Urdu Deccan

Sunday, March 28, 2021

حاشر افنان

 اگر تو خدا کا نہیں ہے

قسم سے کسی کا نہیں ہے


محمدﷺ وہاں پر ہے پہنچے

جہاں کوئی پہنچا نہیں ہے


خدایا ترے اس جہاں میں 

 کوئی بھی تو اپنا نہیں ہے


بہت سے حسیں لوگ دیکھے

مگر کوئی تجھ سا نہیں ہے


جسے تو سمجھتا ہے اپنا

نہیں ہے وہ تیرا نہیں ہے


سخن ور بہت ہم نے دیکھے 

کوئی تم سا دیکھا نہیں ہے


تو کس کی زباں بولتا ہے 

ترا تو یہ لہجہ نہیں ہے 


مرے رب کی خیرات تو ہے 

کسی کا تو صدقہ نہیں ہے


نہیں کھیل تو میرے دل سے 

مرا دل کھلونا نہیں ہے 


اداسی میں کیوں مجھ کو حاشر

کوئی یاد آتا نہیں ہے


 حاشر افنان


حبیب جالب

 یوم پیدائش 24 مارچ 1928


تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا

اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا


کوئی ٹھہرا ہو جو لوگوں کے مقابل تو بتاؤ

وہ کہاں ہیں کہ جنہیں ناز بہت اپنے تئیں تھا


آج سوئے ہیں تہ خاک نہ جانے یہاں کتنے

کوئی شعلہ کوئی شبنم کوئی مہتاب جبیں تھا


اب وہ پھرتے ہیں اسی شہر میں تنہا لیے دل کو

اک زمانے میں مزاج ان کا سر عرش بریں تھا


چھوڑنا گھر کا ہمیں یاد ہے جالبؔ نہیں بھولے

تھا وطن ذہن میں اپنے کوئی زنداں تو نہیں تھا


حبیب جالب


بشیر فاروق

 یوم پیدائش 23 مارچ 1939


وہ ستم پرور بہ چشم اشک بار آ ہی گیا

چاک دامانی پہ میری اس کو پیار آ ہی گیا


مٹتے مٹتے مٹ گئی جان وفا کی آرزو

آتے آتے بے قراری کو قرار آ ہی گیا


چپکے چپکے مجھ پہ میری خامشی ہنستی رہی

روتے روتے جذب دل پر اختیار آ ہی گیا


کوئی وعدہ جس کا معنی آشنا ہوتا نہیں

پھر اسی وعدہ شکن پر اعتبار آ ہی گیا


یا الٰہی جذبۂ ہوش و خرد کی خیر ہو

منتظر جس کا جنوں تھا وہ دیار آ ہی گیا


بشیر فاروق


فرحت زاید

 یوم پیدائش 23 مارچ 1960


عورت ہوں مگر صورت کہسار کھڑی ہوں

اک سچ کے تحفظ کے لیے سب سے لڑی ہوں


وہ مجھ سے ستاروں کا پتا پوچھ رہا ہے

پتھر کی طرح جس کی انگوٹھی میں جڑی ہوں


الفاظ نہ آواز نہ ہم راز نہ دم ساز

یہ کیسے دوراہے پہ میں خاموش کھڑی ہوں


اس دشت بلا میں نہ سمجھ خود کو اکیلا

میں چوب کی صورت ترے خیمے میں گڑی ہوں


پھولوں پہ برستی ہوں کبھی صورت شبنم

بدلی ہوئی رت میں کبھی ساون کی جھڑی ہوں


فرحت زاہد


شاداب انجم کامٹی

 یوم پیدائش 23 مارچ 1975


مسرّتوں کا سماں دیر تک نہیں رہتا 

 دیا بجھے تو دھواں دیر تک نہیں رہتا


 شباب آتا ہے لیکر پروں کو ساتھ اپنے 

زمیں پہ کوئی جواں دیر تک نہیں رہتا


حساب سودِمحبّت کا یاد کیا رکھتے 

ہمیں تو یاد زیاں دیر تک نہیں رہتا 


مری خطاؤں کو گر وہ معاف کر دیتا 

تو دل۔ پہ بار گراں دیر تک نہیں رہتا


 فلاح اسکو بلاتی ہے۔ یہ خبر ہے جسے 

وہ گھر میں سن کے اذاں دیر تک نہیں رہتا


جو مشکلات کا کرتے ہیں سامنا ھنس کر 

یہ غم انہی کے یہاں دیر تک نہیں رہتا


 ہزار کوششیں کر لیں مگر زمانے سے 

کسی کا درد ۔نہاں دیر تک نہیں رہتا


یہ کیسا دور ہے آیا کہ ملک میں انجم 

کہیں گمان ِاماں دیر تک نہیں رہتا


شاداب انجم، کامٹی 


عابد حسین عابد

 شوق سے پالے تھے میں نے جس کے نخرےناز بھی

وہ مرا قاتل بھی نکلا وہ مرا ہمراز بھی


سرخ لب ابرو کشیدہ اور نگاہِ ناز بھی

ہر ادا قاتل صنم کی اور عجب انداز بھی


بادشاہِ عشق ہوں پر دوں کسے دل کا محل

اک طرف گلناز ہے اور اک طرف ممتاز بھی


ہے نصیبا خاک اپنی جگ خیالی تشنگی

یا الٰہی کیا غضب ہے زندگی کا راز بھی


میں نہ واعظ میں نہ زاہد میں نہ عابد ساقیا

کیا نہیں میرے لئے اب ساغر و شیراز بھی


گر فلک منزل ہے تیری یوں نہ ڈر طوفان سے

ہے بہت اونچی دلِ ناداں تری پرواز بھی


لوٹ لی محفل جو تو نے دفعتاً اک شعر سے 

یوں لگا عابؔد ہمیں تو ہے سخن شہباز بھی


عابد حسین عابؔد


سعدیہ بشیر

 چهوٹی چهوٹی رنجشوں میں فاصلوں کا شورتھا 

جس نے بدلا راستہ وہ ظرف میں کم زور تها 


اس بدن کی سلطنت میں کس قدر بے خامشی 

دل ذرا سا ، چار خانے ، کس قدر منہ زور تها


ہم وفاؤں کے خزانے کهنکهناتے رہ گئے 

اور جفا کے چار سکوں کا بهی کتنا شور تھا


اب کہاں تصویر میں وہ رنگ وہ رعنائیاں

 ایک جذبہ ڈھے چکا تھا اب کنار گور تھا 


منصفوں نے بھی سنی تھی آہ زاری کی صدا 

فیصلہ محفوظ رکھا ، ان کے دل میں چور تھا


سعدیہ بشیر


یامین یاسمین

شہرِ وفا میں اپنا بھی کیا نام آیا ہے 

مانگا خدا سے جو ہے وہی کام آیا ہے 


ہر اور پھول کِھل اُٹھے اُجڑے دیار میں 

تیری نگاہِ شوق کا انعام آیا ہے 


لوٹ آئے گا وہ وقت،امیدِ بہار رکھ

فطرت سے ہم کو آج یہ پیغام آیا ہے 


یامین یاسمین


سید مرتضی بسمل

 روز و شب ہم نے اشکباری کی

انتہا ہے یہ بے قراری کی


میرا دامن سیاہ تھا پھر بھی

اے خدا تو نے پاسداری کی


جانے کب کا میں مر گیا ہوتا

ان کی یادوں نے آبیاری کی


کوستا ہی رہا مجھے ہر دم 

قدر کیا جانے وہ بھکاری کی


خاک ہوں خاک میں ہی ملنا ہے

بُو بھی آتی ہے خاکساری کی


کام میں نے کیا مصور کا

میں نے شعروں میں دستکاری کی


میں تو مجنون بن گیا بسمل

مجھ پہ لوگوں نے سنگ باری کی


سید مرتضی بسمل


میر خوشحال فیضی

 مالی کی حرکتوں پہ قدغن ہے

اس لیے داغدار گلشن ہے


خون کرنا پڑا ہے خواہش کا

ہم یہ سمجھے تھے سہل جیون ہے


ہوش آتے ہی مشکلیں دیکھیں

میری خوشیوں کا عہد بچپن ہے


اُس کو کرنا ہے فیصلہ میرا

اس لیے تیز آج دھڑکن ہے


کتنے رازوں کو دفن ہم نے کیا

دل ہمارا بھی ایک مدفن ہے


ایک پل میں ،میں ہو گیا تیرا

تیرے چہرے پہ کتنا جوبن ہے


ہم کو کیا لینا شہر سے فیضی

دشتِ ویراں میں اپنا مسکن ہے


میر خوشحال فیضی


محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...