Urdu Deccan

Sunday, January 2, 2022

انور انصاری

 یوم پیدائش 01 جنوری 1953


دیار غیر مری جائے رزق ہے انور

وطن کی سمت مرا خاندان کھینچتا ہے


انور انصاری


تاج الدین اشعر رامنگری

 یوم پیدائش 01 جنوری 1936


خزاں کا زرد لبادہ اتار دے یارب

مرے چمن کو لباسِ بہار دے یارب


تو میرے فقر کو ایسا وقار دے یارب

کہ شاہ تاج ادب سے اتار دے یارب 


جہاں سے جاتی ہو غارِ حرا کی پگ ڈنڈی

نگاہ ِ شوق کو وہ رہ گذار دے یارب۔


 میں کب تک اڑتا رہوں نیلگوں فضاؤن میں

 مجھے کھجوروں کے بن میں اتار دے یارب

 

پھوار بن کے میں گر جاؤں سبز گنبد پر

مجھے حضور کے صدقے اتار دے یارب


مری جبیں پہ سجا اپنی سجدہ گاہ کی دھول

مرے وجود کا چہرہ نکھار دے یارب


اذانِ صبح کے نغمے سے کھول آنکھ مری 

فسونِ شب مرے سر سے اتار دے یارب


میں اپنی ذات کے آئینے میں تجھے دیکھوں

مجھے وہی نگہِ اعتبار دے یارب


ترے عذاب سے ڈر کر نہ ہو تری طاعت

تو ڈر سے بڑھ کے مجھے اپنا پیار دے یارب


رہوں میں در پہ ترے تو نگاہ رکھ مجھ پر

ہٹوں جو دور تو فورا پکار دے یارب


 فریبِ نفس کے زندان میں کب سے ہوں محبوس

فصیلیں توڑ کے راہِ فرار دے یارب


میں آج تک تو رہا اپنے دل کے قابو میں

اب اپنے دل پہ مجھے اختیار دے یارب


ہوس کو خلعتِ شاہی سے زیب و زینت بخش

جنوں کو پیرہنِ تار تار دے یارب 


تاج الدین اشعر رامنگری


صابر ادیب

 یوم پیدائش 01 جنوری 1939


تجھے تلاش ہے جس کی گزر گیا کب کا

مرے وجود میں وہ شخص مر گیا کب کا


جو مجھ میں رہ کے مجھے آئینہ دکھاتا تھا

مرے بدن سے وہ چہرہ اتر گیا کب کا


طلسم ٹوٹ گیا شب کا میں بھی گھر کو چلوں

رکا تھا جس کے لیے وہ بھی گھر گیا کب کا


تجھے جو فیصلہ دینا ہے دے بھی مصنف وقت

وہ مجھ پہ سارے ہی الزام دھر گیا کب کا


نہ جانے کون سا پل ٹوٹ کر بکھر جائے

ہمارے صبر کا کشکول بھر گیا کب کا


صابر ادیب


شمشاد حشمت شاد

 یوم پیدائش 01 جنوری 1990


اب کہاں چین سے سونے بھی دیا جاتا ہے 

خواب میں آ کے میرا خون کیا جاتا ہے 


اس لیے عدل کی امید نہیں ہے مجھ کو 

جھوٹ کو سچ کے مقابل میں لیا جاتا ہے


وہ تو خوش ہونگے مگر حال یہاں ہے ایسا 

غم بھلانے کے لیے جام پیا جاتا ہے 


چارہ گر سے بھی کرو اب نہ توقع "شمشاد 

اب دواؤں کی جگہ زہر دیا جاتا ہے 


شمشاد حشمت شاد


رفیق عثمانی

 یوم پیدائش 01 جنوری 1957


جان کا دشمن ہی میری جان بن کے رہ گیا 

ایک کافر اب مرا ایمان بن کے رہ گیا 


دیکھ کر اس کو زمانہ یاد کرتا ہے مجھے 

وہ زمانے میں مری, پہچان بن کے رہ گیا 


ہر کوئی پڑھتا ہے مجھ کو پر سمجھتا کون ہے 

میں تو گویا میر کا , دیوان بن کے رہ گیا 


اب کسی شیطان کی جگ میں ضرورت کیا رہی 

آج کا انسان خود , شیطان بن کے رہ گیا 


بلبلاتی پھر رہی ہیں, حسرتیں آزار سے 

دل یہ میرا حشر کا , میدان بن کے رہ گیا 


وہ تو کب کا جا چکا لیکن خیال اس کا رفیق 

خانۂ دل میں حسیں, مہمان بن کے رہ گیا 


رفیق عثمانی 


Friday, December 31, 2021

عزم بہزاد

 یوم پیدائش 31 دسمبر 1958


کتنے موسم سرگرداں تھے مجھ سے ہاتھ ملانے میں

میں نے شاید دیر لگا دی خود سے باہر آنے میں


ایک نگاہ کا سناٹا ہے اک آواز کا بنجر پن

میں کتنا تنہا بیٹھا ہوں قربت کے ویرانے میں


آج اس پھول کی خوشبو مجھ میں پیہم شور مچاتی ہے

جس نے بے حد عجلت برتی کھلنے اور مرجھانے میں


ایک ملال کی گرد سمیٹے میں نے خود کو پار کیا

کیسے کیسے وصل گزارے ہجر کا زخم چھپانے میں


جتنے دکھ تھے جتنی امیدیں سب سے برابر کام لیا

میں نے اپنے آئندہ کی اک تصویر بنانے میں


ایک وضاحت کے لمحے میں مجھ پر یہ احوال کھلا

کتنی مشکل پیش آتی ہے اپنا حال بتانے میں


پہلے دل کو آس دلا کر بے پروا ہو جاتا تھا

اب تو عزمؔ بکھر جاتا ہوں میں خود کو بہلانے میں


عزم بہزاد


(عزم بہزاد نے تیسرا شعر اپنی بیٹی کے لئے کہا تھا ، جس کا کم عمری میں ہی ایکسیڈنٹ کی وجہ سے انتقال ہو گیا )


مخمور سعیدی

 یوم پیدائش 31 دسمبر 1938


لکھ کر ورق دل سے مٹانے نہیں ہوتے

کچھ لفظ ہیں ایسے جو پرانے نہیں ہوتے


جب چاہے کوئی پھونک دے خوابوں کے نشیمن

آنکھوں کے اجڑنے کے زمانے نہیں ہوتے


جو زخم عزیزوں نے محبت سے دئیے ہوں

وہ زخم زمانے کو دکھانے نہیں ہوتے


ہو جائے جہاں شام وہیں ان کا بسیرا

آوارہ پرندوں کے ٹھکانے نہیں ہوتے


بے وجہ تعلق کوئی بے نام رفاقت

جینے کے لیے کم یہ بہانے نہیں ہوتے


کہنے کو تو اس شہر میں کچھ بھی نہیں بدلا

موسم مگر اب اتنے سہانے نہیں ہوتے


سینے میں کسک بن کے بسے رہتے ہیں برسوں

لمحے جو پلٹ کر کبھی آنے نہیں ہوتے


آشفتہ سری میں ہنر حرف و نوا کیا

لفظوں میں بیاں غم کے فسانے نہیں ہوتے


مخمورؔ یہ اب کیا ہے کہ بار غم دل سے

بوجھل مرے احساس کے شانے نہیں ہوتے


مخمور سعیدی


آفتاب عارف

 یوم پیدائش 31 دسمبر 1943


دھڑکنیں جاگ اٹھیں پہلی ملاقات کے ساتھ

عشق چڑھتا رہا پروان محاکات کے ساتھ


 اشک آنکھوں میں امنڈ آۓ ہنسی آتے ہی

 مدتوں بعد کھلی دھوپ تو برسات کے ساتھ

 

تجھ کو سوچوں تو مہک اٹھتی ہے تنہائی مری

کوئی نسبت تو یقیناً ہے تری ذات کے ساتھ


ہجر کا سوگ منانے کی کسے فرصت ہے

رات کی بات گئی ، یار گئی رات کے ساتھ


صبح ہونے کو ہے دھڑ کا سا لگا ہے دل کو

 رات گزری ہے پریشان خیالات کے ساتھ

 

 مدتیں ہوگئیں احساس کا دربند ہوۓ

 دل کا اب کوئی تعلق نہیں جذبات کے ساتھ

 

عمر بھر جان ہتھیلی پے رکھے جیتے رہے

گو کہ سمجھوتہ گوارہ نہ تھا حالات کے ساتھ


زندگی تیری خوشی کے لئے کیا کچھ نہ کیا

تو ملی بھی تو ملی درد کی سوغات کے ساتھ


 آفتاب عارف


شمشاد شاد

 جہالتوں کی غلامی سے بچ نکلنے کا

سنھبل بھی جاؤ یہی وقت ہے سنبھلنے کا


بلندیاں بھی کریں گی سلام جھک کے تمھیں

شعور تم میں اگر ہے زمیں پہ چلنے کا


جو ناامیدی کے بادل فلک پہ چھاۓ ہوں

تم انتظار کرو برف کے پگھلنے کا


نڈھال ہو کے لو سورج بھی محو خواب ہوا

اے چاند تارو یہی وقت ہے نکلنے کا


میں وہ چراغ ہوں جس میں ہے عزم کا ایندھن

نہیں ہے خوف مجھے آندھیوں کے چلنے کا


شفق کے سائے میں دن رات مل رہے ہیں گلے

بڑا حسین ہے منظر یہ شام ڈھلنے کا


ہر اک سوال کا معقول دو جواب کہ شاد

نہیں یہ وقت خموشی سے ہاتھ ملنے کا


شمشاد شاد


رضا علی عابدی

 یوم پیدائش 30 دسمبر 1935

نظم چاند نگر سے خط آیا ہے


چاند نگر سے خط آیا ہے 

دیکھنا اس میں کیا لکھا ہے 

اس میں لکھا ہے پیارے بچو 

میں آکاش پہ بیٹھا بیٹھا 

تم سب لوگوں کی دنیا کو 

خاموشی سے دیکھ رہا ہوں 

اس میں لکھا ہے پیاری دنیا 

پہلے کتنی بھولی بھالی 

نیلی برف کے گولے جیسی 

سندر سی اچھی لگتی تھی 

اس میں لکھا پیارے بچو 

اب یہ خون کی رنگت جیسی 

اب یہ آگ کے شعلوں جیسی

سرخ نظر آیا کرتی ہے 

اس میں لکھا ہے اس دنیا کو 

کیوں تاریکی نے گھیرا ہے 

نفرت کی گھنگھور گھٹا کا 

کیوں کالا بادل چھایا ہے

اس میں لکھا ہے اچھے بچے 

پیار کے روشن دیے جلاؤ 

مجھ سے اجلی روشنی لے لو 

اپنی دنیا کو چمکاؤ

چاہے میں پڑ جاؤں ماند 

فقط تمہارا پیارا چاند 

چاند نگر سے خط آیا ہے 

دیکھنا اس میں کیا لکھا ہے


رضا علی عابدی 


محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...