Urdu Deccan

Tuesday, June 15, 2021

صابر جوہری

 نظر کب سے تری جانب گڑی ہے 

تمنا ہاتھ پھیلائے کھڑی ہے


مرے چاروں عناصر لڑ رہے ہیں

شکست زیست کی شاید گھڑی ہے


گھمانے سے جسے مقصد ہو پورا 

کہاں جادو کی اب ایسی چھڑی ہے 


چرانے کے لئے پھولوں سے خوشبو 

گلستاں میں ہر اک تتلی اٙڑی ہے


جڑے ہیں شعر میں الفاظ ایسے 

کہ جیسے موتی کی دل کش لڑی ہے 


مری تقدیر کے آنگن میں کب سے

غریبی بال بکھرائے کھڑی ہے


چھڑی ہے میرے اندر جنگ ہردم

مصیبت مجھ پہ کیسی آ پڑی ہے


بجھانے کے لئے شمع محبت 

ہواؤں کو بہت جلدی پڑی ہے


ہوا ہوں جب سے بےگانہ جہاں سے

مری دہلیز پر دنیا کھڑی ہے


مرض جو دل کا جڑ سے ٹھیک کر دے 

کوئی دنیا میں کیا ایسی جڑی ہے


کسی بھی کام کا سچ میں نہیں تو

تری ہر بات ہی صابر بڑی ہے


صابر جوہری


ڈاکٹر نریش

 دل سی نایاب چیز کھو بیٹھے

کیسی دولت سے ہاتھ دھو بیٹھے


عہد ماضی کا ذکر کیا ہمدم

عہد ماضی کو کب کے رو بیٹھے


ہم کو اب غم نہیں جدائی کا

اشک غم جام میں سمو بیٹھے


وعظ کرنے کو آئے تھے واعظ

مے سے دامن مگر بھگو بیٹھے


کیا سبب ہے نریشؔ جی آخر

کیوں جدا آج سب سے ہو بیٹھے


ڈاکٹر نریش


خواجہ عزیز الحسن مجذوب

 یوم پیدائش 12 جون 1884


ہر چیز میں عکس رخ زیبا نظر آیا

عالم مجھے سب جلوہ ہی جلوہ نظر آیا


تو کب کسی طالب کو سراپا نظر آیا

دیکھا تجھے اتنا جسے جتنا نظر آیا


کیں بند جب آنکھیں تو مری کھل گئیں آنکھیں

کیا تم سے کہوں پھر مجھے کیا کیا نظر آیا


جب مہر نمایاں ہوا سب چھپ گئے تارے

تو مجھ کو بھری بزم میں تنہا نظر آیا


گردوں کو بھی اب دیکھ کے ہوتی ہے تسلی

غربت میں یہی ایک شناسا نظر آیا


سب دولت کونین جو دی عشق کے بدلے

اس بھاؤ یہ سودا مجھے سستا نظر آیا


ناکام ہی تا عمر رہا طالب دیدار

ہر جلوہ ترا بعد کو پردا نظر آیا


جو دور نگاہوں سے سر عرش بریں ہے

وہ نور سر گنبد خضرا نظر آیا


مجذوبؔ کبھی سوز کبھی ساز ہے تجھ میں

تو میرؔ کبھی اور کبھی سوداؔ نظر آیا


مجذوبؔ کے جذبے کی جو سمجھے نہ حقیقت

ان عقل کے اندھوں کو یہ سودا نظر آیا


خواجہ عزیز الحسن مجذوب


سمیع احمد ثمر

 انسان کو انسان سے ہی پیار نہیں ہے

اس قوم میں کوئی بھی وفادار نہیں ہے


یہ حسن کا بازار ہے چلتا ہے یہاں زر

دل کا یہاں کوئی بھی خریدار نہیں ہے


واقف ہے طبیعت سے مری سارا زمانہ 

دنیا میں کسی سے مری تکرار نہیں ہے


مظلوم پہ کرتا ہے ستم جو بھی ستم گر

چلتی سدا اس کی کبھی سرکار نہیں ہے


دنیا میں مرا ساتھ نہیں دیتا ہے کوئی

اللہ کے سوا کوئی مددگار نہیں ہے


الفت کی بھلا ابتدا ہو پائے گی کیسے

ہونٹوں پہ ترے پیار کا اقرار نہیں ہے


یہ زہر جدائی کا گوارا نہیں مجھ کو

عاشق ہوں ترا عشق سے انکار نہیں ہے


سمیع احمد ثمر ؔ


شاہد عباس ملک

 درد ہونا قرار پایا ہے 

یعنی رونا قرار پایا ہے 


میری قسمت میں رتجگے آئے  

ان کا سونا قرار پایا ہے


فکر ہونے لگی ہے کانٹوں کی 

یہ بچھونا قرار پایا ہے


آ ندامت گلے لگا مجھ کو 

داغ دھونا قرار پایا ہے


 جس کی مرضی ہے کھیل سکتا ہے 

دل کھلونا قرار پایا ہے


دشت شاہد بلا رہا ہے مجھے 

پھر سے کھونا قرار پایا ہے


شاہد عبا


س ملک

ندیم ناجد

 تکیے سے پھوٹی نظم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترے تکیے کے نیچے

میں رکھےاس خواب جیسا ہوں

جسے فرصت میں دیکھوں گی

یہ کہہ کر رکھ دیا تھا


تمہاری کروٹوں سے۔ آنسوں سے

اور خوابوں سے نمی پا کر

تمہارے عشق میں گوندھی

میں اب اس نظم کی صورت مہکتا ہوں

بوقتِ فجر جس کو

اب پرندے گنگُناتے ہیں

جسے سُنتے ہی

گہری نیند میں سوئی ہوئی خلقت

نمازِ عشق پڑھنے کے لیے

بیدار ہوتی ہے


تمہارے عشق میں گوندھی

میں اب اُس نظم کی صورت مہکتا ہوں

تمہیں فُرصت ملے تو؟؟؟؟؟؟؟؟


ندیم ناجد


یاسین باوزیر

 اک شخص دل میں رہ کہ بھی دلبر نہ بن سکا

مٸے جس میں پیار کی ہو وہ ساغر نہ بن سکا


پھر یوں ہوا کہ عشق کی بازی پلٹ گئی

جب میں مرے رقیب سے بہتر نہ بن سکا


پیوست ہو جگر میں جو مثلِ نگاہِ یار

ایسا تو آج تک کوئی خنجر نہ بن سکا 


ڈگری تو تھی مگر اُنھیں رشوت نہ دے سکا

مزدور بن گیا ہوں میں ٗ افسر نہ بن سکا 


بہتر وہ دوسروں سے بنے بھی تو کس طرح

جو شخص اپنے آپ سے بہتر نہ بن سکا


کیکر یہ چاہتا ہیکہ بن جاے وہ گلاب

شکوہ گلاب کو ہے وہ کیکر نہ بن سکا


یاسین شاعری کے لئے چاہئے ہنر 

ہر عشق کرنے والا سخنور نہ بن سکا


یاسین باوزیر


اقبال شاہ

 جب نکلتا ہے ترے شہر سے رستہ کوئی

سامنے دشت نظر آتا ہے پیاسا کوئی


اتنی شدت ہے مرے ضبط کی برسات میں دیکھ

میرے اندر سے امڈ آیا ہے دریا کوئی


لوگ ملتے ہیں نئے چہرے بدل کر مجھ سے

روز ہوتا ہے مرے ساتھ تماشہ کوئی


جب بھی ملتی ہے گلابوں کے کٹوروں سے صبا

تیرے لہجے میں لگے جیسے ہے ہنستا کوئی 


تم مرے سانسوں کی ڈوری سے بندھے رہتے ہو 

کیسیے کہہ دوں مرا تم سے نہیں رشتہ کوئی


میں اسے کیوں بھلا منسوب صنوبر سے کروں 

تیری قامت سا دکھائے جو نہ نقشہ کوئی 


اقبال شاہ


عالم فیضی

 موت کی اب ہر طرف یلغار ہے

اس وبا سے اب جہاں بیزار ہے


بھول بیٹھے تھے جو رب کو ایک دم

ان پہ رب کی دیکھ لو پھٹکار ہے


سب ہی ڈوبے ہیں گنہ میں اب یہاں

اس لیے ہم پر وبا کی مار ہے 


خوف و دہشت کا ہے سایہ ہر طرف

جس کو دیکھو اب وہی بیمار ہے


کیسی حالت ہوگئی سب کی یہاں

دل سے دل ملنا ہی اب دشوار ہے


کتنے ہیرے کھو دئے کووڈ میں ہم

ان کی فرقت سے یہ دل افگار ہے


ہیں سبھی عالم یہاں بے بس بہت

پھر بھی بدلا ان کا کیا کردار ہے؟


عالم فیضی


گوپال متل

 یوم پیدائش 11 جون 1901


رنگینی ہوس کا وفا نام رکھ دیا

خودداری وفا کا جفا نام رکھ دیا


انسان کی جو بات سمجھ میں نہ آ سکی

انساں نے اس کا حق کی رضا نام رکھ دیا


خود غرضیوں کے سائے میں پاتی ہے پرورش

الفت کو جس کا صدق و صفا نام رکھ دیا


بے مہری حبیب کا مشکل تھا اعتراف

یاروں نے اس کا ناز و ادا نام رکھ دیا


فطرت میں آدمی کی ہے مبہم سا ایک خوف

اس خوف کا کسی نے خدا نام رکھ دیا


یہ روح کیا ہے جسم کا عکس لطیف ہے

یہ اور بات ہے کہ جدا نام رکھ دیا


مفلس کو اہل زر نے بھی کیا کیا دئیے فریب

اپنی جفا کا حکم خدا نام رکھ دیا


گوپال متل


محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...