Urdu Deccan

Sunday, September 19, 2021

رئیس امروہوی

 یوم پیدائش 12 سپتمبر 1914


ڈھل گئی ہستئ دل یوں تری رعنائی میں

مادہ جیسے نکھر جائے توانائی میں


پہلے منزل پس منزل پس منزل اور پھر

راستے ڈوب گئے عالم تنہائی میں


گاہے گاہے کوئی جگنو سا چمک اٹھتا ہے

میرے ظلمت کدۂ انجمن آرائی میں


ڈھونڈھتا پھرتا ہوں خود اپنی بصارت کی حدود

کھو گئی ہیں مری نظریں مری بینائی میں


ان سے محفل میں ملاقات بھی کم تھی نہ مگر

اف وہ آداب جو برتے گئے تنہائی میں


یوں لگا جیسے کہ بل کھا کے دھنک ٹوٹ گئی

اس نے وقفہ جو لیا ناز سے انگڑائی میں


کس نے دیکھے ہیں تری روح کے رستے ہوئے زخم

کون اترا ہے ترے قلب کی گہرائی میں

 

رئیس امروہوی


مشکور حسین یاد

 یوم پیدائش 11 سپتمبر 1925


عمر گزری سفر کے پہلو میں

خوب سے خوب تر کے پہلو میں


سانس لیتا ہے ذوق لا محدود

خواہش بام و در کے پہلو میں


شر کو کیا سمجھے یہ غبی مخلوق

شر کہاں ہے بشر کے پہلو میں


خوش نہ ہو آنسوؤں کی بارش پر

برق ہے چشم تر کے پہلو میں


اب ہمیں کیا کوئی سنبھالے گا

ہم ہیں سیلاب زر کے پہلو میں


فرش پر اس نے لی جو انگڑائی

عرش آیا اتر کے پہلو میں


عافیت سے بھی یادؔ خود کو بچاؤ

عافیت ہے خطر کے پہلو میں


مشکور حسین یاد


ثمینہ راجہ

 یوم پیدائش 11 سپتمبر 1961


شاعری جھوٹ سہی عشق فسانہ ہی سہی

زندہ رہنے کے لیے کوئی بہانہ ہی سہی


خاک کی لوح پہ لکھا تو گیا نام مرا

اصل مقصود ترا مجھ کو مٹانا ہی سہی


خواب عریاں تو اسی طرح تر و تازہ ہے

ہاں مری نیند کا ملبوس پرانا ہی سہی


ایک اڑتے ہوئے سیارے کے پیچھے پیچھے

کوئی امکان کوئی شوق روانہ ہی سہی


کیا کریں آنکھ اگر اس سے سوا چاہتی ہے

یہ جہان گزراں آئنہ خانہ ہی سہی


دل کا فرمان سر دست اٹھا رکھتے ہیں

خیر کچھ روز کو تکمیل زمانہ ہی سہی


ثمینہ راجہ


شاہ اکبر داناپوری

 یوم پیدائش 11 سپتمبر 1843


دل وہی ہے جس میں وہ دل دار ہے

آنکھ وہ ہے جس میں روئے یار ہے


طالب دیدار سے پردہ نہیں

کیوں حجاب رخ نقاب یار ہے


ہے خطاب اُس رند کا مست الست

جو شراب عشق کا سرشار ہے


رنگ گُل پھیکا ہے جس کے سامنے

اتنا رنگیں یار کا رخسار ہے


ڈھونڈتے ہیں کس کو یہ اہل طلب

وہ تو ہم سب کے گلے کا ہار ہے


یا خدا اکبرؔ کی کشتی کو نکال

تو ہی اس بیڑے کا کھیون ہار ہے


شاہ اکبر داناپوری


انیس ناگی

 یوم پیدائش 10 سپتمبر 1939


نظم (میں )

حیات مہمل کی جستجو میں 

سفر زمانے کا کر چکا ہوں 

میں اک جواری کی طرح ساری بساط اپنی لٹا چکا ہوں 

میں آدمی کے عظیم خوابوں کی سلطنت بھی گنوا چکا ہوں 

نہ جیب رخت سفر کا تحفہ لیے ہوئے ہے 

نہ ذہن میرا کسی تصور کا دکھ اٹھانے 

کسی محبت کا بوجھ سہنے کے واسطے اختلال میں ہے 

میں فاتح کی طرح چلا تھا 

جو راستے میں ملے مجھے 

وہ تیغ میری سے کٹ گئے تھے 

میں زائروں کے لباس میں 

قرض خوں بہا کا اتارنے، سر منڈا کے یوں ہی نکل گیا تھا 

کہ لوٹ آؤں گا 

ایک دن 

پھر بتاؤں گا میں حیات مہمل کا راز کیا ہے؟ 

یہ خواب ہے یا خیال ہے؟

میں حیات مہمل کی جستجو میں 

سفر زمانے کا کر چکا ہوں 

میں بے نوا بے گیاہ اور بے ثمر شجر ہوں 

جو سو زمانوں کی دھول میں بے بصر بھکاری کی طرح 

اپنی ہی آستیں میں لرز رہا ہے! 


انیس ناگی


احمد علی برقی اعظمی

 نظم جہیز


خود سری اور خود نمائی کی علامت ہے جہیز

لینا دینا ایک نازیبا روایت ہے جہیز


مال و دولت کی نمائش کے سوا یہ کچھ نہیں

بیٹیوں کے ہیں وہ دشمن جن کی چاہت ہے جہیز


دیکھیں کیا کیافاطمہ زہرا کی شادی میں مِلا

آج اسلامی روایت سے بغاوت ہے جہیز


خود کُشی کرنے کو ہیں مجبور جن کی بیٹیاں

ایسے لوگوں کے لئے اک درسِ عبرت ہے جہیز


اِن دنوں جو دے رہے ہیں ایسی بدعت کو فروغ

اُن کی جانب سے یہ تشہیر جہالت ہے جہیز


ساتھ مِل کر اس کا کرنا ہے ضروری سدِ باب

اجتماعی زندگی کی ایک لعنت ہے جہیز


روز سوشل میڈیا پر ایسی آتی ہے خبر

جانے کتنوں کے لئے وجہہ ہلاکت ہے جہیز


آئئے مِل کر کریں ہم اس سے برقی اجتناب

دشمنانِ ملک و ملت کی اطاعت ہے جہیز


احمد علی برقی اعظمی


دیگر

بیٹی جو مظہرِ محبت ہے

فضلِ حق سے خدا کی نعمت ہے


پرورش اس کی ہے وہ کارِ عظیم

جس کی ظاہر سبھی پہ عظمت ہے


ہے یہ ایسا معاشرے میں رواج

بیٹوں سے زیادہ سب کو اُلفت ہے 


جو سمجھتے ہیں بوجھ بیٹی کو

سوچنا اُن کا یہ جہالت ہے


قدر دُختر سے ہیں وہ ناواقف

صرف بیٹوں کی جن کو چاہت ہے


اُس سے بڑھ کر نہیں کوئی خوشبخت

وہ جسے بیٹیوں سے رغبت ہے


بیٹیوں کے جہیز کا سامان

عصرِ حاضر کی ای لعنت ہے


لوگ بچپن سے یہ سمجھتے ہیں

جیسےیہ وقت کی ضرورت ہے


کرتا ہےوہ مطالبہ اس کا

مال و دولت کی جس کو چاہت ہے


’’ ہم زباں ‘‘ کی یہ بزم آرائی

اِن دنوں باعثِ سعادت ہے


بیٹی ہی ماں ہے اپنے بچوں کی

جس کے پیروں کے نیچے جنت ہے


نسلِ آدم کی ہے بقا اس سے

یہی برقی نظامِ قُدرت ہے


احمد علی برقی اعظمی


انجینیر سخی سرمت

 یوم پیدائش 10 سپتمبر 1962


عرشِ بریں پہ لکھا شہِ دیںﷺ کا نام ہے 

یہ ذاتﷺ وہ ہے جس پہ نبوت تمام ہے


لبریز دل میں عشقِ محمدﷺ کا جام ہے 

سرکارﷺ کا کرم ہے کہ وصلِ دوام ہے


پھیلی ہوئی ہے شمعِ ہدایت کی روشنی

نورِ خدا سے چمکا یہ ماہِ تمامﷺ ہے


رحمت لقب ہے اور ہیں محبوبِ کبریاﷺ 

میرے نبیﷺ کی ذات ہی خیرالانام ہے


ختم الرسل ہیں آپﷺ ہی سردارِ انبیاء 

نازل ہوا حضورﷺ پہ رب کا کلام ہے


لب پر درود سارے فرشتوں کے ہے سجا 

ذکرِ. نبیﷺ ہمارے دلوں میں مدام ہے


اسریٰ کی شب سخی یہ خدا نے بتادیا 

کل انبیا کی ذاتِ محمدﷺ امام ہے


انجینیر سخی سرمست


فرزانہ اعجاز

 یوم پیدائش 10 سپتمبر 1947


ابھی تک یاد ہے مجھ کو مرا سرشار ہو جانا

نظر کا ناگہاں اٹھنا ترا دیدار ہو جانا


مری ہستی کا حاصل بن گیا وہ قیمتی لمحہ

وہ اک ٹک دیکھنا ان کا مرا گلنار ہو جانا


وہی لمحہ غنیمت جانیے جو ہنس کے کٹ جائے

سکوں کھونا ہے یکسر زندگی کا بار ہو جانا


ابھی کل کھیلتے پھرتے تھے آنکھیں میچ کر ہم تم

تمہیں سے پڑ رہا ہے اب ہمیں ہشیار ہو جانا


نئی خواہش ہر اک لمحہ تمنا چاند چھونے کی

ہمکنا دل کا سینے میں مرا بیزار ہو جانا


نہ دل میں جذبۂ ایماں نہ سودا سرفروشی کا

تو پھر کیوں چاہتے ہو آگ کا گلزار ہو جانا


دبی ہے پھر کوئی صحن چمن میں آج چنگاری

جو تم جانا گلستاں میں ذرا ہشیار ہو جانا


جو دل کا امتحاں چاہو تو پھر کچا گھڑا لا دو

وفا میں ڈوب جانا ہے ندی کے پار ہو جانا


کہاں تک ساتھ دے گا جذبۂ ایثار فرزانہؔ

لہو دینا چمن کو اور پس دیوار ہو جانا


فرزانہ اعجاز


وحیدہ نسیم

 یوم پیدائش 09 سپتمبر 1927


ہر ایک گام پہ سجدہ یہاں روا ہوگا

خودی کا دور ہے ہر شخص اب خدا ہوگا


بنام فصل بہاراں خزاں کی پوجا ہے

یہی مذاق گلستاں رہا تو کیا ہوگا


دھواں سا اٹھنے لگا دل سے اہل محفل میں

نیا چراغ کوئی بزم میں جلا ہوگا


تمہارے شہر میں آئے ہیں اہل غربت پھر

اس آس پر کہ کوئی درد آشنا ہوگا


جرس ہے ان کا صدا ان کی کارواں ان کے

سوائے گرد سفر میرے پاس کیا ہوگا


کبھی نہ عہد جنوں میں کسی نے سوچا تھا

خرد کا دور بہت صبر آزما ہوگا


نسیمؔ ہم سے ہے زندہ جہاں میں نام وفا

ہمارے بعد زمانہ بدل چکا ہوگا


وحیدہ نسیم


بھار تیندو ہریش وردھن

 یوم پیدائش 09 سپتمبر 1850


بیٹھے جو شام سے ترے در پہ سحر ہوئی

افسوس اے قمر کہ نہ مطلق خبر ہوئی


ارمان وصل یوں ہی رہا سو گئے نصیب

جب آنکھ کھل گئی تو یکایک سحر ہوئی


دل عاشقوں کے چھد گئے ترچھی نگاہ سے

مژگاں کی نوک دشمن جانی جگر ہوئی


پچھتاتا ہوں کہ آنکھ عبث تم سے لڑ گئی

برچھی ہمارے حق میں تمہاری نظر ہوئی


چھانی کہاں نہ خاک نہ پایا کہیں تمہیں

مٹی مری خراب عبث در بدر ہوئی


دھیان آ گیا جو شام کو اس زلف کا رساؔ

الجھن میں ساری رات ہماری بسر ہوئی


بھارتیندو ہریش چندر


محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...