Urdu Deccan

Sunday, January 31, 2021

جوش ملسیانی

 یوم پیدائش 01 فروری 1884


وطن کی سر زمیں سے عشق و الفت ہم بھی رکھتے ہیں

کھٹکتی جو رہے دل میں وہ حسرت ہم بھی رکھتے ہیں 


ضرورت ہو تو مر مٹنے کی ہمت ہم بھی رکھتے ہیں

یہ جرأت یہ شجاعت یہ بسالت ہم بھی رکھتے ہیں 


زمانے کو ہلا دینے کے دعوے باندھنے والو

زمانے کو ہلا دینے کی طاقت ہم بھی رکھتے ہیں 


بلا سے ہو اگر سارا جہاں ان کی حمایت پر

خدائے ہر دو عالم کی حمایت ہم بھی رکھتے ہیں 


بہار گلشن امید بھی سیراب ہو جائے

کرم کی آرزو اے ابر رحمت ہم بھی رکھتے ہیں 


گلہ نا مہربانی کا تو سب سے سن لیا تم نے

تمہاری مہربانی کی شکایت ہم بھی رکھتے ہیں 


بھلائی یہ کہ آزادی سے الفت تم بھی رکھتے ہو

برائی یہ کہ آزادی سے الفت ہم بھی رکھتے ہیں 


ہمارا نام بھی شاید گنہ گاروں میں شامل ہو

جناب جوشؔ سے صاحب سلامت ہم بھی رکھتے ہیں 


جوشؔ ملسیانی


عبد الحق قاسمی

 یوم پیدائش 01 فروری 1943


منزلیں بھی یہ شکستہ بال و پر بھی دیکھنا

تم سفر بھی دیکھنا رخت سفر بھی دیکھنا 


حال دل تو کھل چکا اس شہر میں ہر شخص پر

ہاں مگر اس شہر میں اک بے خبر بھی دیکھنا 


راستہ دیں یہ سلگتی بستیاں تو ایک دن

قریۂ جاں میں اترنا یہ نگر بھی دیکھنا 


چند لمحوں کی شناسائی مگر اب عمر بھر

تم شرر بھی دیکھنا رقص شرر بھی دیکھنا 


جس کی خاطر میں بھلا بیٹھا تھا اپنے آپ کو

اب اسی کے بھول جانے کا ہنر بھی دیکھنا 


یہ تو آداب محبت کے منافی ہے عطاؔ

روزن دیوار سے بیرون در بھی دیکھنا


عطاء الحق قاسمی


شاذ تمکنت

 یوم پیدائش 31 جنوری 1933


مرا ضمیر بہت ہے مجھے سزا کے لیے

تو دوست ہے تو نصیحت نہ کر خدا کے لیے 


وہ کشتیاں مری پتوار جن کے ٹوٹ گئے

وہ بادباں جو ترستے رہے ہوا کے لیے 


بس ایک ہوک سی دل سے اٹھے گھٹا کی طرح

کہ حرف و صوت ضروری نہیں دعا کے لیے 


جہاں میں رہ کے جہاں سے برابری کی یہ چوٹ

اک امتحان مسلسل مری انا کے لیے 


نمیدہ خو ہے یہ مٹی ہر ایک موسم میں

زمین دل ہے ترستی نہیں گھٹا کے لیے


میں تیرا دوست ہوں تو مجھ سے اس طرح تو نہ مل

برت یہ رسم کسی صورت آشنا کے لیے 


ملوں گا خاک میں اک روز بیج کے مانند

فنا پکار رہی ہے مجھے بقا کے لیے 


مہ و ستارہ و خورشید و چرخ ہفت اقلیم

یہ اہتمام مرے دست نارسا کے لیے 


جفا جفا ہی اگر ہے تو رنج کیا ہو شاذؔ

وفا کی پشت پناہی بھی ہو جفا کے لیے


شاذ تمکنت


Saturday, January 30, 2021

سرور بارہ بنکوی

 یوم پیدائش 30 جنوری 1919


اے جنوں کچھ تو کھلے آخر میں کس منزل میں ہوں 

ہوں جوار یار میں یا کوچۂ قاتل میں ہوں 


پا بہ جولاں اپنے شانوں پر لیے اپنی صلیب 

میں سفیر حق ہوں لیکن نرغۂ باطل میں ہوں 


جشن فردا کے تصور سے لہو گردش میں ہے 

حال میں ہوں اور زندہ اپنے مستقبل میں ہوں 


دم بخود ہوں اب سر مقتل یہ منظر دیکھ کر 

میں کہ خود مقتول ہوں لیکن صف قاتل میں ہوں 


اک زمانہ ہو گیا بچھڑے ہوئے جس سے سرورؔ 

آج اسی کے سامنے ہوں اور بھری محفل میں ہوں


سرور بارہ بنکوی 


مرتضیٰ برلاس

 یوم پیدائش 30 جنوری 1934


نہر جس لشکر کی نگرانی میں تب تھی اب بھی ہے 

خیمے والوں کی جو بستی تشنہ لب تھی اب بھی ہے 


اڑ رہے ہیں وقت کی رفتار سے مغرب کی سمت 

وقت آغاز سفر جو تیرہ شب تھی اب بھی ہے 


وقت جیسے ایک ہی ساعت پہ آ کے رک گیا 

پہلے جس شدت سے جو دل میں طلب تھی اب بھی ہے 


ہم شکایت آنکھ کی پلکوں سے کرتے کس طرح 

داستان ظلم ورنہ یاد سب تھی اب بھی ہے 


حسن میں فطری حجابانہ روش اب ہو نہ ہو 

عشق کے مسلک میں جو حد ادب تھی اب بھی ہے 


روز و شب بدلیں گے اپنے کس طرح آئے یقیں 

صورت حالات جو پہلے عجب تھی اب بھی ہے 


ہیں بقا کے وسوسے میں ابتدا سے مبتلا 

دل میں اک تشویش سی جو بے سبب تھی اب بھی ہے 


نام اس کا آمریت ہو کہ ہو جمہوریت 

منسلک فرعونیت مسند سے تب تھی اب بھی ہے


مرتضیٰ برلاس


Friday, January 29, 2021

مقسط ندیم

 یوم پیدائش 29 جنوری 1953


یہ آگہی ہے جو کرتی ہے مجھ کو ذات میں گم

پھر اس کے بعد میں ہوتا ہوں شش جہات میں گم 


یہ کائنات مری جان قفل ابجد ہے 

میں کھولتا ہوں اسے کر کے ممکنات میں گم 


یہ دائرے ہیں تمہیں پھر سے قید کر لیں گے

فنا سے نکلے تو ہو جاؤ گے ثبات میں گم 


میں کربلا ہوں مجھے دیکھ میری قامت دیکھ

زمانہ کر نہیں سکتا مجھے فرات میں گم 


تری جدائی کا نیلم الگ سے رکھا ہے

کیا نہیں اسے دنیا کے زیورات میں گم 


مرا بڑھاپا مری روح کی تلاش میں ہے

مری جوانی بدن کے لوازمات میں گم 


میں علم ہوں مجھے تسخیر کرنا آتا ہے

وہ جہل تھا جو ہوا تیری کائنات میں گم


مقسط ندیم


Thursday, January 28, 2021

اختر علوی

 یوم پیدائش کی مبارک باد

 29 جنوری 1945


بتوں کی طرح تراشے گئے ، سجائے گئے

 خدا بنا کے ہیں کچھ لوگ بھی بٹھائے گئے

 

جنہیں ہیں جوڑ کے ناموں سے معتبر کچھ لوگ 

وہ سب لقب ہیں ہمارے ہی جو چرائے گئے


ہمارا ہی تھا جگر ہنس کے سہہ لئے ہم نے

ہزار زخم ہر اک زخم پر لگائے گئے


ابھر رہے تھے نئے عزم نسل ِنو میں مگر

تھپک تھپک کے خرابات میں سلائے گئے


ہم اہل عشق و جنوں تھے نکل پڑے بے خوف 

ہماری راہ میں کانٹے تو تھے بچھائے گئے


ہم آفتاب تھے ڈوبے کہیں کہیں اُبھرے

یہ وہ چراغ ہیں اختر جو کب بجھائے گئے


اختر علوی


نعمان حیدر جامی

تم کبھی جو نہ آئی


میرے خوابوں کی دنیا میں 

اک لمحہ تم جو آ جاتے 

میری بکھری

لاکھوں یادوں کا دروازہ

چپکے چپکے 

سے کھل جاتا

تیری الفت

کے رنگوں میں 

میں خود اپنے اندر

سب کچھ ہی کھو جاتا

لیکن 

تو نہیں آئی

میں نے تیری خاطر

پھولوں کے بستر پر

اس گھر کی چوکھٹ پر

خود کو سجا کے

بیٹھی

شب بھر میری آنکھیں 

تیری راہیں تکتی تکتی 

پھر نہ جانے

حامیؔ  کی چاہت میں 

تو کبھی نہیں آئی

تو کبھی نہیں آئی


  نعمان حیدر حامیؔ


احسان عباس

 یوم پیدائش 28 جنوری


زہر اب آب و ہوا کا تو نہیں پِینا ہے 

ہم کو زندان میں ڈالو کہ ہمیں جِینا ہے


ہے مٙرٙض ایک ہی کیا شہر کے انسانوں کو   

جو بھی مرتا ہے وہ کیوں تھامے ہوئے سِینہ ہے


وسعتِ عالمِ امکان ذرا سوچیں تو 

یہ زمیں اس میں فقط ایک قرنطِینہ ہے


اے خداوند اُتارو بھی کوئی اِسکا علاج 

یہ وہ گھاؤ ہے جو دنیا نے نہیں سِینا ہے


آؤ کچھ سیرِ سماوات ہی کر لیں احسان 

جانبِ عرش لگاؤ جو کوئی زینہ ہے


احسان عبّاس


ڈاکٹر اختر صدیق

 یوم پیدائش 28 جنوری 1955

اب عشق میں وہ جراتِ اظہار نہیں ہے
ہوتا کوئی رسوا  سرِ بازار نہیں ہے

ا س دور میں مفقود ہوا جذبہ خودی کا
بک جاتا ہے جو صاحبِ کردار نہیں ہے

جاہل ہوکہ عالم کوئی ،ابدال کہ صوفی
ہے کون جو دنیا کا طلب گار نہیں ہے

ممکن نہیں گرداب  سے اب بچ کے نکلنا
دریا ہے چڑھا ، ہاتھ میں پتوار نہیں ہے

یہ کید ، دغا ، جور ، جفا ، قتل ، ہلاکت
اِ س پار  بہت ہے مگر اُ س پار  نہیں ہے


چڑھ سکتاہے ہنستے ہوئے وہ دار پہ ،لیکن
دب جائے جو باطل سے وہ فنکار نہیں ہے

بے لاگ جو حالات کی تصویر دکھا ئے
اس دور میں ایسا کوئی اخبار نہیں ہے

ہر سمت لگی نفرتوں کی آگ ہے "اختر "
اس وقت غزل جو کہے ، فنکار نہیں ہے
      
ڈاکٹراخترصدّیق

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...