Urdu Deccan

Sunday, September 19, 2021

احمد علی برقی اعظمی

 یاد رفتگاں بیاد پروفیسر بیگ احساس

تاریخ پیداٸش : 10 اگست 1948

تاریخ وفات : 8 ستمبر 2021


بیگ احساس عہد حاضر کے تھےاک روشن ضمیر

شہرہ آفاق سب رس کے تھے وہ فاضل مدیر


تھے وہ دنیاٸے ادب میں مرجع اہل نظر

کام جو وہ کررہے تھے تھا وہ لانا جوٸے شیر


ان کے افسانے ہیں عصری کرب کے آٸینہ دار

اک صحافی بھی تھے اپنے عہد کے وہ بے نظیر


حیدرآبادی ثقافت کے علمبردار تھے

کارناموں سے تھے اپنے نازش بر صغیر


ان کے سینے میں دھڑکتا تھا دل درد آشنا

امن و صلح و آشتی کے تھے جہاں میں وہ سفیر


گلشن اردو میں ان کی ذات تھی مثل بہار

ان کےگلہاٸے مضامیں ہیں نہایت دلپذیر


"حنظل " و " دخمہ " ہیں ان کے فکر و فن کے شاہکار

ان کے ہیں عصری ادب میں جو نقوش بینظیر


متفق اس بات پر ہیں جملہ ارباب نظر

شخصیت میں ان کی تھا اردو نوازی کا خمیر


ان کی افسانہ نگاری سے عیاں ہے روح عصر

اس لٸے تعداد مداحوں کی ہے ان کے کثیر


اردو دنیا ان کی رحلت سے ہے برقی سوگوار

خلد میں ہو ان پہ نازل رحمت رب قدیر


احمد علی برقی اعظمی


پرویز کرار حسین

 یوم پیدائش 08 سپتمبر 1911


دیارِ دوست کو جاتے ہیں کارواں اب بھی 

دیارِ دوست کا ملتا نہیں نشاں اب بھی


بروئے خاک برھنہ میں ہڈیاں اب بھی

ہر اک بہار پہ ہے حشر کا گماں ابھی


نہ دل کی راکھ کریدو ، حذر کرو اس سے 

کہ دل کی راکھ سے بنتی ہیں بجلیاں اب بھی


بلوں میں چیونٹیوں کے امن ڈھونڈنے والو

ہوا کے دوش پہ اک تخت ہے رواں اب بھی


 

پروفیسر کرار حسین


سلیم تورانیہ

 یوم پیدائش 08 سپتمبر


ضبطِ غم بے بسی سے ٹوٹ گیا

میں خود اپنی خُودی سے ٹوٹ گیا


ذات کی برتری کا سارا غرور

ذات کی آگہی سے ٹوٹ گیا


بےوفائی کا مجھ کو دُکھ نہیں تھا

میں تری بے رُخی سے ٹوٹ گیا


یار ملتے تھے جس کی خاطر سب

وہ کھلونا کسی سے ٹوٹ گیا


ٹوٹتا ہی نہیں تھا وہ پتھر

پر مری شاعری سے ٹوٹ گیا


وہ ستارا تھا آسماں کا سلیم

آپ اپنی خوشی سے ٹوٹ گیا


سلیم تورانیہ


رخسانہ نکہت لاری ام ہانی

 یوم پیدائش 07 سپتمبر 1953


رہے گی داستاں باقی ہے جب تک یہ جہاں باقی 

کہیں باقی ہیں قصہ گو کہیں ہیں رازداں باقی 


عبث ہے فخر اے دل تجربوں کی آزمائش پر 

ابھی فردا کے انسانوں کی خاطر ہیں زماں باقی 


مکیں کتنے ہیں بے دیوار و در کے ان زمینوں پر 

نہیں ہے سر پہ گر سایہ تو کیا ہے آسماں باقی 


خزاں نے کر دیا برباد تیرا گلستاں تو کیا 

ابھی تو اس کی راہوں پر ہیں لاکھوں آشیاں باقی 


نہیں اچھا زبان حال سے آہ و بکا ٹپکیں 

ابھی ماضی کے لب پر ہی ہے کچھ شور فغاں باقی 


فریب وعدۂ فردا بہت ہی عارضی شے ہے 

رہیں گے عمر بھر اس دل پہ چوٹوں کے نشاں باقی 


گلہ تو کر نہ اپنی آبلہ پائی کا رو رو کر 

ہزاروں راستے باقی ہزاروں کارواں باقی 


ابھی سے اس طرح ہانیؔ نہ بیٹھو مطمئن ہو کر 

ابھی تو اور بھی دشوار تر ہیں امتحاں باقی


رخسانہ نکہت لاری ام ہانی


ظہور چوہان

 یوم پیدائش 07 سپتمبر 1971


دل سے دیکھوں تو وہی چہرہ نظر آتا ہے

جیسا ہوتا تھا کبھی ویسا نظر آتا ہے


اُس نے دو چار ہی آنسو تو بہائے مرے ساتھ

چلو کوئی تو یہاں زندہ نظر آتا ہے


برف ،جذبوں کی حرارت سے کہیں پگھلی ہے  

اور کہیں جاتا ہوا رستہ نظر آتا ہے 


شام ہوتے ہی اُبھرتے ہیں ترے وصل کے رنگ 

در و دیوار پہ سبزہ سا نظر آتا ہے


اُسکے ہوتے ہوئے پت جھڑ میں بھی کِھلتے ہیں گلاب

کوئی موسم ہو تر و تازہ نظر آتا ہے


اپنی ناکامی سمجھ کر جسے چھوڑ آیا ظہؔور   

کامیابی کا وہی زینہ نظر آتا ہے 


ظہوٓر چوہان


ہلال فرید

 یوم پیدائش 02 سپتمبر 1959


ہم خود بھی ہوئے نادم جب حرف دعا نکلا

سمجھے تھے جسے پتھر وہ شخص خدا نکلا


اس دشت سے ہو کر بھی اک سیل انا نکلا

کچھ برگ شجر ٹوٹے کچھ زور ہوا نکلا


الجھن کا سلجھ جانا اک خام خیالی تھی

جب غور کیا ہم نے اک پیچ نیا نکلا


اے فطرت صد معنی غالبؔ کی غزل ہے تو

جب حسن ترا پرکھا پہلے سے سوا نکلا


ہم پاس بھی جانے سے جس شخص کے ڈرتے تھے

چھو کر جو اسے دیکھا مٹی کا بنا نکلا


پھولوں میں ہلالؔ آؤ اب رقص خزاں دیکھیں

کانٹوں کے نگر میں تو ہر باغ ہرا نکلا


ہلال فرید


ناصرہ زبیری

 یوم پیدائش 06 سپتمبر


پھیلا ہر ایک سمت ہے بس اک جہان ہی

نیچے بھی اس زمین کے، ہے آسمان ہی


لڑتے تھے جس کے ساۓ کی تقسیم پر سبھی

حدت بڑھی تو جل گیا وہ سائبان ہی


اوروں کے آنگنوں کی ہوا روکتا تھا جو

آندھی کی زد میں آ گیا ہے وہ مکان ہی


ذھونڈیں گے ورنہ رات کو جنگل میں کوئی غار

ہے روشنی تو باندھ لیں کوئ مچان ہی


گویائی کی یہ شرط ہے ، ان کی کہیں ، تو پھر

اس سے تو ہم بھلے تھے کہیں بے زبان ہی


عجلت میں ہم تو خیر تھے مہمان کی طرح

کچھ دیر روک لیتے ہمیں میزبان ہی


برپا ہے جشن جیت کا تیری گلی میں جو

ہوتا مری شکست کے شایانِ شان ہی


ہیں مسئلے کچھ اور بھی جز عشق ، حل طلب

دیتا نہیں ہے دل مگر اس سمت دھیان ہی 


بارِ دگر کرم ہے نظر پھیرنے کے بعد

کافی تھا دل کو آپ کا اک امتحان ہی 


ناصرہ زبیری


منظور عارف

 یوم پیدائش 01 سپتمبر 1924


وہ وصل کی لذت میں گم ہے وہ سوز جدائی کیا جانے

وہ روگ پرایا کیا سمجھے وہ پریت پرائی کیا جانے


پروانۂ حسن کا شیدائی پاپی بھنورا رس کا لوبھی

چاہت کو سودائی سمجھے اس کو ہرجائی کیا جانے


محفل میں جسے معلوم نہیں احساس کی کروٹ کیا شے ہے

وہ دل کی سونی وادی میں غم کی انگڑائی کیا جانے


یہ خاک آلود جواں چہرے گل جن کی قسمیں کھاتے ہیں

جو آرائش پر مرتا ہو ان کی رعنائی کیا جانے


عارفؔ اپنا راز الفت یوں ہے جیسے منہ بند کلی

یہ بھید زمانہ کیا سمجھے یہ راز خدائی کیا جانے


منظور عارف


صادیق نسیم

 یوم پیدائش 01 سپتمبر 1924


اس اہتمام سے پروانے پیشتر نہ جلے

طواف شمع کریں اور کسی کے پر نہ جلے


ہوا ہی ایسی چلی ہے ہر ایک سوچتا ہے

تمام شہر جلے ایک میرا گھر نہ جلے


ہمیں یہ دکھ کہ نمود سحر نہ دیکھ سکے

سحر کو ہم سے شکایت کہ تا سحر نہ جلے


چراغ شہر نہیں ہم چراغ صحرا ہیں

کسے خبر کہ جلے اور کسے خبر نہ جلے


تری دلیل بجا پر یہ کیسے مانا جائے

شجر کو آگ لگے اور کوئی ثمر نہ جلے


شعور قرب کی یہ بھی ہے اک عجب منزل

ہم اس کو غیر کی محفل میں دیکھ کر نہ جلے


یہ شام مرگ تمنا کی شام ہے صادقؔ

کوئی چراغ کسی طاق چشم پر نہ جلے


صادق نسیم


جاوید عارف

 رہنما دوست معمار استاد ہے

قوم و ملت کو درکار استاد ہے


منزلوں سے کیا جس نے ہے آشنا

درحقیقت وہ سالار استاد ہے


زندگی کو نکالا ہے ظلمات سے 

ماہ و انجم سے ضوبار استاد ہے


ماں سے بڑھ کر کیا پیار اطفال کو

شفقتوں کا وہ گلزار استاد ہے

 

توڑ ڈالا جہالت کی زنجیر کو

علم کی ڈھال تلوار استاد ہے


درسِ اخلاص اب مکتبوں میں نہیں 

قوم سے آج بیزار استاد ہے


جاوید عارف


محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...