Urdu Deccan

Sunday, September 19, 2021

ساغر ہاشمی

 یوم پیدائش 14 سپتمبر 1972


چشم ِ پرنم کو لیے باب ِ حرم تک پہنچا

شکر صد شکر میں دہلیز ِ کرم تک پہنچا


ترے جلووں سے ضیا مانگنے خورشید فلک

سر بہ خم ہو کے ترے نقش ِ قدم تک پہنچا


نعت کا فیض چلا باب ِ ابو طالب سے

نور پھیلاتا عرب سے جو عجم تک پہنچا


ان فدایان ِ رسالت پہ کروڑوں ہوں سلام

دین ِ حق جن کی بدولت ہے جو ہم تک پہنچا


زائر طیبہ نے جب ذکر کیا طیبہ کا

یوں لگا جیسے میں گلزار ِ ارم تک پہنچا


روشنی دینے لگے نعت کے الفاظ مرے

اسم ِ سرکار دو عالم جو قلم تک پہنچا


آپ کے در کی غلامی کا شرف ایسا ہے

جس نے بھی پایا وہی اوج ِ حشم تک پہنچا


در بدر پھرتے اسے پھر نہیں دیکھا ساغر

جو بھی اک بار در ِ شاہ ِ اممُ تک پہنچا


ساغر ہاشمی


ضیاء شاہد

 یوم پیدائش 14 سپتمبر 1974


ترے جمال کے ہیں رنگ یا گلاب کے رنگ

کہ شاخ شاخ پہ نکھرے ترے شباب کے رنگ 


ورق ورق سے جھلکتی ہیں تیری تصویریں 

نکھرتے جاتے ہیں کیسے مری کتاب کے رنگ 


بچھڑ کے اس سے خسارا ہوا مرا دگنا 

وہ ساتھ لے گیا ، کیا کیا مرے حساب کے رنگ 


میں اک جزیرے میں بیٹھا ہوا یہ سوچتا ہوں 

دکھاوں کیسے زمانے کو اپنے خواب کے رنگ


نشے میں جھوم رہا تھا فضا کا ہر گوشہ 

تمہاری آنکھ سے چھلکے ہیں سب شراب کے رنگ


ادھر بھی دیکھ کلیجہ نہ جل رہا ہو مرا  

یہ سرخ سرخ نظر آتے ہیں کباب کے رنگ


ابھی تو اس کے بدن کو ضیا چھوا ہی نہیں

بدل رہے ہیں ابھی سے مرے جناب کے رنگ


ضیاء شاہد 


ضیاء الدین طالب

 یوم پیدائش 14 سپتمبر 1962


لہو میں رنگِ حنا کو ڈبوکے مار دیا

برہنگی نے حیا کو ڈبوکے مار دیا


رسائی صحرا تک اُس کی،ہوا نے ہونے نہ دی

سمندروں میں گھٹا کو ڈبوکے مار دیا


بہے جو تركِ تعلق پہ اُسکی آنکھوں سےاشک

اُنہیں میں ،میں نے انا کو ڈبوکے مار دیا


ہوئی ہے حُکم سے اُسکے،یہ جب بھی رُوگرداں

خُد ا نے ،خلقِ خُدا کو ڈبو کے مار دیا


ضعیف ماں نے،مرے راستےمیں آنےسے قبل

دُعا سے اپنی ،بلا کو ڈبو کے مار دیا


ہے اشکہائے ندامت کا یہ مرے اعجاز

مری ہر ایک خطا کو ڈبو کے مار دیا


منافقوں کا تو طالب سدا یہ شیوہ رہا

جفا کی تہ میں وفا کو ڈبو کے مار دیا


ضیاءالدین طالب


عظیم مرتضی

 یوم پیدائش 13 سپتمبر 1923


نیم شب آتش فریاد اسیراں روشن

دھوپ سی پھیل رہی ہے سر‌ دیوار چمن


یا ترے قرب کی یہ ساعت افسردہ ہے

یا کبھی تیرے تصور سے سلگتا تھا بدن


دل جلے روئے ہیں شاید کہیں پھر آخر شب

بھیگا بھیگا ہے نسیم سحری کا دامن


آج تک یاد ہے وہ شام جدائی کا سماں

تیری آواز کی لرزش ترے لہجے کی تھکن


دل کے زخموں سے مہک آتی ہے پھولوں کی عظیمؔ

سینۂ چاک ہے یا رخنۂ دیوار چمن


عظیم مرتضی


فانی بدایونی

 یوم پیدائش 13 سپتمبر 1879


دنیا میری بلا جانے مہنگی ہے یا سستی ہے

موت ملے تو مفت نہ لوں ہستی کی کیا ہستی ہے


آبادی بھی دیکھی ہے ویرانے بھی دیکھے ہیں

جو اجڑے اور پھر نہ بسے دل وہ نرالی بستی ہے


خود جو نہ ہونے کا ہو عدم کیا اسے ہونا کہتے ہیں

نیست نہ ہو تو ہست نہیں یہ ہستی کیا ہستی ہے


عجز گناہ کے دم تک ہیں عصمت کامل کے جلوے

پستی ہے تو بلندی ہے راز بلندی پستی ہے


جان سی شے بک جاتی ہے ایک نظر کے بدلے میں

آگے مرضی گاہک کی ان داموں تو سستی ہے


وحشت دل سے پھرنا ہے اپنے خدا سے پھر جانا

دیوانے یہ ہوش نہیں یہ تو ہوش پرستی ہے


جگ سونا ہے تیرے بغیر آنکھوں کا کیا حال ہوا

جب بھی دنیا بستی تھی اب بھی دنیا بستی ہے


آنسو تھے سو خشک ہوئے جی ہے کہ امڈا آتا ہے

دل پہ گھٹا سی چھائی ہے کھلتی ہے نہ برستی ہے


دل کا اجڑنا سہل سہی بسنا سہل نہیں ظالم

بستی بسنا کھیل نہیں بستے بستے بستی ہے


فانیؔ جس میں آنسو کیا دل کے لہو کا کال نہ تھا

ہائے وہ آنکھ اب پانی کی دو بوندوں کو ترستی ہے


فانی بدایونی


جاوید الفت

 یوم پیدائش 12 سپتمبر


حاصل جاں موت ہے آگے سفر کچھ بھی نہیں 

دھند آنکھیں دھند دنیا تا نظر کچھ بھی نہیں 


ہر تعلق کا نتیجہ لا تعلق ہے اگر 

زندگی پھر تجھ سے پایا عمر بھر کچھ بھی نہیں 


صبر ہمت آس جگنو ٹھوکریں دشواریاں 

جب سبھی رخت سفر ہیں تو سفر کچھ بھی نہیں 


دور میلوں تک چلی ہے میرے قدموں کے تلے 

سچ کہوں قدموں سے آگے رہ گزر کچھ بھی نہیں  


عکس رخ تیرا ہے شامل ہر نظارے میں مرے 

تیرے جلوؤں کے سوا میری نظر کچھ بھی نہیں 


بند آنکھیں جب ہوئی سب کچھ نظر آنے لگا 

اس قدر غافل ہوں گویا بے خبر کچھ بھی نہیں  


رات دن کی گردشیں اور تنہا تنہا زندگی 

وقت ایسا ہے شجر جس کا ثمر کچھ بھی نہیں 


کیا ہوا کیوں کر ہوا بے جا سوالوں میں ہوں گم 

ان سوالوں کے بنا الفتؔ مگر کچھ بھی نہیں


جاوید الفت


ریحانہ قمر

 یوم پیدائش 12 سپتمبر


کبھی سورج ہے کبھی زہرہ جمالوں جیسا 

کیوں وہ لگتا ہے مجھے میری مثالوں جیسا 


ہر طرح سے وہ بہت اچھا ہے لیکن اس کو 

دیکھنا چاہتی ہوں اپنے خیالوں جیسا 


چاہتی ہوں کہ کروں اس سے محبت کھل کر 

لیکن انجام نہ ہو چاہنے والوں جیسا 


کس طرح مان لوں میں اس کی نصابی باتیں 

اس کا موقف ہے کتابوں کے حوالوں جیسا 


میری ضد ہے اسے حل کر کے رہوں گی میں بھی 

وہ جو لگتا ہے ریاضی کے سوالوں جیسا 


آج کے دن بھی گھٹا کھل کے نہ برسے شاید 

آج کا دن بھی ہے وحشت میں غزالوں جیسا 


اے محبت میں مجھے چاند سا کہنے والے 

مجھ قمرؔ کو نہ سمجھ میری مثالوں جیسا


ریحانہ قمر


ضیا فاروقی

 یوم پیدائش 12 سپتمبر 1947


آئنے میں پس منظر کا ابھرنا کیسا

جھیل جیسی تری آنکھوں میں یہ جھرنا کیسا


عمر بھر ساتھ رہو تو کہیں مہکے آنگن

کسی خوشبو کی طرح چھو کے گزرنا کیسا


وہ تو اک خواہش ناکام تھی جو چیخ پڑی

بے سبب اپنی ہی آواز سے ڈرنا کیسا


گرد شیشوں سے ہٹاؤ تو کوئی بات بنے

اندھے آئینوں کے آگے یہ سنورنا کیسا


پھینک دو بار الم کچھ تو سفر آساں ہو

بوجھ لادے ہوئے دنیا سے گزرنا کیسا


اے مرے شور نفس بار سماعت سے گریز

نیند کے وقت صداؤں کا ابھرنا کیسا


گوش امید ہوئے جبکہ صداؤں کے اسیر

فتح پھر کوہ ندا کا ضیاؔ کرنا کیسا


ضیا فاروقی


صابر ظفر

 یوم پیدائش 12 سپتمبر 1949


دن کو مسمار ہوئے رات کو تعمیر ہوئے

خواب ہی خواب فقط روح کی جاگیر ہوئے


عمر بھر لکھتے رہے پھر بھی ورق سادہ رہا

جانے کیا لفظ تھے جو ہم سے نہ تحریر ہوئے


یہ الگ دکھ ہے کہ ہیں تیرے دکھوں سے آزاد

یہ الگ قید ہے ہم کیوں نہیں زنجیر ہوئے


دیدہ و دل میں ترے عکس کی تشکیل سے ہم

دھول سے پھول ہوئے رنگ سے تصویر ہوئے


کچھ نہیں یاد کہ شب رقص کی محفل میں ظفرؔ

ہم جدا کس سے ہوئے کس سے بغل گیر ہوئے


صابر ظفر


رئیس امروہوی

 یوم پیدائش 12 سپتمبر 1914


ڈھل گئی ہستئ دل یوں تری رعنائی میں

مادہ جیسے نکھر جائے توانائی میں


پہلے منزل پس منزل پس منزل اور پھر

راستے ڈوب گئے عالم تنہائی میں


گاہے گاہے کوئی جگنو سا چمک اٹھتا ہے

میرے ظلمت کدۂ انجمن آرائی میں


ڈھونڈھتا پھرتا ہوں خود اپنی بصارت کی حدود

کھو گئی ہیں مری نظریں مری بینائی میں


ان سے محفل میں ملاقات بھی کم تھی نہ مگر

اف وہ آداب جو برتے گئے تنہائی میں


یوں لگا جیسے کہ بل کھا کے دھنک ٹوٹ گئی

اس نے وقفہ جو لیا ناز سے انگڑائی میں


کس نے دیکھے ہیں تری روح کے رستے ہوئے زخم

کون اترا ہے ترے قلب کی گہرائی میں

 

رئیس امروہوی


محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...