جب لوگ مرے قتل کی تحقیق کریں گے
ممکن ہے کہ قاتل مرے اپنے نکل آئیں
اعجاز انصاری
یوم پیدائش 01 مئی 1932
روح کو قید کیے جسم کے ہالوں میں رہے
لوگ مکڑی کی طرح اپنے ہی جالوں میں رہے
جسم کو آئنہ دکھلاتے ہیں سائے ورنہ
آدمی کے لیے اچھا تھا اجالوں میں رہے
وقت سے پہلے ہو کیوں ذہن پہ خورشید کا بوجھ
رات باقی ہے ابھی چاند پیالوں میں رہے
پھر تو رہنا ہی ہے گھورے کا مقدر ہو کر
پھول تازہ ہے ابھی ریشمی بالوں میں رہے
شوق ہی ہے تو بہرحال تماشا بنیے
یہ ضروری نہیں وہ دیکھنے والوں میں رہے
اب کلنڈر میں نیا ڈھونڈئیے چہرہ شاہدؔ
کب تلک ایک ہی تصویر خیالوں میں رہے
شاہد کبیر
یوم پیدائش 01 مئی 1949
مجھے اے زندگی آواز مت دے
نہیں منزل کوئی پرواز مت دے
جئے جاتا ہوں عادت بن چکی ہے
نہیں سر لگتے یا رب ساز مت دے
نیا ہے روپ عالم کا خدایا
انوکھا اب مجھے انداز مت دے
نتیجہ جانتا ہوں دل لگی کا
سزائیں فاختہ کو باز مت دے
پس پردہ رہا ہے بھید اب تک
نہیں حامل انہیں تو راز مت دے
رہا انجام ہے جن کی نظر میں
انہیں جو چاہے دے آغاز مت دے
نبھایا فرض ہی کب حکمراں کا
کسی قاتل کو تو اعزاز مت دے
عزیر رحمان
اب ظلم مٹے گا جہاں دستور چلیں گے
حق مانگنے اپنا سبھی مزدور اٹھیں گے
حق مارا ہے جس جس نے بھی مزدور کا سن لے
پیتا ہے لہو جو جو بھی مجبور کا سن لے
اب راج تو یہ ظلم کے مٹ کر ہی رہیں گے
حق مانگنے اپنا سبھی مزدور اٹھیں گے
اب چال تمہاری نہ کوئی کام کرے گی
اب حق کے لیے ساری ہی یہ قوم لڑے گی
اب جبر تمہارا نہ کبھی اور سہیں گے
حق مانگنے اپنا سبھی مزدور آٹھیں گے
ظالم کا اجارہ نہ کسی چیز پہ ہو گا
حق سب کا برابر جہاں جاگیر میں ہو گا
ایسا نہ ہوا تو بڑے فتور پڑیں گے
حق مانگنے اپنا سبھی مزدور اٹھیں گے
سمسون مخزن
یوم پیدائش 01 مئی 1971
منصف! یہ مرے صبر کی بھی آخری حد ہے
جو فیصلہ ہے تیرے مظالم کی سند ہے
منظور جہاں کو نہیں باطل کا تصور
بس فلسفۂ حق ہے جو نا قابلِ رد ہے
آئینۂ تہذیب تھے جو لوگ اب ان کا
اخلاق بھی معیوب ہے کردار بھی بد ہے
یہ کیا کہ بدن بھی نہ چھپا پاؤں خدایا
چادر مجھے ایسی دے کہ جیسا مرا قد ہے
بخشی ہے مجھے رب نے قناعت کی یہ دولت
لوگوں کا کرم ہے نہ حکومت کی مدد ہے
ایسے بھی بہت لوگ ہیں اس بزم ہوس میں
جو ڈھونڈتے رہتے ہیں کہاں کون سا مد ہے
سو جائیں گے بچے تو میں گھر جاؤں گا خالد
ہے ہاتھ میں پیسہ، نہ مرے گھر میں رسد ہے
خالد اعظم
یوم پیدائش 01 مئی 1962
گریباں چاک سینا آ گیا کیا
ستم سہہ کر بھی جینا آگیا کیا
تری آنکھوں میں راحت ہےچمک ہے
تصّور میں مدینہ آ گیا کیا
بڑے قلاش تھے اب ہو تونگر
اطاعت کا قرینہ آ گیا کیا
ہماری بات سن کر پوچھتے ہو
جبینوں پر پسینہ آ گیا کیا
تمہاری آنکھ میں اب نم نہیں ہے
تمہیں بھی اشک پینا آ گیا کیا
خدا کو مانتے ہو اب کہیں سے
تیقّن کا خزینہ آ گیا کیا
ہمارے ساتھ کیوں رہتے ہو الجھے
تمہارے دل میں کینہ آ گیا کیا
بہت شاداں نظر آتے ہو زاہد
ملن کا پھر مہینہ آ گیا کیا
حکیم محبوب زاہد
یوم پیدائش 01 مئی 1977
طے شدہ عشق سرِ دار نبھانا ہو گا
جو بھی لکھا ہے مرے یار نبھانا ہو گا
تم نے دیوانے کو ہنستے ہوئے دیکھا ہے کبھی
اب کہانی میں یہ کردار نبھانا ہو گا
وہ جو اک شخص پراسرار نظر آتا ہے
میری وحشت کا خریدار نظر آتا ہے
دلِ درویش صفت شور نہ کر چپ ہو جا
جب تو روتا ہے گنہ گار نظر آتا ہے
یا کسی اور کے ہیں نقش مرے چہرے پر
یا مجھے آئینے کے پار نظر آتا ہے
جب سے میں تیرا طلبگار ہوا ہوں اے دوست
ہر کوئی میرا طلب گار نظر آتا ہے
دکھ تو یہ ہے وہ مرے ساتھ نہیں رہ سکتا
جو مرے ساتھ لگاتار نظر آتا ہے
جو ترے شہر میں بنیادِ محبت تھا شاذ
آج وہ شخص بھی مسمار نظر آتا ہے
ملک شجاع شاذ
سُکھ چین ، اضطراب سے پہلے کی بات ہے
یہ پیار کے عذاب سے پہلے کی بات ہے
دو سے نکالو ایک تو بچتا تھا ایک ہی
یہ عشق کے حساب سے پہلے کی بات ہے
پڑھتے رہے وفاؤں کا مطلب خلوص ہم
یہ ہجر کے نصاب سے پہلے کی بات ہے
پہلے میں کہہ رہا تھا فقط پھول ہی تو ہے
تیرے دیے گلاب سے پہلے کی بات ہے
خوشبو طواف کرتی تھی پلکوں کا نصف شب
آنکھوں میں تیرے خواب سے پہلے کی بات ہے
پہلے تکلفات میں ہم ، تم رہا مگر
یہ آپ اور جناب سے پہلے کی بات ہے.
صدیوں خمار کا رہا الزام آنکھ پر
دنیا میں یہ شراب سے پہلے کی بات ہے
اشفاق احمد صائم
یوم پیدائش 30 اپریل 1962
جدھر دیکھو ادھر دہشت کھڑی ہے
خدارا خير ہو مشکل بڑی ہے
خموشی اس قدر چھائی ہے ہر سو
نگر کی ہر گلی سونی پڑی ہے
پرندے ناتواں ہیں آشیاں میں
نگاه باز ہر جاں پر گڑی ہے
جہاں پر بھائی چارے کی ضیا تھی
وہاں اب تیرگی پھیلی پڑی ہے
محبت آئے تو آئے کدھر سے
عداوت راستہ روکے کھڑی ہے
بنایا کارواں کا جن کو رہبر
شرارت ان کے تاجوں میں جڑی ہے
حکومت ہے جہاں میں نفرتوں کی
نظر یہ بھی سیاست کی کڑی ہے
نظرعلی
یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...