Urdu Deccan

Friday, July 16, 2021

اقبال عظیم

 یوم پیدائش 08 جولائی 1913


مانا کہ زندگی سے ہمیں کچھ ملا بھی ہے

اس زندگی کو ہم نے بہت کچھ دیا بھی ہے


محسوس ہو رہا ہے کہ تنہا نہیں ہوں میں

شاید کہیں قریب کوئی دوسرا بھی ہے


قاتل نے کس صفائی سے دھوئی ہے آستیں

اس کو خبر نہیں کہ لہو بولتا بھی ہے


غرقاب کر دیا تھا ہمیں ناخداؤں نے

وہ تو کہو کہ ایک ہمارا خدا بھی ہے


ہو تو رہی ہے کوشش آرائش چمن

لیکن چمن غریب میں اب کچھ رہا بھی ہے


اے قافلے کے لوگو ذرا جاگتے رہو

سنتے ہیں قافلے میں کوئی رہنما بھی ہے


ہم پھر بھی اپنے چہرے نہ دیکھیں تو کیا علاج

آنکھیں بھی ہیں چراغ بھی ہے آئنا بھی ہے


اقبالؔ شکر بھیجو کہ تم دیدہ ور نہیں

دیدہ وروں کو آج کوئی پوچھتا بھی ہے


اقبال عظیم


محمد حذیفہ

 دِکھا جو دلکش تمہارا چہرہ مریض دل کو قرار آیا

ہزار لَیلائیں ہیں جہاں میں مجھے تو بس تم پہ پیار آیا 


نشیلی آنکھیں، غزالی آنکھیں، شراب خانہ تمہاری آنکھیں

تمہاری آنکھوں کا جام پی کر ہی مجھ کو دلبر خمار آیا


سیاہ زلفیں، جمالی رخ ہے، گلابی لب ہیں ، عُنُق صراحی

حسین مُکھڑے پہ مرنے مٹنے مَیں لے کے سانسیں اُدھار آیا


کتابی رخ کا مطالعَہ ہو ، کہ نازنیں اب اُٹھا دو پردہ

 تمہاری خاطر ہی جانِ جاناں میں توڑ ساری دِوار آیا 


وہ مجھ سےجب ہم کلام ہو تو،لبوں سےاسکےہیں پھول جھڑتے

زبان شیرین و خوش بیانی ، یہ میرے حصے میں یار آیا


ہے تیری ہرنی سی چال جاناں، ادا نرالی ہے قہر ڈھاتی

تِری اداؤں پہ میرے ہمدم میں جان کرنے نثار آیا


حسین اتنا بنایا رب نے کہ چاند بھی تم پہ رشک کرتا

تمہارے جیسا نہیں ہے کوئی، میں دیکھ سارا دِیار آیا


شباب اسکا نہ پوچھ مجھ سے حذیفہ وہ تو الگ ہے سب سے

نصیب ور لوگ ہیں جو یارو، مرا بھی ان میں شمار آیا


   محمدحذیفہ


کاشی

 تھوڑی اَنا ضرور ہے مغرور تو نہیں

آزاد سا میں شخص ہوں محصور تو نہیں


سہتا رہے جفاؤں کو اُلفت کے نام پر

اب اس قدر بھی دل مرا مجبور تو نہیں


ہنس ہنس کے کیوں اٹھاؤں ترے ناز اور ستم

عاشق ہوں میں ترا کوئی مزدور تو نہیں


اک روز بھر ہی جائے گا یہ بے وفائی کا

چھوٹا سا ایک زخم ہے ناسور تو نہیں


کاشی رواں دواں ہے نئے راستوں پہ اب

 گھائل ہوا تھا دل مِرا معذور تو نہیں


"کاشی"


رتن پنڈوروی

 یوم پیدائش 07 جولائی 1907


یہ کون سا مقام ہے اے جوش بے خودی

رستہ بتا رہا ہوں ہر اک رہنما کو میں


دونوں ہی کامیاب ہوئے ہیں تلاش میں

ذات خدا ملی مجھے ذات خدا کو میں


مٹی اٹھا کے دیکھتا ہوں راہ شوق کی

بھولا نہیں ہوں جوش طلب میں فنا کو میں


ہستی فنا ہوئی تو حقیقت یہ کھل گئی

میں خود بقا ہوں کس لیے ڈھونڈوں بقا کو میں


کیوں کر میں اس کو دشمن ہستی قرار دوں

پاتا ہوں مدعا کا ذریعہ قضا کو میں


کیوں اس کی جستجو کا ہو سودا مجھے رتنؔ

مجھ سے اگر جدا ہو تو ڈھونڈوں خدا کو میں


رتن پنڈوروی


حسن عابدی

 یوم پیدائش 07 جولائی 1929


پل رہے ہیں کتنے اندیشے دلوں کے درمیاں

رات کی پرچھائیاں جیسے دیوں کے درمیاں


پھر کسی نے ایک خوں آلود خنجر رکھ دیا

خوف کے ظلمت کدے میں دوستوں کے درمیاں


کیا سنہری دور تھا ہم زرد پتوں کی طرح

در بہ در پھرتے رہے پیلی رتوں کے درمیاں


اے خدا انسان کی تقسیم در تقسیم دیکھ

پارساؤں دیوتاؤں قاتلوں کے درمیاں


آشتی کے نام پر اتنی صف آرائی ہوئی

آ گئی بارود کی خوش بو گلوں کے درمیاں


میرا چہرہ خود بھی آشوب سفر میں کھو گیا

میں یہ کس کو ڈھونڈتا ہوں منزلوں کے درمیاں


حسن عابدی


حافظ لدھیانوی

 یوم پیدائش 07 جولائی 1920


وہ قریۂ مہتاب رہے صبح و مسا یاد

کچھ بھی نہ رہے شہر تمنا کے سوا یاد


انوار کی بارش تھی سر منزل طیبہ

ہر منزل خوش دیکھ کے آتا تھا خدا یاد


اب تک ہیں نگاہوں میں در و بام حرم کے

اب تک ہے مجھے وادئ‌ رحمت کی فضا یاد


ہے سیرت اطہر مرا سرمایۂ ہستی

محبوب دو عالم کی ہے ایک ایک ادا یاد


ڈوبے نہ کبھی میرے مقدر کا ستارا

اک بار جو کر لیں مجھے محبوب خدا یاد


قربان ہوئی جاتی تھیں رحمت کی گھٹائیں

ان کانپتے ہونٹوں کا ہے انداز دعا یاد


ہر ایک کے دامن میں مرادوں کے گہر تھے

حافظؔ مجھے دربار کی ہے شان سخا یاد


حافظ لدھیانوی


ماجد دیوبندی

 یوم پیدائش 07 جولائی 1964


آسماں کی رفعتوں سے طرز یاری سیکھ لو

سر اٹھا کر چلنے والو خاکساری سیکھ لو


پیش خیمہ ہیں تنزل کا تکبر اور غرور

مرتبہ چاہو تو پہلے انکساری سیکھ لو


خود بدل جائے گا نفرت کی فضاؤں کا مزاج

پیار کی خوشبو لٹاؤ مشکباری سیکھ لو


چن لو قرطاس و قلم یا تیغ کر لو انتخاب

کوئی فن اپناؤ لیکن شاہکاری سیکھ لو


پھر تمہارے پاؤں چھونے خود بلندی آئے گی

سب دلوں پر راج کر کے تاج داری سیکھ لو


عشق کا میدان آساں تو نہیں ہے محترم

عشق کرنا ہی اگر ہے غم شعاری سیکھ لو


جس شجر کی چھاؤں ہو ماجدؔ زمانے کے لئے

کیسے ہوگی اس شجر کی آبیاری سیکھ لو


ماجد دیوبندی


گلزار دہلوی

 یوم پیدائش 07 جولائی 1926


عمر جو بے خودی میں گزری ہے

بس وہی آگہی میں گزری ہے


کوئی موج نسیم سے پوچھے

کیسی آوارگی میں گزری ہے


ان کی بھی رہ سکی نہ دارآئی

جن کی اسکندری میں گزری ہے


آسرا ان کی رہبری ٹھہری

جن کی خود رہزنی میں گزری ہے


آس کے جگنوؤ سدا کس کی

زندگی روشنی میں گزری ہے


ہم نشینی پہ فخر کر ناداں

صحبت آدمی میں گزری ہے


یوں تو شاعر بہت سے گزرے ہیں

اپنی بھی شاعری میں گزری ہے


میر کے بعد غالب و اقبال

اک صدا، اک صدی میں گزری ہے


گلزار دہلوی


تلوک چند محروم

 یوم پیدائش 01 جولائی 1887


دست خرد سے پردہ کشائی نہ ہو سکی

حسن ازل کی جلوہ نمائی نہ ہو سکی


رنگ بہار دے نہ سکے خارزار کو

دست جنوں میں آبلہ سائی نہ ہو سکی


اے دل تجھے اجازت فریاد ہے مگر

رسوائی ہے اگر شنوائی نہ ہو سکی


مندر بھی صاف ہم نے کئے مسجدیں بھی پاک

مشکل یہ ہے کہ دل کی صفائی نہ ہو سکی


فکر معاش و عشق بتاں یاد رفتگاں

ان مشکلوں سے عہد برآئی نہ ہو سکی


غافل نہ تجھ سے اے غم عقبیٰ تھے ہم مگر

دام غم جہاں سے رہائی نہ ہو سکی


منکر ہزار بار خدا سے ہوا بشر

اک بار بھی بشر سے خدائی نہ ہو سکی


خود زندگی برائی نہیں ہے تو اور کیا

محرومؔ جب کسی سے بھلائی نہ ہو سکی


تلوک چند محروم


فیضان رضا

 مرا تو کوئی غم تازہ نہیں ہے

مجھے فرقت کا پچھتاوا نہیں ہے


کہیں پر ہم اذیّت پی گئے ہیں

کہیں پر ساغر و مینا نہیں ہے


مقفّل ہو چکی راہِ محبّت

اور اس کا قیس کو صدمہ نہیں ہے


ضرورت سے سوا رختِ سفر ہو

فقیری میں یہ کام اچھا نہیں ہے


کسی کی یاد میں بکھرا ہوا ہوں

کہ دھوکے سے یہ دل بیٹھا نہیں ہے


تماشا ختم ہونے جا رہا ہے

رضا کس آنکھ میں دریا نہیں ہے ؟


فیضان رضا


محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...