Urdu Deccan

Tuesday, June 1, 2021

میر خوشحال فیضی

 آنکھ سے اوجھل کہساروں میں 

گم ہے ذہن یہ نظاروں میں 


شرم سے ہو گئے پانی پانی 

نام تھے جن کے غداروں میں 


اس کی چاہت کرکے ہم نے 

خود کو ڈالا انگاروں میں 


عزت اتنی سستی کہاں ہے 

ملتی نہیں یہ دستاروں میں 


بات کرو بس پیار کی لوگو

کچھ نہیں رکھا ہتھیاروں میں 


قتل ہوئے ہیں، غم نہیں لیکن 

للکارا ہے تلواروں میں 


اگلے پل کچھ بھی کر لیں گے 

خدشہ رہتا فنکاروں میں 


مجھ کو فیضی دُکھ ہوا سن کر 

نام ترا ہے غمخواروں میں


میر خوشحال فیضی


اشفاق احمد صائم

 کس قدر اضطراب آنکھوں پر

جم گئے کتنے خواب آنکھوں پر


درد تھوڑا سا کم ہوا صاحب

کس نے رکھے گلاب آنکھوں پر


اک محبت خرید لایا تھا

کتنے اترے عذاب آنکھوں پر


کون پڑھتا رہا تری آنکھیں

کس نے لکھے نصاب آنکھوں پر


کتنا دیکھا ہے کل اسے میں نے 

اب ہے واجب حساب آنکھوں پر


لفظ پلکوں کو چومنے آئے

رکھ کے سویا کتاب آنکھوں پر 


اب وہ کاجل لگا کے آئے ہیں 

شعر لکھیے جناب آنکھوں پر


اشفاق احمد صائم


غلام جیلانی قمر

 محبت میں سیاست کر رہا ہے

کوئی مجھ سے بغاوت کر رہا ہے


تری آنکھیں مجھے بتلا رہی ہیں

کسی سے تو محبت کر رہا ہے


وہ اجڑی سلطنت کا شاہزادہ

مرے دل پر حکومت کر رہا ہے


ہمارے شہر کا حاکم بھی اب تو 

حماقت پر حماقت کر رہا ہے


    غلام جیلانی قمر


شہباز ناصر


 یوم پیدائش 15 مارچ 1995


چھوٹی سی اک بات پہ اس نے کل مجھ سے منہ ماری کی

تھوڑی سی بھی لاج رکھی نہ اس نے اپنی یاری کی


اس کی ہر اک بات کی میں نے دل سے تابعداری کی

جس کو اپنا سمجھا میں نے اس نے ہی غداری کی 


مجھ کو اپنا کہنے والا میرے دل سے کھیلا ہے

ٹوٹے دل کا دکھ نہیں مجھ کو بات ہے ذمہ داری کی


سچ پوچھو تو سچ یہ ہے کہ جھوٹا ہے وہ جھوٹا ہے

میں تو اس کا نوکر تھا بس اس نے ہی سرادری کی


تب تک مرے ساتھ رہا وہ جب تک اس کو مطلب تھا

چھوڑ دیا پھر میں نے اس کو جب اس نے ہشیاری کی 


وہ دنیا پہ مرتا تھا اور دنیا اس پہ مرتی تھی

دنیا کا دستور یہی تھا اس نے دنیا داری کی


شہباز ناصر

فاروق شمیم

 یوم پیدائش 30مئی 1953


سلسلے خواب کے اشکوں سے سنورتے کب ہیں

آج دریا بھی سمندر میں اترتے کب ہیں


وقت اک موج ہے آتا ہے گزر جاتا ہے

ڈوب جاتے ہیں جو لمحات ابھرتے کب ہیں


یوں بھی لگتا ہے تری یاد بہت ہے لیکن

زخم یہ دل کے تری یاد سے بھرتے کب ہیں


لہر کے سامنے ساحل کی حقیقت کیا ہے

جن کو جینا ہے وہ حالات سے ڈرتے کب ہیں


یہ الگ بات ہے لہجے میں اداسی ہے شمیمؔ

ورنہ ہم درد کا اظہار بھی کرتے کب ہیں


فاروق شمیم


زاہد علی سید

 سارے تصورں سے ہے ماورا تصور 

شاہِ امم کی شانِ لولاک کا تصور


سرکارِ دوجہاںؐ کا رحمت رسا تصور

ہے ہرخوشی سے بڑھکر یہ خوشنماتصور


عشقِ نبی ہے دلمیں صل علی' لبوں پر

ہے روشنی دلوں کی نورالہدی' تصور

 

ہو شکر کس زباں سے اللہ کی عطا ہے

ہے دین رب کی بےشک یہ آپ کا تصور

 

سرکار کے تصور سے زندگی ہے روشن 

زاہد ! حسین تر ہے کیسا مرا تصور


زاہد علی سید


شہزاد نیر

یوم پیدائش 29 مئی 1973


ہر ایک گام پہ صدیاں نثار کرتے ہوئے

میں چل رہا تھا زمانے شمار کرتے ہوئے


یہی کھلا کہ مسافر نے خود کو پار کیا

تری تلاش کے صحرا کو پار کرتے ہوئے


میں رشک ریشۂ گل تھا بدل کے سنگ ہوا

بدن کو تیرے بدن کا حصار کرتے ہوئے


مجھے ضرور کنارے پکارتے ہوں گے

مگر میں سن نہیں پایا پکار کرتے ہوئے


میں اضطراب زمانہ سے بچ نکلتا ہوں

تمہارے قول کو دل کا قرار کرتے ہوئے


جہان خواب کی منزل کبھی نہیں آئی

زمانے چلتے رہے انتظار کرتے ہوئے


میں راہ سود و زیاں سے گزرتا جاتا ہوں

کبھی گریز کبھی اختیار کرتے ہوئے


نہیں گرا مری قاتل انا کا تاج محل

میں مر گیا ہوں خود اپنے پہ وار کرتے ہوئے


میں اور نیم دلی سے وفا کی راہ چلوں

میں اپنی جاں سے گزرتا ہوں پیار کرتے ہوئے


یقین چھوڑ کے نیر گماں پکڑتا رہا

نگاہ یار ترا اعتبار کرتے ہوئے


شہزاد نیر


ناصر معین

 یوم پیدائش 29 مئی 1961


حشر ایسا ہوا نہیں ہوتا

ایک ہوتے تو کیا نہیں ہوتا


مل کے رہتے تو زندگی رہتی 

پست پھر حوصلہ نہیں ہوتا


جھوٹ رسوائیاں ہی دیتا ہے

شرم سے سر جھکا نہیں ہوتا


ہم جو ماں کی دعائیں لے لیتے

آ ج دامن میں کیا نہیں ہوتا


موت پر ماں کی کتنا روئے تھے

حد ہے ! اب تذکرہ نہیں ہوتا


آج انسانیت ہے شرمندہ

خون بھی خون کا نہیں ہوتا


میں بھی دیتا دغا نہیں تجھکو

کاش ! تو بے وفا نہیں ہوتا


تو نے جاناں مجھے نہیں جانا

ورنہ ہر گز خفا نہیں ہوتا


آپ میں ، ہم میں ہی کمی کچھ ہے

  یوں زمانہ برا نہیں ہوتا

 

وقت کب کس کا ساتھ دیتا ہے ؟

 بادشہ یوں گدا نہیں ہوتا 


ایسے حالات آہی جاتے ہیں

ہر بشر بے وفا نہیں ہوتا


اس کو لذت ملی محبت کی

عشق میں سر جھکا نہیں ہوتا


اعلیٰ کردار اپنا ہوتا جو

انہیں قدموں میں کیا نہیں ہوتا


قرب تقوے سے پاؤ گے ناصر

پاس سب کے خدا نہیں ہوتا 


ناصرمعین


فاروق روکھڑی

 یوم پیدائش 29 مئی 1929


دل کے معاملات سے انجان تو نہ تھا

اس گھر کا فرد تھا کوئی مہمان تو نہ تھا


تھیں جن کے دَم سے رونقیں شہروں میں جا بسے

ورنہ ہمارا گاؤں یوں ویران تو نہ تھا


بانہوں میں جب لیا اسے نادان تھا ضرور

جب چھوڑ کر گیا مجھے نادان تو نہ تھا


کٹ تو گیا ہے کیسے کٹا یہ نہ پوچِھیے

یارو! سفر حیات کا آسان تو نہ تھا


نیلام گھر بنایا نہیں اپنی ذات کو

کمزور اس قدر میرا ایمان تو نہ تھا


رسماً ہی آ کے پوچھتا فاروقؔ حالِ دل

کچھ اس میں اس کی ذات کا نقصان تو نہ تھا


فاروق روکھڑی


میر تقی میر

 یوم پیدائش 28 مئی 1723


جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا 

کل اس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کا 


شرمندہ ترے رخ سے ہے رخسار پری کا 

چلتا نہیں کچھ آگے ترے کبک دری کا 


آفاق کی منزل سے گیا کون سلامت 

اسباب لٹا راہ میں یاں ہر سفری کا 


زنداں میں بھی شورش نہ گئی اپنے جنوں کی 

اب سنگ مداوا ہے اس آشفتہ سری کا 


ہر زخم جگر داور محشر سے ہمارا 

انصاف طلب ہے تری بیداد گری کا 


اپنی تو جہاں آنکھ لڑی پھر وہیں دیکھو 

آئینے کو لپکا ہے پریشاں نظری کا 


صد موسم گل ہم کو تہ بال ہی گزرے 

مقدور نہ دیکھا کبھو بے بال و پری کا 


اس رنگ سے جھمکے ہے پلک پر کہ کہے تو 

ٹکڑا ہے مرا اشک عقیق جگری کا 


کل سیر کیا ہم نے سمندر کو بھی جا کر 

تھا دست نگر پنجۂ مژگاں کی تری کا 


لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام 

آفاق کی اس کارگہ شیشہ گری کا 


ٹک میرؔ جگر سوختہ کی جلد خبر لے

کیا یار بھروسا ہے چراغ سحری کا


میر تقی میر


محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...