Urdu Deccan

Sunday, January 29, 2023

ماجد خلیل

یوم وفات 27 جنوری 2016

صحنِ حرم سے دیکھ رہا ہوں حدِ نظر سے آگے بھی
دستِ دعا سے بابِ اثر تک بابِ اثر سے آگے بھی

دیکھ نظر تو دیکھ سکے جو دیدۂ تر سے آگے بھی
شہر نبیؐ میں اک منظر ہے ہر منظر سے آگے بھی

فرشِ زمیں سے عرشِ بریں تک چھوٹ ہے گنبذ خضرا کی
خُلدِ نظر ہی خُلدِ نظر ہے خُلدِ نظر سے آگے بھی

سوچو تو معراج نبیؐ نے اک یہ بھی احسان کیا
فہمِ بشر کو وسعت دے دی فہمِ بشر سے آگے بھی

عزم ِسفر سے پہلے بھی تھی ایک ہی منزل قلب و نظر
ایک ہی منزل قلب و نظر سے ختمِ سفر سے آگے بھی

اہلِ ہنر نے نعت نبیؐ سے کیا کیا فیض اٹھائے ہیں 
کسبِ ہنر سے عرضِ ہنر تک عرضِ ہنر سے آگے بھی

بیشک خوش انجام ہے عاصی وہ جس کے دل میں اکثر
خوفِ قیامت بڑھ جاتا ہے موت کے ڈر سے آگے بھی

لازم تھا قوسین کا پردہ ورنہ تکلف کیا معنی
آئینہ کیا جا سکتا تھا آئینہ گر سے آگے بھی

قسمت ماجد اول و آخر آپؐ کی چوکھٹ آپؐ کا در 
آپؐ کی چوکھٹ سے پہلے بھی آپؐ کے در سے آگے بھی 

ماجد خلیل



جعفر بلوچ

یوم پیدائش 27 جنوری 1947

آج کسی کی یاد میں ہم جی بھر کر روئے دھویا گھر 
آج ہمارا گھر لگتا ہے کیسا اجلا اجلا گھر 

اپنے آئیں سر آنکھوں پر غیر کی یہ بیٹھک نہ بنے 
گھر آسیب کا بن جائے گا ورنہ ہنستا بستا گھر 

گھر کو جب ہم جھاڑیں پوچھیں رہتے ہیں محتاط بہت 
گرد آلود نہیں ہونے دیتے ہم ہم سایے کا گھر 

تم نے کڑیاں جھیلیں اور غیروں کے گھر آباد کیے 
راہ تمہاری تکتا ہے آبائی سونا سونا گھر 

جو آرام ہے اپنے گھر میں اور کہاں مل سکتا ہے 
ٹوٹا پھوٹا بھی ہو تو بھی اپنا گھر ہے اپنا گھر 

اک انجانے ڈر نے نیند اچک لی سب کی آنکھوں سے 
کتنی ہی راتوں سے مسلسل بے آرام ہے گھر کا گھر 

میری روح بروگن رہ رہ کر چلاتی رہتی ہے 
میرا گھر میرا پیارا گھر میرا پیارا پیارا گھر 

آوارہ گردی کے سبب وہ دن بھر تو مطعون رہا 
جب سورج مغرب میں ڈوبا جعفرؔ بھی جا پہنچا گھر 

جعفر بلوچ



حلیم صابر

یوم پیدائش 26 جنوری 1945

میں بدلتے ہوئے حالات پہ اکثر رویا 
دیکھ کر شہر کا بدلا ہوا منظر رویا 

چپ ہوا رو کے جو پھر رویا مکرر رویا
رو کے جب جی نہ بھرا میرا تو جی بھر رویا 

جیسے تیسے مجھے رونا کبھی آیا ہی نہیں 
جب بھی رویا میں بہت سوچ سمجھ کر رویا 

منحصر تھا مرا رونا بھی مری مرضی پر 
چند لمحے کبھی رویا کبھی دن بھر رویا 

مجھ کو رونے کا ہنر آ گیا روتے روتے
رونے والوں سے بہ ہر طور میں بہتر رویا 

میرے رونے کا بھی انداز عجب تھا صابرؔ 
روتے روتے جو ہنسی آئی تو ہنس کر رویا

حلیم صابر



تحسین علی نقوی

یوم پیدائش 25 جنوری 1999

اُس نے جب مجھ سے اجتناب کیا
ہر حقیقت کو میں نے خواب کیا

اُس نے آ کر گلے لگایا اور 
میری سانسوں کو باریاب کیا

میر و غالب تلک گئی وہ مگر
شعر میرا ہی انتخاب کیا

چار لوگوں میں نام تھا لیکن
دوستوں نے مُجھے خراب کیا

خواب میں لائی اِس قدر وُسعت
سب خلاؤں کو دستیاب کیا

مُلحدو تُم سے بحث جیتوں گا
فلسفے کو جو ہم رکاب کیا

حوصلہ پست کرنے والوں کی خیر
مجھ کو الله نے کامیاب کیا

اُس نے گالی نکالی تھی میں نے
جب دلیلوں سے لاجواب کیا

کچھ نہیں گر درونِ ذات مرے
دِل نے کیوں محوِ اضطراب کیا

یار کا ادنیٰ معجزہ تحسین
دشت کو چھو لیا گلاب کیا

تحسین علی نقوی



معین الدین چشتی

یوم پیدائش 25 جنوری 1962

توڑ کر دیوار نفرت پیار کا نقشہ بنا
چل پڑے جس پر زمانہ ایسا اک رستہ بنا

بارہا اہلِ دول کا لے چکا ہوں امتحاں
بھوک میں تو بھیس اپنامت فقیرانہ بنا

آدمی کی جان لینے کو ازل سے آج تک
تیر ، خنجر ، نیزہ ، بھالا جانے پھر کیا کیا بنا

کون کس کا یار ہے خود ہی پتا چل جائے گا
پہلے اپنی ذات کو تو صبر کا پتلا بنا

کب بنا کیوں کر بنا ، شمسیؔ نہ ہم سے پوچھیے
دیکھتے ہی دیکھتے یاں خون کا دریا بنا

معین الدین چشتی


 

اسرار آصف

یوم پیدائش 24 جنوری 1959

صلیب و دار پہ رکھا مرا سر دیکھ سکتے ہو
امیرِ شہر کے گھر سے یہ منظر دیکھ سکتے ہو

پریشانی میں رہ کر بھی نہ ماتھے پہ شکن آئے
یہ منظر ماں کے چہرے کو بھی پڑھ کر دیکھ سکتے ہو

اسے دیوانہ سمجھوں یا کہ فرزانہ جو کہتا ہے
ہتھیلی کی لکیروں میں مقدر دیکھ سکتے ہو

جو اہلِ فن ہیں آصف خاکساری ان کا شیوہ ہے
کبھی جو وقت مل جائے تو مل کر دیکھ سکتے ہو

اسرار آصف


 

اقبال عادل

یوم پیدائش 23 جنوری 1999

زیرِ لب مسکرا رہا ہوں
آپ کو آزما رہا ہوں

یہ بھی کتنی بڑی جسارت ہے
آپ سے دل لگا رہا ہوں

زندگی اک عجب کہانی ہے
اور کہانی سنا رہا ہوں

آپ سے دور ہوں تو لگتا ہے
آپ کے پاس جا رہا ہوں

یہ بھی میرا کمال ہے عادل
درد میں مسکرا رہا ہوں میں

اقبال عادل



اشوک مزاج بدر

یوم پیدائش 23 جنوری 1957

وصل کی تو کبھی فرقت کی غزل لکھتے ہیں 
ہم تو شاعر ہیں محبت کی غزل لکھتے ہیں 

پڑھیے ان کو کسی کاغذ پہ نہیں سرحد پر 
اپنے خوں سے جو شہادت کی غزل لکھتے ہیں 

رہنما اپنے وطن کے بھی ہیں کتنے شاطر 
وہ شہادت پہ سیاست کی غزل لکھتے ہیں 

تم نے مزدور کے چھالے نہیں دیکھے شاید
اپنے ہاتھوں پہ وہ محنت کی غزل لکھتے ہیں 

ملک ایسے بھی ہیں کچھ خاص پڑوسی اپنے 
سرحدوں پہ جو عداوت کی غزل لکھتے ہیں 

ہم سبھی چین سے سوتے ہیں مگر راتوں میں 
فوج والے تو حفاظت کی غزل لکھتے ہیں 

شوق لکھنے کا بہت ہم کو بھی ہے لیکن ہم 
سونے کے پین سے غربت کی غزل لکھتے ہیں

اشوک مزاج بدر



بسنت لکھنوی

یوم پیدائش 23 جنوری 1932

یہ اور بات اسے لطف زندگی نہ ملا
اسیر اپنی انا میں وہ آدمی نہ ملا

کبھی ملا بھی تو بس اپنی بات کی اس نے
وہ بے غرض تو کسی شخص سے کبھی نہ ملا

تری حیات ہے نغمہ مری حیات افکار
مری حیات سے تو اپنی زندگی نہ ملا

کجا یہ دیں کے اجالےکجا یہ کرب جمود
سحر کے نور میں تو شب کی تیرگی نہ ملا

بہت تلاش کیا زندگی نہ ہاتھ آئی
جہاں میں ہم کو کہیں کستِ دايمی نہ ملا

ہمارا ہوتا جو دمساز، ہمنوا ، ہمدم
ہمارے شہر میں ایسا ہمیں کوئی نہ ملا

ملے تو شیخ و برہمن، ولی مجاہد سب
بسنت راہ ِ وفا پر کوئی کبھی نہ ملا

بسنت لکھنوی

 


صادق سعیدی

یوم پیدائش 22 جنوری 1995

کیا ملا ہم کو محبت پہ گزارا کر کے
"دل کے بازار میں بیٹھے ہیں خسارہ کر کے"

میں کہ اک خاک ہوں مٹ جاؤں گا مٹی بن کر
سارا عالم ہی مری جان تمھارا کر کے

کیا بھروسہ کہ میں خود کو ہی لڑادوں خود سے
اس نے چھوڑا ہے مجھے مجھ سے کنارہ کر کے

اب کے اس طرح سے اس نے ہے چرایا مجھ کو
خود کو رکھا ہے مری آنکھ کا تارا کر کے

عدل دہلیز پہ قائد کی چھپا بیٹھا ہے
آپ بیٹھے ہیں عدالت پہ اجارہ کر کے

میرے مسکن پہ نظر کس کی لگی ہے آخر
دل دہل جائے ہے یک دم سے نظارہ کر کے

جن پہ پابندیِ گفتار ہو نافذ صادق
بات کرتے ہیں وہ آنکھوں سے اشارہ کرکے

صادق سعیدی

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...