یوم پیدائش 05 مئی 1830
نظم محنت کرو
ہے امتحاں سر پر کھڑا محنت کرو محنت کرو
باندھو کمر بیٹھے ہو کیا محنت کرو محنت کرو
بے شک پڑھائی ہے سوا اور وقت ہے تھوڑا رہا
ہے ایسی مشکل بات کیا محنت کرو محنت کرو
شکوے شکایت جو کہ تھے تم نے کہے ہم نے سنے
جو کچھ ہوا اچھا ہوا محنت کرو محنت کرو
محنت کرو انعام لو انعام پر اکرام لو
جو چاہو گے مل جائے گا محنت کرو محنت کرو
جو بیٹھ جائیں ہار کر کہہ دو انہیں للکار کر
ہمت کا کوڑا مار کر محنت کرو محنت کرو
تدبیریں ساری کر چکے باتوں کے دریا بہہ چکے
بک بک سے اب کیا فائدہ محنت کرو محنت کرو
یہ بیج اگر ڈالوگے تم دل سے اسے پا لو گے تم
دیکھو گے پھر اس کا مزا محنت کرو محنت کرو
محنت جو کی جی توڑ کر ہر شوق سے منہ موڑ کر
کر دو گے دم میں فیصلہ محنت کرو محنت کرو
کھیتی ہو یا سوداگری ہو بھیک ہو یا چاکری
سب کا سبق یکساں سنا محنت کرو محنت کرو
جس دن بڑے تم ہو گئے دنیا کے دھندوں میں پھنسے
پڑھنے کی پھر فرصت کجا محنت کرو محنت کرو
بچپن رہا کس کا بھلا انجام کو سوچو ذرا
یہ تو کہو کھاؤ گے کیا محنت کرو محنت کرو
محمد حسین آزاد









