Urdu Deccan

Wednesday, May 12, 2021

ابراہیم ہوش

 یوم پیدائش 06 مئی 1918


میں وہ نہیں کہ زمانے سے بے عمل جاؤں

مزاج پوچھ کے دار و رسن کا ٹل جاؤں


وہ اور ہوں گے جو ہیں آج قید بے سمتی

وہی ہے سمت میں جس سمت کو نکل جاؤں


فریب کھا کے جنوں عقل کے کھلونوں سے

خدا وہ وقت نہ لائے کہ میں بہل جاؤں


مرا وجود ہے مومی کہیں نہ ہو ایسا

کسی کی یاد کی گرمی سے میں پگھل جاؤں


جو چاہتا ہے کہ پستی میں گرتے گرتے بچوں

نظر کا اپنی عصا دے کہ میں سنبھل جاؤں


ابراہیم ہوش


ریاض احمد قاری

 یوم پیدائش 06 مئی 1965


سب انبیا ء سے ماسوا ان ﷺ کا مقام ہے

پیغام انﷺ کاجگ میں رواں صبح و شام ہے


پلوائیں گے وہ اپنے غلاموں کو روزِ حشر

" پیارے نبیﷺ کے ہاتھ میں کوثر کا جام ہے "


شاہوں کو بھی وہ دیتا ہے تاج اور تخت ہی

رتبے میں کیا بلند نبیﷺ کا غلام ہے


رحمت خدا کی آتی ہے بن بن کے اک گھٹا

جب سے نبیﷺ کے شہر میں اپنا قیام ہے


جو ان ﷺ کو مانتا ہے وہی جنتی ہوا

مومن پہ ہی تو آتشِ دوزخ حرام ہے


اے ریاضؔ ان کے بعد نبی کوئی بھی نہیں

وہ آخری نبی ﷺ ہیں انہی کو دوام ہے


ریاض احمد قادری


اشرف نقوی

 یوم پیدائش 06 مئی 1972


فلک سے جب بھی کسی نے ہمیں اِشارہ کیا 

سو اپنے ہونے, نہ ہونے کا استخارہ کیا 


کیا جو بند کسی نے بھی دل کا دروازہ 

پھر اُس طرف کا کبھی رُخ نہیں دوبارہ کیا 


مکین کوئی نہیں رہتے جن مکانوں میں 

نہ جانے کس لیے ہم نے اُنھیں سنوارا کیا 


میں وہ تھا جس نے تِری شب اُجالنے کے لیے 

جبیں کو چاند کیا, اشک کو ستارہ کیا 


مِرے نواح و مضافات میں ہے حبس اشرف 

سو میں نے لُو کو ہواؤں کا استعارہ کیا  


اشرف نقوی


ماہر اجمیری

 یوم پیدائش 05 مئی 1942


ہے کہیں زر کی کہیں گھر کی کہیں سر کی تلاش

آدمی کے ساتھ ہے بس زندگی بھر کی تلاش


کس طرح ممکن ہے ان حالات میں اپنا ملن

میں سراپا خار ہوں تم کو گلِ تر کی تلاش


سوچتا رہتا ہوں ان دیدہ وروں کو کیا ہوا

پتھروں کے شہر میں ہے آئینہ گر کی تلاش


جس کے لفظوں میں صداؤں میں ہو پیغامِ سحر

ظلمتِ شب کو ہے اب ایسے سخن ور کی تلاش


جس میں اخلاص و وفا کے چاہتوں کے رنگ ہوں

چشم ماہر کو رہی ہے ایسے منظر کی تلاش


ماہر اجمیری


محشر فیض آبادی

 مزاحیہ 

ابھی کھانسی ابھی نزلے کے کچھ آثار رہنے دے 

دواؤں سے ابھی مجھ کو ذرا دو چار رہنے دے 

پڑوسن روز آتی ہے طبیعت پوچھنے میری 

الہی اور کچھ دن تو مجھے بیمار رہنے دے


محشر فیض آبادی


محمد حسین آزاد

 یوم پیدائش 05 مئی 1830

نظم محنت کرو


ہے امتحاں سر پر کھڑا محنت کرو محنت کرو 

باندھو کمر بیٹھے ہو کیا محنت کرو محنت کرو 

بے شک پڑھائی ہے سوا اور وقت ہے تھوڑا رہا 

ہے ایسی مشکل بات کیا محنت کرو محنت کرو 

شکوے شکایت جو کہ تھے تم نے کہے ہم نے سنے 

جو کچھ ہوا اچھا ہوا محنت کرو محنت کرو 

محنت کرو انعام لو انعام پر اکرام لو 

جو چاہو گے مل جائے گا محنت کرو محنت کرو 

جو بیٹھ جائیں ہار کر کہہ دو انہیں للکار کر 

ہمت کا کوڑا مار کر محنت کرو محنت کرو 

تدبیریں ساری کر چکے باتوں کے دریا بہہ چکے 

بک بک سے اب کیا فائدہ محنت کرو محنت کرو 

یہ بیج اگر ڈالوگے تم دل سے اسے پا لو گے تم 

دیکھو گے پھر اس کا مزا محنت کرو محنت کرو 

محنت جو کی جی توڑ کر ہر شوق سے منہ موڑ کر 

کر دو گے دم میں فیصلہ محنت کرو محنت کرو 

کھیتی ہو یا سوداگری ہو بھیک ہو یا چاکری 

سب کا سبق یکساں سنا محنت کرو محنت کرو 

جس دن بڑے تم ہو گئے دنیا کے دھندوں میں پھنسے 

پڑھنے کی پھر فرصت کجا محنت کرو محنت کرو 

بچپن رہا کس کا بھلا انجام کو سوچو ذرا 

یہ تو کہو کھاؤ گے کیا محنت کرو محنت کرو 


محمد حسین آزاد


امداد امام اثر

 یوم پیدائش 05 مئی 1849


جفائیں ہوتی ہیں گھٹتا ہے دم ایسا بھی ہوتا ہے

مگر ہم پر جو ہے تیرا ستم ایسا بھی ہوتا ہے


عدو کے آتے ہی رونق سدھاری تیری محفل کی

معاذ اللہ انساں کا قدم ایسا بھی ہوتا ہے


رکاوٹ ہے خلش ہے چھیڑ ہے ایذا پہ ایذا ہے

ستم اہل وفا پر دم بدم ایسا بھی ہوتا ہے


حسینوں کی جفائیں بھی تلون سے نہیں خالی

ستم کے بعد کرتے ہیں کرم ایسا بھی ہوتا ہے


دل مہجور آخر انتہا ہے ہر نحوست کی

کبھی سعدین ہوتے ہیں بہم ایسا بھی ہوتا ہے


نہ کر شکوہ ہماری بے سبب کی بد گمانی کا

محبت میں ترے سر کی قسم ایسا بھی ہوتا ہے


نہ ہو درد جدائی سے جو واقف اس کو کیا کہیے

ہمیں وہ دیکھ کر کہتے ہیں غم ایسا بھی ہوتا ہے


بتوں کے ملنے جلنے پر نہ جانا اے دل ناداں

بڑھا کر ربط کر دیتے ہیں کم ایسا بھی ہوتا ہے


ہمیں بزم عدو میں وہ بلاتے ہیں تمنا سے

کرم ایسا بھی ہوتا ہے ستم ایسا بھی ہوتا ہے


جگہ دی مجھ کو کعبے میں خدائے پاک نے زاہد

تو کہتا تھا کہ مقبول حرم ایسا بھی ہوتا ہے


ہوا کرتا ہے سب کچھ اے اثرؔ اس کی خدائی میں

کریں دعویٰ خدائی کا صنم ایسا بھی ہوتا ہے


امداد امام اثرؔ


محسن نقوی

 یوم پیدائش 05 مئی 1947


ترے بدن سے جو چھو کر ادھر بھی آتا ہے

مثال رنگ وہ جھونکا نظر بھی آتا ہے


تمام شب جہاں جلتا ہے اک اداس دیا

ہوا کی راہ میں اک ایسا گھر بھی آتا ہے


وہ مجھ کو ٹوٹ کے چاہے گا چھوڑ جائے گا

مجھے خبر تھی اسے یہ ہنر بھی آتا ہے


اجاڑ بن میں اترتا ہے ایک جگنو بھی

ہوا کے ساتھ کوئی ہم سفر بھی آتا ہے


وفا کی کون سی منزل پہ اس نے چھوڑا تھا

کہ وہ تو یاد ہمیں بھول کر بھی آتا ہے


جہاں لہو کے سمندر کی حد ٹھہرتی ہے

وہیں جزیرۂ لعل و گہر بھی آتا ہے


چلے جو ذکر فرشتوں کی پارسائی کا

تو زیر بحث مقام بشر بھی آتا ہے


ابھی سناں کو سنبھالے رہیں عدو میرے

کہ ان صفوں میں کہیں میرا سر بھی آتا ہے


کبھی کبھی مجھے ملنے بلندیوں سے کوئی

شعاع صبح کی صورت اتر بھی آتا ہے


اسی لیے میں کسی شب نہ سو سکا محسنؔ

وہ ماہتاب کبھی بام پر بھی آتا ہے


محسن نقوی


ظفر گورکھپوری

 یوم پیدائش 05 مئی 1935


دیکھیں قریب سے بھی تو اچھا دکھائی دے

اک آدمی تو شہر میں ایسا دکھائی دے


اب بھیک مانگنے کے طریقے بدل گئے

لازم نہیں کہ ہاتھ میں کاسہ دکھائی دے


نیزے پہ رکھ کے اور مرا سر بلند کر

دنیا کو اک چراغ تو جلتا دکھائی دے


دل میں ترے خیال کی بنتی ہے اک دھنک

سورج سا آئینے سے گزرتا دکھائی دے


چل زندگی کی جوت جگائے عجب نہیں

لاشوں کے درمیاں کوئی رستہ دکھائی دے


کیا کم ہے کہ وجود کے سناٹے میں ظفرؔ

اک درد کی صدا ہے کہ زندہ دکھائی دے


ظفر گورکھپوری


سردار آصف

 یوم وفات 04 مئی 2021


میں جن کو ڈھونڈنے نکلا تھا گہرے غاروں میں

پتہ چلا کہ وہ رہتے ہیں اب ستاروں میں


پرکھ رہا ہے مجھے جو وہ اس خیال کا ہے

ہمیشہ جھوٹ نہیں ہوتا اشتہاروں میں


انہیں یقین تھا دنیا کی عمر لمبی ہے

جو لوگ پیڑ لگاتے تھے رہ گزاروں میں


میں خود کو دیکھوں اگر دوسرے کی آنکھوں سے

ملیں گی خامیاں اپنے ہی شاہ کاروں میں


تمہاری خوشبو کو مجھ سے کہیں یہ چھین نہ لے

ہوا جو رہتی ہے دیوار کی دراروں میں


خدا کا شکر کہ میں اس سے تھوڑی دور رہا

سفید سانپ تھا گیندے کے پیلے ہاروں میں


نشیلی رات کا نشہ کچھ اور بڑھ جاتا

ترا نظارا بھی ہوتا اگر نظاروں میں


زباں پہ آئی تو اپنی مٹھاس کھو بیٹھی

جو بات ہوتی تھی پہلے کبھی اشاروں میں


سردار آصف


محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...