Urdu Deccan

Wednesday, May 12, 2021

عارف نسیم فیضی

 یوم پیدائش 05 مئی 


حال دل بھی کہا نہیں جاتا 

بن کہے بھی رہا نہیں جاتا 


ہو چکا اب تلک جو، کافی ہے 

اور ہم سے جیا نہیں جاتا 


ہم نے ٹھانی ہے جن منازل کی 

اس طرف راستہ نہیں جاتا 


آج کے دور میں کوئی بھی فرات 

سوئے کرب و بلا نہیں جاتا 


چاکِ دامن ہوئے رفو لیکن 

چاک دل کا سیا نہیں جاتا 


جان لینی ہے لیجئے لیکن 

کیا کروں دل دیا نہیں جاتا 


دار پرچڑھ کے بول اٹھا عارف 

سچ کسی سے سہا نہیں جاتا


عارف نسیم فیضی


سمیع اللہ عرفی

 یوم پیدائش 5 مئ 1958


خون کے دیپ فصیلوں پے جلا رکھےہیں

اپنے انداز زمانے سے جدا رکھے ہیں


دل میں امید نہیں لب پے کوئی بات نہیں

ہاتھ پھر بھی تو دعاؤں کو اٹھا رکھے ہیں


گھل رہاہے کہ وہ اوروں کو بتائے کیسے

خواب گونگے نے بھی آنکھوں میں بسا رکھے ہیں


یہ الگ بات کہ اظہار تلک آنہ سکے

دل میں جذبات مگر بیش بہا رکھے ہیں


اپنی عمروں کا لہو دے کےا نہیں پالا ہے

ہم نے تو درد بھی بیٹوں سے سوا رکھےہیں


کوئی وعدہ ہی نہیں ہے کہ کوئی آئےگا

جانے کیوں راہ میں دل پھول کھلا رکھے ہیں


کتنے ڈرپوک پیں عرفی یہ قبیلے والے

گزرے وقتوں کے سبھی قرض اٹھارکے ہیں


سمیع اللہ عرفی


علیم اسرار

 یوم پیدائش 05 مئی 1976


کبھی رستہ کبھی منزل تمنا

امیدوں کا حسیں ساحل تمنا


جہاں کا فلسفہ مشکل تمنا

کسی کی آرزو حاصل تمنا


سجائے کاغذوں پر اک دوانہ 

ستارےچاند جان و دل تمنا


کنارہ کرتے ہو کیوں خواہشوں سے

نہیں ہوتی کوئی کامل تمنا 


نئے عنوان سن کر مسکرائے

پرانے زخم کی حامل تمنا


کہواسرار ہم سے کہتی ہے کیا

نگاہوں سے عیاں جھمل تمنا


علیم اسرار


محمد شبیر انصاری راج

 یوم پیدائش 05 مئی 1976


ہے قیامت کی نشانی دنیا والوں دیکھ لو

جس قدر سے ڈر رہا ہے آدمی سے آدمی


محمد شبیر انصاری راج


Tuesday, May 4, 2021

محشر بدایونی

 یوم پیدائش 04 مئی 1922


آخر آخر ایک غم ہی آشنا رہ جائے گا

اور وہ غم بھی مجھ کو اک دن دیکھتا رہ جائے گا


سوچتا ہوں اشک حسرت ہی کروں نذر بہار

پھر خیال آتا ہے میرے پاس کیا رہ جائے گا


اب ہوائیں ہی کریں گی روشنی کا فیصلہ

جس دیے میں جان ہوگی وہ دیا رہ جائے گا


آج اگر گھر میں یہی رنگ شب عشرت رہا

لوگ سو جائیں گے دروازہ کھلا رہ جائے گا


تا حد منزل توازن چاہئے رفتار میں

جو مسافر تیز تر آگے بڑھا رہ جائے گا


گھر کبھی اجڑا نہیں یہ گھر کا شجرہ ہے گواہ

ہم گئے تو آ کے کوئی دوسرا رہ جائے گا


روشنی محشرؔ رہے گی روشنی اپنی جگہ

میں گزر جاؤں گا میرا نقش پا رہ جائے گا


محشر بدایونی


اختر شیرانی

 یوم پیدائش 04 مئ 1905


اے دل وہ عاشقی کے فسانے کدھر گئے

وہ عمر کیا ہوئی وہ زمانے کدھر گئے


ویراں ہیں صحن و باغ بہاروں کو کیا ہوا

وہ بلبلیں کہاں وہ ترانے کدھر گئے


ہے نجد میں سکوت ہواؤں کو کیا ہوا

لیلائیں ہیں خموش دوانے کدھر گئے


اجڑے پڑے ہیں دشت غزالوں پہ کیا بنی

سونے ہیں کوہسار دوانے کدھر گئے


وہ ہجر میں وصال کی امید کیا ہوئی

وہ رنج میں خوشی کے بہانے کدھر گئے


دن رات مے کدے میں گزرتی تھی زندگی

اخترؔ وہ بے خودی کے زمانے کدھر گئے


اختر شیرانی


فارح مظفرپوری

 حد سبھی توڑکے چپکے چپکے

آ گئے گھر مرے چپکے چپکے


ہم نےہنس کر سہےچپکےچپکے

درد تھے جو دیے چپکے چپکے


باپ اور ماں کے سوا دنیا میں

کون ہے پیار دے چپکے چپکے


حکم سب اس کے بجا لاتے ہیں

ہاتھ باندھے ہوئے چپکے چپکے


میری بیماری کی خبریں پھیلیں

سب جدا ہو گئے چپکے چپکے


دیں گے میت کو ہمارے کاندھا؟

وہ جو پیچھے ہٹے چپکے چپکے


ہچکیاں آ کے یہ بولیں فارح

یاد ہم کو کیے چپکے چپکے


 فارح مظفرپوری


بی ایم خان معاملے اچلپوری

 ہوتی ہے صبح رات گزرنے کے بعد ہی 

سورج کی روشنی کے بکھرنے کے بعد ہی 


دستورِ زندگی ہے یہی اور یہی ہے سچ 

ملتا ہے اجر کام کے کرنے کے بعد ہی 


ہمت کے ساتھ صبر بھی لازم ہے یاد رکھ 

جاتا ہے درد زخم کے بھرنے کے بعد ہی 


پڑھ سکتا ہوں لکیروں کو میں ہاتھ کی مگر

ہر شب بغور دن کے گزرنے کے بعد ہی


تادیب بھی ضروری ہے اصلاح کے لئے

انسان سیدھا چلتا ہے ڈرنے کے بعد ہی


آتا ہے نور چہرے پہ بنتی ہے عاقبت 

پوری طرح عمل میں نکھرنے کے بعد ہی 


پہچان پایا کون ہوں میں، کیا ہے اَصلِیَت 

سایہ مرا زمیں پہ اترنے کے بعد ہی 


حالت دلِ حزیں کی عیاں ہوتی ہے مگر 

چہرے پہ کچھ نقوش ابھرنے کے بعد ہی 


کرلوں گا بات اس سے مَعَالے میں روبرو 

موسم مزاجِ یار سنورنے کے بعد ہی 


بی ایم خان مَعَالے اچلپوری


اعتبار ساجد

 آ ، مرے دل، مرے غمخوار، کہیں اور چلیں

بھیڑ ہے بر سر, بازار کہیں اور چلیں


وہ جو پھولوں سے بھرا شہر ہوا کرتا تھا

اس کے منظر ہیں دل آزار، کہیں اور چلیں


سارے چہرے نظر آتے ہیں یہاں زیر,نقاب

یہ فضائیں ہیں پر اسرار، کہیں اور چلیں


ڈھونڈتے ہیں کوئی شاداب کشادہ گلشن

اب تو دم گھٹنے لگا یار، کہیں اور چلیں


جذبہء شوق سلامت ہے مگر ہائے، نصیب

اب کہاں کوچہء دلدار ،کہیں اور چلیں


( اعتبار ساجد )


ریاض خازم

 حسرتِ دل کے دھول ہونے کا دکھ

چاند کیا جانے پھول ہونے کا دکھ


بے بسی کے قبول ہونے کا دکھ

جانتا ہوں فضول ہونے کا دکھ


اپنے ماضی سے کیوں الجھتا پھروں

کیا کیا جائے بھول ہونے کا دکھ


بے وفائی پہ رشک اس نے کِیا

عشق میں بے اصول ہونے کا دکھ


کیا اذیت ہے زندگی یہ سمجھ

پھول واپس وصول ہونے کا دکھ


ریاض حازم


محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...