Urdu Deccan

Tuesday, April 27, 2021

شمش پورولیاوی

 یوم پیدائش 27 اپریل 1978


بڑھتا چلا گیا ہے یہ لاشوں کا سلسلہ

ماتم بپا کہیں، کہیں آہوں کا سلسلہ


ایسی وبا ہے پھیلی کہ جسکی دوا نہیں

رکتا نہیں ہے پھر بھی چناؤں کا سلسلہ


بےشک جہاں میں قید ہے، شیطان ان دنوں

ہرگز نہیں رکا ہے، گناہوں کا سلسلہ


پہنچا سفر نہ اپنا کبھی، اختتام تک

حد نظر ہے اب بھی سرابوں کا سلسلہ


کس کو خدا نواز دے، ماہِ صیام میں

جاری رہے اگر یہ، دعاؤں کا سلسلہ


شامل رہے گا شمس، خرافات میں اگر

نازل رہے گا تجھ پہ عذابوں کا سلسلہ


شمس پورولیاوی


پریہ درشی ٹھاکر خیال

 یوم پیدائش 27 اپریل 1946


فاصلہ دیر و حرم کے درمیاں رہ جائے گا

چاک سل جائیں گے یہ زخم نہاں رہ جائے گا


ہاتھ سے اپنے تو دھو لے گا لہو کے داغ تو

دیوتا کا پاک دامن خوں فشاں رہ جائے گا


چاند تھوڑی دیر میں چل دے گا اپنے راستے

پھر ستاروں کے سہارے آسماں رہ جائے گا


جانے والے کو میسر ہو گئی غم سے نجات

غم تو اس کے ہو رہیں گے جو یہاں رہ جائے گا


راکھ سے میری چتا کی اس کی آنکھوں میں خیالؔ

اور یہ دو چار دن شور فغاں رہ جائے گا


پریہ درشی ٹھا کرخیال


محمد عمران بشیر

 آبشاروں سے دوستی کرلی

سب کناروں سے دوستی کرلی


دوستا تجھ سے دوستی کرکے

سب خساروں سے دوستی کرلی


ہم خلا میں کسی جگہ پر تھے

پھر سیاروں سے دوستی کرلی


چاند کو چھوڑ کر سبھی نے ہی

کیوں ستاروں سے دوستی کرلی


آپ اپنی تلاش میں ہم نے

غم کہ ماروں سے دوستی کرلی


محمد عمران بشیر


رونق شہری

 یوم پیدائش 26 اپریل 1952


کج عمارت کی تو بنیاد ہی رکھی گئی ہے

منہدم ہونے کی میعاد ہی رکھی گئی ہے


آنکھ سے دل میں اترنے کا ہنر جانتا ہے

اہلیت اسمیں خداداد ہی رکھی گئی ہے


روز اجڑنے کے عمل سے بڑی ہلچل سی ہے

دل کی بستی مری آباد ہی رکھی گئی ہے


اس جگہ تزکرۂ نان جویں ہوگا ہی

جس جگہ خلقت ناشاد ہی رکھی گئی ہے


ظلم اور صبر کی تحدید نہیں ہو سکتی

جب معلق مری فریاد ہی رکھی گئی ہے


یہ کسی سمت کی محتاج نہیں ہے رونق

من کی چڑیا ہے جو آزاد ہی رکھی گئی ہے


رونق شہری


ندیم اعجاز

 کس سے رونا روئے کوئی اپنے ٹوٹے خوابوں کا

کب تک زندہ رہ لے کوئی بوجھ اٹھائے وعدوں کا


کل کی فکر مسلط سب پر کل جانے کیا ہو جائے

سر پر بوجھ لیے پھرتے ہو کیوں کل کے اندازوں کا


سہنے والے لوگ بہت ہیں کہنے والا کوئی نہیں

دیکھو کیسے کال پڑا ہے بستی میں آوازوں کا


فیاضی کیا خوب دکھائی ہے صیاد نے کیا کہنے

کاٹے بال و پر پنچھی کے حکم دیا پروازوں کا


مست نظر ساقی کی ہم پر بادل برکھا سب کچھ ہے

پھر ٹوٹے گا آج بھرم لو اپنے سبھی ارادوں کا


شامیں سرد ہوئیں ہیں پھر سے درد پرانے جاگیں گے

لوٹ آیا ہے پھر سے موسم بھولی بسری یادوں کا


دنیا داری کیسے گزری یہ بھی تو پوچھے گا وہ ندیم

حشر میں خالی کب پوچھے گا روزے اور نمازوں کا


ندیم اعجاز


سمیع احمد ثمر

 نہیں زور اتنا بلاؤں میں ہے 

اثر جتنا ماں کی دعاؤں میں ہے


 کیا کرتے ہیں جملہ بازی بہت

یہی وصف تو رہنماؤں میں ہے


 وہ گرویدہ سب کو بنانے لگا

بڑی دلکشی ان اداؤں میں ہے


 بناتی ہیں شاداب کھیتوں کو وہ

یہ طاقت فلک کی گھٹاؤں میں ہے


ثمرؔ جاں سے پیارا لگے ہے مجھے

فضا امن کی میرے گاؤں میں ہے


سمیع احمد ثمر


محمد ولی صادقؔ

 یوم پیدائش 25 اپریل


ہوائے تیز کبھی دھوپ سخت جھیلتا ہوں

مصیبتوں کو مثالِ درخت جھیلتا ہوں


خدا نے کڑوی دواؤں میں ہے شفا رکھی

بڑوں کا اس لئے لہجہ کرخت جھیلتا ہوں


شَجَر کے سائے میں ہوتا تھا وصل دونوں کا

سو آج ہجر بھی زیرِ درخت جھیلتا ہوں


سکونِ قلب نہ آسائشوں میں ڈھونڈ کبھی

فقیر مست زمیں پر٬ میں تخت جھیلتا ہوں


تو جانتا ہے میں کیوں خون تھوکتا ہوں یہاں؟

وہ صدمۂ جگرِ لخت لخت جھیلتا ہوں


سکوت٬ ہجر٬ اداسی٬ سیاہ رات کا دکھ

یہ درد وہ ہیں جو میں تیرہ بخت جھیلتا ہوں


بھٹک رہا ہوں لیئے جسمِ نا تواں صادقؔ

تھکن سے چور بدن پر میں رخت جھیلتا ہوں


محمد ولی صادقؔ


Saturday, April 24, 2021

اسامہ طاہر

 کہ ہم سے بے سہاروں کو اذیت ڈھانپ لیتی ہے 

وہاں سے بچ نکل آئیں تو وحشت ڈھانپ لیتی ہے 


کسی کی یاد ایسی ہے ہمیں ہنسنے نہیں دیتی 

ہماری ساری خوشیاں تو محبت ڈھانپ لیتی ہے 


کسی سے بھی گلہ کرتا نہیں تیرے رونے کا 

اُداسی کو یہ دنیاوی تھکاوٹ ڈھانپ لیتی ہے 


کوئی مرتا نہیں ہے دور جانے پر کسی کے اب 

یہاں سب کو کوئی نہ کوئی چاہت ڈھانپ لیتی ہے 


ہماری تو وفاداری بھی جھوٹی لگتی دنیا کو 

تمہاری بیوفائی کو نزاکت ڈھانپ لیتی ہے 


یہاں پر لوگ بکتے ہیں جسے چاہو خریدو تم 

یہاں پر سب گناہوں کو یہ دولت ڈھانپ لیتی ہے 


ہماری زندگی ہے اس قدر سچی اداکاری 

فسانے سے نکلتے ہیں حقیقت ڈھانپ لیتی ہے 


 اُسامہ طاہر


واحد کشمیری

 بڑے لاچار ہیں کیا مانگتے ہیں

سکوں کے ساتھ جینا مانگتے ہیں


نہ کچھ تیرا نہ میرا مانگتے ہیں

یہ خود پر اپنا قبضہ مانگتے ہیں


نہ کرسی نا خزینہ مانگتے ہیں

یہ محنت کش پسینہ مانگتے ہیں


بڑ ی مدت سے دھر نا چل رہا ہے

کرشی قانون ٹلنا مانگتے ہیں


کسانوں سے زمینیں چھین لو اب

یہ اپنا اپنا حصّہ مانگتے ہیں


یہ غیرت اور عزت سے ہمیشہ

بڑی خوشحال دُنیا مانگتے ہیں


کرے پرواہ کوئی بھی نہ واحد

یہ بچے ہیں کھلونا مانگتے ہیں


واحد کشمیری


زاہد فتح پوری

 چھوڑئیے قصۂ ماضی کو نہ اب یاد کر یں

آئیے پھر دلِ ویراں کو ہم آباد کر میں


قدر آزادئ گلشن کی نہ جانی ہم نے

ہم کو کب حق ہے کہ ہم شکوۂ صیاد کریں


پوچھتے ہیں سبھی تاراجیء گلشن کا سبب

ہم تو خاموش ہیں کچھ آپ ہی ارشاد کریں


غم کے ماروں کو ہے اک موجِ تبسم کافی

آپ چاہیں تو علاجِ دل ناشاد کریں


زندگی اپنی کچھ اس طرح گزار اے زاہد

بھولنے والے بھی تاعمر تجھے یاد کریں


زاہد فتح پوری


محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...