Urdu Deccan

Friday, December 17, 2021

رضیہ سبحان

 یوم پیدائش 09 دسمبر 


زندگی سے ہوا گلہ بے سود

میں نےجو بھی کہا سنا بےسود 


جب کبھی خود کو ڈھونڈنا چاہا 

مجھ کو میرا پتہ لگا بےسود 


آگہی کا عذاب کیا جھیلا 

خوابِ ہستی بہت لگا بےسود 


جس طرف جاؤں بن ترے یارا

منظرِخوشنما ہوا بےسود 


جب نہ ہمراز ہو نہ ہو ہمدم

چاند تارے ہوا گھٹا بے سود 


نسخہء زندگی جو ہاتھ آیا

خاک میں مل گیا ہوا بےسود 


بن تمھارے ہوں اسطرح رضیہ 

جس طرح ساز بےصدا بےسود 


رضیہ سبحان 


افسر صدیقی امروہوی

 یوم پیدائش 09 دسمبر 1896


روئے حضرتؐ سے اگر نور نہ پایا ہوتا

دونوں عالم میں اندھیرا ہی اندھیرا ہوتا


یوسفؑ مصر میں سب کچھ سہی لیکن اک بار

اے زلیخا مرے یوسف کو بھی دیکھا ہوتا


خیر سے امت عاصی کی شفاعت کر لی

ورنہ کیا جانیے کیا حشر ہمارا ہوتا


عرش پہ خالقِ افلاک کے مہمان ہوئے

کیوں نہ دنیا سے بلند آپؐ کا پایا ہوتا


شاهؐ ِلولاک کے دم سے ہے نمودِ ہستی

وہ اگر خلق نہ ہوتے تو یہاں کیا ہوتا


طور پہ جاکر پریشان ہوئے مفت کلیمؑ

اس سے یثرب میں چلے آتے تو اچھا ہوتا


مدح خوانِ شؐہِ لولاک بنایا حق نے

اور کیا اس زیادہ مرا رتبا ہوتا


ثانیء احمد مختار کا امکان نہیں

ایسا ہوتا تو ضرور آپؐ کا سایہ ہوتا


افسر اللہ نے بخشی تھی اگر طبعِ سلیم

عمر کو نعت محمدؐ میں گزارا ہوتا


افسر صدیقی امروہوی


نیاز نیازی

 یوم پیدائش 08 دسمبر


ابھی تو اور بھی خود سے قریب ہونا ہے 

خود اپنے آپ کا مجھ کو خطیب ہونا ہے 


اسی لیے تو شب و روز بڑھ رہے ہیں زخم

کہ اک عزیز کو میرا طبیب ہونا ہے 


یہ رسمِ عاشقی گو کہ بہت پرانی ہے 

یہاں کسی کو کسی کا رقیب ہونا ہے 


ابھی تو وقت نے جلوہ ذرا دکھایا ہے 

اب آگے آگے بہت کچھ عجیب ہونا ہے 


تمہاری عزت و وقعت ہے مال و زر کے سبب 

مرا قصور جہاں میں غریب ہونا ہے


 نیاز نیازی


بلقیس جمال بریلوی

 یوم پیدائش 08 دسمبر 1909

خونبائبہ دل


خوں کی نہریں داستانِ دل کا عنواں ہو گئیں

آبلہ سائی سے آنکھیں گل بدا ماں ہوگئیں


ہائے اے ہمدم میری افسردہ سامانی نہ پوچھ

دل کی حسرت زائیاں وحشت کا ساماں ہو گئیں


شامِ غم تاریکیاں خاموشیاں بڑھنے لگیں

میری آنکھیں خود بخود شبنم بدماں ہو گئیں


ہیں کٹورے میری آنکھوں کے چھلکنے کے قریب

سیلِ آبِ اشک سے پلکیں جو لرزاں ہو گئیں


نغمہ محفل میں میں ہوں یعنی اک تصویر یاس

شمع کی خاموشیاں بھی مجھ پہ قرباں ہو گئیں


ٹمٹماتا سا چراغِ آرزو سینہ میں ہے

دل کی ظلمت زائیاں جس سے درخشاں ہو گئیں


اے جمال مضطرب خاموش اب بہر خدا

تیری نغمہ زائیاں حسرت کا طوفاں ہو گئیں


بلقیس جمال بریلوی


ضمیر درویش

 یوم پیدائش 08 دسمبر 1943


دعا ہے ، زندگی اب یوں گزار جائیں ہم

کہ تُو ہو جب بھی مُقابل تو ہار جائیں ہم


اداس لوگوں میں جانے کا قصد ہے تو یہیں

لبوں کا اپنے تبسم اتار جائیں ہم


ہے کسرِ شان ترے در کی، بے قرار آکر

یہاں سے لوَٹ کے بھی بے قرار جائیں ہم


وہاں ہے جان کا خطرہ مگر نہ جانے کیوں

یہ بے کلی ہے وہاں بار بار جائیں ہم۔ 


سنوارنے میں لگے ہیں وہ عاقبت اپنی

کسی غریب کی دنیا سنوار جائیں ہم


تجھے پکارنا ہے رائگاں تو مجبوراً

ترے ضمیر کو اب کے پکار جا ئیں ہم


ضمیر درویش


افتخار الفی

 یوم پیدائش 08 دسمبر 1973


بانٹ لیتے سکھ سبھی دکھ بانٹتا کوئی نہیں

ابتری میں حال تک بھی پوچھتا کوئی نہیں


اجنبی ہر ایک چہرہ آنکھ میں بے گانگی

جیسے مجھ کو شہر بھر میں جانتا کوئی نہیں


رنگ ,تتلی,پھول,خوشبو عشرتوں کے چونچلے

 کلفتوں میں خواب ایسے دیکھتا کوئی نہیں

 


ہر کوئی ہے دوسروں کی عیب کوشی میں مگن

بس یہاں اپنا گریباں جھانکتا کوئی نہیں


جانتا ہوں آپ جیسے مخلصوں کی مخلصی 

بن غرض تو اب خدا کو پوجتا کوئی نہیں


دیکھتے ہیں سب یہاں پر تن بدن کے فاصلے

دل سے دل کی دوریوں کو ناپتا کوئی نہیں


جب اداسی بال کھولے چل رہی ہو ساتھ ساتھ

شوخیوں سے چہچہاتا ناچتا کوئی نہیں


پارسائی در حقیقت نارسائی کا فسوں

دسترس میں جام الفی چھوڑتا کوئی نہیں


افتخار الفی


مولانا امتیاز علی عرشی

 یوم پیدائش 08 دسمبر 1904


حسن خود جلوہ نمائی پہ ہے مجبور میاں

جانئے عشق کو ایک مجرم معذور میاں


قرب گر اور نہ بڑھ جائے تو میرا ذمہ

کھینچ کر دیکھیے اپنے کو ذرا دور میاں


مل رہی ہے ہمیں قسمت سے وہ صہبا کہ جسے

پی کے ہوتا نہیں کوئی بھی مخمور میاں


اپنی راتوں کو جو بیدار رکھا کرتے ہیں

ان کی بیداری کو درکار ہے اک صور میاں


عشق وہ نار کہ دیکھے سے دکھائی نہ پڑے

حسن وہ نور کہ رہتا نہیں مستور میاں


احترام گل و لالہ بسر و چشم مگر

بچیں کانٹوں سے یہ اپنا نہیں دستور میاں


تم جب آتے ہو تو کچھ ایسا لگا کرتا ہے

جیسے جنت سے اتر آئی ہو اک حور میاں


ہم نے سو بار بسایا اسے امیدوں سے

دل وہ بستی ہے جو رہتی نہیں معمور میاں


دار پر چڑھنے کی طاقت نہیں عرشیؔ میں ابھی

سر سے پا تک ہے شکستوں سے بدن چور میاں


 مولانا امتیاز علی عرشی


قاضی محمد زین العابدین

 یوم پیدائش 08 دسمبر 1892

نظم وقت


وقت کیا چیز ہے کچھ اسکی ہے قمیت معلوم

دفتروں میں نہ سماویں جو لکہی جائیں رقوم

اس سہ حرفی میں سمجھ دونوں جہانکا مفہوم

 جس طرح سے ہیں افاعیل فعل کے محکوم

 


رائیگاں اسکو نہ کھو دینا کہ پچتاؤ گے

مثل حرف غلط اس لوح سے مٹ جاؤ گے


لغو بیہودہ اگر وقت گزارا گزرا 

جو کہ گزرا وہ پلٹ کر نہ کبھی آئے گا

اب جو بچیائے تو پچتانے میں یہ وقت گیا

کام کرنا تھا جو اسوقت میں وہ بہی نہوا

 


ایک لمحہ کو بہی بے کار اگر کھوؤ گے

جنتلک جیتے ہو پچتاؤگے اور روؤگے


وقت کہتا ہے مری قدر کرو قدر کرو

رائیگاں ایک بھی لمحہ مرا جانے مت دو

ہے ضرورت مری ہر کام میں تم سمجہو تو

چیز انمول ملی مفت میں حاصل کرلو


میرا ہی نام ہے اقبال جو مجکو پاتو

میرا ہی نام ہے اوبار جو مجکو کھو دو


جو نکما مجھے چھوڑینگے وہی ہونگے ذلیل

اور جو کام میں لائیںگے بنیں گئے وہ جلیل

میں ہوں مقصود کرو حکم کی میری تعمیل

کام یابی کا نہیں میرے سوا کو وکیل


میرا دم ہے برکت دولت دنیا کے لئے

اور ضرورت ہے مری نعمت عقبے کے لئے


قاضی محمد زین العابدین 


ناصر کاظمی

 یوم پیدائش 08 دسمبر 1925


گرفتہ دل ہیں بہت آج تیرے دیوانے

خدا کرے کوئی تیرے سوا نہ پہچانے


مٹی مٹی سی امیدیں تھکے تھکے سے خیال

بجھے بجھے سے نگاہوں میں غم کے افسانے


ہزار شکر کہ ہم نے زباں سے کچھ نہ کہا

یہ اور بات کہ پوچھا نہ اہل دنیا نے


بقدر تشنہ لبی پرشس وفا نہ ہوئی

چھلک کے رہ گئے تیری نظر کے پیمانے


خیال آ گیا مانوس رہ گزاروں کا

پلٹ کے آ گئے منزل سے تیرے دیوانے


کہاں ہے تو کہ ترے انتظار میں اے دوست

تمام رات سلگتے ہیں دل کے ویرانے


امید پرسشِ غم کس سے کیجیے ناصرؔ

جو اپنے دل پہ گزرتی ہے کوئی کیا جانے


ناصر کاظمی


مظہر وسطوی

 یوم پیدائش 07 دسمبر


بام پر چاند اگانے کی بہت کوشش کی

میں نے اک شوخ کو پانے کی بہت کوشش کی

  

 مجھ سے ناراض ہو لیکن یہ شرافت دیکھو

 نیند سے تم کو جگانے کی بہت کوشش کی

   

 وہ بھی اب دیکھتا ہے شوق نظر سے جس نے

  رخ پہ دیوار گرانے کی بہت کوشش کی 

  

آج تو بھی میرا مداح بنا بیٹھا ہے 

 یار تو نے تو مٹانے کی بہت کوشش کی

 

 دل کو پر نور بنانے کی بھی سوچیں اب ہم 

 گھر کو بازار بنانے کی بہت کوشش کی

 

 رات بھر میں بھی مناتا رہا مظہرؔ اس کو

  اس نے بھی روٹھ کے جانے کی بہت کوشش کی

  

 مظہر وسطوی


محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...