Urdu Deccan

Saturday, November 20, 2021

افتخار امام صدیقی

 یوم پیدائش 19 نومبر 1947


تو نہیں تو زندگی میں اور کیا رہ جائے گا

دور تک تنہائیوں کا سلسلہ رہ جائے گا


کیجئے کیا گفتگو کیا ان سے مل کر سوچئے

دل شکستہ خواہشوں کا ذائقہ رہ جائے گا


درد کی ساری تہیں اور سارے گزرے حادثے

سب دھواں ہو جائیں گے اک واقعہ رہ جائے گا


یہ بھی ہوگا وہ مجھے دل سے بھلا دے گا مگر

یوں بھی ہوگا خود اسی میں اک خلا رہ جائے گا


دائرے انکار کے اقرار کی سرگوشیاں

یہ اگر ٹوٹے کبھی تو فاصلہ رہ جائے گا


افتخار امام صدیقی


سرمد صہبائی

 یوم پیدائش 19 نومبر 1945


مرنے کا پتہ دے مرے جینے کا پتہ دے

اے بے خبری کچھ مرے ہونے کا پتہ دے


اک دوسرے کی آہٹوں پہ چلتے ہیں سب لوگ

ہے کوئی یہاں جو مجھے رستے کا پتہ دے


خود آپ سے بچھڑا ہوں میں اس اندھے سفر میں

اے تیرگی شب مرے سائے کا پتہ دے


اس آس پہ ہر آئینے کو جوڑ رہا ہوں

شاید کوئی ریزہ مرے چہرے کا پتہ دے


گزری ہے مری عمر سرابوں کے سفر میں

اے ریگ رواں اب کسی چشمے کا پتہ دے


ہر پل کسی آہٹ پہ مرے کان لگے ہیں

جیسے ابھی کوئی ترے آنے کا پتہ دے


بکھرا ہوا ہوں صدیوں کی بے انت تہوں میں

مجھ کو کوئی کھوئے ہوئے لمحے کا پتہ دے


دہلیز دلاسا ہے نہ دیوار اماں ہے

اے در بدری میرے ٹھکانے کا پتہ دے


ہوں قید حصار رگ گرداب میں سرمدؔ

کوئی نہیں جو مجھ کو کنارے کا پتہ دے


سرمد صہبائی


واحد کشمیری

 دِل ! آن بان شان یہ اردو زبان ہے

جذبوں کی ترجمان یہ اردو زبان ہے


لمحوں میں اپنے حسن کے جلوے نکھارتی

صدیوں پہ مہر بان یہ اردو زبان ہے


آداب و احترام کے نازوں سے ہے پلی

غالب کی روح و جان یہ اردو زبان ہے


اخلاص کی بلندیاں ربط و ادابھی ہے

ہر باب آسمان یہ اردو زبان ہے


حرفوں میں اسکے عطر یے لفظوں میں چاشنی

نظموں کی پاسبان یہ اردو زبان یے


تہذیب لکھنوی ہے یہ شانِ دکن بھی ہے

گلزارِ گلستان یہ اردو زبان ہے


تاثیر راگ راگنی عکسِ غزل بھی یے

قوموں پہ سائبان یہ اردو زبان ہے


لفظوں کی طرحیں ڈال کے واحد نے جو کہی

خالص وہ نکتہ دان یہ اردو زبان ہے


واحد کشمیری


اعجاز رحمانی

 کام کیا نفرت نے اپنا عشق نے اپنا کام کیا

 دار و رسن کو تم نے سجایا سر ہم نے نیلام کیا

 

 ایسے بھی کچھ راہ طلب میں ہم نے مسافر دیکھے ہیں

 دھوپ سے ہمت ہار گئے تو سائے کو بدنام کیا

 

 وقت یہ سب سے پوچھ رہا ہے جہدو عمل کی منزل میں

کس کس نے تلوار اٹھائی کس کس نے آرام کیا

 

 ایک ہی صورت باقی تھی سو ہم نے کیا یوں غم کا علاج

 چھوڑ دیا ساقی کو ہم نے ٹکڑے ٹکڑے جام کیا

 

 ہم نے فصیل شہر ستم پر دیپ جلا کر زخموں کے 

سورج کو زحمت سے بچایا ظلمت کو ناکام کیا


اعجاز رحمانی


وحشت رضا کلکتوی

 یوم پیدائش 18 نومبر 1881


یہاں ہر آنے والا بن کے عبرت کا نشاں آیا

گیا زیر زمیں جو کوئی زیر آسماں آیا


نہ ہو گرم اس قدر اے شمع اس میں تیرا کیا بگڑا

اگر جلنے کو اک پروانۂ آتش بجاں آیا


خدا جانے ملا کیا مجھ کو جا کر ان کی محفل میں

کہ باصد نامرادی بھی وہاں سے شادماں آیا


جمایا رنگ اپنا میں نے مٹ کر تیرے کوچے میں

یقین عشق میرا اب تو تجھ کو بدگماں آیا


نہ ہو آزردہ تو آزردگی کا کون موقع ہے

اگر محفل میں تیری وحشتؔ آزردہ جاں آیا


وحشتؔ رضا علی کلکتوی


غلام عباس

 یوم پیدائش 17نومبر 1909


ہم نے بطخ کے چھ انڈے 

اک مرغی کے نیچے رکھے 


پھوٹے انڈے پچیس دن میں 

بول رہے تھے بچے جن میں 


بچے نکلے پیارے پیارے 

مرغی کی آنکھوں کے تارے 


رنگ تھا پیلا چونچ میں لالی 

آنکھیں ان کی کالی کالی 


چونچ تھی چوڑی پنجہ چپٹا 

باقی چوزوں کا سا نقشہ 


بچے خوش تھے مرغی خوش تھی

ہم بھی خوش تھے وہ بھی خوش تھی 


مرغی چگتی کٹ کٹ کرتی 

لے کے ان کو باغ میں پہنچی 


جمع ہوئے واں بچے اس دم 

کوثر تاشی نیلو مریم 


کوثر جو تھی چھوٹی بچی 

بھولی بھالی عقل کی کچی 


اس نے جھٹ اک چوزہ لے کر 

پھینک دیا تالاب کے اندر 


کی یہ شرارت اس پھرتی سے 

رہ گئے ہم سب نہ نہ کہتے 


چوزہ جو تھا ننھا منا 

ہم سمجھے بس اب یہ ڈوبا 


لیکن صاحب وہ چوزہ تو 

کر گیا حیراں پل میں سب کو 


پانی سے کچھ بھی نہ ڈرا وہ 

پہلے جھجکا پھر سنبھلا وہ 


خوب ہی تیرا چھپ چھپ کر کے 

چونچ میں اپنی پانی بھر کے 


بچوں نے پھر باقی چوزے 

ڈال دیے تالاب میں سارے 


ہونے لگی پھر خوب غڑپ غپ 

چھپ چھپ چھپ چھپ چھپ چھپ چھپ چھپ 


مرغی کانپی ہول کے مارے 

جا پہنچی تالاب کنارے 


کٹ کٹ کر کے ان کو بلایا 

اک بھی بچہ پاس نہ آیا 


شاید وہ سمجھے نہیں بولی 

بڑھ گئی آگے ان کی ٹولی


غلام عباس


احمد علی برقی اعظمی

 اردو ہے امتزاجی روایت کی پاسدار


اردو ہے امتزاجی روایت کی پاسدار

یہ اتحاد فکر و نظر کی ہے یادگار


اردو زباں ہے جملہ زبانوں کا امتزاج

جس کا ادب ہے مظہرِ روداد روزگار


جمہوریت کی آج یہ زندہ مثال ہے

الفاظ ہر زبان کے ہیں اس میں بے شمار


اردو ادب کو جن پہ ہمیشہ رہے گا ناز

سرسید اور حالی تھے وہ فخر روزگار


شعرالعجم ہو شبلی کی یا سیرت النبی

عالم میں انتخاب ہیں اردو کے شاہکار


دنیا پہ آشکار ہے آج اس کی آب و تاب

غالب نے شعر و نثر کو بخشا ہے جو وقار


سوزِ دروں ہے میر کا اک محشرِ خیال

ہے شاعری نظیر کی آشوب روزگار


تھی داغ دہلوی کی زباں سہلِ ممتنع

تھے میر انیس مرثیہ گوئی کے شہریار


اردو ادب میں جس کی نہیں ہے کوئی مثال

اقبال کا کلام ہے وہ در شاہوار


برق اعظمی ہوں ، فیض ہوں ، احمد فراز ہوں

عہدِ رواں میں گلشنِ اردو کی تھے بہار


آزاد ہے یہ مذہب و ملت کی قید سے

ہر جا ملیں گے آپ کو اردو کے جاں نثار


منشی نولکشور ہوں یا سرکشن پرساد

طرزِ عمل سے اپنے تھے اردو کے پاسدار


چکبست ہوں ، فراق ہوں ، ملا ہوں یا نسیم

اردو کے جاں نثاروں کی لمبی ہے اک قطار


ہے اقتضائے وقت کہ اردو ہو سرخرو

ماحول آؤ مل کے کریں اس کا سازگار


عہدِ رواں میں اردو ہے اک عالمی زباں

مداح جس کے برقی ہیں دنیا میں بے شمار


احمد علی برقی اعظمی


حسین ماجد

 یوم پیدائش 15 نومبر 1947


طوفاں کوئی نظر میں نہ دریا ابال پر 

وہ کون تھے جو بہہ گئے پربت کی ڈھال پر 


کرنے چلی تھی عقل جنوں سے مباحثے 

پتھر کے بت میں ڈھل گئی پہلے سوال پر 


میرا خیال ہے کہ اسے بھی نہیں ثبات 

جاں دے رہا ہے سارا جہاں جس جمال پر 


لے چل کہیں بھی آرزو لیکن زبان دے 

ہرگز نہ خون روئے گی اپنے مآل پر 


ماجدؔ خدا کے واسطے کچھ دیر کے لیے 

رو لینے دے اکیلا مجھے اپنے حال پر


حسین ماجد


رشید احمد

 یوم پیدائش 01 جنوری 1959


اپنے آنگن میں اندھیرا نہیں ہونے دیتے

میرے بچے مجھے تنہا نہیں ہونے دیتے


تیری آواز کی ہر تان لئے پھرتے ہیں

شہرِ خاموش کو رسوا نہیں ہونے دیتے


تشنگی میں بھی انا کو ہیں سلامت رکھتے  

اپنی گردش کو پیالا نہیں ہونے دیتے 


بسکہ اتنا ہی کہوں گا کہ مرے شہر کے لوگ

ایسے کافر ہیں سویرا نہیں ہونے دیتے


عالمِ وجد میں بھی آنکھ کھلی رکھتے ہیں

اپنے جوبن کا نظارہ نہیں ہونے دیتے


مر تو جاتے ہیں مگر گھر کی حفاظت کے لئے

اپنی دیوار کو رستہ نہیں ہونے دیتے


گھر کے حالات ہوں یا کوئی بھی غم ناکی ہو

شہر والوں کو شناسا نہیں ہونے دیتے


دل کے داغوں کو بھی رکھتے ہیں چھپا کے ہر دم

اپنے زخموں کا تماشا نہیں ہونے دیتے


رشید احمد


شاہد جمال

 یوم پیدائش 17 نومبر 1963


دل سلگ اٹھے تو یوں شام و سحر تکلیف دے

جیسے مزدوروں کو جلتی دوپہر تکلیف دے


آج کی دنیا میں بخشا جائے کس کو اعتبار

جو بھی ہو جائے ذرا سا معتبر تکلیف دے


وہ کب آسانی سے ہوتا ہے کسی کو دستیاب

اس کی جانب جائے جو بھی رہ گزر تکلیف دے


زندگی میں جانے انجانے کوئی بھی فیصلہ

ہم سے ہو جائے غلط تو عمر بھر تکلیف دے


فون کی گھنٹی بجے یا ٹیلی ویژن آن ہو

آب کہیں سے آئے کوئی بھی خبر تکلیف دے


شاہد جمال


محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...