Urdu Deccan

Monday, August 9, 2021

شگفتہ شفیق

 یوم پیدائش 08 اگست


دل سے پیغام الفت مٹانے کے بعد

کھو دیا پھر تجھے ہم نے پانے کے بعد


وہ سلگتے رہے دل جلانے کے بعد

ہم تو پھر ہنس پڑے ٹوٹ جانے کے بعد


اب تو رستے بھی اپنے جدا ہو گئے

بات بنتی نہیں چوٹ کھانے کے بعد


جائیں جائیں ہمیں کچھ نہیں واسطہ

دل لگی نہ کریں دل جلانے کے بعد


ہم کو اس سے کہاں کوئی انکار ہے

گھر بنا ہے مکاں تیرے جانے کے بعد


جانتی ہوں کہ اس کا ہے شیوہ یہی

وہ رلائے گا ہم کو ہنسانے کے بعد


شادماں وہ نظر آ رہے تھے بہت

کیفیت اپنی غم کی چھپا نے کے بعد


سوچتی ہوں شگفتہؔ عجب بات ہے

ہم نے پایا ہے اس کو گنوانے کے بعد


شگفتہ شفیق


صدام حسین

 ہر ایک لمحہ جنوں میں اپنی مثال ہو گا یہ طے ہوا تھا

بدن کے زخموں سے خون رسنا خیال ہو گا یہ طے ہوا تھا


یہاں جدا ہونے والوں کے درمیان رنجش تو عام شے ہے

مرا تمہارا مگر تعلق مثال ہوگا یہ طے ہوا تھا


تُو عہد کو توڑ کر بھی چاہے ہے کچھ نہ پوچھوں میں اِس کی بابت

کوئی بھی پیچھے ہٹا تو اُس سے سوال ہوگا یہ طے ہوا تھا


تو کیوں مری جاں اداس ہوں میں اگر تُو مسرور لگ رہا ہے

بچھڑ کے دونوں کا ایک جیسا ہی حال ہوگا یہ طے ہوا تھا


کسی کے دل میں بس ایک لمحے کو بھی خیالِ جفا گر آئے

تو رہتی سانسوں تک اُس گھڑی کا ملال ہوگا یہ طے ہوا تھا


جو پھر سے اب ربط جڑ رہے ہیں تو بیچ میں یہ خلا سا کیوں ہے

جہاں سے ٹوٹا وہیں سے رشتہ بحال ہوگا یہ طے ہوا تھا


وہ زخم در زخم دے رہے ہیں تو کوئی پوچھے حسیؔن اُن سے

پرانے زخموں کا پہلے کچھ اندمال ہوگا یہ طے ہوا تھا


صدام حسیٙن


نوشاد اشہر اعظمی

 یوم پیدائش 09 اگست 1968


کھینچے ہے اس طرح سے جنونِ سفر مجھے

وحشت سے تک رہی ہیں سبھی رہگزر مجھے


ہجراں نصیب شب نے کیا ہے یوں بے اماں

"تاروں کی چھاؤں لگتی ہے اب دوپہر مجھے" 


بے اعتبار کرنے لگا ہے جہانِ شوق

آ اے غمِ حیات بنا معتبر مجھے


وہ حالِ بے خیالیء حالت ہے کیا کہوں

ملتی ہے دوسروں سے اب اپنی خبر مجھے


دستارِ عز و جاہ بچا لوں گا ہے یقیں 

دینا مگر پڑے گا بدل میں یہ سر مجھے


آلامِ روزگارِ جہاں سے بچا اگر 

زنجیرِ پا کرینگے یہ دیوار و در مجھے


زخموں نے میرے بخشا عروجِ کمالِ فن

ڈھونڈیں گے میرے بعد سبھی چارہ گر مجھے


آنکھوں میں ان کی میرا اجالا ہے آج بھی

جو کہہ رہے تھے دودِ چراغِ سحر مجھے


نوشاد اشہر اعظمی


اقبال خاور

 یوم پیدائش 09 اگست


کیا برا ہے اگر برا ہوں میں 

آدمی ہوں کوئی خدا ہوں میں


اپنے بارے میں بات کر کوئی 

ہاں مجھے چھوڑ مسئلہ ہوں میں


دل تقاضے تو ایسے کرتا ہے 

جیسے دنیا کا ہوگیا ہوں میں

 

اس کو چھوکر ہوا ہے اندازہ 

خواب سچے بھی دیکھتا ہوں میں


وہی منظر وہی ہے ویرانی 

خود سے باہر بھی آگیا ہوں میں


تو مرا کل ہے آنے والا کل 

خود کو اب تجھ میں دیکھتا ہوں میں


مجھ پہ شاید نظر پڑے کوئی 

بھیڑ سے بچ کے چل رہا ہوں میں


تم نے آنے میں دیر کردی ہے 

اب تو خود میں الجھ گیا ہوں میں


وہ ضروری تھا کس قدر خاور 

وہ نہیں ہے تو سوچتا ہوں میں 


اقبال خاور


فضل الرحمن اعظمی

 یوم پیدائش 09 اگست 1927


بنے بنائے سے رستوں کا سلسلہ نکلا

نیا سفر بھی بہت ہی گریز پا نکلا


نہ جانے کس کی ہمیں عمر بھر تلاش رہی

جسے قریب سے دیکھا وہ دوسرا نکلا


ہمیں تو راس نہ آئی کسی کی محفل بھی

کوئی خدا کوئی ہم سایۂ خدا نکلا


ہزار طرح کی مے پی ہزار طرح کے زہر

نہ پیاس ہی بجھی اپنی نہ حوصلہ نکلا


ہمارے پاس سے گزری تھی ایک پرچھائیں

پکارا ہم نے تو صدیوں کا فاصلہ نکلا


اب اپنے آپ کو ڈھونڈیں کہاں کہاں جا کر

عدم سے تا بہ عدم اپنا نقش پا نکلا


خلیل الرحمن اعظمی


راشید شئینٹر راشد

 یوم پیدائش 08 اگست


آدمی کا غرور بیجا ہے

جو کرے یہ قصور بیجا ہے

    

 میں ہی دنیا سنوار سکتا ہوں

یہ دماغی فطور بیجا ہے

    

 شاعری کو جو کھیل سمجھے ہیں,

  انکا سارا شعور بیجا ہے

    

لالی پؤڈر پسند ہے جنکی

اُنکے چہرے کا نور بیجا ہے


مسخری میں یہ زندگی گزری

ماننا اب قصور بیجا ہے


شکریہ دوست تیرے احساں کا

اس کرم کا ظہور بیجا ہے


 ذرے ذرے میں ہے وہ جلوہ گر

میری خواہش کا طور بیجا ہے


جو شریکِ حیات ہے "راشد"

 اُ سکے آ گے تو حور بیجا ہے

 

راشد پئینٹر "راشد"


مرزا فیصل

 یوم پیدائش 08 اگست


جس نے کی اس سے بھی نہ نفرت کی

کیا کہیں بات ہے طبیعت کی


ہم فسانے میں بھی نہیں ہوں گے

جب سمجھ آئے گی حقیقت کی


میرا اس شہر میں نہیں ہے کوئی

میں نے دیوار سے شکایت کی


دل پہ اک زخم کی جگہ بھی نہیں

اس نے مجھ پر بڑی عنایت کی


صرف تنہائی کاٹنے والو

کون دیتا ہے داد ہمت کی


اس کے حاصل سے شوق جاتا رہا

میں تو مشکل میں ہوں سہولت کی


قید کر لی سیاہ آنکھوں میں 

ایک لڑکی سفید رنگت کی


زندگی سے گئی نہیں فیصل

اک گھڑی آئی تھی مصیبت کی


مرزا فیصل


بلال آدر

 سیاہ رات کے بارے میں سوچتے ہی نہیں 

جو حادثات کے بارے میں سوچتے ہی نہیں


مسافرانِ جنوں موت کے سمندر میں 

کبھی حیات کے بارے میں سوچتے ہی نہیں


ہمارے بس میں میاں گھر تلک بنا لینا 

سو کائنات کے بارے میں سوچتے ہی نہیں


محبتوں کا حسیں کھیل کھیلنے والے 

وبالِ مات کے بارے میں سوچتے ہی نہیں


جہانِ غم میں وہی کامیاب ہیں آدر 

جو اپنی ذات کے بارے میں سوچتے ہی نہیں


بلال آدر


ادریس آزاد

 یوم پیدائش 07 اگست 1969


ہماری لاش کی تصویر بھی اُتاری گئی

پھر اُس کے پاؤں سے زنجیر بھی اُتاری گئی


شہید ہونے کا پہلے ہُنر اُتارا گیا

پھر آسمان سے شمشیر بھی اُتاری گئی


ثمر کو عزم ِ مصمم کے ساتھ جوڑا گیا

قلم اُٹھانے پہ تحریر بھی اُتاری گئی


فقط بدن ہی گھسیٹا نہیں سر ِبازار

ہمارے خواب سے تعبیر بھی اُتاری گئی


جب آسماں سے محبت کا جرم اُترا تھا

تب انتظار کی تعزیر بھی اتاری گئی


گلے میں ڈالی گئی پہلے نام کی تختی

پھر ایک ایک کی تصویر بھی اُتاری گئی


ہمارے جیسوں کو دیوانگی عطاکرکے

دوائے تلخی ِ تقدیر بھی اُتاری گئی


ادریس آزاد


احمد امتیاز

 یوم پیدائش 08 اگست 1949


جواب ایک سا ہے اور سوال ایک سا ہے

یہ کیا ہوا ہے کہ دونوں کا حال ایک سا ہے


بلندیوں کا وہاں ہے تو پستیوں کا یہاں 

بس آسمان و زمیں کا کمال ایک سا ہے


ہر ایک شخص کا انجام رائیگانی ہے

یہ زندگی ہے تو سب پہ وبال ایک سا ہے


جدائی آنکھ میں آنسو ہیں ملنا خندہ بہ لب

فراق ایک سا سب کا وصال ایک سا ہے


کوئی بھی ساعت خوش رنگ آج تک نہ ملی

ہمارے واسطے ہر ایک سال ایک سا ہے


احمد امتیاز


محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...