Urdu Deccan

Friday, December 17, 2021

علامہ اقبال

 کیا کہوں اپنے چمن سے مَیں جُدا کیونکر ہوا

اور اسیرِ حلقۂ دامِ ہَوا کیونکر ہوا


جائے حیرت ہے بُرا سارے زمانے کا ہوں میں

مجھ کو یہ خلعت شرافت کا عطا کیونکر ہوا


کچھ دکھانے دیکھنے کا تھا تقاضا طُور پر

کیا خبر ہے تجھ کو اے دل فیصلا کیونکر ہوا


ہے طلب بے مدّعا ہونے کی بھی اک مدّعا

مرغِ دل دامِ تمنّا سے رِہا کیونکر ہوا


دیکھنے والے یہاں بھی دیکھ لیتے ہیں تجھے

پھر یہ وعدہ حشر کا صبر آزما کیونکر ہوا


حُسنِ کامل ہی نہ ہو اس بے حجابی کا سبب

وہ جو تھا پردوں میں پنہاں، خود نما کیونکر ہوا


موت کا نسخہ ابھی باقی ہے اے دردِ فراق

چارہ گر دیوانہ ہے، مَیں لا دوا کیونکر ہوا


تُو نے دیکھا ہے کبھی اے دیدۂ عبرت کہ گُل

ہو کے پیدا خاک سے رنگیں قبا کیونکر ہوا


پُرسشِ اعمال سے مقصد تھا رُسوائی مری

ورنہ ظاہر تھا سبھی کچھ، کیا ہوا، کیونکر ہوا


میرے مِٹنے کا تماشا دیکھنے کی چیز تھی

کیا بتاؤں اُن کا میرا سامنا کیونکر ہوا


علامہ اقبال


محمد نور الھدی نور ذبیحی بنارسی

 یوم پیدائش 16 دسمبر 1934


عارضِ پُرنور پر زلفِ گِرہ گیر بھی

صبح کے پہلو میں ہے رات کی تصویر بھی


تلخیِ حالات میں گُم ہوئی تدبیر بھی

گردشِ دوراں بھی ہے گردشِ تقدیر بھی


زخمی جگر ، ٹکڑے دل ، آنکھ مگر نم نہیں

دردِ مجسم بھی ہوں ضبط کی تصویر بھی


اُس نے اس انداز سے کردیا مجھ کو معاف

 میں بھی ہوا منفعل اور مری تقصیر بھی


کشمکشِ حسن و عشق آہ و بیاں کیا کروں

خواہشِ تخریب بھی کوششِ تعمیر بھی 


اُڑتی ہے مقتل میں خاک قصۂ بسمل ہے پاک

ہوکے رہا چاک چاک دامنِ شمشیر بھی 


ہنسنے ہنسانے کی بات سے مجھے کیا واسطہ

غم میری میراث بھی غم میری جاگیر بھی


صدمۂ جاں کاہ نے کردیا اِتنا نحیف

چھوڑ گئی میرا ساتھ پاؤں کی زنجیر بھی


کوششوں کے باوجود نوؔر نہ کچھ ہوسکا

اے مرے ﷲ کیا چیز ہے تقدیر بھی  


محمدنورالھدیٰ نؔور ذبیحی بنارسی


سالک لکھنوی

 یوم پیدائش 16 دسمبر 1913


بڑھتے ہیں خود بہ خود قدم عزم سفر کو کیا کروں

زیر قدم ہے کہکشاں ذوق نظر کو کیا کروں


تیز ہے کاروان وقت تشنہ ہے جستجو ابھی

روک لوں زندگی کہاں شام و سحر کو کیا کروں


دیر و حرم کے رنگ بھی دیکھ چکی نگاہ زیست

دل میں تو ہے وہی چبھن آہ سحر کو کیا کروں


آج بھی ہے وہی مقام آج بھی لب پہ ان کا نام

منزل بے شمار گام اپنے سفر کو کیا کروں


یاد کسی کی آ گئی ہو گئی دھندلی کائنات

پردے میں چھپ گیا کوئی دیدۂ تر کو کیا کروں


کتنی امیدوں کے چراغ راہ میں بجھ کے رہ گئے

اپنے تو پاؤں تھک گئے شوق سفر کو کیا کروں


ہو گئی زندگی کی شام سالکؔ راہ تھک گئے

منزلیں دور ہو گئیں راہ گزر کو کیا کروں


سالک لکھنوی


کبیر اطہر

 یوم پیدائش 15 دسمبر 1962


دیدہ و دل میں نہیں رنگ۔نمو اب کوئی

ورنہ کھلتا مرے ہونٹوں پہ گل۔لب کوئی 


دل میں در آتے ہیں جذبات چکوروں جیسے

چاند سا مجھ میں نکلتا ہے سر۔شب کوئی 


دشت نے کھل کے بتا دی ہے کہانی ساری

کیسے پاتا ہے یہاں قیس کا منصب کوئی 


ایک قطرہ بھی مرا مجھ میں نہیں رہ پاتا

ایسے بھرتا ہے مجھے خود سے لبالب کوئی 


تب کھلے گا میں سفر میں نہیں جنجال میں ہوں

میرے قدموں سے ملائے گا قدم جب کوئی 


بے سروپا تھی مگر تجھ سے ہوئی ہے منسوب

اب نکل آئے گا اس بات سے مطلب کوئی 


بات بنتی نظر آتی نہیں باتوں سے کبیر

اب دکھانا ہی پڑے گا ہمیں کرتب کوئی 


کبیر اطہر


ذیشان ساحل

 یوم پیدائش 15 دسمبر 1961


کس قدر محدود کر دیتا ہے غم انسان کو 

ختم کر دیتا ہے ہر امید ہر امکان کو 


گیت گاتا بھی نہیں گھر کو سجاتا بھی نہیں 

اور بدلتا بھی نہیں وہ ساز کو سامان کو 


اتنے برسوں کی ریاضت سے جو قائم ہو سکا 

آپ سے خطرہ بہت ہے میرے اس ایمان کو 


کوئی رکتا ہی نہیں اس کی تسلی کے لیے 

دیکھتا رہتا ہے دل ہر اجنبی مہمان کو 


اب تو یہ شاید کسی بھی کام آ سکتا نہیں 

آپ ہی لے جائیے میرے دل نادان کو 


شہر والوں کو تو جیسے کچھ پتا چلتا نہیں 

روکتا رہتا ہے ساحل روز و شب طوفان کو


ذیشان ساحل


شمع ظفر مہدی

 یوم پیدائش 15 دسمبر 1943


ذکر جس کا سحر و شام سے وابستہ ہے 

روشنی ذہن کی اس نام سے وابستہ ہے 


جیسے ذرہ کبھی سورج کے مقابل آ جائے 

یوں مرا نام ترے نام سے وابستہ ہے 


دن کے صحرا میں بہت دیر سے شام آتی ہے 

اس سے ملنے کی دعا شام سے وابستہ ہے 


درد مندی بھی محبت بھی رواداری بھی 

کام کتنا دل ناکام سے وابستہ ہے 


زندگی زد پہ رہی شوق ضیا پاشی میں 

یہ روایت بھی مرے نام سے وابستہ ہے


شمع ظفر مہدی


منظور حسین شور

 یوم پیدائش 15 دسمبر 1916


نہ نشاط چارہ سازی نہ ملال کم نگاہی

مجھے اس نظر نے مارا بے گناہ بے گناہی


سر انجمن غنیمت ہے بتوں کی کم نگاہی

کہ سکون دل پہ آتی ہے نظر سے بھی تباہی


یہ سیاست بہاراں ہے خزاں کی بے پناہی

کہ جو جل اٹھے نشیمن تو چمن نہ دے گواہی


تری انجمن سے باہر کئی آفتاب نکلے

نہ دھلی کسی سحر سے کسی رات کی سیاہی


ترے شہر سے نکلتے ہی مزاج دہر لا ہی

نہ وہ ربط شبنم و گل نہ وہ باد صبح گاہی


ترے شہر آرزو میں یوں ہی کٹ گئی ہیں راتیں

نہ جنوں کی آنکھ جھپکی نہ خرد نے لی جماہی


دئے تیری رہ گزاروں کے جہاں جہاں جلے ہیں

نہ چراغ بت کدہ ہے نہ چراغ خانقاہی


نہ صنم کدے کی منزل نہ حرم کا آستانہ

وہ نظر جہاں اٹھی ہے وہیں رک گئے ہیں راہی


کوئی شورؔ یہ تو پوچھے در و بام خسروی سے

یہ لہو سے کس کے روشن ہے چراغ کج کلاہی


منظور حسین شور


شمشاد شاد

 زمین و آسماں، خورشید اور تاروں کا کیا ہو گا 

قیامت جب گزر جائے گی سیاروں کا کیا ہو گا


قبا پھولوں کی اوڑھے شاخ پر کانٹوں کا قبضہ ہے

یہی چلتا رہا تو پھر چمن زاروں کا کیا ہو گا


نگاہیں پھیر لی ہیں اب تو الفت کے طبیبوں نے

خدا جانے کہ آگے عشق کے ماروں کا کیا ہو گا


رقم کرنے سے پہلے کیا کبھی سوچا بھی ہے تم نے

فسانہ ختم ہو جانے پہ کرداروں کا کیا ہو گا


سجا ہو خوب میخانہ، ہوں رقصاں جام و پیمانہ

رہے نامہرباں ساقی تو میخواروں کا کیا ہو گا


تم اپنی جیب بھرنے کی تگ و دو میں رہو ہر دم 

یہ مت سوچو غریبوں اور لاچاروں کا کیا ہو گا


اگر بے دخل کر دے کوئی حاکم کو حکومت سے

تو پھر اے شاد اس کے ناز برداروں کا کیا ہو گا


شمشاد شاد


ہمراز نیر

 یوم پیدائش 15 دسمبر 1950


قدم قدم پہ چراغ وفا جلا کے چلے

تمہارے عشق میں دنیا کے غم بھلا کے چلے


سنانے آئے تھے قصہ جفا شعاری کا

کہ چوٹ دل پہ نئی ایک اور کھا کے چلے


سخن جو ہم نے لکھے تھے تری محبت میں

سر صلیب، ہمی تھے جو گنگنا کے چلے


وہ میکدے کا ہو رستہ کہ جادۂ مقتل

ہمی حیات کی ہر رہ پہ مسکرا کے چلے


یہ زخم ہائے محبت ہیں تمغۂ جاناں

تبھی تو سینے پہ اپنے انہیں سجا کے چلے


ہمراز نیر


جون ایلیا

 یوم پیدائش 14 دسمبر 1925


ہجر کی آنکھوں سے آنکھیں تو ملاتے جائیے

ہجر میں کرنا ہے کیا یہ تو بتاتے جائیے


بن کے خوشبو کی اداسی رہیے دل کے باغ میں

دور ہوتے جائیے نزدیک آتے جائیے


جاتے جاتے آپ اتنا کام تو کیجے مرا

یاد کا سارا سر و ساماں جلاتے جائیے


رہ گئی امید تو برباد ہو جاؤں گا میں

جائیے تو پھر مجھے سچ مچ بھلاتے جائیے


زندگی کی انجمن کا بس یہی دستور ہے

بڑھ کے ملیے اور مل کر دور جاتے جائیے


آخرش رشتہ تو ہم میں اک خوشی اک غم کا تھا

مسکراتے جائیے آنسو بہاتے جائیے


وہ گلی ہے اک شرابی چشم کافر کی گلی

اس گلی میں جائیے تو لڑکھڑاتے جائیے


آپ کو جب مجھ سے شکوا ہی نہیں کوئی تو پھر

آگ ہی دل میں لگانی ہے لگاتے جائیے


کوچ ہے خوابوں سے تعبیروں کی سمتوں میں تو پھر

جائیے پر دم بہ دم برباد جاتے جائیے


آپ کا مہمان ہوں میں آپ میرے میزبان

سو مجھے زہر مروت تو پلاتے جائیے


ہے سر شب اور مرے گھر میں نہیں کوئی چراغ

آگ تو اس گھر میں جانانہ لگاتے جائیے


جون ایلیا


محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...