Urdu Deccan

Sunday, March 28, 2021

محمد الیاس کرگلی

 ایسا تو نہیں دل میں محبت ہی نہیں تھی

اظہار محبت کی بھی ہمت ہی نہیں تھی


آساں تو نہیں عشق کا سودا مرے ہمدم

ایسا بھی نہیں مجھ میں وہ دولت ہی نہیں تھی


ترسیلِ عدم سے نہ ہوا عشق کا اظہار

افسوس زمانے میں سہولت ہی نہیں تھی 


ہم اپنی انا لے کے ہی واپس چلے آئے 

تکرار کی ہم میں کوئی عادت ہی نہیں تھی


ہم بس کہ کتابوں میں ہی کھوئے رہے اب تک

دل کے لئے اپنے کوئی مہلت ہی نہیں تھی 


پہلی ہی نظر میں ترا ہونا بھی عجب تھا

اور بن ترے دل میں کوئی حاجت ہی نہیں تھی


اُس وقت میرے نام سے واقف نہ تھی دنیا

الیاس کی اس دور میں شہرت ہی نہیں تھی


محمد الیاس کرگلی


راتھر عمر

 نظر لگی ہے کس کی میرے شہر کو

کہ خون نے ہے اوڑھا پورے شہر کو


جکڑ کے پنجرے میں قید کرنا یوں

 سمجھ یہ آ رہا ہے سارے شہر کو


بجھائے ہیں چراغ کتنے بے وجہ

بنایا مقبرہ پیارے شہر کو


یہاں کے تخت کا اٹھا کے فائدہ

کئے خسارے ہی خسارے شہر کو


سبھی ہیں محو اپنے آپ میں عمر

یہاں پہ کون اب نکھارے شہر کو


راتھر عمر


اشرف نرملی

 ترس جاتی ہیں آنکھیں جینا بھی دشوار ہوتاہے

بڑی مشکل سے اب تو چاند کا دیدار ہوتا ہے


نہ دولت میں سکونِ دل ہے نہ شہرت میں اے جاناں 

کہ تجھ کو دیکھ کر ہی دل گلِ گلزار ہوتا ہے


زباں سے اسکی سننے کے لیے بے چین ہوں کب سے

محبت کا مگر اس سے کہاں اظہار ہوتا ہے


مکمل کوئی ہوتا ہے ادھورا رہتا ہے کوئی

محبت میں کہاں ہر اک کا بیڑا پار ہوتا ہے


نگاہوں کو تو بھاتے ہیں کئی چہرے یہاں اشرف

مگر دل جس پہ آجائے اسی سے پیار ہوتا ہے


اشرف نرملی


افتخار عارف

 یوم پیدائش 21مارچ 1940


ہو کے دنیا میں بھی دنیا سے رہا اور طرف

دل کسی اور طرف ،دستِ دعا اور طرف


اک رجز خواں ہنر ِکاسہ و کشکول میں طاق

جب صفِ آرا ہوئے لشکر تو ملا اور طرف


اے بہ ہر لمحہ نئے وہم میں الجھے ہوئے شخص

میری محفل میں الجھتا ہے تو جا اور طرف


اہلِ تشہیر و تماشا کے طلسمات کی خیر

چل پڑے شہر کے سب شعلہ نوا اور طرف


کیا مسافر تھا سفر کرتا تھااِس بستی میں

اور لو دیتے تھے نقشِ کفِ پا اور طرف


شاخِ مژگاں سے جو ٹوٹا تھا ستارہ سرِ شام

رات آئی تو وہی پھول کھلا اور طرف


نرغۂ ظلم میں دکھ سہتی رہی خلقتِ شہر

اہلِ دنیا نے کیے جشن بپا اور طرف


افتخار عارف


طاہر مسعود

 یوم پیدائش 21 مارچ 1974


کوئی ہمدرد بن کر آ گیا ہے

ہوا جب حال ابتر آ گیا ہے


 ِمرے مدِ مقابل جنگ لڑنے 

ِمرا یارِ ستمگر آ گیا ہے


جو ان دیکھا تھا پڑھ کر دیکھنا ہے 

فسانے میں وہ منظر آ گیا ہے


ارے یارا ! نہیں تکلیف ، مت رو

یونہی بس ہاتھ دل پر آ گیا ہے


بنے گا کل مرا بازو ۔۔ کہ بیٹا

مرے قد کے برابر آ گیا ہے


پرانے درد اوڑھے تھا جو موسم

نئے کپڑے پہن کر آ گیا ہے


نہیں تھا نام میرا سرکشوں میں 

مگر حسبِ مقدر آ گیا ہے


مجھے جانا تھا لیکن جا نہ پایا 

اسے آنا نہ تھا ۔۔ پر آ گیا ہے 


تمہاری منتظر خوشیاں ہیں " طاہر" 

اب آنکھیں پونچھ لو گھر آ گیا ہے


" طاہر مسعود "


بیخود دہلوی

 یوم پیدائش 21 مارچ 1863


دے محبت تو محبت میں اثر پیدا کر

جو ادھر دل میں ہے یا رب وہ ادھر پیدا کر


دود دل عشق میں اتنا تو اثر پیدا کر

سر کٹے شمع کی مانند تو سر پیدا کر


پھر ہمارا دل گم گشتہ بھی مل جائے گا

پہلے تو اپنا دہن اپنی کمر پیدا کر


کام لینے ہیں محبت میں بہت سے یا رب

اور دل دے ہمیں اک اور جگر پیدا کر


تھم ذرا اے عدم آباد کے جانے والے

رہ کے دنیا میں ابھی زاد سفر پیدا کر


جھوٹ جب بولتے ہیں وہ تو دعا ہوتی ہے

یا الٰہی مری باتوں میں اثر پیدا کر


آئینہ دیکھنا اس حسن پہ آسان نہیں

پیشتر آنکھ مری میری نظر پیدا کر


صبح فرقت تو قیامت کی سحر ہے یا رب

اپنے بندوں کے لیے اور سحر پیدا کر


مجھ کو روتا ہوا دیکھیں تو جھلس جائیں رقیب

آگ پانی میں بھی اے سوز جگر پیدا کر


مٹ کے بھی دوری گلشن نہیں بھاتی یا رب

اپنی قدرت سے مری خاک میں پر پیدا کر


شکوۂ درد جدائی پہ وہ فرماتے ہیں

رنج سہنے کو ہمارا سا جگر پیدا کر


دن نکلنے کو ہے راحت سے گزر جانے دے

روٹھ کر تو نہ قیامت کی سحر پیدا کر


ہم نے دیکھا ہے کہ مل جاتے ہیں لڑنے والے

صلح کی خو بھی تو اے بانئ شر پیدا کر


مجھ سے گھر آنے کے وعدے پر بگڑ کر بولے

کہہ دیا غیر کے دل میں ابھی گھر پیدا کر


مجھ سے کہتی ہے کڑک کر یہ کماں قاتل کی

تیر بن جائے نشانہ وہ جگر پیدا کر


کیا قیامت میں بھی پردہ نہ اٹھے گا رخ سے

اب تو میری شب یلدا کی سحر پیدا کر


دیکھنا کھیل نہیں جلوۂ دیدار ترا

پہلے موسیٰ سا کوئی اہل نظر پیدا کر


دل میں بھی ملتا ہے وہ کعبہ بھی اس کا ہے مقام

راہ نزدیک کی اے عزم سفر پیدا کر


ضعف کا حکم یہ ہے ہونٹ نہ ہلنے پائیں

دل یہ کہتا ہے کہ نالے میں اثر پیدا کر


نالے بیخودؔ کے قیامت ہیں تجھے یاد رہے

ظلم کرنا ہے تو پتھر کا جگر پیدا کر


بیخود دہلوی


شمشاد شاؔد

 یوم پیدائش کی مبارک باد

21م مارچ ۔۔۔۔


دُکھوں کو ایڑ لگاتے ہیں غم سے کھیلتے ہیں

وہ جیتتے ہیں جو لوح و قلم سے کھیلتے ہیں


نہ جانے کس لئے اہلِ کرم سے کھیلتے ہیں

زمانے والے دلِ محترم سے کھیلتے ہیں


یہی رواج ہے شہرِ ستم کا صدیوں سے

جو شاد ہیں وہ اسیرانِ غم سے کھیلتے ہیں


قسم ہے ان کی قسم کا یقین مت کرنا

منافقین خدا کی قسم سے کھیلتے ہیں


مخالفین میں یہ بات مشتہر کر دو

ہے مات ان کی یقینی جو ہم سے کھیلتے ہیں


کہ اپنے اپنے عقیدوں کو طاق پر رکھ کر

جنابِ شیخ و برہمن دھرم سے کھیلتے ہیں


اے شاؔد رنج و الم کا نہیں ہے خوف ہمیں

ہم ابتدا ہی سے رنج و الم سے کھیلتے ہیں


شمشاد شاؔد


جاوید اقبال

 یوم پیدائش 20 مارچ 


بظاہر زیست سے شکوہ نہیں ہے 

ہے سب اچھا مگر، اچھا نہیں ہے 


میں کیسی بستیوں میں آگیا ہوں 

یہاں دیواریں ہیں، سایہ نہیں ہے 


فقط گھنٹی سے ہی پہچانتا ہوں 

تِرا ہے فون یا تیرا نہیں ہے


زمین و آسماں دھندلے پڑے ہیں 

یہ آنسو آنکھ سے گرتا نہیں ہے 


یہ سچ ہے میرا برتاؤ ہے بدلا

مگر تُو بھی تو پہلے سا نہیں ہے


جو سوچا رات بھر تجھ کو، لگا یہ

مِرا چہرہ تھا جو، میرا نہیں ہے 


جاوید اقبال


سرسوتی سرن کیف

 یوم پیدائش 20مارچ 1922


ستم گر تجھ سے ہم کب شکوۂ بیداد کرتے ہیں

ہمیں فریاد کی عادت ہے ہم فریاد کرتے ہیں


متاع زندگانی اور بھی برباد کرتے ہیں

ہم اس صورت سے تسکین دل ناشاد کرتے ہیں


ہواؤ ایک پل کے واسطے للہ رک جاؤ

وہ میری عرض پر دھیمے سے کچھ ارشاد کرتے ہیں


نہ جانے کیوں یہ دنیا چین سے جینے نہیں دیتی

کوئی پوچھے ہم اس پر کون سی بیداد کرتے ہیں


نظر آتا ہے ان میں بیشتر اک نرم و نازک دل

مصائب کے لیے سینے کو جو فولاد کرتے ہیں


خدا کی مصلحت کچھ اس میں ہوگی ورنہ بے حس بت

کسے شاداں بناتے ہیں کسے ناشاد کرتے ہیں


نہیں دیکھا کہیں جو ماجرائے عشق میں دیکھا

کہ اہل درد چپ ہیں چارہ گر فریاد کرتے ہیں


اسیر دائمی گر دل نہ ہو تو اور کیا ہو جب

کہیں وہ مسکرا کر جا تجھے آزاد کرتے ہیں


کیا ہوگا کبھی آدم کو سجدہ کہنے سننے سے

فرشتے اب کہاں پروائے آدم زاد کرتے ہیں


ہمیں اے دوستو چپ چاپ مر جانا بھی آتا ہے

تڑپ کر اک ذرا دل جوئی صیاد کرتے ہیں


بہت سادہ سا ہے اے کیفؔ اپنے غم کا افسانہ

وہ ہم کو بھول بیٹھے ہیں جنہیں ہم یاد کرتے ہیں


سرسوتی سرن کیف


سیف الدین سیف

 یوم پیدائش 20 مارچ 1922


مری داستان حسرت وہ سنا سنا کے روئے

مرے آزمانے والے مجھے آزما کے روئے


کوئی ایسا اہل دل ہو کہ فسانۂ محبت

میں اسے سنا کے روؤں وہ مجھے سنا کے روئے


مری آرزو کی دنیا دل ناتواں کی حسرت

جسے کھو کے شادماں تھے اسے آج پا کے روئے


تری بے وفائیوں پر تری کج ادائیوں پر

کبھی سر جھکا کے روئے کبھی منہ چھپا کے روئے


جو سنائی انجمن میں شب غم کی آپ بیتی

کئی رو کے مسکرائے کئی مسکرا کے روئے


سیف الدین سیف



محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...