Urdu Deccan

Sunday, June 6, 2021

محمد الیاس کرگلی

 میرے محبوب کبھی آکے ملا کر مجھ سے

میری ہستی کو نہ یوں اور جدا کر مجھ سے


میں تو اک دن تری دنیا سے چلا جاؤں گا

مری تحریر میں دیدار کیا کر مجھ سے


کیوں مجھے دیکھ کے تو دور چلا جاتاہے

کیوں گیا آج بھی نظروں کو ہٹا کر مجھ سے


یہ جو اک چال ہے اس چال سے ڈر لگتا ہے

لے گیا چیز میری آج چھپا کر مجھ سے


ہے تقاضا مرے اخلاص کا تم سے مری جاں

میں تو حقدار بھی ہوں عشق سوا کر مجھ سے


چاند تاروں میں یقیں مجھ کو نہیں ہے لیکن

کیوں بھلا لے گیا تقدیر لکھا کر مجھ سے


مجھ کو الیاس بتا پہرہِ دل ہے کیا یہ

لے گیا دل کوئی افسوس چرا کر مجھ سے


محمد الیاس کرگلی


ندیم اعجاز

 چھوڑ دونوں جہان رہنے دے

لامکاں لا مکان رہنے دے


دید مطلوب ہے اگر صاحب

فاصلہ درمیان رہنے دے


کب زمیں کا کوئی تقاضہ مرا

سر پہ کچھ آسمان رہنے دے


پردہ داروں کے نام آئیں گا

عشق کی داستان رہنے دے


کون کاٹے گا عمرِ خضر یہاں

یہ دعا میری جان رہنے دے


کون سنتا ہے دل کا درد ندیم

درد کا یہ بیان رہنے دے


ندیم اعجاز


شاعر علی راحل

 ہمارا نام وہ بھی ان کے لَب سے نکلا ہے

سنا ہے ہم نے بڑے ہی اَدَب سے نکلا ہے


ہر ایک آنکھ اسے تَک رہی ہے حسرت سے

کچھ ایسے حسنِ مجسّم وہ ڈَھب سے نکلا ہے


کوٸی مَلال نہیں گر بچھڑنے کا تجھ کو

یہ اشک آنکھ سے پھر کس سَبَب سے نکلا ہے


وہ معتبر ہوا دونوں جہان میں یکساں 

مرے حضور کے جو لفظ لَب سے نکلا ہے


کبھی خدا سے تجھے مانگا ہی نہیں میں نے

کہاں وگرنہ تو دستِ طَلَب سے نکلا ہے


ہے ایک بار بھی آیا نہیں مجھے ملنے

دیار چھوڑ کے ظالم وہ جَب سے نکلا ہے


سیاہ رات سے گھبرانے والے دیکھ ذرا

یہ آفتاب جو نکلا ہے شَب سے نکلا ہے


پتہ بتا رہی ہیں تیری لرزشیں رَاحِلؔ

خمیر تیرا بھی آدم نَسَب سے نکلا ہے


شاعر علی رَاحِلؔ


عطا یار علوی

 یوم پیدائش 01 جون 1981


مِرے آقاﷺ کا نگاہوں میں حَسیں در ہوتا

سبز گنبد کے مقابل جو مِرا گھر ہوتا


پڑ گیا نقشِ کفِ پائے محمدﷺ جس پر 

کاش مَیں' مَیں نہیں ہوتا وہی پتھر ہوتا


خطبہ دیتے تھے کھڑے ہوکے شہِ دیں جس پر

چومتا ان کے قدم گر میں وہ منبر ہوتا


اُڑ کے پھر چرخ سے طیبہ کا نظارہ کرتا

میں جو دربارِ محمدﷺ کا کبوتر ہوتا


آبِ زم زم سے نہاتا تو گنہ دُھل جاتے

صاف ستھرا مِرے اعمال کا دفتر ہوتا


ہائے افسوس! مدینے سے بہت دور ہوں میں

قابلِ رشک وہاں میرا مقدر ہوتا


اے عطا سرورِ عالمﷺ کی عطا ہے تجھ پر

وہ نہ کرتے جو کرم تُو نہ سخنور ہوتا


 عطا یار علوی


احقر محمد قیصر رضا

 یوم پیدائش 01 جون 1975


مرے محبوب آجاؤ خدا کا واسطہ تم کو

مرے دل میں سما جاؤ خدا کا واسطہ تم کو


تڑپتا ہوں میں فرقت میں تمہاری ہر گھڑی وللہ

مجھے جلوہ دکھا جاؤ خدا کا واسطہ تم کو


محبت کی مرے دل میں لگی ہے آگ مدت سے

ذرا آکر بجھا جاؤ خدا کا واسطہ تم کو


تصور میں تخیل میں تمہی تم ہو ہر اک لمحہ

حقیقت میں بھی آجاؤ خدا کا واسطہ تم کو


لگا کر اپنے سینے سے کسی دن مجھ کو جان جاں

مری قسمت جگا جاؤ خدا کا واسطہ تم کو


چلے آؤ چلے آؤ قدم رکھ کر مرے دل پر

مری دینا سجا جاؤ خدا کا واسطہ تم کو


ہے دستور محبت کیا مرے محسن مرے ہمدم

یہ قیصر کو سکھا جاؤ خدا کا واسطہ تم کو


احقر محمد قیصر رضا


Thursday, June 3, 2021

رہنما گیاؤی

 یوم پیدائش 03 جون 1988


خوشی محسوس ہوتی ہے مجھے بھی اب منانے میں

مزا ان کو بھی اب آنے لگا ہے روٹھ جانے میں


ابھی پردیش سے بیٹا میرا گھر کو نہیں پہنچا

کرو اتنی بھی نہ جلدی مری میت اٹھانے میں


کھلی آنکھوں سے تجھ کو دیکھ پاتا کاش میں لیکن

تو میرے گھر کے آنگن میں لگادی دیر آنے میں


ادب کے پھول آنگن میں بڑی کثرت سے کھلتے ہیں

نئی تہذیب میں خوبی کہاں جو تھی پرانے میں


امیر شہر کی بیٹی سے اظہارِ محبت کر

نہیں کوئی قباحت اپنی قسمت آزمانے میں


نہ سایہ ہے نہ ثانی ہے کہ آنکھیں ارغوانی ہیں

ہوا ہے اور نہ ہوگا کوئی ماتم سا زمانے میں


نہ بھاگو رہنما تم خواب کی تعبیر کے پیچھے

حقیقت کی طرف آؤ رکھا کیا ہے فسانے میں


رہنما گیاؤی


اسد جعفری

 یوم پیدائش 03 جون 1935


خیال یار مجھے جب لہو رلانے لگا

تو زخم زخم مرے دل کا مسکرانے لگا


مجھے خود اپنی وفا پر بھی اعتماد نہیں

میں کیوں تمہاری محبت کو آزمانے لگا


کیا ہے یاد مجھے میرے بعد دنیا نے

ہوا جو غرق تو ساحل قریب آنے لگا


نہ چھین مجھ سے سرور شب فراق نہ چھین

قرار دل کو نہ دستک کے تازیانے لگا


مثال اپنی تو ہے اس درخت کی کہ جسے

لگا جو سنگ تو بدلے میں پھل گرانے لگا


ہر ایک سمت ریا کی تمازتیں ہیں اسدؔ

جو ہو سکے تو محبت کے شامیانے لگا


اسد جعفری


شبلی نعمانی

 یوم پیدائش 03 جون 1857


پوچھتے کیا ہو جو حال شب تنہائی تھا

رخصت صبر تھی یا ترک شکیبائی تھا


شب فرقت میں دل غمزدہ بھی پاس نہ تھا

وہ بھی کیا رات تھی کیا عالم تنہائی تھا


میں تھا یا دیدۂ خوننابہ فشانی شب ہجر

ان کو واں مشغلۂ انجمن آرائی تھا


پارہ ہائے دل خونیں کی طلب تھی پیہم

شب جو آنکھوں میں مری ذوق خود آرائی تھا


رحم تو ایک طرف پایہ شناسی دیکھو

قیس کو کہتے ہیں مجنون تھا صحرائی تھا


آنکھیں قاتل سہی پر زندہ جو کرنا ہوتا

لب پہ اے جان تو اعجاز مسیحائی تھا


خون رو رو دیے بس دو ہی قدم میں چھالے

یاں وہی حوصلۂ بادیہ پیمائی تھا


دشمن جاں تھے ادھر ہجر میں درد و غم و رنج

اور ادھر ایک اکیلا ترا شیدائی تھا


انگلیاں اٹھتی تھیں مژگاں کی اسی رخ پیہم

جس طرف بزم میں وہ کافر ترسائی تھا


کون اس راہ سے گزرا ہے کہ ہر نقش قدم

چشم عاشق کی طرح اس کا تماشائی تھا


خوب وقت آئے نکیرین جزا دے گا خدا

لحد تیرہ میں بھی کیا عالم تنہائی تھا


ہم نے بھی حضرت شبلیؔ کی زیارت کی تھی

یوں تو ظاہر میں مقدس تھا پہ شیدائی تھا


شبلی نعمانی


ریاض خازم

 پیٹھ پیچھے سے وار کرتے ہیں

ایسا کیوں میرے یار کرتے ہیں 


کیسے دن آ گئے مرے پیارے

مجھ سے ملنے سے عار کرتے ہیں


دشمنوں کا تو نام فرضی ہے

جو بھی اپنے ہیں خوار کرتے ہیں


گرچہ نفرت مرا مقدر ہے

آؤ ہم سب سے پیار کرتے ہیں


بیٹھ کر قیس کی گلی میں ہم

عشق کو بے قرار کرتے ہیں


شعر ایسے ہی میرے ہوتے ہیں

سب کو ہی سوگوار کرتے ہیں


عشق میں ہار کے یہ بچے کیوں

موت خود پر سوار کرتے ہیں


آپ کیوں چھیڑتے ہیں ماضی کو

کیوں مجھے تار تار کرتے ہیں


ریاض حازم


Wednesday, June 2, 2021

طاہر خیال

 یوم پیدائش 01 جون 1974


میں رو کر جو مانگوں دعا رو پڑے گی

مرے ساتھ خلق خدا رو پڑے گی


خزاں میں پریشاں پرندوں کو پاکر

چمن رو پڑے گا صبا رو پڑے گی


مرے جسم کی سلوٹیں دیکھتے ہی

مجھے لینے آئی قضا رو پڑے گی


اگر داغ دل کے عیاں کر دیے تو

لپٹ کر کسی سے وفا رو پڑے گی


سنو آدمیت کی غفلت سے ظاہر

عطا رو پڑے گی انا رو پڑے گی


طاہر خیال


محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...