Urdu Deccan

Tuesday, November 30, 2021

نور جہاں ثروت

 یوم پیدائش 28 نومبر 1940


پیاس جو بجھ نہ سکی اس کی نشانی ہوگی

ریت پر لکھی ہوئی میری کہانی ہوگی


وقت الفاظ کا مفہوم بدل دیتا ہے

دیکھتے دیکھتے ہر بات پرانی ہوگی


کر گئی جو مری پلکوں کے ستارے روشن

وہ بکھرتے ہوئے سورج کی نشانی ہوگی


پھر اندھیرے میں نہ کھو جائے کہیں اس کی صدا

دل کے آنگن میں نئی شمع جلانی ہوگی


اپنے خوابوں کی طرح شاخ سے ٹوٹے ہوئے پھول

چن رہی ہوں کوئی تصویر سجانی ہوگی


بے زباں کر گیا مجھ کو تو سوالوں کا ہجوم

زندگی آج تجھے بات بنانی ہوگی


کر رہی ہے جو مرے عکس کو دھندلا ثروتؔ

میں نے دنیا کی کوئی بات نہ مانی ہوگی


نور جہاں ثروت


Monday, November 29, 2021

کرشن موہن

 یوم پیدائش 28 نومبر 1922


بھٹک کے راہ سے ہم سب کو آزما آئے

فریب دے گئے جتنے بھی رہنما آئے


ہم ان کو حال دل زار بھی سنا آئے

کمال جرات اظہار بھی دکھا آئے


کریں تو کس سے کریں ذکر خانہ ویرانی

کہ ہم تو آگ نشیمن کو خود لگا آئے


خیال وصل میں رہتے ہیں رات بھر بیدار

تمہارے ہجر کے ماروں کو نیند کیا آئے


رہین عیش و طرب ہیں جو روز و شب ان کو

پسند کیسے مرے غم کا ماجرا آئے


کبھی ہمیں بھی میسر ہو روٹھنا ان سے

کبھی ہمارے بھی دل میں یہ حوصلہ آئے


ہر اک سے پوچھتے ہیں حال کرشن موہنؔ کا

جسے ادائے ستم سے وہ خود مٹا آئے


کرشن موہن


شمشاد شاد

 فلک سے لے کے اجالے زمیں پہ رک جانا

مگر ہو شام جہاں بھی وہیں پہ رک جانا


گراں گزرتا ہے مجھ پر ترا یہ طرز سفر

سفر کے بیچ یکایک کہیں پہ رک جانا


جہاں ضمیر اشارہ کرے ٹھہرنے کا

قدم نہ آگے بڑھانا وہیں پہ رک جانا


تو آس پاس کے منظر بھی دیکھنا لیکن

اے چشمِ شوق رخِ نازنیں پہ رک جانا


اے نامہ بر مرا پیغام یار کو دے کر

جواب لینے تلک تو وہیں پہ رک جانا


جو مجھ سے پہلے سفر پر نکلنا پڑ جائے 

تو میں جہاں بھی پکاروں وہیں پہ رک جانا


وہاں تو شور مسلسل ہے شاؔد سانسوں کا

یہاں سکون بہت ہے، یہیں پہ رک جانا


شمشاد شاؔد، ناگپور (انڈیا)



طالب باغپتی

 یوم پیدائش 27 نومبر 1903


یوں بھی ترا احسان ہے آنے کے لیے آ

اے دوست کسی روز نہ جانے کے لیے آ


ہر چند نہیں شوق کو یارائے تماشا

خود کو نہ سہی مجھ کو دکھانے کے لیے آ


یہ عمر، یہ برسات، یہ بھیگی ہوئی راتیں

ان راتوں کو افسانہ بنانے کے لیے آ


جیسے تجھے آتے ہیں نہ آنے کے بہانے

ایسے ہی بہانے سے نہ جانے کے لیے آ


مانا کہ محبت کا چھپانا ہے محبت

چپکے سے کسی روز جتانے کے لیے آ


تقدیر بھی مجبور ہے، تدبیر بھی مجبور

اس کہنہ عقیدے کو مٹانے کے لیے آ


عارض پہ شفق، دامن مژگاں میں ستارے

یوں عشق کی توقیر بڑھانے کے لیے آ


طالبؔ کو یہ کیا علم، کرم ہے کہ ستم ہے

جانے کے لیے روٹھ، منانے کے لیے آ


طالب باغپتی


سلیم احمد

 یوم پیدائش 27 نومبر 1927


زندگی موت کے پہلو میں بھلی لگتی ہے

گھاس اس قبر پہ کچھ اور ہری لگتی ہے


روز کاغذ پہ بناتا ہوں میں قدموں کے نقوش

کوئی چلتا نہیں اور ہم سفری لگتی ہے


آنکھ مانوس تماشا نہیں ہونے پاتی

کیسی صورت ہے کہ ہر روز نئی لگتی ہے


گھاس میں جذب ہوئے ہوں گے زمیں کے آنسو

پاؤں رکھتا ہوں تو ہلکی سی نمی لگتی ہے


سچ تو کہہ دوں مگر اس دور کے انسانوں کو

بات جو دل سے نکلتی ہے بری لگتی ہے


میرے شیشے میں اتر آئی ہے جو شام فراق

وہ کسی شہر نگاراں کی پری لگتی ہے


بوند بھر اشک بھی ٹپکا نہ کسی کے غم میں

آج ہر آنکھ کوئی ابر تہی لگتی ہے


شور طفلاں بھی نہیں ہے نہ رقیبوں کا ہجوم

لوٹ آؤ یہ کوئی اور گلی لگتی ہے


گھر میں کچھ کم ہے یہ احساس بھی ہوتا ہے سلیمؔ

یہ بھی کھلتا نہیں کس شے کی کمی لگتی ہے


سلیم احمد


شائستہ کنول علی

 ظلمت شب سے کہیں دور اجالا مچلے   

چاند مچلے تو کہیں چاند کا ہالہ مچلے 


روح کی بالکنی میں کوئی خوشبو پھیلے  

دل کے صحرا و بیابان میں لالہ مچلے 


فکر روشن ہو کسی پیار کے افسانے کی   

نوک خامہ میں کوئی مست مقالہ مچلے 


کوئی دلدار ملے "کے ٹو" کی چوٹی جیسا 

دل کے آنگن میں کوئی عشق ہمالہ مچلے 


مرے دل میں مرے بابا کی محبت دھڑکے 

میرے ماتھے پہ میری ماں کا حوالہ مچلے  


وجد میں جام دھمالی ہو صبوحی ناچے 

مے کدہ رقص کرے مے کا پیالہ مچلے  


آج خاموشی میں طوفان چھپا ہے عالی 

برف کے بوجھ تلے جیسے جوالا مچلے 


شائستہ کنول عالی


منور رانا

 یوم پیدائش 26 نومبر 1952


مٹی میں ملا دے کہ جدا ہو نہیں سکتا

اب اس سے زیادہ میں ترا ہو نہیں سکتا


دہلیز پہ رکھ دی ہیں کسی شخص نے آنکھیں

روشن کبھی اتنا تو دیا ہو نہیں سکتا


بس تو مری آواز سے آواز ملا دے

پھر دیکھ کہ اس شہر میں کیا ہو نہیں سکتا


اے موت مجھے تو نے مصیبت سے نکالا

صیاد سمجھتا تھا رہا ہو نہیں سکتا


اس خاک بدن کو کبھی پہنچا دے وہاں بھی

کیا اتنا کرم باد صبا ہو نہیں سکتا


پیشانی کو سجدے بھی عطا کر مرے مولیٰ

آنکھوں سے تو یہ قرض ادا ہو نہیں سکتا


دربار میں جانا مرا دشوار بہت ہے

جو شخص قلندر ہو گدا ہو نہیں سکتا


منور رانا


فاروق محور

 یوم پیدائش 25 نومبر


تری زلف کا میں اسیر ہوں ترے حسن کا میں فقیر ہوں 

وہ ادیب جس کی غزل ہے تو کہ خیال تیرے مجاز ہیں 


فاروق محور


ریاض ساغر


 یہ خواہشوں کے سمندر تمہیں ڈبو دیں گے

تم ان سے پیاس بجھانے کی التجا نہ کرو


ریاض ساغر

بقی استوری

 یوم پیدائش 25 نومبر


کسی اجنبی کے دیار پر نہیں جاؤں گا

میں خزاں رسیدہ بہار پر نہیں جاؤں گا


میں سوار ہو کے ہوا کے دوش پہ آؤں گا

میں یہ راستوں کے حصار پر نہیں جاؤں گا


مری خستہ حالی دلیل ہے مرے عشق کی

میں یقیں دلانے کو دار پر نہیں جاؤں گا


کسی آشنا کی جو ہو صدا تو چلیں بقی

کسی اجنبی کی پکار پر نہیں جاؤں گا


بقی استوری


محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...