Urdu Deccan

Thursday, December 22, 2022

زہرہ مغل

یوم پیدائش 12 دسمبر 

مت سمجھنا زمانے سے ڈر جائیں گے 
ہم تو غازی ہیں لڑ لڑ کے مر جائیں گے

رُوئے تاباں کا دلکش لِبادہ لیئے 
نور پھیلائیں گے ہم جدھر جائیں گے

کٹ گئیں ساعتیں جُستجو میں جہاں 
حسرتوں کے بھی واں دن گزر جائیں گے

سنگ سا ہم بنا لیں گے خُود کو ابھی
سارے الزام شیشوں کے سَر جائیں گے

ہیں امیرِ سُخن تھے جو کل تیغزَن
زخمِ دل زہرہ تیرے بھی بھر جائیں گے 

زہرہ مغل


 

ثناء اعوان

یوم پیدائش 12 دسمبر 1995

نہیں چلتا مرے نقشِ قدم پر وہ
مرے جیسا سبھی کو جو بتاتا ہے

نہیں ہے روشنی اس چاند کی اپنی
یہ سورج سے اُدھاری مانگ لاتا ہے

گلہ کوئی شکایت بھی نہیں تجھ سے
تُو ملتے وقت کیوں نظریں جُھکاتا ہے

زمیں دیکھوں یا دیکھوں آسماں کو میں
نظر ان میں ترا ہی عکس آتا ہے

یقیں کر تُو تجھے جو جو بتاتا ہوں
وہ سب باتیں خدا مجھ کو بتاتا ہے

کسی صورت مداوا تو نہیں ممکن
ثناء پھر کس لیے آنسو بہاتا ہے

ثناء اعوان


 

سلمی سحر

یوم پیدائش 12 دسمبر 1976

آنکھوں سے میری نیند اڑا کر چلا گیا
اک شخص مجھ کو خواب دکھا کر چلا گیا

میں تو ہمیشہ خود کو سمجھتی تھی اک چٹان
اک جھونکا آیا اور ہلا کر چلا گیا

اس نے کہا کہ کہنی پڑے گی مجھے غزل
کاغذ ، قلم ، دوات تھما کر چلا گیا

وہ آیا تھوڑی دور چلا اور اس کے بعد
رستے میں اک چراغ جلا کر چلا گیا

تم جس کے انتظار میں بیٹھی ہو اے سحرؔ
تم کو پتا بھی ہے کہ وہ آ کر چلا گیا

سلمی سحر


 

شاہد ذکی

یوم پیدائش 13 دسمبر 1974

یار بھی راہ کی دیوار سمجھتے ہیں مجھے 
میں سمجھتا تھا مرے یار سمجھتے ہیں مجھے 

جڑ اکھڑنے سے جھکاؤ ہے مری شاخوں میں 
دور سے لوگ ثمر بار سمجھتے ہیں مجھے 

کیا خبر کل یہی تابوت مرا بن جائے 
آپ جس تخت کا حق دار سمجھتے ہیں مجھے 

نیک لوگوں میں مجھے نیک گنا جاتا ہے 
اور گنہ گار گنہ گار سمجھتے ہیں مجھے 

میں تو خود بکنے کو بازار میں آیا ہوا ہوں 
اور دکاں دار خریدار سمجھتے ہیں مجھے 

میں بدلتے ہوئے حالات میں ڈھل جاتا ہوں 
دیکھنے والے اداکار سمجھتے ہیں مجھے 

وہ جو اس پار ہیں اس پار مجھے جانتے ہیں 
یہ جو اس پار ہیں اس پار سمجھتے ہیں مجھے 

میں تو یوں چپ ہوں کہ اندر سے بہت خالی ہوں 
اور یہ لوگ پر اسرار سمجھتے ہیں مجھے 

روشنی بانٹتا ہوں سرحدوں کے پار بھی میں 
ہم وطن اس لیے غدار سمجھتے ہیں مجھے 

جرم یہ ہے کہ ان اندھوں میں ہوں آنکھوں والا 
اور سزا یہ ہے کہ سردار سمجھتے ہیں مجھے 

لاش کی طرح سر آب ہوں میں اور شاہدؔ 
ڈوبنے والے مددگار سمجھتے ہیں مجھے

شاہد ذکی


 

اسلم آزاد

یوم پیدائش 12 دسمبر 1948

کشت دل ویراں سہی تخم ہوس بویا نہیں 
خواہشوں کا بوجھ میں نے آج تک ڈھویا نہیں 

اس کی آنکھوں میں بچھا ہے سرخ تحریروں کا جال 
ایسا لگتا ہے کہ اک مدت سے وہ سویا نہیں 

خواب کی انجان کھڑکی میں نظر آیا تھا جو 
ذہن نے اس چہرۂ مانوس کو کھویا نہیں 

ایک مدت پر ملے بھی تو نہ ملنے کی طرح 
اس طرح خاموش ہو منہ میں زباں گویا نہیں 

میں نے اپنی خواہشوں کا قتل خود ہی کر دیا 
ہاتھ خون آلود ہیں ان کو ابھی دھویا نہیں 

دیکھ کر ہونٹوں پہ میرے مسکراہٹ کی لکیر 
وہ سمجھتے ہیں کہ اسلمؔ میں کبھی رویا نہیں

اسلم آزاد


 

مفتی صدر الدین آرزادہ

یوم پیدائش 12 دسمبر 1789

نالوں سے میرے کب تہ و بالا جہاں نہیں 
کب آسماں زمین و زمیں آسماں نہیں
 
آنکھوں سے دیکھ کر تجھے سب ماننا پڑا 
کہتے تھے جو ہمیشہ چنیں ہے چناں نہیں 

اس بزم میں نہیں کوئی آگاہ درد کب 
واں خندہ زیر لب ادھر اشک نہاں نہیں 

افسردہ دل نہ ہو در رحمت نہیں ہے بند 
کس دن کھلا ہوا در پیر مغاں نہیں
 
لب بند ہوں تو روزن سینہ کو کیا کروں 
تھمتا تو مجھ سے نالۂ آتش عناں نہیں 

ملنا ترا یہ غیر سے ہو بہر مصلحت 
ہم کو تو سادگی سے تری یہ گماں نہیں
 
اے دل تمام نفع ہے سودائے عشق میں 
اک جان کا زیاں ہے سو ایسا زیاں نہیں
 
بے وقت آئے دیر میں کیا شورشیں کریں 
ہم پیر و پیر میکدہ بھی نوجواں نہیں 

کٹتی کسی طرح سے نہیں یہ شب فراق 
شاید کہ گردش آج تجھے آسماں نہیں 

آزردہؔ ہونٹ تک نہ ہلے اس کے روبرو 
مانا کہ آپ سا کوئی جادو بیاں نہیں 

مفتی صدر الدین آرزادہ



عتیق انظر

یوم پیدائش 11 دسمبر 1963

اندر اندر سلگ رہا ہوں میں 
وہ سمجھتا ہے بجھ گیا ہوں میں 

آندھیوں میں پلا بڑھا ہوں میں
اب ہواؤں سے ڈر رہا ہوں میں 

بعد میرے شب قیامت ہے 
طاق میں آخری دیا ہوں میں 

اپنے مرنے کا غم نہیں مجھ کو 
سانپ کو مار کر مرا ہوں میں 

کیوں مجھے دیکھتے ہو نفرت سے 
عشق کے واسطے بنا ہوں میں 

جس سے کل ٹوٹ کر گرے تھے تم
اب اسی شاخ پر کھلا ہوں میں 

اک امر بیل مجھ سے لپٹی ہے 
اور اب تک ہرا بھرا ہوں میں 

ہوگئی شام وہ نہیں لوٹی
راہ چڑیا کی دیکھتا ہوں میں
 
 عتیق انظر


 

بلراج بخشی

یوم پیدائش 10 دسمبر 1949

کہیں بھی زندگی اپنی گزار سکتا تھا 
وہ چاہتا تو میں دانستہ ہار سکتا تھا 

زمین پاؤں سے میرے لپٹ گئی ورنہ 
میں آسمان سے تارے اتار سکتا تھا 

جلا رہی ہیں جسے تیز دھوپ کی نظریں 
وہ ابر باغ کی قسمت سنوار سکتا تھا 

عجیب معجزہ کاری تھی اس کی باتوں میں 
کہ وہ یقیں کے جزیرے ابھار سکتا تھا

مرے مکان میں دیوار ہے نہ دروازہ 
مجھے تو کوئی بھی گھر سے پکار سکتا تھا 

پر اطمینان تھیں اس کی رفاقتیں بلراجؔ 
وہ آئینے میں مجھے بھی اتار سکتا تھا

بلراج بخشی



Monday, December 12, 2022

مجیب الرحمن میکش

یوم پیدائش 10 دسمبر 1950

آپ سے جب بھی دور ہوئے ہیں
ہم بے حد رنجور ہوئے ہیں

ویسے تو چہرے پہ ہنسی ہے
زخم مگر ناسور ہوئے ہیں

عہدِ وفا ، ایثار کے قصے
ہم سے ہی مشہور ہوئے ہیں

میکشؔ ان کی آنکھیں توبہ
کتنے شیشے چور ہوئے ہیں

مجیب الرحمن میکش



فیاض ندیم اکملی

یوم پیدائش 10 دسمبر 1956

زندگی میری اس جہان میں کیا
یوں ہی گزرے گی امتحان میں کیا

کیوں نہیں بولتے ستم پر لوگ
قوتِ حِس نہیں زبان میں کیا

لب پہ ہر وقت قتل کی باتیں
کوئی رنجش ہے خاندان میں کیا

مجھ کو پڑھتا ہے مسکراتا ہے
میں قصیدہ ہوں اُس کی شان میں کیا 

فیاض ندیم اکملی



محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...