Urdu Deccan

Friday, December 31, 2021

اقبال ادیب کاشی پوری

 یوم پیدائش 09 جنوری 1954


اجاڑ نے پہ جسے متفق زمانہ ہے

اسی چمن میں ہمارا بھی آشیانہ ہے


مرے خدا کسی مشکل میں ڈالدے مجھ کو

مجھے کچھ اپنے عزیزوں کو آزمانا ہے


ہے آج تک بھی حسین و جمیل ویسا ہی

یہ چاند کہنے کولاکھوں برس پرانا ہے


یہاں پہ کوئی کسی کی مدد نہیں کرتا

خودا پنی راہ کا پتھر مجھے ہٹانا ہے


وہ ہم سے کوئی سا لہجہ بھی اختیار کرے

 ہمیں تو صرف محبت سے پیش آنا ہے


کسی کی جان چلی جاۓ یا رہے اقبال

اسے تو صرف نشانے کو آزمانا ہے


اقبال ادیب کاشی پوری


الوک شریواستو


 یوم پیدائش 30 دسمبر 1971


اگر سفر میں مرے ساتھ میرا یار چلے 

طواف کرتا ہوا موسم بہار چلے 


لگا کے وقت کو ٹھوکر جو خاکسار چلے 

یقیں کے قافلے ہم راہ بے شمار چلے 


نوازنا ہے تو پھر اس طرح نواز مجھے 

کہ میرے بعد مرا ذکر بار بار چلے 


یہ جسم کیا ہے کوئی پیرہن ادھار کا ہے 

یہیں سنبھال کے پہنا یہیں اتار چلے 


یہ جگنوؤں سے بھرا آسماں جہاں تک ہے 

وہاں تلک تری نظروں کا اقتدار چلے 


یہی تو ایک تمنا ہے اس مسافر کی

جو تم نہیں تو سفر میں تمہارا پیار چلے


آلوک شریواستو

ساحر شیوی

 یوم پیدائش 29 دسمبر 1936


غم حیات کی پہنائیوں سے خوف زدہ

میں عمر بھر رہا ناکامیوں سے خوف زدہ


جہاں بھی دیکھو تعصب کی چل رہی ہے ہوا

ہمارا شہر ہے بلوائیوں سے خوف زدہ


کبھی کسی کا برا ہی نہیں کیا پھر بھی

زمانہ ہے مری خوش حالیوں سے خوف زدہ


کرم تمہارا کوئی بے غرض نہیں ہوتا

ہے دل تمہاری مہربانیوں سے خوف زدہ


الٰہی تجھ کو خبر ہے کہ یہ ترا ساحرؔ

ہے کتنا اپنی پریشانیوں سے خوف زدہ


ساحر شیوی


 #شعراء #اردو #اردوشاعری #پیدائش #اردوغزل #urdudeccan #poetrylovers #اردودکن #birthday #urdu #urduadab


منظر بھوپالی

 یوم پیدائش 29 دسمبر 1959


کوئی بچنے کا نہیں سب کا پتا جانتی ہے

کس طرف آگ لگانا ہے ہوا جانتی ہے


اجلے کپڑوں میں رہو یا کہ نقابیں ڈالو

تم کو ہر رنگ میں یہ خلق خدا جانتی ہے


روک پائے گی نہ زنجیر نہ دیوار کوئی

اپنی منزل کا پتہ آہ رسا جانتی ہے


ٹوٹ جاؤں گا بکھر جاؤں گا ہاروں گا نہیں

میری ہمت کو زمانے کی ہوا جانتی ہے


آپ سچ بول رہے ہیں تو پشیماں کیوں ہیں

یہ وہ دنیا ہے جو اچھوں کو برا جانتی ہے


آندھیاں زور دکھائیں بھی تو کیا ہوتا ہے

گل کھلانے کا ہنر باد صبا جانتی ہے


آنکھ والے نہیں پہچانتے اس کو منظرؔ

جتنے نزدیک سے پھولوں کی ادا جانتی ہے


منظر بھوپالی


اثر صہبائی

 یوم پیدائش 28 دسمبر 1904


لطف گناہ میں ملا اور نہ مزہ ثواب میں

عمر تمام کٹ گئی کاوش احتساب میں


تیرے شباب نے کیا مجھ کو جنوں سے آشنا

میرے جنوں نے بھر دیے رنگ تری شباب میں


آہ یہ دل کہ جاں گداز جوشش اضطراب ہے

ہائے وہ دور جب کبھی لطف تھا اضطراب میں


قلب تڑپ تڑپ اٹھا روح لرز لرز گئی

بجلیاں تھیں بھری ہوئی زمزمۂ رباب میں


چرخ بھی مے پرست ہے بزم زمیں بھی مست ہے

غرق بلند و پست ہے جلوۂ ماہتاب میں


میرے لیے عجیب ہیں تیری یہ مسکراہٹیں

جاگ رہا ہوں یا تجھے دیکھ رہا ہوں خواب میں


میرے سکوت میں نہاں ہے مرے دل کی داستاں

جھک گئی چشم فتنہ زا ڈوب گئی حجاب میں


لذت جام جم کبھی تلخی زہر غم کبھی

عشرت زیست ہے اثرؔ گردش انقلاب میں


اثر صہبائی


نیاز فتح پوری

 یوم پیدائش 28 دسمبر 1884


جب قفس میں مجھ کو یاد آشیاں آ جائے ہے

سامنے آنکھوں کے اک بجلی سی لہرا جائے ہے


دل مرا وہ خانۂ ویراں ہے جل بجھنے پہ بھی

راکھ سے جس کی دھواں تا دیر اٹھتا جائے ہے


تم تو ٹھکرا کر گزر جاؤ تمہیں ٹوکے گا کون

میں پڑا ہوں راہ میں تو کیا تمہارا جائے ہے


چشم تر ہے اس طرف اور اس طرف ابر بہار

دیکھنا ہے آج کس سے کتنا رویا جائے ہے


میں تو بس یہ جانتا ہوں اس کو ہونا ہے خراب

کیا خبر اس کی مجھے دل آئے ہے یا جائے ہے


میرا پندار خدائی اس گھڑی دیکھے کوئی

جب مجھے بندہ ترا کہہ کر پکارا جائے ہے


اب وہ کیا آئیں گے تم بھی آنکھ جھپکا لو نیازؔ

صبح کا تارہ بھی اب تو جھلملاتا جائے ہے


نیاز فتح پوری


رشید بشر

 یوم پیدائش 27 دسمبر 1968


غریبی میں امیری کے میں جب بھی خواب بنتا ہوں 

کھلے جب آنکھ حسرت سے درو دیوار تکتا ہوں 


زمانے کی ڈگر سے میں عموماً ہٹ کے چلتا ہوں 

اسی خاطر تو لوگوں کی نگاہوں میں کھٹکتا ہوں 


سفرمیں اس لئے مڑ مڑ کے میں پیچھے نہیں تکتا 

میں خود ہی اپنی منزل بھی ہوں خود اپنا ہی رستہ ہوں 


چھپائیں لاکھ اپنی شخصیت لفظوں کے پردے میں 

سرِ محفل ہے کیسا کون میں سب کو سمجھتا ہوں 


تجاوز کر چکی ہے عمر گو حدّ جوانی سے 

ابھی تک گود میں ماں کی تصوّر میں مچلتا ہوں 


مرے صیّادنے پنجرے میں میرے پر بھی باندھے ہیں 

اسے ہے خوف میں پنجرہ پروں سے توڑ سکتا ہوں


مرے دشمن بھی حیراں ہیں مری اس سادہ لوحی پر 

عدو کو بھی میں دل کے گوشہُ الفت میں رکھتا ہوں 


جو ہیں سیراب پہلے ہی انہیں سیراب کیا کرنا 

میں وہ بادل ہوں جو پیاسی زمینوں پر برستا ہوں 


بشر اس واسطے اپنا تخلّص میں نے رکّھا ہے  

بشر کی افضلیّت کو بخوبی میں سمجھتا ہوں


رشید بشر


سید محمد جعفری

 یوم پیدائش 27 دسمبر 1905


سگریٹ نے یہ اک پان کے بیڑے سے کہا

تو ہمیشہ سے پری رویوں کے جھرمٹ میں رہا

کون سی ایسی ہیں خدمات تری بیش بہا

خوں بہا کیوں لب و دندان حسیناں سے لیا

تجھ میں کیا لعل لگے ہیں کہ تو اتراتا ہے

بے حجابانہ ہر اک بزم میں آ جاتا ہے


سگریٹ سے جو سنے پان نے یہ تلخ سخن

بولا خاموش کہ اچھا نہیں حاسد کا چلن

جلتے رہنے سے دھواں بن کے مٹا تیرا بدن

تو لگا منہ کو تو غائب ہوئی خوشبوئے دہن

کاغذی پیرہن اور اس پہ تو فریادی ہے

خودبخود غصہ میں جل جانے کا تو عادی ہے


اس پہ سگریٹ نے کہا پان سے یہ کیا ہے ستم

چھاؤں میں پلتا ہے اور تو ہے بڑا سبز قدم

کتھے، چونے پہ، ڈلی پر ترا قائم ہے بھرم

تجھ پہ چاندی کے ورق لپٹیں تو کیا ہے تجھے غم

خاصدانوں کے محافوں میں سفر کرتا ہے

رات دن ماہ جبینوں میں بسر کرتا ہے


پان بولا کہ جلاتا ہے تو کیوں قلب و جگر

ایشیائی میں ہوں، مغرب کا ہے تو سوداگر

کاش تو اپنے گریبان میں منہ ڈالے اگر

تو وہ بے بس ہے کہ ماچس کا جو ہو دست نگر

آگ برسانے میں ساری تری رعنائی ہے

اور یہ چنگاری بھی باہر سے کہیں پائی ہے


بولا سگریٹ کہ بشر شکوہ کناں ہیں تیرے

در و دیوار پہ پیکوں کے نشاں ہیں تیرے

جو لپ اسٹک میں ہیں وہ جلوے کہاں ہیں تیرے

خود تو ہلکا ہے پہ نقصان گراں ہیں تیرے

نہ غذا میں نہ دوا میں ہے تو پھر کون ہے تو

تو ہلاکو ہے کہ تیمور کہ فرعون ہے تو


پان کہنے لگا سگریٹ سے کہ ابلیس لعین

تیری تمباکو سے جاتی ہے بدن میں نکوٹین

تجھ سے پیدا ہوئے امراض نہایت سنگین

بے تمیز اتنا کہ محفل میں جلائے قالین

راکھ سے تیری بھری دیکھتے ہیں ایش ٹرے

کوئی گرنے کو تو گر جائے پر اتنا نہ گرے


جل کے خود سب کو جلا دینا ترا پیشہ ہے

چھپ کے بیٹھی ہے اجل جس میں تو وہ بیشہ ہے

جان لے اپنے ہی عاشق کی جو وہ تیشہ ہے

تیرے پینے سے تو سرطان کا اندیشہ ہے

جو تجھے منہ سے لگائیں گے لہو تھوکیں گے

اور بھی چیزوں کے کش لینے سے کب چوکیں گے


صلح ان دونوں کی آخر میں کرائی میں نے

پان میں ڈال کے تمباکو بھی کھائی میں نے

لب سے سگریٹ کے جو چنگاری اڑائی میں نے

شعر اور فکر کی شمع اس سے جلائی میں نے

پان سے میں نے کہا شان تری بالا ہے

تو ہے نوشہ تو یہ سگریٹ ترا شہبالا ہے


سید محمد جعفری


نواب مصطفی خان شیفتہ

 یوم پیدائش 27 دسمبر 1809


روز خوں ہوتے ہیں دو چار ترے کوچے میں

ایک ہنگامہ ہے اے یار ترے کوچے میں


فرش رہ ہیں جو دل افگار ترے کوچے میں

خاک ہو رونق گلزار ترے کوچے میں


سرفروش آتے ہیں اے یار ترے کوچے میں

گرم ہے موت کا بازار ترے کوچے میں


شعر بس اب نہ کہوں گا کہ کوئی پڑھتا تھا

اپنے حالی مرے اشعار ترے کوچے میں


نہ ملا ہم کو کبھی تیری گلی میں آرام

نہ ہوا ہم پہ جز آزار ترے کوچے میں


ملک الموت کے گھر کا تھا ارادہ اپنا

لے گیا شوق غلط کار ترے کوچے میں


تو ہے اور غیر کے گھر جلوہ طرازی کی ہوس

ہم ہیں اور حسرت دیدار ترے کوچے میں


ہم بھی وارستہ مزاجی کے ہیں اپنی قائل

خلد میں روح تن زار ترے کوچے میں


کیا تجاہل سے یہ کہتا ہے کہاں رہتے ہو

ترے کوچے میں ستم گار ترے کوچے میں


شیفتہؔ ایک نہ آیا تو نہ آیا کیا ہے

روز آ رہتے ہیں دو چار ترے کوچے میں


نواب مصطفی خان شیفتہ


سحر انصاری

 یوم پیدائش 27 دسمبر 1936


نہ دوستی سے رہے اور نہ دشمنی سے رہے 

ہمیں تمام گلے اپنی آگہی سے رہے


وہ پاس آئے تو موضوع گفتگو نہ ملے

وہ لوٹ جائے تو ہر گفتگو اسی سے رہے


ہم اپنی راہ چلے لوگ اپنی راہ چل

یہی سبب ہے کہ ہم سرگراں سبھی سے رہے


وہ گردشیں ہیں کہ چھٹ جائیں خود ہی بات سے ہات

یہ زندگی ہو تو کیا ربط جاں کسی سے رہے


کبھی ملا وہ سر رہ گزر تو ملتے ہی

نظر چرانے لگا ہم بھی اجنبی سے رہے


گداز قلب کہے کوئی یا کہ ہرجائی

خلوص و درد کے رشتے یہاں سبھی سے رہے


سحر انصاری


محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...