Urdu Deccan

Tuesday, February 28, 2023

یوسف جمال

یوم پیدائش 11 فروری 1947

کورے کاغذ کی طرح بے نور بابوں میں رہا 
تیرگی کا حاشیہ بن کر کتابوں میں رہا 

میں اذیت ناک لمحوں کے عتابوں میں رہا 
درد کا قیدی بنا خانہ خرابوں میں رہا 

جس قدر دی جسم کو مقروض سانسوں کی زکوٰۃ 
کیا بتاؤں جسم اتنا ہی عذابوں میں رہا 

بے صفت صحرا ہوں کیوں صحرا نوردوں نے کہا 
ہر قدم پر جب کہ میں اندھے سرابوں میں رہا 

وقت کی محرومیوں نے چھین لی میری زبان 
ورنہ اک مدت تلک میں لا جوابوں میں رہا 

ڈھونڈتے ہو کیوں جلی تحریر کے اسباق میں 
میں تو کہرے کی طرح دھندلے نصابوں میں رہا

یوسف جمال



عبد الغفور نساخ

یوم پیدائش 11فروری 1834

ظاہراً موت ہے قضا ہے عشق
پر حقیقت میں جاں فزا ہے عشق

دیتا ہے لاکھ طرح سے تسکین
مرض ہجر میں دوا ہے عشق

تا دم مرگ ساتھ دیتا ہے
ایک محبوب با وفا ہے عشق

دیکھ نساخؔ گر نہ ہوتا کفر 
کہتے بے شبہ ہم خدا ہے عشق

عبد الغفور نساخ 

 


کمار وشواس

یوم پیدائش 10 فروری 1970

دل تو کرتا ہے خیر کرتا ہے 
آپ کا ذکر غیر کرتا ہے 

کیوں نہ میں دل سے دوں دعا اس کو 
جبکہ وہ مجھ سے بیر کرتا ہے 

آپ تو ہو بہ ہو وہی ہیں جو 
میرے سپنوں میں سیر کرتا ہے 

عشق کیوں آپ سے یہ دل میرا 
مجھ سے پوچھے بغیر کرتا ہے 

ایک ذرہ دعائیں ماں کی لے 
آسمانوں کی سیر کرتا ہے

کمار وشواس


امجد اسلام امجد

یوم وفات 10 فروری 2023

یہ اور بات ہے تجھ سے گلا نہیں کرتے 
جو زخم تو نے دیے ہیں بھرا نہیں کرتے 

ہزار جال لیے گھومتی پھرے دنیا 
ترے اسیر کسی کے ہوا نہیں کرتے 

یہ آئنوں کی طرح دیکھ بھال چاہتے ہیں 
کہ دل بھی ٹوٹیں تو پھر سے جڑا نہیں کرتے 

وفا کی آنچ سخن کا تپاک دو ان کو 
دلوں کے چاک رفو سے سلا نہیں کرتے 

جہاں ہو پیار غلط فہمیاں بھی ہوتی ہیں 
سو بات بات پہ یوں دل برا نہیں کرتے 

ہمیں ہماری انائیں تباہ کر دیں گی 
مکالمے کا اگر سلسلہ نہیں کرتے 

جو ہم پہ گزری ہے جاناں وہ تم پہ بھی گزرے 
جو دل بھی چاہے تو ایسی دعا نہیں کرتے 

ہر اک دعا کے مقدر میں کب حضوری ہے 
تمام غنچے تو امجدؔ کھلا نہیں کرتے

امجد اسلام امجد


خواجہ دل محمد

یوم پیدائش 09 فروری 1887
نظم علم

سعادت ، سیادت ، عبادت ہے علم
حکومت ہے دولت ہے، طاقت ہے علم
یہ پوچھو کسی مرد مختار سے
قلم تیز چلتا ہے تلوار سے
پسر علم و فن سے اگر دور ہے
پدر کی وہ اک چشم بے نور ہے
جو لاڈوں سے بگڑا ہوا پوت ہو
کبھی اولیا ہو کبھی بھوت ہو
نہ پھولوں کی سیجوں پہ آتا ہے علم
نہ ورثے میں انسان پاتا ہے علم
دلوں میں بھرو علم کا مال و زر
نہ قاروں کا خطرہ نہ چوروں کا ڈر
بڑھے علم انساں کا تعلیم سے
کہ دولت یہ دگنی ہو تقسیم سے
اگر پوچھنے میں کرو گے حجاب
تو پڑھتے رہو گے جہالت کا باب 
جہالت سے انساں مصیبت اٹھائے
اندھیرے میں جو جائے ٹھوکر ہی کھائے
ہدایت کی مشعل ہیں علم و ہنر
جہالت ہے خطرہ جہالت ہے ڈر
اگر خاک پر پھونک مارے جہول
تو جھونکے گا اپنی ہی آنکھوں میں دھول
نظر ہو تو جوہر کے جوہر کہے
ہے اندھا جو ہیرے کو کنکر کہے
ہے جاہل کو نیکی بدی بات ایک
بھلا مرد جاہل کا ایمان کیا
کہ اندھے کو رنگوں کی پہچان کیا
گدھے کو اڑا دیں جو مخمل کی جھول
دلتی چلانا جائے گا بھول
بہت لوگ باتوں میں لقمان ہیں
کمل میں جو دیکھو تو نادان ہیں
علاج جراحت کو خاذق وہ چن
اس طبع میں جس کے یہ چار گن
طر بازار کی سر افلاطون کا
ہو بدر کی طرح حاصل کمال
اوروں کو ظلمت سے باہر نکال
جو سیکھو کسی کو سکھاتے چلو
دئے سے دئے کو جلاتے چلو

خواجہ دل محمد 


 

صلاح الدین پرویز

یوم پیدائش 09 فروری 1952
نظم موم بتی 

اور جب 
اس کے قد پر
اٹیچی کا سامان رکھا گیا 
موم بتی ہنسی 
موم بتی کا ہنسنا بجا ہے 

مجھے کوستی ہے 
مرے گھر میں پچھلے کئی سال سے 
ایک آواز 
جس کے کئی راستے 
دھند کے سرد لہجے میں 
الجھے ہوئے ہیں 
مرے گھر کو 
اک موم بتی کی خواہش 
کہیں جنگلوں کا نہ رستہ دکھا دے 

سفر 
جب نیا کتھئی سوٹ پہنے 
نئی ریل گاڑی میں بیٹھا 
تو اس کو مسافر سمجھ کر 
کئی لوگ ہنسنے لگے 
اور جب ان کے پیالوں میں رکھی ہوئی 
چائے جمنے لگی 
تب انہیں یاد آیا 
بزرگوں نے مرتے سمے 
اپنی آنکھیں زباں سے چکھی تھیں 
مگر موم بتی کی لمبی زباں 
ریل گاڑی میں بیٹھی سفر کر رہی تھی 
اور تبھی اک سفر 
ان کی آنکھیں چرا کر کہیں لے گیا تھا 
مرے ہاتھ میں اک اٹیچی ہے لیکن 
اسے کھولنا میرے بس میں نہیں ہے 
اور اب 
موم بتی بھی ہنسنے لگی ہے 

 صلاح الدین پرویز


 

خطاب عالم شاذ

یوم پیدائش 08 فروری 1982

مِری ترقی کے ضامن مِرے رقیب ہوئے
ملا جو مجھ کو یہاں اُن کو کیا؟ نصیب ہوئے

ہنسی اڑاتے رہے جو ،وہی خموش ہوئے
جو دور دور رہے برسوں اب قریب ہوئے

مخالفت جو سدا دشمنی میں کرتے رہے
زمین اور زماں بدلا کیا! حبیب ہوئے

ہمارے چاہنے والوں کی چاہ کو چاہو
اگرملے وہی چاہت زہے نصیب ہوئے

گلاب دل میں جو ہر دم کھِلائے رکھتے ہیں
وہی سبھی کے دلوں میںبھی عندلیب ہوئے

ملاپسند کا مضمون جس کی چاہت تھی
حیاتیات سے رغبت ہوئی طبیب ہوئے

جنھیں شغف تھا قلم اور کتاب سے دن بھر
وہی زما ں میں معلم وہی ادیب ہوئے

خطاب عالم شاذ


 

انیس عظیم آبادی

یوم پیدائش 08 فروری 1943

پوشیدہ درد و غم میں معراجِ زندگی ہے
تاریکیوں میں پنہاں دھندلی سی روشنی ہے

دن رات کشمکش میں کیوں میری زندگی ہے
تم سے چھپی نہیں ہے جو میری بے بسی ہے

مہتاب بن کے چمکو تاروں کی انجمن میں
تم خوش رہو ہمیشہ میری یہی خوشی ہے

قربان تم یہ کردوں قلب و جگر میں اپنا
کہہ دو زباں سے اپنی ، خاطر میں جو کمی ہے

کیوں سرد پڑ گئی ہے جام و سبو کی محفل
کیا بات ہوگئی ہے ، ہر سمت خامشی ہے

وہ ہم نوا ہمارے ، ہم خود بھی جب نہیں ہیں
کیوں پوچھتی ہے دنیا ، یہ کون اجنبی ہے

انیس عظیم آبادی


 

حیرت فرخ آبادی

یوم پیدائش 08 فروری 1930

دل دکھانا تمہاری فطرت ہے 
چوٹ کھانا ہماری عادت ہے 

مجھ کو یوں ہی خراب ہونا تھا 
بے سبب تم کو کیوں ندامت ہے 

جھانک کر ایک بار آنکھوں میں 
خود ہی پڑھ لو جو دل کی حالت ہے
 
راہ الفت میں جان دے دینا 
اس سے بڑھ کر کوئی شہادت ہے 

تیری فرقت ہو یا تری قربت 
ایک دوزخ ہے ایک جنت ہے 

تم نے دیکھا ہے ایسے جلووں کو 
کس لیے مجھ سے پھر شکایت ہے 

اس بھروسے گناہ کرتا ہوں 
بخش دینا تمہاری فطرت ہے 

سوئے مے خانہ اٹھ چلے ہیں قدم 
جیسے یہ بھی کوئی عبادت ہے 

زندگی کو سنبھال کر رکھنا 
ایک بے درد کی امانت ہے 

درد ہی درد جس کے شعروں میں 
اور ہے کون صرف حیرتؔ ہے 

حیرت فرخ آبادی 


 

گووند گلشن

یوم پیدائش 07 فروری 1957

منتظر آنکھیں ہیں میری شام سے 
شمع روشن ہے تمہارے نام سے 

چھین لیتا ہے سکوں شہرت کا شوق 
اس لیے ہم رہ گئے گمنام سے 

سچ کی خاطر جان جاتی ہے تو جائے 
ہم نہیں ڈرتے کسی انجام سے 

اپنے من کی بات اب کس سے کہوں 
آئنہ ناراض ہے کل شام سے 

کیا عجب دنیا ہے یہ دنیا یہاں 
لوگ ملتے ہیں مگر بس کام سے 

ایسا کچھ ہو جائے دل ٹوٹے نہیں 
سوچیے گا آپ بھی آرام سے 

مجھ سے پوچھو آنسوؤں کی برکتیں 
مطمئن ہوں رنج و غم آلام سے

گووند گلشن


 

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...