Urdu Deccan

Wednesday, September 21, 2022

سید جاوید


یوم پیدائش 05 سپتمبر 1976

ہمارے پاس کئی اور زاویے بھی ہیں 
ہم اپنی آنکھ سے دنیا کو دیکھتے بھی ہیں 

چلو کہ فیصلہ کر لیں ہم آج آپس میں 
یہاں پہ سنگ بھی موجود آئنے بھی ہیں 

ابھی سے خواب کشش بھر رہے ہیں آنکھوں میں 
ابھی تو عشق میں ہم تم نئے نئے بھی ہیں 

اندھیرا دیکھ کے گھبرا نہ جائیے حضرت 
ہم اپنے گھر کو کسی دن چراغتے بھی ہیں 

ہم اہل دل بھی ہیں اور اہل فن بھی ہیں جاویدؔ 
سخن کشید بھی کرتے تراشتے بھی ہیں

سید جاوید

 

رشمی بھاردواج

یوم پیدائش 04 سپتمبر 1983

زندگی

اے زندگی 
تجھے یوں گزرتے دیکھا 
کبھی گرتے 
تو کبھی سنبھلتے دیکھا 
جب دل چاہا 
تجھے بھر لیں ان بانہوں میں 
ہاتھ سے ریت سا 
پھسلتے دیکھا 
رکھا جو آئنہ 
تیری نگاہوں پر 
تجھ میں خود کو 
سنورتے دیکھا 
کھلی جو آنکھ 
ٹوٹا وہ خواب 
خود میں تجھ کو 
بکھرتے دیکھا 
کچھ جاگی کچھ سوئی 
یوں خود میں ہی کھوئی 
کبھی جلی کبھی بجھی 
سات رنگوں سے سجی 
وقت کی پلکوں پر 
یوں نکھرتے دیکھا 

رشمی بھاردواج


 

فاروق راہب

یوم پیدائش 04 سپتمبر 1945

پھول خوشبو سبز منظر بولتے ہیں 
ہو اگر احساس پتھر بولتے ہیں 

ریت سیپوں سے سمندر بولتے ہیں 
یہ صداؤں کے شناور بولتے ہیں 

خاک میں ہیں شان و شوکت کے امیں اب 
اجڑے محلوں کے کبوتر بولتے ہیں 

بے حسی دنیا میں اتنی بڑھ گئی ہے 
درمیاں اپنوں کے خنجر بولتے ہیں 

فاروق راہب


 

رضوان اللہ علمی

یوم پیدائش 04 سپتمبر 1929

بات کرنے کو جی ترستا ہے
خاک تم سے گلہ کرے کوئی

رضوان اللہ علمی


 

نعیم ثاقب

یوم پیدائش 04 سپتمبر 1958

ہم نے کسی سراب کو جادہ نہیں کیا
اب فیصلہ کیا ہے ارادہ نہیں کیا

خود کو لئے دیئے رکھا شام فراق میں
ہم نے ملال حد سے زیادہ نہیں کیا

 بس صبر اختیار کیا اس کو دیکھ کر
اس بار بازوؤں کو کشادہ نہیں کیا

 ثاقب جو ہم سے بن پڑا ہم نے کیا تو ہے
لیکن یہ دیکھ وعدے پہ وعدہ نہیں کیا 

  نعیم ثاقب



عطا ابن فطرت عطا

یوم پیدائش 04 سپتمبر 1972

ترے خیال کو لفظ و بیاں بناتے ہوئے
اٹھے سحاب ہوا پر دھواں بناتے ہوئے

ہر ایک غنچۂ پژمردہ کھل اٹھا دل کا
بہار آئی چمن کو جواں بناتے ہوئے

سبھی ہیں لوٹ چکے اپنے آشیانوں کو
سروں پہ شام ہوئی آشیاں بناتے ہوئے

اٹھی ہے موج حوادث مرے گلستاں میں
چلی ہوائیں نشاں پر نشاں بناتے ہوئے

سمندروں کا بھی یہ سینہ چیر دیتی ہے
خیال آیا مجھے کشتیاں بناتے ہوئے

عطا انہی کو ملی بحر و بر میں فتح مبیں
جو پانیوں میں چلے بادباں بناتے ہوئے

عطا ابن فطرت عطا


 

عبد الحلیم شرر

یوم پیدائش 04 سپتمبر 1860

معجزہ وہ جو مسیحا کا دکھاتے جاتے
کہہ کے قم قبر سے مردے کو جلاتے جاتے

مرتے دم باغ مدینہ کا نظارا کرتے
دیکھ لیتے چمن خلد کو جاتے جاتے

دیکھ کر نور تجلی کو ترے دیوانے
دھجیاں دامن محشر کی اڑاتے جاتے

بن کے پروانہ مری روح نکلتی تن سے
لو جو اس شمع تجلی سے لگاتے جاتے

اک نظر دیکھتے ہی روئے محمد کی ضیا
غش پہ غش حضرت یوسف کو ہیں آتے جاتے

ہے وہ صحرائے جنوں آپ کے دیوانوں کا
حضرت خضر جہاں ٹھوکریں کھاتے جاتے

ایسا محبوب ہوا کون کہ امت کے لئے
روٹھتے آپ تو اللہ مناتے جاتے

طور پہ حضرت موسیٰ نہ کبھی جل بجھتے
آپ آنکھوں میں جو سرمہ نہ لگاتے جاتے

صف محشر میں الٰہی بہ حضور سرور
نعت پڑھ پڑھ کے یہ شہرت کی مناتے جاتے

عبد الحلیم شرر



ہمدم نعمانی

یوم پیدائش 04 سپتمبر 1965

شریر موجوں کا مانا کہ بول بالا ہے
چڑھا ہوا ہے جو دریا اترنےوالا ہے

نہ جانے کتنے غریبوں کا خون ہے اس میں
امیرِ شہر کے منہ میں جو تر نوالا ہے

دیا بجھانے میں سانسیں ہوا کی پھول گئیں
یہ کس کے ہاتھوں کے فانوس نے سنبھالا ہے

بنا کے جہدِ مسلسل کو عزم کی تلوار
بھنور سے میں نے سفینے کو یوں سنبھالا ہے۔

بوقتِ شام موبائل پہ یہ کہا اس نے
سحر تلک یہاں طوفان آنے والا ہے

ادب کے قصر کا روشن چراغ ہے ہمدمؔ
بڑے سلیقے سے قیصر نے جس کو ڈھالا ہے


ہمدم نعمانی

تنویر پھول

یوم پیدائش 03 سپتمبر 1948

عارض پہ ان کے پھول کھلائیں گے آج ہم
جشنِ بہار مل کے منائیں گے آج ہم

ہم چودھویں کا چاند انھیں یوں دکھائیں گے
آئینہ ان کے سامنے لائیں گے آج ہم

تاریک شب میں جیسے ستارے ہوں ضو فشاں
تاروں سے ان کی مانگ سجائیں گے آج ہم

ان کی حنائی انگلی ہے مضرابِ سازِ دل
الفت کا نغمہ دشت میں گائیں گے آج ہم

گہرائیاں ہیں کتنی نہاں؟ جان جائیں گے
آنکھوں میں ان کی ڈوب ہی جائیں گے آج ہم

کر کے گریز ، ان کو دِوانہ بنائیں گے
دنیا کو اک تماشا دکھائیں گے آج ہم

تنویر پھول


 

جنوں اشرفی

یوم پیدائش 03 سپتمبر 1942

ماضی کے دریچے سے جب یاد تری آئی
کچھ دل کو ملی راحت کچھ غم کی گھٹا چھائی

یکجا نہ کہیں تجھکو میں نے تو کبھی دیکھا
کیسی ہے تری فطرت کیسی ہے تو ہر جائی

کیا رنج ہو کیا راحت ،ہے دخل مشیت کو
پرنم ہوئی آنکھیں بھی جب لب پہ ہنسی آئی

جنوں اشرفی


 

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...