Urdu Deccan

Friday, September 23, 2022

بلال شافی

یوم پیدائش 08 سپتمبر 1999

خواب در خواب مصیبت سے نکلنا ہے مجھے
یعنی خود اپنی شکایت سے نکلنا ہے مجھے

اتنا آساں تو نہیں اس سے نکلنا لیکن
جس طرح بھی ہو محبت سے نکلنا ہے مجھے

یوں مقفل ہوا بیٹھا ہوں کسی کمرے میں 
جیسے کمرے کی اجازت سے نکلنا ہے مجھے

چھوڑ آیا ہوں ترے شہر میں آنکھیں اپنی
اب کسی اور اذیت سے نکلنا ہے مجھے

بے وجہہ دشمنوں پہ ٹوٹ رہا ہوں شافی
اور اپنوں کی حراست سے نکلنا ہے مجھے

بلال شافی



حنیف کیفی

یوم پیدائش 08 سپتمبر 1934

سوہانِ روح شورشِ انفاس چھین لے
 اللہ میری شدتِ احساس چھین لے

دل سے خیال و خواب کی بو باس چھین لے
جوبے اساس ہو وہ ہر اک آس چھین لے

دے مجھ کو میرے آج میں جینے کا حوصلہ
کل کے حسین ہونے کا احساس چھین لے

اک بارسیرکر کے مجھے کردے بے نیاز
 یہ روز روز بڑھتی ہوئی پیاس چھین لے

کیفی کو حوصلہ دے سفر ختم ہو بخیر
یارب شکستہ پائی کا احساس چھین کے

حنیف کیفی



ماہ طلعت زاہدی

یوم پیدائش 08 سپتمبر 1953

اس کی آنکھوں میں اک سوال سا تھا 
میرے دل میں کوئی ملال سا تھا 

دھل گیا آنسوؤں میں سارا وجود 
عشق میں یہ عجب کمال سا تھا 

جسم کی ڈال پر جھکا تھا خواب 
روح سرشار دل نہال سا تھا 

گفتگو کر رہی تھی خاموشی 
ہجر کی راہ میں وصال سا تھا 

خواہشیں ہر گھڑی عروج پہ تھیں 
وقت کو ہر گھڑی زوال سا تھا 

میں بھی تھی آشنا روایت سے 
اس کو بھی ضبط میں کمال سا تھا 

خواب در خواب تھیں ملاقاتیں 
درد دل وجہ اندمال سا تھا 

آئنہ بن گیا ہے میرے لئے 
ایک چہرہ کہ بے مثال سا تھا

ماہ طلعت زاہدی



کنول سیالکوٹی

یوم پیدائش 07 سپتمبر 1925

شمع کی لو سے کھیلتے دیکھے ہیں میں نے پروانے دو
اک تو موت سے کھیل رہا ہے اک کہتا ہے جانے دو

میرے بدن پر تم برساؤ پیار کی شبنم حسن کی آگ
یوں گھل مل کر ایک نظر سے ہم پڑھ لیں افسانے دو

جن پر جان لٹا دی میں نے وہ ہی مجھ سے برہم ہیں
رونے پر پابندی ہے تو قہقہہ ایک لگانے دو

تم نے پلائی جتنی پلائی دیکھو ہیں پیاسے رند ابھی
ساقی گری سے ہاتھ نہ کھینچو سب کی دعا لو آنے دو

مے سے میں توبہ کر لوں گا یہ لو میری توبہ ہے
پہلے میرے ہاتھوں میں اپنی آنکھوں کے مے خانے دو

اس کا کام ہے کہتا رہنا اپنا کام ہے سن لینا
واعظ بھی اپنا ہے کنولؔ تم وعظ اسے فرمانے دو

کنول سیالکوٹی



Wednesday, September 21, 2022

لاریب کاظمی

یوم پیدائش 06 سپتمبر

اُسے مجھ سے محبت ہے! نہیں ہے! کیا پتہ کیا ہے
خدایا! پھٹ رہا ہے سر مرا یہ سلسلہ کیا ہے؟

میں اکثر سوچتی رہتی تھی آخر مفلسی کیا ہے
گنوایا اس کو تو آخر سمجھ میں آگیا کیا ہے

مجھے محفل میں ہنسنا ہے کہ تنہائی میں رونا ہے
مریضِ ہجر کی مولا بتا تُو ہی دوا کیا ہے 

ہے ماتم آج کیوں برپا گلستاں میں ، ارے یارو
کوئی جا کر خبر لو پھول کو آخر ہوا کیا ہے

چلی جاؤں گی سب کچھ چھوڑ کر اک دن ، محبت بھی
یہ دل ، یہ روح سب تیرا ہے میری جاں ، مرا کیا ہے

لگا ڈالی تھی میں نے آگ تیری ہر نشانی کو 
مگر تصویر بچ نکلی تری ، تو پھر جلا کیا ہے؟

بلا کے ہم بہادر تھے ، مگر میدانِ الفت میں
محبت ہار کے جانا کہ آخر حوصلہ کیا ہے

اندھیری بزم میں ، آنے سے ان کے روشنی پھوٹی
صدا گونجی ، اے شمس الرب ، ترے آگے دیا کیا ہے؟

لاریب کاظمی


 

ڈاکٹر نزہت شاہ

یوم پیدائش 06 سپتمبر 
نعتِ رسول مقبول

اے رسولِ کریم اے شہہِ مُرسلیں
زاہد و عابد و شافع ِ مزنبیں

آپ کا نام ہے باعثِ زندگی
شاہِ کون و مکاں رحمت العالمیں

آپ ! معراج کے تاجور یا نبی
شاہدِ کبریا ! آپ دل کا یقیں

آپ کی ہی طلب چاند ، تاروں کو ہے
آپ کے نام سے آسماں اور زمیں

کوئے سرکار کی جستجو میں رہوں
اب تو یہ دل کہیں اور لگتا نہیں

میرے سرکار ! نورالھُدیٰ آپ ہیں 
  آپ کی جوت سے جگمگائے زمیں 

ڈاکٹر نزہت شاہ


 

عرفان ظہیر

یوم پیدائش 06 سپتمبر 1959

پتوار ہم نے مانا کہ اب ان کے ہاتھ ہے
طوفاں بتا رہا ہے کہ یہ ان کی مات ہے

ہوگی نہ صبح جس کا انھیں انتظار ہے
دکھنے دو خواب ان کو ابھی لمبی رات ہے

اپنے لیے تو صبر و تحمل کا وقت ہے
دستورِ ہند سارے مسلماں کے ساتھ ہے

صدیوں سے ہورہی ہیں مٹانے کی کوششیں
لیکن مٹا سکے نہ یہ بھی سچی بات ہے

اولاد یوں تو ہوتی ہیں اپنی سبھی عزیز
اس ملک کو عزیز تو ہر ایک ذات ہے

ہو احترام سب کا رہے سب کا گر خیال
عرفان ایک یہ بھی تو راہِ نجات ہے

عرفان ظہیر


 

شمس الحق شمس

یوم پیدائش 06 سپتمبر 1941

منزل سے دور ہو گئے منزل کو چھوڑ کر
آؤ نکالیں راہ کوئی دل کو جوڑ کر

ویرانیوں میں شہر بسانے چلے ہو تم
آبادیوں کے منبر و محراب توڑ کر

اپنے لہو سے ہم تو بجھاتے رہے ہیں پیاس
جب سے یزید لے گیا دریا نچوڑ کر

ملاح دے رہا ہے صدا بارہا ہمیں 
خدشہ ہے لے نہ جائے وہ کشتی کو موڑ کر

کمزور مت سمجھ کبھی گر بے نوا ہیں ہم
ایواں ترا ہلائیں گے اک دن جھنجھوڑ کر

 پھولوں کا رنگ اڑ گیا مرجھا گئے شجر
بیٹھے ہوۓ ہیں پنچھی پروں کو سکوڑ کر

ملنے لگا ہے حوصلہ مظلومیت کو شمس
رکھ دیں گے اقتدار کی گردن مروڑ کر

شمس الحق شمس


ساحر لکھنوی

یوم پیدائش 06 سپتمبر 1931

فصل ایسی ہے الفت کے دامن تلے 
ہم جلیں تم جلو ساری دنیا جلے 

تپ کے کندن کی مانند نکھرا جنوں 
جس قدر غم بڑھا بڑھ گئے حوصلے 

دل میں پھیلی ہے یوں روشنی یاد کی 
جیسے ویران مندر میں دیپک جلے 

جشن سے میری بربادیوں کا چلو 
دوستو آؤ شیشے میں شعلہ ڈھلے 

ہر نفس جیسے جینے کی تعزیر ہے 
کتنے دشوار ہیں عمر کے مرحلے 

ہم الجھتے رہے فلسفی کی طرح 
اور بڑھتے گئے وقت کے مسئلے 

موڑ سکتے ہیں دنیا کا رخ آج ہی 
آپ سے کچھ حسیں ہم سے کچھ منچلے 

وقت مجھ سے مرا حافظہ چھین لے 
آگ میں کوئی یادوں کی کب تک چلے 

خندۂ گل سے ساحرؔ نہ بہلیں گے ہم 
تازہ دم میں جنوں کے ابھی ولولے

ساحر لکھنوی


 

محمد بلال

یوم پیدائش 05 سپتمبر 1979

زمیں نئی تھی عناصر کی خو بدلتی تھی 
ہوا سے پہلے جزیرے پہ دھوپ چلتی تھی 

نگہ بہلنے لگی تھی حسیں مناظر سے 
بس ایک رنج کی حالت نہیں بہلتی تھی 

اس اک چراغ سے چہرے کی دید مشکل تھی 
نظر کی لو کبھی گرتی کبھی سنبھلتی تھی 

ہمارے دشت کو وحشت نہیں ملی تھی ابھی 
سو اس کے دل میں کوئی آب جو مچلتی تھی 

سڑک کا سرمئی دل بچھ رہا تھا پیروں میں 
وہ گل نژاد کہیں سیر کو نکلتی تھی 

ہماری خاک تبرک سمجھ کے لے جاؤ 
ہماری جان محبت کی لو میں جلتی تھی 

محمد بلال


 

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...