Urdu Deccan

Friday, December 17, 2021

جگن ناتھ آزاد

 یوم پیدائش 05 دسمبر 1918

 ​

 سلام اُس ذاتِ اقدس پر، سلام اُس فخرِ دوراں پر​

 ہزاروں جس کے احسانات ہیں دنیائے امکاں پر​

 ​

 سلام اُس پر جو حامی بن کے آیا غم نصیبوں کا​

 رہا جو بیکسوں کا آسرا، مشفق غریبوں کا​

 ​

 سلام اُس پر جو آیا رحمۃ اللعالمیں بن کر​

 پیامِ دوست لے کر، صادق الوعد و امیں بن کر​

 ​

 سلام اُس پر کہ جس کے نور سے پُرنور ہے دنیا​

 سلام اُس پر کہ جس کے نطق سے مسحور ہے دنیا​

 ​

 سلام اُس پر کہ جس نے بے زبانوں کو زباں بخشی​

 سلام اُس پر کہ جس نے ناتوانوں کو تواں بخشی​

 ​

 سلام اُس پر جلائی شمعِ عرفاں جس نے سینوں میں​

 کیا حق کے لیے بے تاب سجدوں کو جبینوں میں​

 ​

 سلام اُس پر بنایا جس نے دیوانوں کو فرزانہ​

 مئے حکمت کا چھلکایا جہاں میں جس نے پیمانہ​

 ​

 بڑے چھوٹے میں جس نے اک اخوت کی بِنا ڈالی​

 زمانے سے تمیزِ بندہ و آقا مٹا ڈالی​

 ​

 سلام اُس پر فقیری میں نہاں تھی جس کی سلطانی​

 رہا زیرِ قدم جس کے شکوہ و فرِ خاقانی​

 ​

 سلام اُس پر جو ہے آسودہ زیرِ گنبدِ خضرا​

 زمانہ آج بھی ہے جس کے در پر ناصیہ فرسا​

 ​

 سلام اُس پر کہ جس نے ظلم سہہ سہہ کر دعائیں دیں​

 وہ جس نے کھائے پتھر، گالیاں اِس پر دعائیں دیں​

 ​

 سلام اُس ذاتِ اقدس پر حیاتِ جاودانی کا​

 سلام آزاد کا، آزاد کی رنگیں بیانی کا​

 ​

 جگن ناتھ آزاد


جوش ملیح آبادی

 یوم پیدائش 05 دسمبر 1898

نعت


اے مسلمانو مبارک ہو نویدِ فتح یاب

لو وہ نازل ہورہی ہے چرخ سے ام الکتاب

وہ اٹھے تاریکیوں کے بامِ گردوں سے حجاب

وہ عرب کے مطلعِ روشن سے ابھرا آفتاب


گم ضیائے صبح میں‌شب کا اندھیرا ہوگیا

وہ کلی چٹکی ، کرن پھوٹی سویرا ہوگیا


خسروَ خاور نے پہنچا دیں شعائیں دور دور

دل کھلے شاخیں ہلیں ، شبنم اڑی ، چھایا سرور

آسماں روشن ہوا ، کانپی زمیں پر موج ِ نور

پَو پھٹی ، دریا بہے، سنکی ہوا ، چہکے طہور


نورِ حق فاران کی چوٹی کو جھلکا نے لگا

دلبری سے پرچمِ اسلام لہرانے لگا


گرد بیٹھی کفر کی ، اٹھی رسالت کی نگاہ

گرگئے طاقوں سے بُت، خم ہوگئی پشتِ گناہ

چرخ سے آنے لگی پیہم صدائے لا الہٰ

ناز سے کج ہوگئی آدم کے ماتھے پر کلاہ


آتے ہی‌ ساقی کے ، ساغر آگیا ، خم آگیا

رحمتِ یزداں کے ہونٹوں پر تبسم آگیا


آگیا جس کا نہیں ہے کوئی ثانی وہ رسولؐ

روحِ فطرت پر ہے جس کی حکمرانی وہ رسولؐ

جس کا ہر تیور ہے حکمِ آسمانی وہ رسولؐ

موت کو جس نے بنا یا زندگانی وہ رسولؐ


محفلِ سفاکی و وحشت کو برہم کردیا

جس نے خون آشام تلواروں کو مرہم کردیا


فقر کو جس کے تھی حاصل کج کلاہی وہ رسولؐ

گلہ بانو ں‌ کو عطا کی جس نے شاہی وہ رسولؐ

زندگی بھر جو رہا بن کر سپاہی وہ رسولؐ

جس کی ہر اک سانس قانونِ الٰہی وہ رسولؐ


جس نے قلبِ تیرگی سے نور پیدا کردیا

جس کی جاں‌بخشی نے مُردوں کو مسیحا کردیا


واہ کیا کہنا ترا اے آخری پیغامبر

حشر تک طالع رہے گی تیرے جلووں کی سحر

تونے ثابت کردیا اے ہادیء نوعِ‌ بشر

مرد یوں مہریں لگا تے ہیں جبین ِ وقت پر


کروٹیں دنیا کی تیرا قصر ڈھا سکتی نہیں

آندھیا ں تیرے چراغوں کو بجھا سکتی نہیں


تیری پنہا ں قوتوں سے آج بھی دنیا ہے دنگ

کس طرح تو نے مٹا یا امتیازِ نسل و رنگ

ڈال دی تونے بِنائے ارتباطِ جام و سنگ

بن گیا دنیا میں تخیل ِ اخوت ذوقِ جنگ


تیرگی کو روکشِ مہرِ درخشاں کردیا

تونے جس کانٹے کو چمکا یا گلستا ں کردیا


جوش ملیح آبادی


Saturday, December 4, 2021

نوید صادق

 یوم پیدائش 04 دسمبر 1971


وہ جس نے ایک زمانے کو ٹال رکھا ہے

اسی کی میز پہ میرا سوال رکھا ہے


وہ ایک لمحہ جسے میں نے سرسری جانا

سنا ہے اس نے ابھی تک سنبھال رکھا ہے


یہ دیکھ لے کہ ترے بعد بھی میں زندہ ہوں

یہ دیکھ لے کہ ترا بھی خیال رکھا ہے


کبھی تو سوچ، ترے آس پاس رہ کر بھی

تری طلب نے مجھے کیوں نڈھال رکھا ہے


نوید صادق


انور سدید

 یوم پیدائش 04 دسمبر 1928


حد نظر سے مرا آسماں ہے پوشیدہ

خیال و خواب میں لپٹا جہاں ہے پوشیدہ


چلا میں جانب منزل تو یہ ہوا معلوم

یقیں گمان میں گم ہے گماں ہے پوشیدہ


پلک پہ آ کے ستارے نے داستاں کہہ دی

جو دل میں آگ ہے اس کا دھواں ہے پوشیدہ


افق سے تا بہ افق ہے سراب پھیلا ہوا

اور اس سراب میں سارا جہاں ہے پوشیدہ


ستارہ کیا مجھے افلاک کی خبر دے گا؟

نظر سے اس کی تو میرا جہاں ہے پوشیدہ


تو خود ہے خوار و زبوں حرص و آز دنیا میں

کھلے گا تجھ پہ کہاں جو جہاں ہے پوشیدہ


میں آنکھ کھول کے تکتا ہوں دور تک انورؔ

کہ ڈھونڈ لوں جو مرا آشیاں ہے پوشیدہ


انور سدید


ذوالفقار علی ذلفی

 سامنے تم کو بِٹھا کر یار لِکھوں گا کبھی

میں تمہارے حُسن پر اَشعار لِکھوں گا کبھی


اپنی غزلوں میں تمہارا رنگ بھرنے کے لیے

شعر تم کو دیکھ کر دو چار لِکھوں گا کبھی


بات دل کی تم سے کوئی بھی چُھپاؤں گا نہیں

جس قدر تم سے ہُوا ہے پیار لِکھوں گا کبھی


میں کبھی لِکھوں گا تم کو چاند تاروں کا بدل

اور پُھولوں کی تمہیں مہکار لِکھوں گا کبھی


اِک نظر میں ہی تمہاری مسکراہٹ جس طرح

چھیڑ دیتی ہے دِلوں کے تار لِکھوں گا کبھی


رو پڑیں گے پڑھ کے اُس کو پھر دریدہ دل سبھی

داستانِ ہِجر یوں اِک بار لِکھوں گا کبھی


چاہے ذُلفی جو مِلے مجھ کو محبت کی سزا

نام تیرا اب سرِِ دیوار لِکھوں گا کبھی


ذوالفقار علی ذُلفی


سرور جہاں آبادی

 یوم پیدائش 03 دسمبر 1973


بہ خدا عشق کا آزار برا ہوتا ہے

روگ چاہت کا برا پیار برا ہوتا ہے


جاں پہ آ بنتی ہے جب کوئی حسیں بنتا ہے

ہائے معشوق طرحدار برا ہوتا ہے


یہ وہ کانٹا ہے نکلتا نہیں چبھ کر دل سے

خلش عشق کا آزار برا ہوتا ہے


ٹوٹ پڑتا ہے فلک سر پہ شب فرقت میں

شکوۂ چرخ ستم گار برا ہوتا ہے


آ ہی جاتی ہے حسینوں پہ طبیعت ناصح

سچ تو یہ ہے کہ دلِ زار برا ہوتا ہے


سرور جہاں آبادی


حضرت ابو الفضل سید محمود قادری

 یوم پیدائش 03 دسمبر 1911


شانِ در محبوبِ خدا اور ہی کچھ ہے

دربارِ محمد بخدا اور ہی کچھ ہے


چھائی ہوئی ہیں رحمتِ باری کی گھٹائیں

اس شہرِ محبت کی فضا اور ہی کچھ ہے


دے دیتے ہیں سائل کو زباں کھلنے سے پہلے

سرکار کا اندازِ عطا اور ہی کچھ ہے


جب ان پہ نظر پڑتی ہے یاد آتے ہیں آقا

عشاقِ محمد کی ادا اور ہی کچھ ہے


ہیں دونوں جہاں اس کی تجلیّ سے منوّر

خورشیدِ نبوت کی ضیا اور ہی کچھ ہے


جابر نے کہا دیکھا جو حسنِ مہِ کامل

حسنِ شہہِ لُولاک لما اور ہی کچھ ہے


جنت تو جزا ہے عملِ نیک کی لیکن

عشقِ شہہِ طیبہ کا صلہ اور ہی کچھ ہے


دم ٹوٹے تو انؐ کے قدمِ ناز پہ ٹوٹے

یوں مرنے کا محمود مزا اور ہی کچھ ہے


حضرت ابو الفضل سید محمود قادری


Thursday, December 2, 2021

نصیر پرواز

 یوم پیدائش 01 دسمبر 1940


صدیوں کو راستے دکھا لمحوں کو سازگار کر

دل کو بنا چراغِ شب سورج کو شرمسار کر


 شکر ، سکوں نصیبِ جاں ، صبر، حیات رائیگاں

 سوزِ طریق زندگی لمحوں یہ اختیار کر

 

 ان کے بغیر روح کو کیسے ملے کھلی فضا

 آگ کو ہم زباں بنا دریا کو راز دار کر

 

 مل جاؤں راہ میں اگر یہ بھی ترا نصیب ہے

 میں نے یہ تجھ سے کب کہا تو میرا انتظار کر

 

 دیکھ یہیں کہیں ہوں میں سوچ کہیں نہیں ہوں میں

 اچھا ہے اپنے ذہن سے رکھ دے مجھے اتار کر

 

 یادیں کبھی بھلا چکے، نقشِ وفا مٹا چکے

 اب تو شکستہ دائرے فکر کے بے حصار کر

 

 ایسا نہ ہو کہ راستے سارا حساب پوچھ لیں

 راز ِشکستِ آرزو سب پر نہ آشکار کر

 

 کربِ تلاشِ ذات کو تازہ ہوا سے دور رکھ 

 آیا ہوں تیرے سامنے سارے سوال ہار کر

 

 اتریں گی آسمان سے اک دن زمیں پہ راحتیں

 دن کو بھی رکھ نگاہ میں شب پر بھی اعتبار کر

 

نصیر پرواز


انشا اللہ خاں انشا


 یوم پیدائش 01 دسمبر 1752


کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں

بہت آگے گئے باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں


نہ چھیڑ اے نکہت باد بہاری راہ لگ اپنی

تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بے زار بیٹھے ہیں


خیال ان کا پرے ہے عرش اعظم سے کہیں ساقی

غرض کچھ اور دھن میں اس گھڑی مے خوار بیٹھے ہیں


بسان نقش پائے رہرواں کوئے تمنا میں

نہیں اٹھنے کی طاقت کیا کریں لاچار بیٹھے ہیں


یہ اپنی چال ہے افتادگی سے ان دنوں پہروں

نظر آیا جہاں پر سایۂ دیوار بیٹھے ہیں


کہیں ہیں صبر کس کو آہ ننگ و نام ہے کیا شے

غرض رو پیٹ کر ان سب کو ہم یک بار بیٹھے ہیں


کہیں بوسے کی مت جرأت دلا کر بیٹھیو ان سے

ابھی اس حد کو وہ کیفی نہیں ہشیار بیٹھے ہیں


نجیبوں کا عجب کچھ حال ہے اس دور میں یارو

جسے پوچھو یہی کہتے ہیں ہم بے کار بیٹھے ہیں


نئی یہ وضع شرمانے کی سیکھی آج ہے تم نے

ہمارے پاس صاحب ورنہ یوں سو بار بیٹھے ہیں


کہاں گردش فلک کی چین دیتی ہے سنا انشاؔ

غنیمت ہے کہ ہم صورت یہاں دو چار بیٹھے ہیں


انشا اللہ خاں انشا

ڈاکٹر ضمیر اترولی

 یوم پیدائش 02 دسمبر 1959


ایک انجان مسافر کی طرح رہتا ہوں

جسم میں جاں کے عناصر کی طرح رہتا ہوں


دیکھتا ہے جو مجھے مجھ میں ہی کھو جاتا ہے

میں کہ رنگین مناظر کی طرح رہتا ہوں


میرے باطن کا کوئی راز کبھی بھی نہ کھلا

میں نہاں ہو کہ بھی ظاہر کی طرح رہتا ہوں


اڑ کے جانا ہے کسی روز مجھے گھر اپنے

نور کی بوند ہوں طائر کی طرح رہتا ہوں


سادگی سے میں کیا کرتا ہوں حالات کو خوش

وقت کی نبض کے ماہر کی طرح رہتا ہوں


شعر کہنے کا سلیقہ تو نہیں آتا ضمیر

لوگ کہتے ہیں کہ شاعر کی طرح رہتا ہوں


ڈاکٹر ضمیر اترولی


محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...