Urdu Deccan

Wednesday, April 14, 2021

ریاض حازم

 بے وفائی تری مہارت ہے

تیرے کردار پر ندامت ہے


بد گماں رکھتا ہے مجھے یوں ہی

یہ ترا پیار یار لعنت ہے


اب محبت اسے نہیں ملتی

دیکھتا ہے مجھے یہ نوبت ہے


بس محبت مری برائی ہے

لوگ سمجھے نہیں عبادت ہے


سوچتا ہوں نہیں کٹے گا کبھی

زندگی کا سفر مصیبت ہے


میرا کچھ بھی رہا نہیں تم بھی

جا رہے ہو تمہیں اجازت ہے


راستہ اب بچا نہیں کوئی

بے وفا موت میری قسمت ہے


جان کیوں چھوڑتا نہیں حازم

عشق کو تجھ سے اب تو وحشت ہے


ریاض حازم


کوکی گل

 سجا کر بزم میں لائی گئی ہوں

یہاں ضد کرکے بلوائی گئی ہوں


ادھر کچھ بھی نہ بولوں گی یہ طے ہے

بطور_ خاص سمجھائی گئی ہوں


کسی در پر بھی چاہت سے گئی جب

اسی در سے میں ٹھکرائی گئی ہوں


خطا جب بھی ہوئی ہے کوئی مجھ سے

پکڑ کر کان سے لائی گئی ہوں


محبت کے تپے صحرا کی جانب 

میں ننگے پاوں، چلوائی گئی ہوں


محبت کا ہوں، اک پر کیف نغمہ

میں ہر محفل میں گل! گائی گئی ہوں


 کوکی گل


قمر شاہدی

 غنچۂ دل مرے جب جب کہ چٹک جاتے ہیں

آپ کی عطر مجسم سے مہک جاتے ہیں


کون آتا ہے علی الصبح دریچے پہ مرے

کس لئے باغ مرے دل کے مہک جاتے ہیں


منفرد کچھ تو ہے جی عشق میں جلنے کا مزہ

شمع جلتی ہے کہ پروانے لپک جاتے ہیں


دل جلانا نہ کہیں آپ کو کردے رسوا

کچھ دھوویں اٹھتے ہیں اور سوئے فلک جاتے ہیں


رستم و دارا کے کہتے ہیں جو ٹکر کے خودی

سب سے پہلے وہی دربے میں دبک جاتے ہیں


لب کشائی کی کبھی مجھ کو بھی دیجئے مہلت

آپ تو دل کی مرے بات اچک جاتے ہیں


آیت الکرسی جو رکھ لیتا ہوں میں ذاد سفر

حادثے راہوں کے پہلے ہی کھٹک جاتے ہیں


خم قمر یونہی نہیں ہوتی کسی کی بھی کمر

برگ اور بار سے ہر پیڑ لچک جاتے ہیں


قمر شاھدی 


جگر مرادآبادی

 یوم پیدائش 06 اپریل 1890


وہ ادائے دلبری ہو کہ نوائے عاشقانہ

جو دلوں کو فتح کر لے وہی فاتح زمانہ


یہ ترا جمال کامل یہ شباب کا زمانہ

دل دشمناں سلامت دل دوستاں نشانہ


کبھی حسن کی طبیعت نہ بدل سکا زمانہ

وہی ناز بے نیازی وہی شان خسروانہ


میں ہوں اس مقام پر اب کہ فراق و وصل کیسے

مرا عشق بھی کہانی ترا حسن بھی فسانہ


مری زندگی تو گزری ترے ہجر کے سہارے

مری موت کو بھی پیارے کوئی چاہیئے بہانہ


ترے عشق کی کرامت یہ اگر نہیں تو کیا ہے

کبھی بے ادب نہ گزرا مرے پاس سے زمانہ


تری دوری و حضوری کا یہ ہے عجیب عالم

ابھی زندگی حقیقت ابھی زندگی فسانہ


مرے ہم صفیر بلبل مرا تیرا ساتھ ہی کیا

میں ضمیر دشت و دریا تو اسیر آشیانہ


میں وہ صاف ہی نہ کہہ دوں جو ہے فرق مجھ میں تجھ میں

ترا درد درد تنہا مرا غم غم زمانہ


ترے دل کے ٹوٹنے پر ہے کسی کو ناز کیا کیا

تجھے اے جگرؔ مبارک یہ شکست فاتحانہ


جگر مراد آبادی


Sunday, April 4, 2021

سلمان اریب

 یوم پیدائش 05 اپریل 1922


میرا سایہ ہے مرے ساتھ جہاں جاؤں میں

بے بسی تو ہی بتا خود کو کہاں پاؤں میں


بے گھری مجھ سے پتہ پوچھ رہی ہے میرا

در بدر پوچھتا پھرتا ہوں کہاں جاؤں میں


زخم کی بات بھی ہوتی تو کوئی بات نہ تھی

دل نہیں پھول کہ ہر شخص کو دکھلاؤں میں


زندگی کون سے ناکردہ گنہ کی ہے سزا

خود نہیں جانتا کیا اوروں کو بتلاؤں میں


ایک حمام میں تبدیل ہوئی ہے دنیا

سب ہی ننگے ہیں کسے دیکھ کے شرماؤں میں


سلیمان اریب


Saturday, April 3, 2021

قمر محمد آبادی

 یوم پیدائش 04 اپریل 1988


مجھ پر جو والدین کی شفقت ہے روزوشب

گھر میرا میرے واسطے   جنت ہے روزوشب


ہوں خوش نصیب ہوتی زیارت ہے روزوشب

دل کو سکوں  نظر کی طہارت ہے روزوشب


کس طرح میری ہستی بھلا کھائے گی فریب 

حاصل جو ان کی مجھکو حمایت ہے روزوشب


ہرآن میرے دل کی حویلی میں ہیں مکین 

دل میرا جیسے محوِ عبادت ہے روزوشب


ان کی محبتوں کے، دعاؤں کے ہی طفیل 

دل مطمئن شگفتہ طبیعت ہے روزوشب


مجھ پر ہے سایہ ان کا تو پھر کیسے میں کہوں

"ہرسانس  مبتلائے  مصیبت  ہے روزوشب" 


میں دیکھتا ہوں ان کو عقیدت سے اے قمر 

حج کا ثواب اور تلاوت ہے روزوشب

قمر محمد آبادی 


قلی قطب شاہ

 بانی شہر حیدرآباد محمد قلی قطب شاہ کا یوم پیدائش 04 اپریل 1565،اردو کے پہلے صاحب دیوان شاعر 


پیا باج پیالا پیا جائے نا

پیا باج یک تل جیا جائے نا


کہی تھے پیا بن صبوری کروں

کھیا جائے اما کیا جائے نا


نہیں عشق جس دو بڑا کوڑ ہے

کدھیں اس سے مل بیسیا جائے نا


قطبؔ شہ نہ دے مج دوانے کو پند

دوانے کوں کچ پند دیا جائے نا


قلی قطب شاہ


رضوان ملک رض

 یوم پیدائش 03اپریل


ہر  اشک نیا  ہجر  مناتے  ہوئے گزرا

ہر لحظہ یہی قصہ سناتے ہوئے گزرا


اثبات  گل,راز کے  ہیں  اور  بھی آگے

گلشن سے جو گزرا یہ بتاتے ہوئے گزرا


اجداد شجرکاری میں رکھتے تھے مہارت 

میرا  بھی  سفر  پیڑ اگاتے  ہوئے  گزرا 


یہ لہر کسے زور دکھانے چلی آئی

یہ دل تو کناروں کو گراتے ہوئے گزرا


میت پہ مری بعد میں وہ آئے تو کہنا

جو گزرا تری راہ پہ آتے ہوئے گزرا.


وہ لمحہ ملاقات میں شامل نہ کیا کر

رض وہ جو کبھی آنکھ چراتے ہوئے گزرا۔


رضوانہ ملک


مصطفی ادیب

 یوم پیدائش 03 اپریل۔


کارآمدہ اک شخص تھا،بے کار میں  رکھا

ظالم تو نہ تھا،پھر بھی ستم گار میں رکھا


پر نوچ کے کرتا ہےقفَس سے مجھے آزاد

جس  نے مجھے اک عمر گرفتار میں رکھا


جَلادِ زَماں  کانپ نہ جاتا سرِ مقتل؟؟

اک شعلہ فشاں قوتِ للکار میں رکھا


 اب مہر سے مایوس ہے ظلمت  گہہ دوراں 

حیدر کا جنوں  جراتِ گُفتار میں رکھا


سر ہے تو رہے حرمتِ دَستار سلامت

ورنہ نہیں کچھ طُرّہ و دَستار میں رکھا


سَر دے کے سرِ دار ہی،جینے کا مزّہ ہے

کچھ بھی نہیں گیسوئے خمِ یار میں رکھا


مصطفیٰ ادیبؔ


Friday, April 2, 2021

ارشد شاہین

 یوم پیدائش 03 اپریل 1970


کہا تھا عشق کا پیشہ تُو اختیار نہ کر

جو کر لیا ہے تو اب زخمِ دل شمار نہ کر


پلٹ کے اب نہیں آئے گا وہ، یقیں کر لے

بھلا دے اس کو، مری مان، انتظار نہ کر


ذرا سی ٹھیس اسے چکنا چور کر دے گی

یہ دل ہے اور نہیں اتنا پائیدار، نہ کر


میں تیرے ساتھ ہوں لیکن یہ مشورہ ہے تجھے

تو میری ذات پر اتنا بھی اعتبار نہ کر


نکال اپنے لیے آپ ہی کوئی رستہ

بنی بنائی ہوئی رہ پہ انحصار نہ کر


بکھیر چار سو احساس کی مہک ارشد

سخن کی آڑ میں لفظوں کا کاروبار نہ کر



ارشد شاہین


محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...