خود تو گمنامی میں رہتا ہے مگر بچوں کو
ایک استاد بلندی پہ بٹھا دیتا ہے
نہال جالب
یوم پیدائش 05 سپتمبر 1985
مرے ٹھہراؤ کو کچھ اور بھی وسعت دی جائے
اب مجھے خود سے نکلنے کی اجازت دی جائے
موت سے مل لیں کسی گوشۂ تنہائی میں
زندگی سے جو کسی دن ہمیں فرصت دی جائے
بے خدوخال سا اک چہرا لیے پھرتا ہوں
چاہتا ہوں کہ مجھے شکل و شباہت دی جائے
بھرے بازار میں بیٹھا ہوں لیے جنس وجود
شرط یہ ہے کہ مری خاک کی قیمت دی جائے
بس کہ دنیا مری آنکھوں میں سما جائے گی
کوئی دن اور مرے خواب کو مہلت دی جائے
سالم سلیم
یوم پیدائش 05 سپتمبر 1988
طے ہوا دن کہ کھلے شام کے بستر چلیے
پاؤں کو حکم تھکن کا ہے کہ اب گھر چلیے
پہلے پہلے تو کسی چیز سے ٹکراؤگے
تب کہیں ذہن کہے گا کہ سنبھل کر چلیے
چوٹ دیکھیں گے تو منزل پہ نہیں پہنچیں گے
لگ گئی پاؤں کو جو لگنی تھی ٹھوکر چلیے
ایسے کتنے ہی ملیں گے تمہیں منزل تک سو
دیکھنا چھوڑیئے بھی میل کے پتھر چلیے
راہ میں بھیڑ ڈراتی ہے تو گھر جاتے ہیں اور
گھر کی تنہائی یہ کہتی ہے کہ باہر چلیے
چراغ بریلوی
موضوعاتی نظم:- یومِ اساتذہ
آیئے مِل کر منائیں آج ہے ٹیچرس ڈے
سب کو جاکر یہ بتائیں آج ہے ٹیچرس ڈے
ہیں یہی ٹیچر دکھاتے ہیں جو راہِ زندگی
راہ یہ سب کو دکھائیں آج ہے ٹیچرس ڈے
ہے ترقی کی ضمانت اُن کا ہی نقشِ قدم
اس پہ چل کر آزمائیں آج ہے ٹیچرس ڈے
یاد میں رادھا کریشنن کی مناتے ہیں اسے
داستاں ان کی سنائیں آج ہے ٹیچرس ڈے
ٹیچروں کی ہی بدولت چل رہاہے یہ نظام
خود سنیں سب کو سنائیں آج ہے ٹیچرس ڈے
ٹیچروں کے دم سے ہے قایم بہارِ زندگی
اِس میں ہم بھی گل کھلائیں آج ہے ٹیچرس ڈے
باعثِ پسماندگی ہے یہ جہالت اس لئے
اس جہالت کو مٹائیں آج ہے ٹیچرس ڈے
ڈاکٹر احمد علی برقیؔ نے لکھا ہے جسے
وہ ترانہ مِل کے گائیں آج ہے ٹیچرس ڈے
احمد علی برقیؔ اعظمی
یوم اساتذہ جو مناتے ہیں لوگ آج
اپنے اساتذہ کا ہے ان کو یہ اک خراج
تعلیم سے جو کرتے ہیں لوگوں کو روشناس
تعلیم ہی سے بنتا ہے آدرش اک سماج
تعلیم ہی سکھاتی ہے آدابِ زندگی
دیتے ہیں یہ اساتذہ تعلیم کو رواج
تعلیم کے فروغ میں ان کا اہم ہے رول
تعلیم سے سمجھتے ہیں سب وقت کا مزاج
ہیں ذہن ساز بچوں کے اُن کے اساتذہ
بہتر نہیں ہے اس سے کوئی آج کام کاج
اپنے حقوق کے لئے جو لڑ رہے ہیں آج
کوشش کریں نہ کرنا پڑے ان کو احتجاج
اپنے اساتذہ کا ہے برقی بھی مدح خواں
وہ اب جہاں ہے ان کی بدولت وہاں ہے آج
احمد علی برقیؔ اعظمی
عقل بیمار دل دوانہ ہے
بحث کا سلسلہ پرانا ہے
اک سلگتی ہوئی حقیقت ہے
زندگی کب کوئی فسانہ ہے
جو ہواوں کی زد پہ ہے ہر دم
ایسی ٹہنی پہ آشیانہ ہے
چاندنی گو بدن جلاتی ہے
چاند سے پھر بھی عاشقانہ ہے
تُو فلک سے اتر کے آ تو کبھی
دل تجھے کھول کر دکھانا ہے
جب ملے ڈولتے ہیں دونوں جہاں
چشمِ جاں اک شراب خانہ ہے
خود سے روٹھے ہیں خود ہی مانیں گے
کس نے آ کر ہمیں منانا ہے
کون دے گا مری گواہی ندیم
اس کی جانب تو اک زمانہ ہے
ندیم اعجاز
یوم پیدائش 01 سپتمبر 1936
زخم کو پھول کہیں نوحے کو نغمہ سمجھیں
اتنے سادہ بھی نہیں ہم کہ نہ اتنا سمجھیں
زخم کا اپنے مداوا کسے منظور نہیں
ہاں مگر کیوں کسی قاتل کو مسیحا سمجھیں
شعبدہ بازی کسی کی نہ چلے گی ہم پر
طنز و دشنام کو کہتے ہو لطیفہ سمجھیں
خود پہ یہ ظلم گوارا نہیں ہوگا ہم سے
ہم تو شعلوں سے نہ گزریں گے نہ سیتا سمجھیں
چھوڑیئے پیروں میں کیا لکڑیاں باندھے پھرنا
اپنے قد سے مرا قد، شوق سے چھوٹا سمجھیں
کوئی اچھا ہے تو اچھا ہی کہیں گے ہم بھی
لوگ بھی کیا ہیں ذرا دیکھیے کیا کیا سمجھیں
ہم تو بیگانے سے خود کو بھی ملے ہیں بلقیسؔ
کس توقع پہ کسی شخص کو اپنا سمجھیں
بلقیس ظفیر الحسن
اپنے دل سے غبار صاف کیا
ہم نے دشمن کو بھی معاف کیا
خود کو بستر بنا لیا ہم نے
اور اسے عمر بھر لحاف کیا
جس جگہ ہم نے تم کو کھویا تھا
زندگی بھر وہیں طواف کیا
ایک ٹکڑا ملا تھا روٹی کا
ماں نے بچوں میں ہاف ہاف کیا
دل کے کعبے میں کیسی خوشبو ہے
کون ہے کس نے اعتکاف کیا
میں نے چھوڑی انا تو اس نے بھی
اپنی لغزش کا اعتراف کیا
اس کو جب چھوڑنا ہی تھا ہاشم
اس سے کیوں عین شین قاف کیا
ہاشم اسد لبیدپوری
یوم پیدائش 04 سپتمبر 1954
میں اپنے روبرو ہوں اور کچھ حیرت زدہ ہوں میں
نہ جانے عکس ہوں چہرہ ہوں یا پھر آئنہ ہوں میں
مری مجبوریاں دیکھو کہ یکجائی کے پیکر میں
کسی بکھرے ہوئے احساس میں سمٹا ہوا ہوں میں
مرے اندر کے موسم ہی مجھے تعمیر کرتے ہیں
کبھی سیراب ہوتا ہوں کبھی صحرا نما ہوں میں
جو ہے وہ کیوں ہے آخر جو نہیں ہے کیوں نہیں ہے وہ
اسی گتھی کو سلجھانے ہی میں الجھا ہوا ہوں میں
یہ بات اب کیسے سمجھاؤں میں ان معصوم جھرنوں کو
گزر کر کن مراحل سے سمندر سے ملا ہوں میں
تبھی تو شادؔ میں ہوں معتبر اپنی نگاہوں میں
مناظر کو بڑی سنجیدگی سے سوچتا ہوں میں
خوشبیر سنگھ شادؔ
یوم پیدائش 04 سپتمبر 1941
بارود کے بدلے ہاتھوں میں آ جائے کتاب تو اچھا ہو
اے کاش ہماری آنکھوں کا اکیسواں خواب تو اچھا ہو
ہر پتا نا آسودہ ہے ماحول چمن آلودہ ہے
رہ جائیں لرزتی شاخوں پر دو چار گلاب تو اچھا ہو
یوں شور کا دریا بپھرا ہے چڑیوں نے چہکنا چھوڑ دیا
خطرے کے نشان سے نیچے اب اترے سیلاب تو اچھا ہو
ہر سال کی آخری شاموں میں دو چار ورق اڑ جاتے ہیں
اب اور نہ بکھرے رشتوں کی بوسیدہ کتاب تو اچھا ہو
ہر بچہ آنکھیں کھولتے ہی کرتا ہے سوال محبت کا
دنیا کے کسی گوشے سے اسے مل جائے جواب تو اچھا ہو
غلام محمد قاصر
یوم پیدائش 03 سپتمبر
تمہاری دنیا کے باہر اندر بھٹک رہا ہوں
میں بعد ترک جہاں یہی پر بھٹک رہا ہوں
میں تجھ سے ملنے سمے سے پہلے پہنچ گیا تھا
سو تیرے گھر کے قریب آ کر بھٹک رہا ہوں
میں ایک خانہ بدوش ہوں جس کا گھر ہے دنیا
سو اپنے کاندھوں پہ لے کے یہ گھر بھٹک رہا ہوں
میں ہر قدم پر سنبھل سنبھل کر بھٹکنے والا
بھٹکنے والوں سے کافی بہتر بھٹک رہا ہوں
پلو مشرا
یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...