Urdu Deccan

Sunday, October 30, 2022

فرحان قادری

یوم پیدائش 28 اکتوبر 2001

شعورِ درد نہیں نالہ و فغاں بھی نہیں
فراقِ یار میں پہلی سہی مستیاں بھی نہیں

تمھاری پردہ نشینی کا کچھ بیاں بھی نہیں
کہ تم نہاں بھی نہیں ٹھیک سے عیاں بھی نہیں

سنا تھا میرے ہی دل میں چھپے ہوئے ہو تم
بہت تلاش کیا تم ملے وہاں بھی نہیں

تمھارے گرمیِ احساس کا کرشمہ ہے
سلگ رہا ہے بدن اور سائباں بھی نہیں

مری جدائی نے تم کو بنا دیا مفلس
تمھارے کان میں سونے کی بالیاں بھی نہیں

فرحان قادری


 

حیرت الہ آبادی

یوم پیدائش 28 اکتوبر 1835

آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں 
سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں 

آ جائیں رعب غیر میں ہم وہ بشر نہیں 
کچھ آپ کی طرح ہمیں لوگوں کا ڈر نہیں 

اک تو شب فراق کے صدمے ہیں جاں گداز 
اندھیر اس پہ یہ ہے کہ ہوتی سحر نہیں 

کیا کہئے اس طرح کے تلون مزاج کو 
وعدے کا ہے یہ حال ادھر ہاں ادھر نہیں 

رکھتے قدم جو وادئ الفت میں بے دھڑک 
حیرتؔ سوا تمہارے کسی کا جگر نہیں

 حیرت الہ آبادی


 

سید خرم نقوی

یوم پیدائش 27 اکتوبر 

اِس سے پہلے کہ خوں مِیں تر جائیں
کیوں نہ وعدوں سے ہم مُکر جائیں

اب بھی باقی ہیں کچھ وفا پیکر 
 ان سے بولو کہ اب سُدھر جائیں

وہ ہی ناخن بڑھائے پھرتا ہے
ہم تو کہتے ہیں زخم بھر جائیں

اب ہے سارا مدار کانٹوں پر
 کہو پھولوں سے اب بکھر جائیں 

کچھ اذیت ہمیں اضافی دو
عین ممکن ہے ہم سنور جائیں

مَیں جو روتا دِکھوں تو لازم ہے
آپ ہنستے ہوئے گزر جائیں

ہم کہ دنیا سے بچ گئے سیدٓ
 خود سے بچنے کو اب کِدھر جائیں

سید خرم نقوی


 

مفتی تقی عثمانی

یوم پیدائش 27 اکتوبر 1943

محبت کیا ہے دل کا درد سے معمور ہو جانا
متاعِ جاں کسی کو سونپ کر مجبور ہو جانا

قدم ہیں راۂ اُلفت میں تو منزل کی ہوس کیسی
یہاں تو عین منزل ہے تھکن سے چُور ہو جانا

یہاں تو سر سے پہلے دل کا سودا شرط ہے یارو
کوئی آسان ہے کیا سرمد و منصور ہوجانا

بَسا لینا کسی کو دل میں دل ہی کا کلیجا ہے
پہاڑوں کو توبس آتا ہے جل کر طور ہوجانا

نظر سے دور رہ کر بھی تقی وہ پاس ہیں میرے
کہ میری عاشقی کو عیب ہے مہجور ہوجانا

مفتی تقی عثمانی


صوفیہ احمد

یوم پیدائش 27 اکتوبر 1951

کچھ خواب بیچنے ہیں خریدار چاہیے
ہم بک رہے ہیں اب ہمیں بازار چاہیے

اس بے سکون سے فلکِ بے ستوں تلے
رہنے کو پائیدار سا گھر بار چاہیے

اس درد کی گلی میں بڑی تیز دھوپ ہے
سستانے کے لیے کہیں چھتنار چاہیے

صوفیہ احمد 

پھوٹی ہے بطنِ شبِ دیجور سے رقصاں کرن
کٹ گیا دکھ کا سفر شاید سحر ہونے کو ہے

بے یقینی لامکانی عمر بھر ڈستی رہی
ہے فضا کچھ دوستانہ اپنا گھر ہونے کو ہے

تھک گیا صاحبانِ سنگ کا لشکر بھی اب
دشمنی کی آخری حد مختصر ہونے کو ہے

صوفیہ احمد


 

آتش بہاولپوری

یوم وفات 27 اکتوبر 1993

مجھے ان سے محبت ہو گئی ہے 
میری بھی کوئی قیمت ہو گئی ہے 

وہ جب سے ملتفت مجھ سے ہوئے ہیں 
یہ دنیا خوب صورت ہو گئی ہے 

چڑھایا جا رہا ہوں دار پر میں 
بیاں مجھ سے حقیقت ہو گئی ہے 

رواں دریا ہیں انسانی لہو کے 
مگر پانی کی قلت ہو گئی ہے 

مجھے بھی اک ستم گر کے کرم سے 
ستم سہنے کی عادت ہو گئی ہے 

حقیقت یہ ہے ہم کیا اٹھ گئے ہیں 
وفا دنیا سے رخصت ہو گئی ہے 

غم جاناں میں جب سے مبتلا ہوں 
غم دوراں سے فرصت ہو گئی ہے 

اب ان کی کفر سامانی بھی آتشؔ 
دل و جاں پر عبارت ہو گئی ہے 

آتش بہاولپوری

راج نرائن راز

یوم پیدائش 27 اکتوبر 1930

کیا بات ہے کہ بات ہی دل کی ادا نہ ہو 
مطلب کا میرے جیسے کوئی قافیہ نہ ہو 

گلدان میں سجا کے ہیں ہم لوگ کتنے خوش 
وہ شاخ ایک پھول بھی جس پر نیا نہ ہو 

ہر لمحہ وقت کا ہے بس اک غنچۂ بخیل 
مٹھی جو اپنی بند کبھی کھولتا نہ ہو 

اب لوگ اپنے آپ کو پہچانتے نہیں 
پیش نگاہ جیسے کوئی آئینہ نہ ہو 

وحشی ہوا کی روح تھی دیوار و در میں رات 
جنگل کی سمت کوئی دریچہ کھلا نہ ہو 

راج نرائن راز


 

ہادی مچھلی شہری

یوم وفات 25 اکتوبر 1961

ہزار خاک کے ذروں میں مل گیا ہوں میں 
مآل شوق ہوں آئینہ وفا ہوں میں 

کہاں یہ وسعت جلوہ کہاں یہ دیدۂ تنگ 
کبھی تجھے کبھی اپنے کو دیکھتا ہوں میں 

شہید عشق کے جلوے کی انتہا ہی نہیں 
ہزار رنگ سے عالم میں رونما ہوں میں 

مرا وجود حقیقت مرا عدم دھوکا
فنا کی شکل میں سرچشمۂ بقا ہوں میں 

ہے تیری آنکھ میں پنہاں مرا وجود و عدم 
نگاہ پھیر لے پھر دیکھ کیا سے کیا ہوں میں 

مرا وجود بھی تھا کوئی چیز کیا معلوم 
اس اعتبار سے پہلے ہی مٹ چکا ہوں میں 

شمار کس میں کروں نسبت حقیقی کو 
خدا نہیں ہوں مگر مظہر خدا ہوں میں 

مرا نشاں نگہ حق نگر پہ ہے موقوف 
نہ خود شناس ہوں ہادیؔ نہ خود نما ہوں میں

ہادی مچھلی شہری


 

بشیر حسین ناظم

یوم پیدائش 25 اکتوبر 1932
حمد باری تعالی

جسم و جاں میں منعکس جلوہ تری تنویر کا​
کیا تشکر ہو سکے بندے سے اس تقدیر کا​​

عبد ممکن کے لئے اے ہستی واجب تری​
حمد کہنا بالیقیں لانا ہے جوئے شیر کا​​

تو موفق ہو تو تیری حمد کی تطریز ہو​
ورنہ در مغلق رہے تحمید کی تحریر کا​​

تیرا باب مرحمت مفتوح ہے شام و سحر​
بخشنے والا ہے تو ہر ایک کی تقصیر کا​​

اور نعروں کے بھی پاسُخ ہوں گے جاں پرور ، مگر​
ہے جواب "اللہ اکبر" نعرہ تکبیر کا​​

رات کی تنہائیوں میں اے انیسِ قلب و جاں​
کیا مزہ آتا ہے تیرے نام کی تکریر کا​​

تیری طاعت ضامنِ فوز و فلاح و عافیت​
تیرا ذکرِ پاک باعث ، عزت و توقیر کا​​

تیرے آگے سر خمیدن ، قوتِ قلب و جگر​
تابِ روحِ مضمحل جلوہ تری تذکیر کا​​

جب تبتل سے ترے آگے کوئی سجدہ کرے​
خود بخود ہوتا ہے ساماں نفس کی تسخیر کا​​

تیرے ہی انوار سے ہے پیکرِ گل تابناک​
امر سے تیرے ہی نکھرا رنگ اس تصویر کا​​

ناظمِ بے علم و دانش تیرے لطفِ خاص سے​
بن گیا مطواع و ناصر دینِ عالمگیر کا

بشیر حسین ناظم


 

الفت الفت

یوم پیدائش 25 اکتوبر 1979

ان کی چوکھٹ پہ جو گزاری ہے 
بس وہی زندگی ہماری ہے 

جو گزارا تمھارے پہلو میں
ایک پل زندگی پہ بھاری ہے 

تیری أواز گونجتی ہے کہیں 
خودسے خود تک تلاش جاری ہے

جس نے دیکھی ہے صورت۔دلبر
مجھ کو الفت وہ أنکھ پیاری ہے

الفت الفت



محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...