
ہم سے وہ پردہ کریں دنیا سے ہم پردا کریں
سن رہا ہوں کچھ لٹیرے آ گئے ہیں شہر میں
آپ جلدی بند اپنے گھر کا دروازہ کریں
کیجئے گا رہزنی کب تک بہ نام رہبری
اب سے بہتر آپ کوئی دوسرا دھندا کریں
اس پرانی بے وفا دنیا کا رونا کب تلک
آئیے مل جل کے اک دنیا نئی پیدا کریں
دل ہمیں تڑپائے تو کیسے نہ ہم تڑپیں نذیرؔ
دوسرے کے بس میں رہ کر اپنی والی کیا کریں
نذیر بنارسی
یوم پیدائش 24 نومبر 1959
عجب تھا زعم کہ بزم عزا سجائیں گے
مرے حریف لہو کے دیئے جلائیں گے
میں تجربوں کی اذیت کسے کسے سمجھاؤں
کہ تیرے بعد بھی مجھ پر عذاب آئیں گے
بس ایک سجدۂ تعظیم کے تقابل میں
کہاں کہاں وہ جبین طلب جھکائیں گے
عطش عطش کی صدائیں اٹھیں سمندر سے
تو دشت پیاس کے چشمے کہاں لگائیں گے
چھپا کے رکھ تو لیا ہے شرار بو لہبی
دھواں اٹھا تو نظر تک ملا نہ پائیں گے
دراز کرتے رہو دست حق شناس اپنا
بہت ہوا تو وہ نیزے پہ سر اٹھائیں گے
نواح لفظ و معانی میں گونج ہے کس کی
کوئی بتائے یہ امجدؔ کہ ہم بتائیں گے
غفران امجد
بیاد پروین شاکر بمناسبت یوم تولد
نسائی احساسات و جذبات کی ترجمان شہرۂ آفاق شاعرہ پروین شاکر کی نذر
بجھی ناوقت شمعِ زندگی پروین شاکر کی
مگر باقی ہے اب تک روشنی پروین شاکر کی
غزلخواں ہے عروسِ فکر و فن اشعار میں اُس کے
نہایت دلنشیں ہے شاعری پروین شاکر کی
غزل بن کر دھڑکتی ہے دلوں میں اہل دل کے وہ
نہ کم ہوگی کبھی بھی دلکشی پروین شاکر کی
بنالیتی ہے اپنے فکر و فن کا سب کو گرویدہ
غزل میں ہے جو عصری آگہی پروین شاکر کی
ترو تازہ ہیں گلہائے مضامیں آج بھی اُس کے
یونہی قایم رہے گی تازگی پروین شاکر کی
علمبردار تھی وہ جذبۂ احساسِ نسواں کی
نمایاں ہے کتابِ زندگی پروین شاکر کی
دلوں پر نقش ہیں برقیؔ نقوشِ جاوداں اُس کے
ہے عصری معنویت آج بھی پروین شاکر کی
احمد علی برقیؔ اعظمی
یوم پیدائش 24 نومبر 1977
مری ہستی سزا ہونے سے پہلے
میں مر جاتا بڑا ہونے سے پہلے
وہ قبلہ اس گلی سے جا چکا تھا
نماز دل ادا ہونے سے پہلے
محبت اک مسلسل حادثہ تھی
ہمارے بے وفا ہونے سے پہلے
میں اپنی ذات سے نا آشنا تھا
خدا سے آشنا ہونے سے پہلے
خزاں میں پھول سا لگتا تھا مجھ کو
وہ پتھر آئینہ ہونے سے پہلے
بہت مضبوط سی دیوار تھا میں
کسی کا راستا ہونے سے پہلے
اسحاق وردگ
یوم پیدائش 24 نومبر 1957
حروف چند مری شاعری کے چاروں طرف
کہ جیسے پانی ہو تشنہ لبی کے چاروں طرف
ہزار بار بجھی آنکھ پھر ہوئی روشن
کچھ آئینے بھی تھے بے چہرگی کے چاروں طرف
بہت سے خواب تھے رنگین اس کے تھیلے میں
سو لوگ بیٹھ گئے اجنبی کے چاروں طرف
ہوا بدلنے کی آنے لگی ہے خوش خبری
بہت دھواں تھا گزرتی گھڑی کے چاروں طرف
ہم آنے والے زمانوں سے دور کیوں نہ رکھیں
جو الجھنیں ہیں ہماری صدی کے چاروں طرف
یہ کھیل آنکھ مچولی کا دادا پوتے میں
ہنسی کا ہالہ ہے سنجیدگی کے چاروں طرف
جزیرے چھوٹے بڑے ہیں کسی تسلی کے
مری نگاہ میں ٹہری نمی کے چاروں طرف
مکان کھولا گیا گھر میں آنے والوں پر
شجر لگائے گئے بے گھری کے چاروں طرف
چلو حمیراؔ کوئی نیک کام کرتے ہیں
امنگ بوتے ہیں مردہ دلی کے چاروں طرف
حمیرا رحمان
یوم پیدائش 24 نومبر 1953
سلیقہ عشق میں میرا بڑے کمال کا تھا
کہ اختیار بھی دل پر عجب مثال کا تھا
میں اپنے نقش بناتی تھی جس میں بچپن سے
وہ آئینہ تو کسی اور خط و خال کا تھا
رفو میں کرتی رہی پیرہن کو اور ادھر
گماں اسے مرے زخموں کے اندمال کا تھا
یہ اور بات کہ اب چشم پوش ہو جائے
کبھی تو علم اسے بھی ہمارے حال کا تھا
محبتوں میں میں قائل تھی لب نہ کھلنے کی
جواب ورنہ مرے پاس ہر سوال کا تھا
درخت جڑ سے اکھڑنے کے موسموں میں بھی
ہوا کا پیار شجر سے عجب کمال کا تھا
کتاب کس کی مسافت کی لکھ رہی ہے ہوا
یہ قرض اس کی طرف کس کے ماہ و سال کا تھا
شاہدہ حسن
یوم پیدائش 24 نومبر 1952
دھنک دھنک مری پوروں کے خواب کر دے گا
وہ لمس میرے بدن کو گلاب کر دے گا
قبائے جسم کے ہر تار سے گزرتا ہوا
کرن کا پیار مجھے آفتاب کر دے گا
جنوں پسند ہے دل اور تجھ تک آنے میں
بدن کو ناؤ لہو کو چناب کر دے گا
میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گی
وہ جھوٹ بولے گا اور لا جواب کر دے گا
انا پرست ہے اتنا کہ بات سے پہلے
وہ اٹھ کے بند مری ہر کتاب کر دے گا
سکوت شہر سخن میں وہ پھول سا لہجہ
سماعتوں کی فضا خواب خواب کر دے گا
اسی طرح سے اگر چاہتا رہا پیہم
سخن وری میں مجھے انتخاب کر دے گا
مری طرح سے کوئی ہے جو زندگی اپنی
تمہاری یاد کے نام انتساب کر دے گا
پروین شاکر
ماحولِ دلِ زار ابھی کیا تھا ابھی کیا ہے
یہ شہر بھی حیرت کدہء ہوش ربا ہے
اک وہ ہیں کہ اسبابِ زمانہ ہیں ملازم
اک ہم کہ میسر نہ دوا ہے نہ دعا ہے
سب کام دلیلوں سے نہیں چلتے جہاں میں
گر ہم کو یقیں ہے کہ خدا ہے تو خدا ہے
تصویر مکمل ہوں مگر میرا مصور
لگتا ہے یہاں رکھ کے مجھے بھول گیا ہے
بیکار ہے دیواروں سے سر پھوڑنا خالد
کچھ داد رسی ہو تو شکایت بھی بجا ہے
عبداللہ خالد
یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...