Urdu Deccan

Saturday, November 20, 2021

صفدر ہمدانی

 یوم پیدائش 17 نومبر 1950


تبدیلیاں ہیں عمر کے جانے کے ساتھ ساتھ

ناراضگی بڑھی ہے منانے کے ساتھ ساتھ


نفرت منافقت سے رہی مجھ کو عمر بھر

میں چل سکا نہیں ہوں زمانے کے ساتھ ساتھ


میری مصیبتیں بھی گوارا نہیں اسے

مجھ کو رلا رہا ہے ہنسانے کے ساتھ ساتھ


دل میں سلگ رہی ہیں دعاؤں کی مشعلیں

لب ہل رہے ہیں ہاتھ اٹھانے کے ساتھ ساتھ


اس کی ہر ایک بات تو یکسر نہیں غلط

ہیں کچھ حقیقتیں بھی بہانے کے ساتھ ساتھ


میں آشنا ہوں اس کے مزاج و خیال سے

یاد آؤں گا اسے میں بھلانے کے ساتھ ساتھ


صفدرؔ عجیب لگتی ہے بستی بسی ہوئی

آتش فشاں کے سرخ دہانے کے ساتھ ساتھ


صفدر ہمدانی


امید فاضلی

 یوم پیدائش 17 نومبر 1923


مقتل جاں سے کہ زنداں سے کہ گھر سے نکلے

ہم تو خوشبو کی طرح نکلے جدھر سے نکلے


گر قیامت یہ نہیں ہے تو قیامت کیا ہے

شہر جلتا رہا اور لوگ نہ گھر سے نکلے


جانے وہ کون سی منزل تھی محبت کی جہاں

میرے آنسو بھی ترے دیدۂ تر سے نکلے


دربدری کا ہمیں طعنہ نہ دے اے چشم غزال

دیکھ وہ خواب کہ جس کے لیے گھر سے نکلے


میرا رہزن ہوا کیا کیا نہ پشیمان کہ جب

اس کے نامے میرے اسباب سفر سے نکلے


بر سر دوش رہے یا سر نیزہ یارب

حق پرستی کا نہ سودا کبھی سر سے نکلے


امید فاضلی


اشفاق احمد صائم

 کبھی تو آؤ گی لوٹ کر تم 

آکے دیکھو گی راہگزر کو 

اک شکشتہ سا گھر ملے گا 

جس کی چوکھٹ سے بام تک اک

 زرد پتوں کی بیل ہو گی

جو سنائے گی داستانیں

اکیلے پن کی اداسیوں پر


ہاتھ اٹھے گا دستکوں کو 

در تو لیکن کھلا ملے گا

جیسے تم کو سدا ملا تھا


گھر کے آنگن میں دیکھنا تم

کتنی وحشت بھری پڑی ہے

سامنے اک گھڑی ہے دیکھو

جس پہ دو بج کے دس منٹ ہیں 

تیرے جاتے ہی ایک پل میں

وہ سارے لمحے ٹھہر گئے تھے

جو کہ اب تک رکے ہوئے ہیں 


یاد ہو گا نا میرا کمرہ

دیواریں جس کی بھری ہوئیں ہیں

اب بھی تیری ہی تصویروں سے

جس کی ساکن فضا میں اب تک

تمھاری خوشبو بسی ہوئی ہے

وہاں اک

 ضعیف سی میز ہو گی

جس پہ رکھے بوسیدہ کاغذ

ان پہ لکھی ادھوری نظمیں 

وہ اَدھ مِٹے سے حروف سارے

بتائیں گے تم کو کس طرح سے

ادھورے پن کے عذاب جھیلے 


کتنے سوکھے گلاب جن پر 

تمہاری اک ، اک ، سالگرہ کا 

دن بھی لکھا ، تاریخ بھی ہے


اکٹھے سارے گلاب کرنا 

پھر ان کا گن کے حساب کرنا 

کتنے سالوں سے تم نہ آئی


چھلک کے آنسو گریں گے ان پر 

اٹھا کے سارے بوسیدہ کاغذ

لگا کے دل سے گلاب سارے 

لپک کے بھاگو گی پھر گلی میں 

وہاں پہ بچے جو کھیلتے ہیں 

تم ان سے پوچھو گی جا کے میرا 

یہاں پہ بستا تھا ایک شاعر 

یہاں پہ رہتا تھا ایک صائم

کہاں ہے وہ ، اب کدھر گیا ہے

بچے حیرت سے تجھ کو دیکھیں گے

     " تم ہو وہ " 

تم ہو وہ

جس سے الفت نبھا نبھا کر

وہ جس کے قصے سنا سنا کر

وفا کو کر کے امر گیا وہ


تم نے آنے میں دیر کر دی


وہ تیرا شاعر، وہ تیرا صائم

برسوں پہلے ہی مر گیا وہ

تم نے آنے میں دیر کر دی 


اشفاق احمد صائم


شاہد عباس ملک

 بوسے لئے اجل کے ، اذیت تمام شد 

اے عشقِ نا مراد ، مصیبت تمام شد 


چھوڑا جو مہ جبینوں کو دل پارسا ہوا 

صد شکر ساحروں کی حکومت تمام شد


منظورِ انجمن ہوا جب سے یہ بے نوا 

مقدور مل گیا تو ضرورت تمام شد


مخلص اگر ملا بھی تو مفلس کے بھیس میں 

ثروت جو ہاتھ آئی ، عقیدت تمام شد


حاتم تمہارے نام کی بنیاد ہے فقیر 

سائل ہی اٹھ گیا تو سخاوت تمام شد


جتنے محل نشین تھے پتھر کے ہوگئے 

شکوے پہ خاک ڈالیں، شکایت تمام شد


شاہد جفائے یار سے صد معذرت ، کہ دل

رخصت ہوا جہاں سے ، سہولت تمام شد


شاہد عباس ملک


Tuesday, November 16, 2021

ظہور بیگ

 ایک گھر پر ہی جی رہے ہیں بس 

لوگ اندر ہی جی رہے ہیں بس


مر گئے ہیں تمام قسم کے پھول 

دل کے پتھر ہی جی رہے ہیں بس


کچھ نہیں ہے یہاں پہ دریا کا 

یہ سمندر ہی جی رہے ہیں بس


ظہور بیگ


ڈاکٹر گلشن رائے کنول

 یوم پیدائش 16 نومبر 1935


لوگ بد حال ہیں مکانوں میں

اپنے گھر کے ہی تنگ خانوں میں


وہ پرندے جو روز اُڑتے تھے

آج قیدی ہیں آشیانوں میں


جن کو دنیا میں گھر ملا ہی نہیں

وہ ہیں مہمان شامیانوں میں


اُن ضعیفوں کا حال مت پوچھو 

تھے جو پہلے ہی نیم جانوں میں


اہلِ دنیا کو شک ہے اُن کے خلاف

کوئی سازش ہے آسمانوں میں


اَن گنت لوگ جو زمیں پر تھے

آج شامل ہیں آنجہانوں میں


گھر میں ٹھرو یہ حکم ہے جب سے

کون ملتا ہے کارخانوں میں


کچھ تو بیمار اپنے گھر پر ہیں

اور کچھ بند خستہ خانوں میں


اک وبا ہے کنول کتھا جس کی

لکھی جائے گی داستانوں میں


 ڈاکٹر گلشن رائے کنول


جاوید عارف

 نکلا تری تلاش میں پہنچا کدھر کو میں 

کیا دوش دوں نصیب کو یا راہگزر کو میں

 

کوئی چراغ ساتھ نہ اسباب ہم سفر

کیسے کروں گا طے شبِ غم کے سفر کو میں 


حاجت طبیب کی نہ دوا کی رہے گی پھر

چھو لوں جو ایک بار ترے سنگِ در کو میں


دل کو متاعِ غم نے ہی سیراب کر دیا

ٹھکرا چکا ہوں اس لئے لعل و گہر کو میں  


ہوتے قدم قدم پہ ہیں اس راہ حادثے 

رکھ لوں گا ساتھ ساتھ کسی نوحہ گر کو میں 


میرے خلاف آج وہی شخص ہے کھڑا 

جس پر لٹا چکا ہوں کہ جان و جگر کو میں


عارف جو لاکھ ہجر میں یوں ضبط بھی کروں 

ممکن نہیں کہ روک سکو ں چشم ِ تر کو میں


   جاوید عارف


حافظ علی مہدی عرفانی

 کام تو باکمال کر ڈالا

اس نے ترک وصال کر ڈالا


کتنی دلسوز اسکی حرکت تھی

میرا جینا محال کر ڈالا


میں تو بس اتصال چاہتا تھا

اس نے کیوں انفصال کر ڈالا


جس کی خاطر مسرتیں بانٹیں

اس نے ہی پر ملال کر ڈالا


جس کے دلبر تھے ہم کبھی مہدی

اس نے ہی پر ملال کر ڈالا


حافظ علی مہدی عرفانی


محمد وقار احمد نوری

 وہ منہ جب کھول دیتے ہیں

لبوں سے پھول جھڑتے ہیں


شناسائی جو ہیں میرے

وہی خوشیوں سے جلتے ہیں


نہیں علم و ہنر کوئی

خیالِ خام رکھتے ہیں


ہمیشہ چھپ کے وہ مجھ سے

مری باتوں کو سنتے ہیں


حقیقت ہے مرے دلبر

تری خاطر ہی رکتے ہیں


جنہیں پیاری نہیں عزت

وہ سستے دام بکتے ہیں


بھری محفل میں اپنے بھی

رلا کر خوب ہنستے ہیں


کبھی ملنے نہیں آتے

بہت مصروف رہتے ہیں


تری یادوں میں کھو کر ہم

سدا گھٹ گھٹ کے جیتے ہیں


تمہارے چاہنے والے

شرابِ عشق پیتے ہیں


ذرا سے بات سن کر وہ

بہت مایوس ہوتے ہیں


جو کرتے ہیں بڑی باتیں

وہی ٹکڑوں پہ پلتے ہیں


ابھی تکلیف نہ دینا

دلوں کے زخم سلتے ہیں


ہو ماضی حال و مستقبل

سدا لڑتے ہی لڑتے ہیں


مجھے افسوس ہے بے حد

کہ سکے کھوٹے چلتے ہیں


لگا کے مجھ کو سینے سے

دعائیں خوب دیتے ہیں


وہ تجھ سے کرتے ہیں الفت

تجھے ہی یاد کرتے ہیں


جنہیں آتا نہیں کچھ بھی

حماقت پہلے کرتے ہیں


کبھی لڑنا نہیں یارو

وقارِ نوری کہتے ہیں



محمد وقار احمد نوری

شاہد عباس ملک

 بوسے لئے اجل کے ، اذیت تمام شد 

اے عشقِ نا مراد ، مصیبت  تمام شد 


چھوڑا جو مہ جبینوں کو  دل پارسا ہوا 

صد شکر ساحروں کی حکومت تمام شد


منظورِ انجمن ہوا جب سے یہ بے نوا 

مقدور مل گیا تو ضرورت تمام شد


مخلص اگر ملا بھی تو مفلس کے بھیس میں 

ثروت جو ہاتھ آئی ، عقیدت تمام شد


حاتم تمہارے نام کی بنیاد ہے فقیر 

سائل ہی اٹھ گیا تو سخاوت تمام شد


جتنے محل نشین تھے پتھر کے ہوگئے 

شکوے پہ خاک ڈالیں، شکایت تمام شد


شاہد جفائے یار سے صد معذرت ، کہ دل

رخصت ہوا جہاں سے ، سہولت تمام شد


شاہد عباس ملک


محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...