یوم پیدائش 20 سپتمبر 1905
تعلقات کی دنیا کا حال کیا کہئے
کہ مرنا سہل ہے جینا محال کیا کہئے
انہیں جو رازق کل کو بھلا کے کرتے ہیں
گداگران زماں سے سوال کیا کہئے
ادب کی محفلوں اور دین کی مجالس میں
نہ کیف حال نہ لطف مقال کیا کہئے
حسین آج اتر آئے حسن بازی پر
یہ جوش و طرز نمود جمال کیا کہئے
حرام ہو گئی انگور و جو کی سادہ کشید
لہو غریب کا ٹھہرا حلال کیا کہئے
فسانہ سازو حق آموز و جابر و رحمان
ہے پر تضاد بشر کا کمال کیا کہئے
بس ایک نقش ہے چربے اسی کے اٹھتے ہیں
فسانہ ہائے عروج و زوال کیا کہئے
تمام چیزیں ہڑپنے کے بعد بھی بھوکی
سیاست ایسی ہے لعنت مآل کیا کہئے
مزاج دہر ہے گویا مزاج عورت کا
ابھی ہے امن بھی جنگ و جدال کیا کہئے
تمام چیزیں فراواں بھی ہیں گراں بھی ہیں
ہے ایک صدق و صداقت کا کال کیا کہئے
ادیب و ناقد و نقاش و اہل رقص و غنا
چلیں خوشی سے حکومت کی چال کیا کہئے