Urdu Deccan

Saturday, April 24, 2021

جاوید جدون

 یوم پیدائش 20 اپریل 1977


کہ جیسے ایک چنگاری جلائے راکھ ہونے تک

نہیں جھکتی یوں ہی گردن ہماری خاک ہونے تک


ابھی ہوں اس قدر سادہ محبت کر نہیں سکتا

تو میری سادگی پہ مر مرے چالاک ہونے تک


نہ جانے رو پڑا وہ کیوں لہو میرا جو ٹپکا تو

ستم جس نے کیے مجھ پر جگر کے چاک ہونے تک


بہا کر لے گئے آنسو تجھے تیرے ٹھکانے سے

بسا تھا تو ان آنکھوں میں مگر نمناک ہونے تک


جو مجھ کو کاٹنے میں ہر گھڑی مصروف تھے ان کو

دیا ہے سائباں میں نے خس و خاشاک ہونے تک


ابھی روشن تو ہیں لیکن اُجالے ہم نہ لے پائے

یہ شمعیں بجھ چکی ہوں گی ہمیں ادراک ہونے تک


دعاٶں میں اثر ہو تو پہنچتی ہیں وہاں فوراً

نہیں لگتا انہیں اک پل پسِ افلاک ہونے تک


تجھے پہنائی ہے بیٹی تو اِس کی لاج بھی رکھنا

یہ میرے سر کی پگڑی تھی تری پوشاک ہونے تک


جاویدجدون


اختر ہوشیارپوری

 منزلوں کے فاصلے دیوار و در میں رہ گئے

کیا سفر تھا میرے سارے خواب گھر میں رہ گئے


اب کوئی تصویر بھی اپنی جگہ قائم نہیں

اب ہوا کے رنگ ہی میری نظر میں رہ گئے


جتنے منظر تھے مرے ہمراہ گھر تک آئے ہیں

اور پس منظر سواد رہ گزر میں رہ گئے


اپنے قدموں کے نشاں بھی بند کمروں میں رہے

طاقچوں پر بھی دیئے خالی نگر میں رہ گئے


کر گئی ہے نام سے غافل ہمیں اپنی شناخت

صرف آوازوں کے سائے ہی خبر میں رہ گئے


ناخداؤں نے پلٹ کر جانے کیوں دیکھا نہیں

کشتیوں کے تو کئی تختے بھنور میں رہ گئے


کیسی کیسی آہٹیں الفاظ کا پیکر بنیں

کیسے کیسے عکس میری چشم تر میں رہ گئے


ہاتھ کی ساری لکیریں پاؤں کے تلووں میں تھیں

اور میرے ہم سفر گرد سفر میں رہ گئے


کیا ہجوم رنگ اخترؔ کیا فروغ بوئے گل

موسموں کے ذائقے بوڑھے شجر میں رہ گئے


اختر ہوشیارپوری


اشفاق احمد صائم

 منزلوں کی اور جاتے سب اشارے مر گئے

آنکھ کی دہلیز پر جب خواب سارے مر گئے


لمحہ بھر کو چاند مٹھی میں چھپا کے رکھ لیا

لمحہ بھر میں دیکھ تو کتنے ستارے مر گئے


اُس نے جب اک پھول کے رخسار پر بوسہ دیا

تم نے دیکھا ہی نہیں کتنے نظارے مرگئے


پانیوں کی چاہ میں اُس کے قدم اُٹھے تو پھر

ہو گیا دریا سمندر اور کنارے مر گئے


اُس نے جب سر کو مرے کاندھے پہ آ کے رکھ دیا

پھر شجر دیوار و در اور سب سہارے مر گئے 


وقتِ رخصت حوصلہ جانے کہاں گم ہو گیا 

سوچ پاگل ہو گئی ، الفاظ سارے مر گئے 


اِس طرح صدقے اتارے اس نے اپنی ذات کے

اُس نے اپنے سر سے جتنے لوگ وارے مر گئے


اشفاق احمد صائم


ذاکر حسین ذاکر ہلسنکی

 دل شجر ہو جاۓگا جب بے اثر

وہ رہےگا بے محبت بے ثمر 


زخم ان کو میں دکھانے آ گیا

جو لئے نشتر کھڑے تھے منتظر


آنکھ سے ٹپکا تھا میرے ہی لہو

جان کر بنتے رہے وہ بے خبر 


میں رہا بت سادگی کا بن کے ہی

وہ اداکاری میں ٹھہرے خوب تر


ایک لغزش کیا ہوئ تھی راہ میں 

ہو گیا ہر راستہ ہی پر خطر


بھول کر مجھ کو گئ جو زندگی

میں رہوں ذاؔکر اسی کا عمر بھر


ذاکر حسین ذاکر ہلسنگی


ذوالفقار علی ذلفی

 زخم پر زخم کھانے کی عادت نہیں

اب مجھے دل لگانے کی عادت نہیں


میں تمہارا یقیں اب کروں کِس طرح

خود کو پاگل بنانے کی عادت نہیں


جو بُھلا دے اُسے بُھول جاتا ہوں میں

اپنے دل کو جلانے کی عادت نہیں


گر کِسی سے بھلائی نہ کر پاٶں تو

مجھ کو دل بھی دُکھانے کی عادت نہیں


رات دن سوچتا ہوں فقط میں تمہیں

مجھ کو سارے زمانے کی عادت نہیں


میں تو لِکھتا ہوں غزلیں تمہارے لئے

ہر کِسی کو سنانے کی عادت نہیں


ساتھ میرا مصیبت میں جو چھوڑ دے

اُس کو پھر آزمانے کی عادت نہیں


ہے وفا کی توقع اُسی سے مجھے

جِس کو وعدہ نِبھانے کی عادت نہیں


تھی طبیعت گلابوں سی پر اب مجھے

بِن ترے مسکرانے کی عادت نہیں


بُھول جاتا ہوں ذُلفی زمانے کو میں

ایک تجھ کو بُھلانے کی عادت نہیں


ذوالفقار علی ذُلفی


Friday, April 23, 2021

مبین ناظر

 جیتے رہنا ہی جینے کا ہرجانہ ہے 

مر ہی جاتے مگر جرم مر جانا ہے


بےرخی اپنی کب تک چھپاے ہوا

ٹوٹا شیشہ تو اک دن بکھر جانا ہے


جیسا بھی ہو سفر کاٹنا ہے ہمیں 

اور پھر لوٹ کے اپنے گھر جانا ہے 


کہنے کو ہے سفر یہ تمہارا مگر 

جاں وہ دیگا اشارہ ادھر جانا ہے 


چھوٹا سا مرحلہ زندگی ہے مگر

تا قیامت رہے نام کر جانا ہے


کون کب تک بسا کس کے دل میں مبین

ایک دن تجھ کو دل سے اتر جانا ہے


مبین ناظر


ریحانء محمد

 مسجد ہو یا مندر ہو کیا؟

تم میرا حتمی گھر ہو کیا؟


یہ حوریں تم سے جلتی ہیں؟

اچھا اتنی سندر ہو کیا؟


ہائے اتنا میٹھا لہجہ

تم اردو کی ٹیچر ہو کیا؟


یہ تیری پوجا کرتی ہیں

تم پریوں کی رہبر ہو کیا؟


اتنی میٹھی چائے جاناں

شوگر مل میں ورکر ہو کیا؟


اف دوزخ سے دھمکاتی ہو

تم عالم کی دختر ہو کیا؟


تم سے پوچھیں تو کھلتے ہیں

تم پھولوں کی افسر ہو کیا؟


تم سے پوچھیں گے سب حانی

تم شاعر کی ہمسر ہو کیا؟


ریحانءمحمد


محمد ہارون علی ماجد

 ترا خیال نہ کردے کہیں فنا ہم کو

اے یار اتنا مسلسل نہ یاد آ ہم کو


نئے مزاج نئی سوچ کے ہوے حامل

بدلتے وقت نے کتنا بدل دیا ہم کو


نشاطِ روح ودل کی تھی آروزو لیکن

سوائے درد کے کچھ بھی نہیں ملا ہم


کبھی تھے موم کی صورت پگھلنے والے ہم

فریبِ زیست نے پتھر بنا دیا ہم کو


قصور اتنا تھا حق کے لئے زباں کھولی 

ملی نا کردہ گناہوں کی پھر سزا ہم کو


بکھرنا طئے تھا ہمارا کہ قرب سے تیرے

ملا ہے جینے کا اے یار حوصلہ ہم کو


ہوئیں خطائیں بہت ہم سے روز وشب ماجد

کہ جبکہ اچھے برے کا شعور تھا ہم کو


محمد ہارون علی ماجد 


شائستہ کنول عالی

 ظلمت شب سے کہیں دور اجالا مچلے   

چاند مچلے تو کہیں چاند کا ہالہ مچلے 


روح کی بالکنی میں کوئی خوشبو پھیلے  

دل کے صحرا و بیابان میں لالہ مچلے 


فکر روشن ہو کسی پیار کے افسانے کی   

نوک خامہ میں کوئی مست مقالہ مچلے 


کوئی دلدار ملے "کے ٹو" کی چوٹی جیسا 

دل کے آنگن میں کوئی عشق ہمالہ مچلے 


مرے دل میں مرے بابا کی محبت دھڑکے 

میرے ماتھے پہ میری ماں کا حوالہ مچلے  


وجد میں جام دھمالی ہو صبوحی ناچے 

مے کدہ رقص کرے مے کا پیالہ مچلے  


آج خاموشی میں طوفان چھپا ہے عالی 

برف کے بوجھ تلے جیسے جوالا مچلے 


شائستہ کنول عالی


ماہ لقا چندا

 یوم پیدائش 18 اپریل 1768


گل کے ہونے کی توقع پہ جئے بیٹھی ہے

ہر کلی جان کو مٹھی میں لیے بیٹھی ہے


کبھی صیاد کا کھٹکا ہے کبھی خوف خزاں

بلبل اب جان ہتھیلی پہ لیے بیٹھی ہے


تیر و شمشیر سے بڑھ کر ہے تری ترچھی نگاہ

سیکڑوں عاشقوں کا خون کیے بیٹھی ہے


تیرے رخسار سے تشبیہ اسے دوں کیوں کر

شمع تو چربی کو آنکھوں میں دیئے بیٹھی ہے


تشنہ لب کیوں رہے اے ساقیٔ کوثر چنداؔ

یہ ترے جام محبت کو پیے بیٹھی ہے


ماہ لقا چندا


محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...