Urdu Deccan

Thursday, December 22, 2022

تفصیل تابش

یوم پیدائش 14 دسمبر 1967

"خاک چہرے پہ مل رہا ہوں میں"
یعنی خود کو بدل رہا ہوں میں

 کل زمینوں پہ حکمرانی تھی
 آج ٹکڑوں پہ پل رہا ہوں میں

اور کیا چاہیئے زمانے کو
شمع بن کے تو جل رہا ہوں میں

 اے غریبی نثار میں تجھ پر
 تیرا نعم البدل رہا ہوں میں

میرا کردار ہی نہیں بدلا
روز کپڑے بدل رہا ہوں میں

چلنا دشوار ہے مگر تابش
تیرے ہمراہ چل رہا ہوں میں

تفصیل تابش

 

 

صابر شاہ صابر

یوم پیدائش 14 دسمبر 1971

سیاست جب ضرورت ہو نیا رشتہ بناتی ہے 
کوئی کتنا مخالف ہو اسے اپنا بناتی ہے 

شناسا خوف کی تصویر ہے اس کی بیاضوں میں 
مری بیٹی حسیں پنجرے میں اک چڑیا بناتی ہے 

تخیل حرف میں ڈھل کر ابھر آتا ہے کاغذ پر 
سراپا سوچتا ہوں میں غزل چہرہ بناتی ہے 

کسی پر مہرباں ہوتی ہے جب بھی دولت دنیا 
اسے صاحب اسے قبلہ اسے کیا کیا بناتی ہے 

حقیقی شاعری داد سخن سے بھی ہوئی محروم 
بلا سر پیر والی شاعری پیسہ بناتی ہے 

گوارا کب ہے ممتا کو مرا یوں دھوپ میں چلنا 
مری ماں اوڑھنی پھیلا کے اک چھاتا بناتی ہے 

یہ اچھائی میں بھی صابرؔ برائی ڈھونڈ لیتی ہے 
یہ دنیا ہے الف پر بھی کبھی شوشہ بناتی ہے

صابر شاہ صابر
 

تنویر سپرا

یوم وفات 13 دسمبر 1993

بیٹے کو سزا دے کے عجب حال ہوا ہے 
دل پہروں مرا کرب کے دوزخ میں جلا ہے 

عورت کو سمجھتا تھا جو مردوں کا کھلونا 
اس شخص کو داماد بھی ویسا ہی ملا ہے 

ہر اہل ہوس جیب میں بھر لایا ہے پتھر 
ہمسائے کی بیری پہ ابھی بور پڑا ہے 

اب تک مرے اعصاب پہ محنت ہے مسلط 
اب تک مرے کانوں میں مشینوں کی صدا ہے 

اے رات مجھے ماں کی طرح گود میں لے لے 
دن بھر کی مشقت سے بدن ٹوٹ رہا ہے 

شاید میں غلط دور میں اترا ہوں زمیں پر 
ہر شخص تحیر سے مجھے دیکھ رہا ہے

تنویر سپرا



علی یاسر

یوم پیدائش 13 دسمبر 1976

کچھ اس طرح وہ دعا و سلام کر کے گیا 
مری طرف ہی رخ انتقام کر کے گیا 

جہاں میں آیا تھا انساں محبتیں کرنے 
جو کام کرنا نہیں تھا وہ کام کر کے گیا 

اسیر ہوتے گئے بادل نا خواستہ لوگ 
غلام کرنا تھا اس نے غلام کر کے گیا 

جو درد سوئے ہوئے تھے وہ ہو گئے بیدار 
یہ معجزہ بھی مرا خوش خرام کر کے گیا 

ہے زندگی بھی وہی جو ہو دوسروں کے لئے 
وہ محترم ہوا جو احترام کر کے گیا 

یہ سرزمیں ہے جلال و جمال و عظمت کی 
ہے خوش نصیب یہاں جو قیام کر کے گیا 

اثر ہوا نہ ہوا بزم پر علی یاسرؔ 
کلام کرنا تھا میں نے کلام کر کے گیا 

علی یاسر



وکاس شرما راز

وکاس شرما راز

یوم پیدائش 13 دسمبر 1973

روز یہ خواب ڈراتا ہے مجھے 
کوئی سایہ لیے جاتا ہے مجھے 

یہ صدا کاش اسی نے دی ہو 
اس طرح وہ ہی بلاتا ہے مجھے 

میں کھنچا جاتا ہوں صحرا کی طرف 
یوں تو دریا بھی بلاتا ہے مجھے 

دیکھنا چاہتا ہوں گم ہو کر 
کیا کوئی ڈھونڈ کے لاتا ہے مجھے 

عشق بینائی بڑھا دیتا ہے 
جانے کیا کیا نظر آتا ہے مجھے

وکاس شرما راز



سحرتاب رُومانی

یوم پیدائش 13 دسمبر 

خار جُھوٹے گلاب سچے ہیں
میری آنکھوں کے خواب سچے ہیں

کون ثابت کرے گا اُسکے جُھوٹ
جس کے سارے خطاب سچے ہیں

زندگی پُر فریب ہے لیکن
زندگی کے عذاب سچے ہیں

قاتلوں کی یہی تو ہے پہچان
اِن کے اوپر نقاب سچے ہیں

کیوں بُرا مانتے ہیں لوگوں کا
آپ عالی جناب سچے ہیں
 
رات کا ہر سوال جُھوٹا تھا
صبح کے سب جواب سچے ہیں

یُوں سمجھ لیجیے کہ دنیا میں
بس قلم اور کتاب سچے ہیں

سحرتاب رُومانی


 

ساقی امروہوی

یوم وفات 12 دسمبر 2005

منزلیں لاکھ کٹھن آئیں گزر جاؤں گا
حوصلہ ہار کے بیٹھوں گا تو مر جاؤں گا

چل رہے تھے جو میرے ساتھ کہاں ہیں وہ لوگ
جو یہ کہتے تھے کہ رستے میں بکھر جاؤں گا

در بدر ہونے سے پہلے کبھی سوچا بھی نہ تھا
گھر مجھے راس نہ آیا تو کدھر جاؤں گا

یاد رکھے مجھے دنیا تری تصویر کے ساتھ
رنگ ایسے تری تصویر میں بھر جاؤں گا

لاکھ روکیں یہ اندھیرے مرا رستہ لیکن
میں جدھر روشنی جائے گی ادھر جاؤں گا

راس آئی نہ محبت مجھے ورنہ ساقیؔ
میں نے سوچا تھا کہ ہر دل میں اتر جاؤں گا

ساقی امروہوی


 

رحمان حفیظ

یوم پیدائش 12 دسمبر 1967

پھر جو کٹتی نہیں اس رات سے خوف آتا ہے 
سو ہمیں شام ملاقات سے خوف آتا ہے 

مجھ کو ہی پھونک نہ ڈالیں کہیں یہ لفظ مرے 
اب تو اپنے ہی کمالات سے خوف آتا ہے 

کٹ ہی جاتا ہے سفر سہل ہو یا مشکل ہو 
پھر بھی ہر بار شروعات سے خوف آتا ہے 

ایسے ٹھہرے ہوئے ماحول میں رحمانؔ حفیظ 
ان گزرتے ہوئے لمحات سے خوف آتا ہے

رحمان حفیظ


 

راسخ عرفانی

یوم پیدائش 12 دسمبر 1912

میں جنگ جیت کے جبر و انا کی ہار گیا
عدو پہ رحم کا احساس مجھ کو مار گیا

امیر شہر کے عفو و کرم کو کیا کہیے
کھلے وہ لوگ کہ خوف صلیب و دار گیا

غرور کثرت لشکر نہ میرے کام آیا
میں سو رہا تھا کہ شب خوں غنیم مار گیا

مرا نصیب کہ بکھری تھی ڈال ڈال مری
کوئی خزاں کا بگولا مجھے سنوار گیا

صدی کی رات گزاری امید کے بل پر
بجھا چراغ سحر کرب انتظار گیا

کسی نے چاپ بھی جاتے ہوئے نہ اس کی سنی
جو شخص برسوں ترے شہر میں گزار گیا

شب فراق کے دریا میں کود کر راسخؔ
تمام قرض وفا کے کوئی اتار گیا

راسخ عرفانی


 

رانا خالد محمود قیصر

یوم پیدائش 12 دسمبر 1961

آنکھوں میں آج بپھرا سمندر سمیٹ لوں 
تم ساتھ دو تو بکھرا مقدر سمیٹ لوں  

زلفیں بکھرنے سے کہیں موسم بدل گیا 
میں سوچتا ہوں آج یہ عنبر سمیٹ لوں 

باہر نظر نہ آئے کسی کو جمال پھر 
کر انتظام ایسا کہ اندر سمیٹ لوں 

ٹھنڈک رہے گی آنکھ میں قیصر مری سدا  
اے جان تیرے حسن کے منظر سمیٹ لوں 

رانا خالد محمود قیصر 

 

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...