یوم پیدائش 15 اگست 1911
نظم آدمی
جس قدر دنیا میں مخلوقات ہے
سب سے اشرف آدمی کی ذات ہے
اس کی پیدائش میں ہے الفت کا راز
اس کی ہستی پر ہے خود خالق کو ناز
اس کی خاطر کل جہاں پیدا ہوا
یہ زمیں یہ آسماں پیدا ہوا
عقل کا جوہر اسے بخشا گیا
علم کا زیور اسے بخشا گیا
اس کے سر میں ہے نہاں ایسا دماغ
جس میں روشن ہے لیاقت کا چراغ
سوچ کر ہر کام کر سکتا ہے یہ
شیر کو بھی رام کر سکتا ہے یہ
یہ صفائی سے چٹانیں توڑ دے
اپنی دانائی سے دریا موڑ دے
من چلا ہے اس کی ہمت ہے بلند
ڈال سکتا ہے ستاروں پر کمند
اس کو خطروں کی نہیں پروا ذرا
آگ میں کودا یہ سولی پر چڑھا
اس کے ہر انداز میں اعجاز ہے
عرش تک اس نور کی پرواز ہے
اس کی باتوں میں عجب تاثیر ہے
خاک کا پتلا نہیں اکسیر ہے
یہ اگر نیکی کے زینے پر چڑھے
ایک دن سارے فرشتوں سے بڑھے
اور اگر عصیاں کی دلدل میں پھنسے
اس کا درجہ کم ہو حیوانات سے
یہ کبھی روئی سے بڑھ کر نرم ہے
یہ کبھی سورج سے بڑھ کر گرم ہے
ایک حالت پر نہیں اس کا مزاج
ہر زمانے میں بدلتا ہے رواج
اور تھا پہلے یہ اب کچھ اور ہے
آئے دن اس کا نرالا طور ہے
اس نے بے حد روپ بدلے آج تک
اس کی تدبیروں سے حیراں ہے فلک
ڈاکٹر تاجر پروفیسر وکیل
ان کا ہونا ہے ترقی کی دلیل
اس کے پہلو میں وہ دل موجود ہے
جو بھڑکنے میں نرا بارود ہے
ریل گاڑی ریڈیو موٹر جہاز
اس کی ایجادوں کا قصہ ہے دراز
دست کاری میں بڑا مشاق ہے
جدتوں کا ہر گھڑی مشتاق ہے
کھول آنکھیں جنگ کی رفتار دیکھ
دیکھ اس کے خوفناک اوزار دیکھ
یہ کہیں حاکم کہیں محکوم ہے
یہ کہیں ظالم کہیں مظلوم ہے
آدمی جب غیر کے آگے جھکا
آدمیت سے بھٹکتا ہی گیا
آدمی ملنا بہت دشوار ہے
خود خدا کو آدمی درکار ہے
پیارے بچو آدمی بن کر رہو
ہر کسی کے ساتھ ہمدردی کرو
سچ اگر پوچھو تو بس وہ مرد ہے
جس کے دل میں دوسروں کا درد ہے
فیضؔ پہنچاتا نہیں جو آدمی
اس کو اپنی ذات سے ہے دشمنی
اس کو اپنی ذات سے ہے دشمنی