Urdu Deccan

Wednesday, January 27, 2021

افضل خاکسار

 فکرِ آیندہ خطِ لوحِ جبیں پر رکھ دی

خُوئے تشکیک و گُماں طاقِ یقیں پر رکھ دی

حُسنِ ترتیب سے خالی رہا کمرا میرا
بے خیالی میں کوئی چیز کہیں پر رکھ دی

زندگی کا کوئی سارق نہ مجھے گردانے
میں نے جو چیز اُٹھائی تھی وہیں پر رکھ دی

حرفِ کُن کہہ کے مری میّتِ ہستی اُس نے
آسماں سے جو اُٹھائی تو زمیں پر رکھ دی

“ لَا “ کہا اور پھر “ اِلَّا “ سے کیا مستثنٰی
اُس نے اثبات کی بنیاد نہیں پر رکھ دی

جو اُٹھائی نہ گئی اہلِ فلک سے افضل
وہ امانت بھی مجھی خاک نشیں پر رکھ دی

افضل خاکسار
#urdupoetry #urdudeccan #اردودکن #اردو #شع


راء #birthday  #پیدائش #شاعری #اردوشاعری #اردوغزل #urdugazal #urdu #poetrylover #poetry #rekhta#شاعر #غزل #gazal

ضیاء شہزاد

 یوم پیدائش 27 جنوری 1942


دشمنِ جاں تھا مگر وہ جان سے پیارا لگا

ہجر کی شب میں مجھے امید کا تارا لگا


میں مسافر دھوپ کے رستے میں پیاسا ہی رہا

وہ سرابِ محض نکلا جو مجھے دریا لگا


چاند سے میں کیا کہوں دیتا ہے دھوکا یہ مجھے

چودھویں کی رات تھی کل چاند تم جیسا لگا


حسرتوں کے پھول بس کھلتے ہی مرجھانے لگے

یوں دغا دے کر گیا وہ دل میں کانٹا سا لگا


اک زرا سی بات سے رشتے بھی پہچانے گئے

خیر تھا وہ شخص کتنا جو مجھے اپنا لگا


یوں اٹھا شہزاد سارا اعتبارِ آدمی

مجھ کو اپنے آپ سے بھی جان کا دھڑکا لگا 


ضیاء شہزاد


معید رشیدی

 یوم پیدائش 27 جنوری 1988


یہ معجزہ ہے کہ میں رات کاٹ دیتا ہوں 

نہ جانے کیسے طلسمات کاٹ دیتا ہوں 


وہ چاہتے ہیں کہ ہر بات مان لی جائے 

اور ایک میں ہوں کہ ہر بات کاٹ دیتا ہوں 


نمی سی تیرتی رہتی ہے میری آنکھوں میں 

بہ اختیار میں برسات کاٹ دیتا ہوں 


ترا خیال ہی اب میرا اسم اعظم ہے 

اسی سے سارے خیالات کاٹ دیتا ہوں 


یہ رات کاٹتی رہتی ہے صبح تک مجھ کو 

نہ جانے کیسے میں ہر رات کاٹ دیتا ہوں 


معید رشیدی


Tuesday, January 26, 2021

گوہر بنارسی

 یوم پیدائش 26 جنوری 2002


قول مصطفی پر تم جان و دل لٹا دینا

الفت و محبت سے تم جہاں سجا دینا


مال و زر لٹا دینا پیار امن کی خاطر

پر نہ دشمن جاں سے تم کبھی صلہ لینا


بیویوں کی خواہش میں بیٹیوں کے چکر میں

اپنی بندگی کا حق یار مت بھلا دینا


حکم ہے نبی کا یہ دھیان سے سنو گوہر

سر جو کاٹنے آئے اس کو بھی دعا دینا


گوہر بنارسی


اجمل صدیقی

 یوم پیدائش 26 جنوری 1981


زندگی روز بناتی ہے بہانے کیا کیا

جانے رہتے ہیں ابھی کھیل دکھانے کیا کیا


صرف آنکھوں کی نمی ہی تو نہیں مظہر غم

کچھ تبسم بھی جتا دیتے ہیں جانے کیا کیا


کھٹکیں اس آنکھ میں تو دھڑکیں کبھی اس دل میں

در بدر ہو کے بھی اپنے ہیں ٹھکانے کیا کیا


بول پڑتا تو مری بات مری ہی رہتی

خامشی نے ہیں دئے سب کو فسانے کیا کیا


شہر میں رنگ جما گاؤں میں فصلیں اجڑیں

حشر اٹھایا بنا موسم کی گھٹا نے کیا کیا


خواب و امید کا حق، آہ کا فریاد کا حق

تجھ پہ وار آئے ہیں یہ تیرے دوانے کیا کیا


اجمل صدیقی


محمد محمود عالم

 پاتا نہیں میں جان کی اپنی یہاں اماں 

 جرٱت میں لب کشائی کی کیسے کروں میاں


کوئی نہیں ہے پوچھنے والا ترا یہاں 

" اس شہر بے چراغ میں جائے گا توکہاں " 


کہتا تھا ایک بوڑھا بھی  بڑھیا سے یہ میاں 

اپنے نصیب میں ہے فقط آہ اور فغاں 


نفرت کا بیج بونے سے پہلے ہی سوچ لو  

سائے میں اس درخت کے ممکن  سکوں کہاں 


خوشحال ہو  عوام نہیں کچھ  غرض انہیں 

دشمن بنی ہے ان کی حکومت یہاں وہاں 


محمد محمود عالم


Monday, January 25, 2021

میلہ رام وفا

 یوم پیدائش 26 جنوری 1895


محفل میں اِدھر اور اُدھر دیکھ رہے ہیں

ہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں


عالم ہے ترے پَرتو رُخ سے یہ ہمارا

حیرت سے ہمیں شمس و قمر دیکھ رہے ہیں


بھاگے چلے جاتے ہیں اِدھر کو تو عجب کیا

رُخ لوگ ہواؤں کا جدھر دیکھ رہے ہیں


ہوگی نہ شبِ غم تو قیامت سے ادھر ختم

ہم شام ہی سے راہ سحر دیکھ رہے ہیں


وعدے پہ وہ آئیں یہ توقع نہیں ہم کو

رہ رہ کے مگر جانبِ در دیکھ رہے ہیں


شکوہ کریں غیروں کا تو کس منہ سے کریں ہم

بدلی ہوئی یاروں کی نظر دیکھ رہے ہیں


شاید کہ اسی میں ہو وفاؔ خیر ہماری

برپا جو یہ ہنگامۂ شر دیکھ رہے ہیں

 ​

میلہ رام وفاؔ


تحسین علی

 یوم پیدائش 25 جنوری1999


جب اُنکی نگاہوں کو ہم دیکھتے ہیں 

بڑے رشک سے جامِ جم دیکھتے ہیں 


کہاں اپنے ظلم و ستم دیکھتے ہیں 

وہ ہنس کر مری آنکھیں نم دیکھتے ہیں 


کبھی دیکھتے ہیں وہ مشکِ سکینہ 

کبھی آنکھ اُٹھا کر علم دیکھتے ہیں 


نہ ہو کیوں مجھے رشک قسمت پہ اُنکی 

جو ہر روز دیر و حرم دیکھتے ہیں  


بڑے چپکے چپکے بھری بزم میں ہم 

حسینوں کی زلفوں کے خم دیکھتے ہیں 


تحسین عل


فاطمہ حسن

 یوم پیدائش 25 جنوری 1953


کہنے کو اس سے عشق کی تفسیر ہے بہت 

پڑھ لے تو صرف آنکھ کی تحریر ہے بہت


تحلیل کرکے شِدّت ِاحساس رنگ میں

بن جائے گر تو ایک ہی تصویر ہے  بہت

 

دستک سے در کا فاصلہ ہے اعتماد کا 

پر لوٹ جانے کو یہی تاخیر ہے بہت 


بیٹھا رہا وہ پاس تو میں سوچتی رہی

خاموشیوں کی اپنی بھی تاثیر ہے بہت


تعمیر کر رہا ہے محبت کا وہ حصار

میرے لئے خلوص کی زنجیر ہے بہت


میں اس سے اپنی بات کہوں شعر لکھ سکوں

الفاظ دے وہ جن میں کہ تاثیر ہے بہت 


فاطمہ حسن


Sunday, January 24, 2021

فیضان فیضی

 یوم پیدائش 24 جنوری 1996


ذرا سا دل کو کریدا تو ایک داغ ملا

اسی سے ہجرِ مسلسل کا پھر سراغ ملا


کہیں چراغ سے جلتی ہوئی ہوا دیکھی

کہیں ہواؤں سے  جلتا ہوا چراغ ملا


نہ جانے کونسا مہمان آنے والا ہے

کئی منڈیریں اچھلتا سیاہ زاغ ملا


جناب آپ تو مدت سے اپنے حجرے میں

خدا کو ڈھونڈ رہے تھے، کوئی سراغ ملا؟


تمہاری یاد میں سانسیں تھکن سے چور ہوئیں

کبھی کہیں نہ کوئی لمحہ ء فراغ ملا


وہ جس کو پی کے ملے ہوش اور پیاس بڑھے

مجھے بدستِ قلندر وہی ایاغ ملا


 فیضان


فیضی 

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...