یوم پیدائش 01 جنوری 1953
دیار غیر مری جائے رزق ہے انور
وطن کی سمت مرا خاندان کھینچتا ہے
انور انصاری
یوم پیدائش 01 جنوری 1936
خزاں کا زرد لبادہ اتار دے یارب
مرے چمن کو لباسِ بہار دے یارب
تو میرے فقر کو ایسا وقار دے یارب
کہ شاہ تاج ادب سے اتار دے یارب
جہاں سے جاتی ہو غارِ حرا کی پگ ڈنڈی
نگاہ ِ شوق کو وہ رہ گذار دے یارب۔
میں کب تک اڑتا رہوں نیلگوں فضاؤن میں
مجھے کھجوروں کے بن میں اتار دے یارب
پھوار بن کے میں گر جاؤں سبز گنبد پر
مجھے حضور کے صدقے اتار دے یارب
مری جبیں پہ سجا اپنی سجدہ گاہ کی دھول
مرے وجود کا چہرہ نکھار دے یارب
اذانِ صبح کے نغمے سے کھول آنکھ مری
فسونِ شب مرے سر سے اتار دے یارب
میں اپنی ذات کے آئینے میں تجھے دیکھوں
مجھے وہی نگہِ اعتبار دے یارب
ترے عذاب سے ڈر کر نہ ہو تری طاعت
تو ڈر سے بڑھ کے مجھے اپنا پیار دے یارب
رہوں میں در پہ ترے تو نگاہ رکھ مجھ پر
ہٹوں جو دور تو فورا پکار دے یارب
فریبِ نفس کے زندان میں کب سے ہوں محبوس
فصیلیں توڑ کے راہِ فرار دے یارب
میں آج تک تو رہا اپنے دل کے قابو میں
اب اپنے دل پہ مجھے اختیار دے یارب
ہوس کو خلعتِ شاہی سے زیب و زینت بخش
جنوں کو پیرہنِ تار تار دے یارب
تاج الدین اشعر رامنگری
یوم پیدائش 01 جنوری 1939
تجھے تلاش ہے جس کی گزر گیا کب کا
مرے وجود میں وہ شخص مر گیا کب کا
جو مجھ میں رہ کے مجھے آئینہ دکھاتا تھا
مرے بدن سے وہ چہرہ اتر گیا کب کا
طلسم ٹوٹ گیا شب کا میں بھی گھر کو چلوں
رکا تھا جس کے لیے وہ بھی گھر گیا کب کا
تجھے جو فیصلہ دینا ہے دے بھی مصنف وقت
وہ مجھ پہ سارے ہی الزام دھر گیا کب کا
نہ جانے کون سا پل ٹوٹ کر بکھر جائے
ہمارے صبر کا کشکول بھر گیا کب کا
صابر ادیب
یوم پیدائش 01 جنوری 1990
اب کہاں چین سے سونے بھی دیا جاتا ہے
خواب میں آ کے میرا خون کیا جاتا ہے
اس لیے عدل کی امید نہیں ہے مجھ کو
جھوٹ کو سچ کے مقابل میں لیا جاتا ہے
وہ تو خوش ہونگے مگر حال یہاں ہے ایسا
غم بھلانے کے لیے جام پیا جاتا ہے
چارہ گر سے بھی کرو اب نہ توقع "شمشاد
اب دواؤں کی جگہ زہر دیا جاتا ہے
شمشاد حشمت شاد
یوم پیدائش 01 جنوری 1957
جان کا دشمن ہی میری جان بن کے رہ گیا
ایک کافر اب مرا ایمان بن کے رہ گیا
دیکھ کر اس کو زمانہ یاد کرتا ہے مجھے
وہ زمانے میں مری, پہچان بن کے رہ گیا
ہر کوئی پڑھتا ہے مجھ کو پر سمجھتا کون ہے
میں تو گویا میر کا , دیوان بن کے رہ گیا
اب کسی شیطان کی جگ میں ضرورت کیا رہی
آج کا انسان خود , شیطان بن کے رہ گیا
بلبلاتی پھر رہی ہیں, حسرتیں آزار سے
دل یہ میرا حشر کا , میدان بن کے رہ گیا
وہ تو کب کا جا چکا لیکن خیال اس کا رفیق
خانۂ دل میں حسیں, مہمان بن کے رہ گیا
رفیق عثمانی
یوم پیدائش 31 دسمبر 1958
کتنے موسم سرگرداں تھے مجھ سے ہاتھ ملانے میں
میں نے شاید دیر لگا دی خود سے باہر آنے میں
ایک نگاہ کا سناٹا ہے اک آواز کا بنجر پن
میں کتنا تنہا بیٹھا ہوں قربت کے ویرانے میں
آج اس پھول کی خوشبو مجھ میں پیہم شور مچاتی ہے
جس نے بے حد عجلت برتی کھلنے اور مرجھانے میں
ایک ملال کی گرد سمیٹے میں نے خود کو پار کیا
کیسے کیسے وصل گزارے ہجر کا زخم چھپانے میں
جتنے دکھ تھے جتنی امیدیں سب سے برابر کام لیا
میں نے اپنے آئندہ کی اک تصویر بنانے میں
ایک وضاحت کے لمحے میں مجھ پر یہ احوال کھلا
کتنی مشکل پیش آتی ہے اپنا حال بتانے میں
پہلے دل کو آس دلا کر بے پروا ہو جاتا تھا
اب تو عزمؔ بکھر جاتا ہوں میں خود کو بہلانے میں
عزم بہزاد
(عزم بہزاد نے تیسرا شعر اپنی بیٹی کے لئے کہا تھا ، جس کا کم عمری میں ہی ایکسیڈنٹ کی وجہ سے انتقال ہو گیا )
یوم پیدائش 31 دسمبر 1938
لکھ کر ورق دل سے مٹانے نہیں ہوتے
کچھ لفظ ہیں ایسے جو پرانے نہیں ہوتے
جب چاہے کوئی پھونک دے خوابوں کے نشیمن
آنکھوں کے اجڑنے کے زمانے نہیں ہوتے
جو زخم عزیزوں نے محبت سے دئیے ہوں
وہ زخم زمانے کو دکھانے نہیں ہوتے
ہو جائے جہاں شام وہیں ان کا بسیرا
آوارہ پرندوں کے ٹھکانے نہیں ہوتے
بے وجہ تعلق کوئی بے نام رفاقت
جینے کے لیے کم یہ بہانے نہیں ہوتے
کہنے کو تو اس شہر میں کچھ بھی نہیں بدلا
موسم مگر اب اتنے سہانے نہیں ہوتے
سینے میں کسک بن کے بسے رہتے ہیں برسوں
لمحے جو پلٹ کر کبھی آنے نہیں ہوتے
آشفتہ سری میں ہنر حرف و نوا کیا
لفظوں میں بیاں غم کے فسانے نہیں ہوتے
مخمورؔ یہ اب کیا ہے کہ بار غم دل سے
بوجھل مرے احساس کے شانے نہیں ہوتے
مخمور سعیدی
یوم پیدائش 31 دسمبر 1943
دھڑکنیں جاگ اٹھیں پہلی ملاقات کے ساتھ
عشق چڑھتا رہا پروان محاکات کے ساتھ
اشک آنکھوں میں امنڈ آۓ ہنسی آتے ہی
مدتوں بعد کھلی دھوپ تو برسات کے ساتھ
تجھ کو سوچوں تو مہک اٹھتی ہے تنہائی مری
کوئی نسبت تو یقیناً ہے تری ذات کے ساتھ
ہجر کا سوگ منانے کی کسے فرصت ہے
رات کی بات گئی ، یار گئی رات کے ساتھ
صبح ہونے کو ہے دھڑ کا سا لگا ہے دل کو
رات گزری ہے پریشان خیالات کے ساتھ
مدتیں ہوگئیں احساس کا دربند ہوۓ
دل کا اب کوئی تعلق نہیں جذبات کے ساتھ
عمر بھر جان ہتھیلی پے رکھے جیتے رہے
گو کہ سمجھوتہ گوارہ نہ تھا حالات کے ساتھ
زندگی تیری خوشی کے لئے کیا کچھ نہ کیا
تو ملی بھی تو ملی درد کی سوغات کے ساتھ
آفتاب عارف
جہالتوں کی غلامی سے بچ نکلنے کا
سنھبل بھی جاؤ یہی وقت ہے سنبھلنے کا
بلندیاں بھی کریں گی سلام جھک کے تمھیں
شعور تم میں اگر ہے زمیں پہ چلنے کا
جو ناامیدی کے بادل فلک پہ چھاۓ ہوں
تم انتظار کرو برف کے پگھلنے کا
نڈھال ہو کے لو سورج بھی محو خواب ہوا
اے چاند تارو یہی وقت ہے نکلنے کا
میں وہ چراغ ہوں جس میں ہے عزم کا ایندھن
نہیں ہے خوف مجھے آندھیوں کے چلنے کا
شفق کے سائے میں دن رات مل رہے ہیں گلے
بڑا حسین ہے منظر یہ شام ڈھلنے کا
ہر اک سوال کا معقول دو جواب کہ شاد
نہیں یہ وقت خموشی سے ہاتھ ملنے کا
شمشاد شاد
یوم پیدائش 30 دسمبر 1935
نظم چاند نگر سے خط آیا ہے
چاند نگر سے خط آیا ہے
دیکھنا اس میں کیا لکھا ہے
اس میں لکھا ہے پیارے بچو
میں آکاش پہ بیٹھا بیٹھا
تم سب لوگوں کی دنیا کو
خاموشی سے دیکھ رہا ہوں
اس میں لکھا ہے پیاری دنیا
پہلے کتنی بھولی بھالی
نیلی برف کے گولے جیسی
سندر سی اچھی لگتی تھی
اس میں لکھا پیارے بچو
اب یہ خون کی رنگت جیسی
اب یہ آگ کے شعلوں جیسی
سرخ نظر آیا کرتی ہے
اس میں لکھا ہے اس دنیا کو
کیوں تاریکی نے گھیرا ہے
نفرت کی گھنگھور گھٹا کا
کیوں کالا بادل چھایا ہے
اس میں لکھا ہے اچھے بچے
پیار کے روشن دیے جلاؤ
مجھ سے اجلی روشنی لے لو
اپنی دنیا کو چمکاؤ
چاہے میں پڑ جاؤں ماند
فقط تمہارا پیارا چاند
چاند نگر سے خط آیا ہے
دیکھنا اس میں کیا لکھا ہے
رضا علی عابدی
یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...