Urdu Deccan

Monday, October 24, 2022

جینت پرمار

یوم پیدائش 11 اکتوبر 1955

غبار جاں سے ستارا نکلنا چاہتا ہے 
یہ آسمان بھی کروٹ بدلنا چاہتا ہے 

مرے لہو کا سمندر اچھلنا چاہتا ہے 
یہ چاند میرے بدن میں پگھلنا چاہتا ہے 

سیاہ دشت میں امکان روشنی بھی نہیں 
مگر یہ ہاتھ اندھیرے میں جلنا چاہتا ہے 

ہر ایک شاخ کے ہاتھوں میں پھول مہکیں گے 
خزاں کا پیڑ بھی کپڑے بدلنا چاہتا ہے

بہت کٹھن ہے کہ سانسیں بھی بار لگتی ہیں 
مرا وجود بھی نقطے میں ڈھلنا چاہتا ہے

جینت پرمار



سلطان ساحر

یوم پیدائش 11 اکتوبر 1960

پہن کے ہاتھ میں زنجیر پاؤں میں بیڑی
کس اہتمام سے سچائیاں نکلتی ہیں

سلطان ساحر 



مختار حسینی

یوم پیدائش 11 اکتوبر 1971

کیا بتاؤں کہ کیا دلربا لے گئی ؟
میری آنکھوں سے نیندیں چرا لے گئی

یہ تو سوغات تہذیبِ مغرب کی ہے
بے حیائی عطا کی ، حیا لے گئی

ایسی گندی سیاست کی آندھی چلی
دیش سے بھائی چارہ اُڑا لے گئی

تم نئی روشنی کا اثر دیکھ لو
بیٹیوں کے سروں سے ردا لے گئی

دیکھو مختار دورِ خزاں آگیا
رت درختوں سے ان کی قبا لے گئی

مختار حسینی



احسن امام احسن

یوم پیدائش 11 اکتوبر 1968

ایک رنگین خواب ہے دنیا 
یا نشاط سراب ہے دنیا 

غور سے پڑھ سکو تو سمجھو گے 
ایک دل کش کتاب ہے دنیا 

الجھنوں نے یہ کر دیا ثابت 
اک مسلسل عذاب ہے دنیا 

بھائی بھائی کا خون کرتا ہے 
سوچو کتنی خراب ہے دنیا 

ہے سزا ہی سزا ہمارے لئے 
کس قدر پر عتاب ہے دنیا 

دل لگاؤ نہ اس سے اے احسنؔ 
ایک بے فیض خواب ہے دنیا

احسن امام احسن



ظہیر ناشاد دربھنگوی

یوم پیدائش 11 اکتوبر 1933

بدلے گی خود ہی دنیا رفتار رفتہ رفتہ
ہرذرہ ہورہا ہے بیدار رفتہ رفتہ

رنگینیء چمن ہے کس کے لہو کا صدقہ
 تاریخ خود کرے گی اقرار رفتہ رفتہ

عالم یہی رہا جوار باب گلستاں کا
مقتل بنے گا اک دن گلزار رفتہ رفتہ

ہے ابتدائے الفت کچھ اور مسکرالو
 راتوں کی نیند ہوگی دشوار رفتہ رفتہ

کیا کیا نہ دوستی کی پہلے ہوئی نمائش
پھر درمیاں میں اٹھی دیوار رفتہ رفتہ

ناشاد زندگی نے جو کچھ مجھے دیا ہے
شعروں میں کررہا ہوں اظہار رفتہ رفتہ

ظہیر ناشاد دربھنگوی
 


سید علی شاہ رخ

یوم پیدائش 10 اکتوبر 1987

مخلصی کی مجھے سزا دیجے
جھوٹ کہیے تو سچ بتا دیجے

کچھ بھرم رہ سکے مروت کا
چار چھ اشک ہی بہا دیجے

پھر جو پچھتائیں گے تو بہتر ہے
جانے والوں کو راستہ دیجے

میں کے دشمن ہوں گھر کے دیپک کا
مجھ کو اس چوک میں جلا دیجے

دھوپ نے دکھ بڑھا دیا ہے مرا
پر توے زلف کی گھٹا دیجے 

سید علی شاہ رخ


 

ظفر صدیقی

یوم پیدائش 10 اکتوبر 

میرے دل میں اتر گیا کوئی
 اس قدر پیار کر گیا کوئی
 
رقص کرنے لگی جوانی بھی
 یوں نظر ڈال کر گیا کوئی

 عشق میں ڈوب کر ہی دیوانہ  
 حسن پر آج مر گیا کوئی

کیا بھرے گا اڑان اونچی وہ 
پر ہی اس کے کتر گیا کوئی

زندگی بے مزہ ہوئی اس دم
روٹھ کرجب ظفر گیا کوئی
   
ظفر صدیقی 



امیر انصاری

یوم پیدائش 10 اکتوبر 1960

بیٹھا ہے مسئلوں کے جو طوفاں کو ٹال کر
کاغذ کی ناؤ رکھے گا کب تک سنبھال کر

وہ جو سڑک کنارے کھڑا ہے لہولہان
پچھتا رہا ہے بھیڑ میں پتھر اچھال کر

مصروفیت میں گھر کی پتا ہی نہیں چلا
کب باپ بوڑھا ہوگیا بچوں کو پال کر

تھی اک لگن کہ خشک نہ ہوں غم کی کھیتیاں
لایا ہوں پتھروں سے میں دریا نکال کر

رشتوں کا کوڑھ ڈسنے لگا جب وجود کو
پینے لگا وہ نیم کے پتے ابال کر

بیٹھا ہوا نہ گھات میں ہو خونی حادثہ
کیجے سڑک کو پار مگر دیکھ بھال کر

اب تو امیرِ شہر بھی دیتا نہیں جواب
اے مفلسی دراز نہ دستِ سوال کر

امیر انصاری


 

احسان مخلص

یوم پیدائش 10 اکتوبر 1964

با ادب جن و بشر چاند ستارے ہوں گے
ہیں جہاں پر وہ ، حسیں چاند ستارے ہوں گے

تم کو دنیا کی نگاہوں میں ملے گی عزت
گیسوئے زیست اگر تم نے سنوارے ہوں گے

پھر نہ تنہائیاں تاکیں گی تمھاری جانب
اس کے ہو جاؤ اگر تم ، وہ تمھارے ہوں گے

دل کی دھڑکن تو کبھی روکے نہیں رک سکتی
جب تلک جاری نہیں ان کے اشارے ہوں گے

محوِ ماتم نظر آئیں گی یقیناً موجیں
حادثے جب بھی سمندر کے کنارے ہوں گے

نام ہے جن کا بسا دل میں ہمارے مخلصؔ
وقتِ مشکل میں وہی اپنے سہارے ہوں گے

احسان مخلص



عارف زماں

یوم پیدائش 10 اکتوبر 1965

راہ منزل کی مسافر کو سجھاتے ہیں چراغ 
روشنی کر کے اندھیروں کو مٹاتے ہیں چراغ 

جن کی آنکھیں نہیں ان کے لئے بے فیض مگر 
آنکھ والوں کے بہت کام بناتے ہیں چراغ 

دن نکلتا ہے تو ہو جاتے ہیں یہ بے وقعت 
ظلمت شب میں مگر رنگ جماتے ہیں چراغ 

یاد کرتا ہوں میں اس رشک قمر کو ایسے 
جس طرح لوگ اندھیرے میں جلاتے ہیں چراغ 

ڈر کے تاریکی سے جو ترک سفر کرتا ہے 
حوصلہ ایسے مسافر کا بڑھاتے ہیں چراغ 

چین سے بیٹھنا لوگوں کو کہاں آتا ہے 
خود نہیں رکھتے تو اوروں کے بجھاتے ہیں چراغ 

درس دیتے ہیں محبت کا زماںؔ کو اکثر 
لوگ نادان ہیں سورج کو دکھاتے ہیں چراغ

عارف زماں



محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...