Urdu Deccan

Wednesday, March 31, 2021

ساحل منیر

 خودخدا محبت ہے


گھر کے سُونے آنگن میں

رونقیں محبت سے

دِل کی ویراں بستی میں

راحتیں محبت سے

بزمِ کیف و مستی کی

شدتیں محبت سے

تیرے میرے جذبوں کی

حِدتیں محبت سے

مامتا کے ہونٹوں پر

اِک دعا محبت ہے

باپ کے بڑھاپے کا 

آسرا محبت ہے

ظلمتوں کی بستی میں

اِک دِیا محبت ہے

زہر کے پیالے کا

فلسفہ محبت ہے

سُولیوں پہ چڑھنے کا

سِلسلہ محبت ہے

سجدہ گاہِ مقتل کی

ہر دُعا محبت ہے

رزمِ حق و باطل میں 

کربلاؔ محبت ہے

مُنکرِ محبت سُن!

خود خُدا محبت ہے



ساحل منیر

احمد صدیقی


 یوم پیدائش 31 مارچ 1993


اس جیسا یہاں کوئی بھی فن کار نہیں ہے

قاتل ہے مگر ہاتھ میں تلوار نہیں ہے


اٹھوں گا مگر صبح تو ہونے دے مؤذن

سونے کے لئے نیند بھی درکار نہیں ہے


یوں ہے کہ فقط دیکھ کے ہوتی ہے تسلی

معمولی کوئی نقش یا دیوار نہیں ہے


درد دل مجروح کوئی سمجھے تو کیسے

اس شہر میں مجھ سا کوئی بیمار نہیں ہے


ہاتھوں میں لئے ہاتھ گزرتے رہے ہم دو

پھر جا کے ہوا علم مجھے پیار نہیں ہے


تصویر تری آنکھ ملاتی رہی دن بھر

پر ہاتھ ملانے کو یہ تیار نہیں ہے


احمد صدیقی

Tuesday, March 30, 2021

افتخار راغب

 یوم پیدائش 31 مارچ 1973


انکار ہی کر دیجیے اقرار نہیں تو

الجھن ہی میں مر جائے گا بیمار نہیں تو


لگتا ہے کہ پنجرے میں ہوں دنیا میں نہیں ہوں

دو روز سے دیکھا کوئی اخبار نہیں تو


دنیا ہمیں نابود ہی کر ڈالے گی اک دن

ہم ہوں گے اگر اب بھی خبردار نہیں تو


کچھ تو رہے اسلاف کی تہذیب کی خوشبو

ٹوپی ہی لگا لیجیے دستار نہیں تو


ہم برسر پیکار ستم گر سے ہمیشہ

رکھتے ہیں قلم ہاتھ میں تلوار نہیں تو


بھائی کو ہے بھائی پہ بھروسہ تو بھلا ہے

آنگن میں بھی اٹھ جائے گی دیوار نہیں تو


بے سود ہر اک قول ہر اک شعر ہے راغبؔ

گر اس کے موافق ترا کردار نہیں تو


افتخار راغب


احمد شمیم

 یوم پیدائش 31 مارچ 1930


ابھی رنج سفر کی ابتدا ہے

ابھی سے جی بہت گھبرا رہا ہے


دئے بجھنے لگے ہیں طاقچوں میں

ہر اک شے پر اندھیرا چھا رہا ہے


ہوا شاخوں میں چھپ کر رو رہی ہے

نہ جانے کیسا موسم آ رہا ہے


ٹھٹھرتی رت میں زخمی انگلیوں سے

ہمیں دریا میں سونا ڈھونڈھنا ہے


اسی امید پر بن باس کاٹیں

ہمیں بھی ایک دن گھر لوٹنا ہے


بہت چاہوں کہ میں بھی ہاتھ اٹھاؤں

مرے ہونٹوں پہ لیکن بد دعا ہے


احمد شمیم


Monday, March 29, 2021

انجم عثمان

 یوم پیدائش 29 مارچ


پس یقیں کہیں ہم بھی ترے گمان میں ہیں

ترا نشاں ہیں یہ تارے جو آسمان میں ہیں


حرم سرا تھا ترا دل سو چھوڑ آئے اسے

وگرنہ کہنے کو اب بھی اسی مکان میں ہیں


مرے نصیب کے خوش رنگ خواب اور سراب

نہ اس جہان میں تھے اور نہ اس جہان میں ہیں


میں اپنے واسطے ان میں سے خود ہی چن لوں گی

وہ سانحے جو میسر تری دکان میں ہیں


سراب ہیں یہ تمہارے سب آئنہ خانے

بصارتیں بھی نہ جانے کس امتحان میں ہیں


کبھی وہ آئنہ چشم میں سنورتے تھے

وہ سارے خواب نصابوں کے جو بیان میں ہیں


نہ جانے لائیں گے دل پر تباہیاں کیا کیا

وہ حادثے جو ابھی تک تری کمان میں ہیں


یہ پل صراط کہاں لے چلا ہمیں انجمؔ

نہ ہم زمیں کے رہے اور نہ آسمان میں ہیں


انجم عثمان


پیر محمد علی نعیمی

 سب سے افضل بشر آپؐ ہیں آپؐ ہیں

خوب سے خوب تر آپ ؐہیں آپؐ ہیں


مسکراکر صحابہ یہ کہتے رہے 

یا نبی ہمسفر آپؐ ہیں آپؐ ہیں


آپ ؐکی یاد ہے آپ ؐکا ذکر ہے

لب پہ شام و سحر آپؐ ہیں آپؐ ہیں


آپؐ کی ذاتِ اقدس ہے خود معجزہ

دوجہاں میں امر آپؐ ہیں آپؐ ہیں


آپؐ کا واسطہ رب کو منظور ہے

ہر دُعا کا اثر آپؐ ہیں آپؐ ہیں


قافیے نور کے، نوری ہر اک ردیف

شاعری کا ثمر آپؐ ہیں آپؐ ہیں


یہ علی کا وظیفہ رہے یا نبیؐ

میں کہوں عمر بھر آپؐ ہیں آپؐ ہیں


صلی اللہ علیہ وسلم


پیر محمد علی نعیمی


Sunday, March 28, 2021

یاسین باوزیر

 پل بھر کو میرے خواب میں آ کر چلا گیا 

اک شخص میری نیند اڑا کر چلا گیا 


ممکن ہے واپسی نہ تو آگے ہے راستہ

تو مجھ کو کیسے موڑ پہ لا کر چلا گیا


نفرت سی ہو گئی ہے مجھے اپنی شکل سے

آئینہ کوئی ایسے دکھا کر چلا گیا


وہ مجھ کو جان سے بھی زیادہ عزیز تھا

جو مجھ سے اپنی جان چھڑا کر چلا گیا


اشکوں کی بارشیں بھی بجھا پائیں نہ جسے

وہ ایسی آگ دل میں لگا کر چلا گیا


اسکی جدائی نے نہ رکھا کام کا مجھے

کچھ دن جو مجھ سے پیار جتا کر چلا گیا


ہنستے تھے اس کے حال پہ سب لوگ ہی مگر

یاسین آج سب کو رلا کر چلا


گیا


یاسین باوزیر

یاور حبیب ڈار

 ہمیں لوگ کیوں کر گدا سوچتے ہیں

مگر یہ حقیقت بجا سوچتے ہیں


ستائش کریں گی، تمنا کسے ہے

تغافل کریں گے بھلا سوچتے ہیں


رہے عرش سے فرش تک بول بالا

فدا جان اپنی خدا سوچتے ہیں


ہمیں فکر تیری شب و روز رہتی

عجب ہے مگر وہ برا سوچتے ہیں


عداوت سہی ہے مگر دشمنوں سے

کروں کوچ پاشا جیا سوچتے ہیں


 ہوئیں دھڑکنیں کب بتا تیز یاور

بھلا سوچتے ہی فنا سوچتے ہیں


یاور حبیب ڈار


عمیر ساحل

 نظم

تیرے چہرے پہ پڑے درد کے وحشی دھبے

قصہ بتلاتے ہیں حالات کی تنگ دستی کا

کیسے پاتے ہیں نمو زیست میں جاں لیوا عذاب

پھیکا پڑ جاتا ہے کس واسطے رنگ ہستی کا


کیسے دب جاتا ہے غربت سے محبت کا گلا

ہجر کھا جاتا ہے کسطرح سے چہرے کے نقوش

حال بتلاتے ہیں شکنوں میں دبے رنج و الم

کتنا پر نور تھا چہرہ کیسے گہرے تھے نقوش


لوگ کہتے ہیں کہ دن رات بدل جاتے ہیں

وقت جب بدلے تو حالات بدل جاتے ہیں

آ ہی جاتا ہے سکون ایک دریدہ دل کو

فلسفے ، سوچ و خیالات بدل جاتے ہیں


عزم پختہ ہو اگر حوصلہ اقبال سا ہو

تو کنول کتنے ہی تالاب میں کھل جاتے ہیں

اک سمندر میں پناہ لیتے ہیں کتنے دریا

کتنے سورج ہیں جو اک شام میں ڈھل جاتے ہیں


عمیر ساحل


جاوید رامش


 یوم پیدائش 28 مارچ 1976


کتنے ہی گھٹا ٹوپ اندھیرے مرے آقاﷺ 

ہونے نہیں دیتے ہیں سویرے مرے آقاﷺ 


اشراف سبھی اپنے ضمیروں میں ہوئے قید 

پھرتے ہیں کُھلے عام لُٹیرے مرے آقاﷺ 


انسان تو پیدائشی آذاد تھا پھر کیوں ؟

قابض ہیں ابھی تک یہ وڈیرے مرے آقاﷺ 


اپنوں میں وہی خوئے ابو جہل بہر طور 

ظالم کے حواری ہیں چچیرے مرے آقاﷺ 


دھرتی بھی ترے ﷺ نقش ِکف ِ پا سے مزیّن 

اور عرش پہ بھی تیرے بسیرے مرے آقاﷺ


یہ دھیان اگر تیرا سمیٹے نہ مجھے تو 

یہ گردش ِ غم کتنا بکھیرے مرے آقاﷺ 


                    جاوید رامشؔ

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...