Urdu Deccan

Monday, November 29, 2021

غلام صمدانی عافی

 یوم پیدائش 25 نومبر


فاتحہ پڑھنے کو آتے ہیں ملک صبح و مسا

ہے جہاں روضہ ترا شاہ ھدا کیا کہنے


غلام صمدانی عافی


خاطر غزنوی

 یوم پیدائش 25 نومبر 1925


گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے

لیکن اتنا تو ہوا کچھ لوگ پہچانے گئے


گرمئ محفل فقط اک نعرۂ مستانہ ہے

اور وہ خوش ہیں کہ اس محفل سے دیوانے گئے


میں اسے شہرت کہوں یا اپنی رسوائی کہوں

مجھ سے پہلے اس گلی میں میرے افسانے گئے


وحشتیں کچھ اس طرح اپنا مقدر بن گئیں

ہم جہاں پہنچے ہمارے ساتھ ویرانے گئے


یوں تو وہ میری رگ جاں سے بھی تھے نزدیک تر

آنسوؤں کی دھند میں لیکن نہ پہچانے گئے


اب بھی ان یادوں کی خوشبو ذہن میں محفوظ ہے

بارہا ہم جن سے گلزاروں کو مہکانے گئے


کیا قیامت ہے کہ خاطرؔ کشتۂ شب تھے بھی ہم

صبح بھی آئی تو مجرم ہم ہی گردانے گئے


خاطر غزنوی


نذیر بنارسی

 یوم پیدائش 25 نومبر 1909


یہ کریں اور وہ کریں ایسا کریں ویسا کریں

زندگی دو دن کی ہے دو دن میں ہم کیا کیا کریں


دوسروں سے کب تلک ہم پیاس کا شکوہ کریں

لاؤ تیشہ ایک دریا دوسرا پیدا کریں


حسن خود آئے طواف عشق کرنے کے لیے

عشق والے زندگی میں حسن تو پیدا کریں


چڑھ کے سولی پر خریدیں گے خریدار آپ کو

آپ اپنے حسن کا بازار تو اونچا کریں


جی میں آتا ہے کہ دیں پردے سے پردے کا جواب

ہم سے وہ پردہ کریں دنیا سے ہم پردا کریں


سن رہا ہوں کچھ لٹیرے آ گئے ہیں شہر میں

آپ جلدی بند اپنے گھر کا دروازہ کریں


کیجئے گا رہزنی کب تک بہ نام رہبری

اب سے بہتر آپ کوئی دوسرا دھندا کریں


اس پرانی بے وفا دنیا کا رونا کب تلک

آئیے مل جل کے اک دنیا نئی پیدا کریں


دل ہمیں تڑپائے تو کیسے نہ ہم تڑپیں نذیرؔ

دوسرے کے بس میں رہ کر اپنی والی کیا کریں


نذیر بنارسی


عفران امجد

 یوم پیدائش 24 نومبر 1959


عجب تھا زعم کہ بزم عزا سجائیں گے

مرے حریف لہو کے دیئے جلائیں گے


میں تجربوں کی اذیت کسے کسے سمجھاؤں

کہ تیرے بعد بھی مجھ پر عذاب آئیں گے


بس ایک سجدۂ تعظیم کے تقابل میں

کہاں کہاں وہ جبین طلب جھکائیں گے


عطش عطش کی صدائیں اٹھیں سمندر سے

تو دشت پیاس کے چشمے کہاں لگائیں گے


چھپا کے رکھ تو لیا ہے شرار بو لہبی

دھواں اٹھا تو نظر تک ملا نہ پائیں گے


دراز کرتے رہو دست حق شناس اپنا

بہت ہوا تو وہ نیزے پہ سر اٹھائیں گے


نواح لفظ و معانی میں گونج ہے کس کی

کوئی بتائے یہ امجدؔ کہ ہم بتائیں گے


غفران امجد


احمد علی برقی اعظمی

 بیاد پروین شاکر بمناسبت یوم تولد

نسائی احساسات و جذبات کی ترجمان شہرۂ آفاق شاعرہ پروین شاکر کی نذر


بجھی ناوقت شمعِ زندگی پروین شاکر کی

مگر باقی ہے اب تک روشنی پروین شاکر کی


غزلخواں ہے عروسِ فکر و فن اشعار میں اُس کے

نہایت دلنشیں ہے شاعری پروین شاکر کی


غزل بن کر دھڑکتی ہے دلوں میں اہل دل کے وہ

نہ کم ہوگی کبھی بھی دلکشی پروین شاکر کی


بنالیتی ہے اپنے فکر و فن کا سب کو گرویدہ

غزل میں ہے جو عصری آگہی پروین شاکر کی


ترو تازہ ہیں گلہائے مضامیں آج بھی اُس کے

یونہی قایم رہے گی تازگی پروین شاکر کی


علمبردار تھی وہ جذبۂ احساسِ نسواں کی

نمایاں ہے کتابِ زندگی پروین شاکر کی


دلوں پر نقش ہیں برقیؔ نقوشِ جاوداں اُس کے

ہے عصری معنویت آج بھی پروین شاکر کی


احمد علی برقیؔ اعظمی


اسحاق وردگ

 یوم پیدائش 24 نومبر 1977


مری ہستی سزا ہونے سے پہلے 

میں مر جاتا بڑا ہونے سے پہلے 


وہ قبلہ اس گلی سے جا چکا تھا 

نماز دل ادا ہونے سے پہلے 


محبت اک مسلسل حادثہ تھی 

ہمارے بے وفا ہونے سے پہلے 


میں اپنی ذات سے نا آشنا تھا 

خدا سے آشنا ہونے سے پہلے 


خزاں میں پھول سا لگتا تھا مجھ کو 

وہ پتھر آئینہ ہونے سے پہلے 


بہت مضبوط سی دیوار تھا میں 

کسی کا راستا ہونے سے پہلے


اسحاق وردگ


حمیرا رحمان

 یوم پیدائش 24 نومبر 1957


حروف چند مری شاعری کے چاروں طرف

کہ جیسے پانی ہو تشنہ لبی کے چاروں طرف


ہزار بار بجھی آنکھ پھر ہوئی روشن

کچھ آئینے بھی تھے بے چہرگی کے چاروں طرف


بہت سے خواب تھے رنگین اس کے تھیلے میں

سو لوگ بیٹھ گئے اجنبی کے چاروں طرف 


ہوا بدلنے کی آنے لگی ہے خوش خبری

بہت دھواں تھا گزرتی گھڑی کے چاروں طرف


ہم آنے والے زمانوں سے دور کیوں نہ رکھیں

جو الجھنیں ہیں ہماری صدی کے چاروں طرف 


یہ کھیل آنکھ مچولی کا دادا پوتے میں

ہنسی کا ہالہ ہے سنجیدگی کے چاروں طرف


جزیرے چھوٹے بڑے ہیں کسی تسلی کے

مری نگاہ میں ٹہری نمی کے چاروں طرف


مکان کھولا گیا گھر میں آنے والوں پر

شجر لگائے گئے بے گھری کے چاروں طرف


چلو حمیراؔ کوئی نیک کام کرتے ہیں

امنگ بوتے ہیں مردہ دلی کے چاروں طرف


حمیرا رحمان


شاہدہ حسن

 یوم پیدائش 24 نومبر 1953


سلیقہ عشق میں میرا بڑے کمال کا تھا

کہ اختیار بھی دل پر عجب مثال کا تھا


میں اپنے نقش بناتی تھی جس میں بچپن سے

وہ آئینہ تو کسی اور خط و خال کا تھا


رفو میں کرتی رہی پیرہن کو اور ادھر

گماں اسے مرے زخموں کے اندمال کا تھا


یہ اور بات کہ اب چشم پوش ہو جائے

کبھی تو علم اسے بھی ہمارے حال کا تھا


محبتوں میں میں قائل تھی لب نہ کھلنے کی

جواب ورنہ مرے پاس ہر سوال کا تھا


درخت جڑ سے اکھڑنے کے موسموں میں بھی

ہوا کا پیار شجر سے عجب کمال کا تھا


کتاب کس کی مسافت کی لکھ رہی ہے ہوا

یہ قرض اس کی طرف کس کے ماہ و سال کا تھا


شاہدہ حسن


پروین شاکر

 یوم پیدائش 24 نومبر 1952


دھنک دھنک مری پوروں کے خواب کر دے گا

وہ لمس میرے بدن کو گلاب کر دے گا


قبائے جسم کے ہر تار سے گزرتا ہوا

کرن کا پیار مجھے آفتاب کر دے گا


جنوں پسند ہے دل اور تجھ تک آنے میں

بدن کو ناؤ لہو کو چناب کر دے گا


میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گی

وہ جھوٹ بولے گا اور لا جواب کر دے گا


انا پرست ہے اتنا کہ بات سے پہلے

وہ اٹھ کے بند مری ہر کتاب کر دے گا


سکوت شہر سخن میں وہ پھول سا لہجہ

سماعتوں کی فضا خواب خواب کر دے گا


اسی طرح سے اگر چاہتا رہا پیہم

سخن وری میں مجھے انتخاب کر دے گا


مری طرح سے کوئی ہے جو زندگی اپنی

تمہاری یاد کے نام انتساب کر دے گا


پروین شاکر


عبداللہ خالد

 ماحولِ دلِ زار ابھی کیا تھا ابھی کیا ہے

یہ شہر بھی حیرت کدہء ہوش ربا ہے


اک وہ ہیں کہ اسبابِ زمانہ ہیں ملازم

اک ہم کہ میسر نہ دوا ہے نہ دعا ہے


سب کام دلیلوں سے نہیں چلتے جہاں میں

گر ہم کو یقیں ہے کہ خدا ہے تو خدا ہے


تصویر مکمل ہوں مگر میرا مصور

لگتا ہے یہاں رکھ کے مجھے بھول گیا ہے


بیکار ہے دیواروں سے سر پھوڑنا خالد

کچھ داد رسی ہو تو شکایت بھی بجا ہے


عبداللہ خالد


محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...