Urdu Deccan

Friday, December 17, 2021

رفیعہ شبنم عابدی

 یوم پیدائش 07 دسمبر 1943


خود فریبی ہے دغا بازی ہے عیاری ہے

آج کے دور میں جینا بھی اداکاری ہے


تم جو پردیس سے آؤ تو یقیں آ جائے

اب کے برسات یہ سنتے ہیں بڑی پیاری ہے


میرے آنگن میں تو کانٹے بھی ہرے ہو نہ سکے

اس کی چھت پہ تو مہکتی ہوئی پھلواری ہے


چوڑیاں کانچ کی قاتل نہ کہیں بن جائیں

سحر انگیز بڑی ان کی گلوکاری ہے


کاش بجلی کوئی چمکے کوئی بادل برسے

آج کی شام زمینوں پہ بہت بھاری ہے


کھا گئی گرمئ جذبات کو رسموں کی ہوا

آج ہر شخص فقط برف کی الماری ہے


میں بھی رادھا سے کوئی کم تو نہیں ہوں شبنمؔ

سانولے رنگ کا میرا بھی تو گردھاری ہے


رفیعہ شبنم عابدی


علی اختر صفدر ہاشمی

 یوم پیدائش 05 دسمبر


کس خطا کی وہ سزا ہم کو دیا کرتے ہیں 

بیٹھ کر گوشے میں نظروں سے چھپا کرتے ہیں 


مجھ سے رودادِ شبِ ہجر نہ پوچھو ہمدم 

رات دن ہجر میں مر مر کے جیا کرتے ہیں 


پہلے ملتے تھے تو ملتے تھے بڑی الفت سے 

اب خدا جانے وہ کیوں مجھ سے حیا کرتے ہیں 


بے خودی نے ہمیں کس موڑ پہ چھوڑا لا کر

چھوڑ کر گھر کسی صحرا میں رہا کرتے ہیں 


چوٹ کھائی ہے بڑی ہم نے دلِ مضطر پر 

غم غلط کرنے کو ہم جام پیا کرتے ہیں 


واہ کیا خوب ادا سوجھی ہے ان کو یارو 

چاکِ گل کو رگِ بلبل سے سیا کرتے ہیں 


عشق کا راز کہاں ہم پہ کھلا ہے صفدر 

کس لئے شمع پہ پروانے جلا کرتے ہیں


علی اختر صفدر ہاشمی


فرحت بلتی

 یوم پیدائش 06 دسمبر


پوچھتے کیا ہو کہ اب میرا کوئی حال نہیں

اب سفیدی ہی کہاں سر پہ کوئی بال نہیں


اب تو تحفے میں نئی چیز کوئی دوں گا تجھے

اب تو میں جان ہی دوں گا کوئی رومال نہیں


یہ اذیت بھی عجب ہے کہ نئے دور میں اب

کوئی میسج بھی نہیں یار کوئی کال نہیں


سجدہ کرتے ہوئے اب شرم یہ آتی ہے مجھے

جن پہ رب خوش ہو مرے ایسے بھی اعمال نہیں


رونقیں تم سے تھیں اے جانِ جگر لوٹ کے آ

اب ترے بن ترے فرحت کا کوئی حال نہیں


فرحت بلتی


جدت اسلوبی

 یوم پیدائش 6 دسمبر


در بدر بھٹکا کیے اور یہاں تک پہنچے

خود کو پانے کے لئے پیر مغاں تک پہنچے


 وہ بھی دن تھا کہ مکمل تھا بھروسہ مجھ پر

 مرحلے اس کی محبت کے گماں تک پہنچے

 

 گھر سے نکلے ہوئے دو لمحے ہی گزرے تھے ابھی

 پوچھتے وہ ہیں کہ اب آپ کہاں تک پہنچے

 

 اس کی آنکھوں کا نشہ چھایا ہے ہم پر ایسا

 گرتے پڑتے ہوئے ہم اپنے مکاں تک پہنچے

 

 میری کوشش ہے رہے امن جہاں میں قائم

 "میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے"

 

 قبل اس کے وہ رہا کرتے تھے میرے دل میں

 جب ہوا عشق تو وہ آفت جاں تک پہنچے

 

 جو رہا کرتے تھے خوابوں میں ہمیشہ میرے

 آج یہ حال ہے وہ بھی رگ جاں تک پہنچے

 

 اپنے جدت کو تغافل سے نہ دیکھا کیجے

 آپ کے عشق میں ہم سوز نہاں تک پہنچے

 

جدت اسلوبی


طاہر بنارسی

 یوم پیدائش 06 دسمبر


ہم سدا جن سے وفا کرتے رہے

اف جفا پر وہ جفا کرتے رہے


جب تیری یادوں کا بادل چھا گیا

دل جلا کر رت جگا کرتے رہے


ہو نہ جائے عشق میں بدنام وہ

سو ہم ان سے فاصلہ کرتے رہے


نام لے لے کر تیرا اے ہم نشیں

راستہ طے زیست کا کرتے رہے


قرض سانسوں کا چکا کر دن بہ دن

زندگی کا حق ادا کرتے رہے


گل سمجھ کے جس کو تھا طاہر چنا

خار بن کر وہ چبھا کرتے رہے


طاہر بنارسی


ساحل شاہجہانپوری

 یوم پیدائش 06 دسمبر 1941


چمن میں بھی نہیں اب لطفِ آزادی ہمیں حاصل

کبھی صیاد کا ڈر ہے کبھی گلچیں کا کھٹکا ہے


ساحل شاہجہانپوری


سعود عثمانی

 یوم پیدائش 06 دسمبر 1961


حساب ترک تعلق تمام میں نے کیا

شروع اس نے کیا اختتام میں نے کیا


مجھے بھی ترک محبت پہ حیرتیں ہیں رہیں

جو کام میرا نہیں تھا وہ کام میں نے کیا


وہ چاہتا تھا کہ دیکھے مجھے بکھرتے ہوئے

سو اس کا جشن بصد اہتمام میں نے کیا


بہت دنوں مرے چہرے پہ کرچیاں سی رہیں

شکست ذات کو آئینہ فام میں نے کیا


بہت دنوں میں مرے گھر کی خاموشی ٹوٹی

خود اپنے آپ سے اک دن کلام میں نے کیا


خدائے ضبط نے موسم پہ قدرتیں بخشیں

غبار تند کو آہستہ گام میں نے کیا


اس ایک ہجر نے ملوا دیا وصال سے بھی

کہ تو گیا تو محبت کو عام میں نے کیا


مزاج غم نے بہر طور مشغلے ڈھونڈے

کہ دل دکھا تو کوئی کام وام میں نے کیا


چلی جو سیل رواں پر وہ کاغذی کشتی

تو اس سفر کو محبت کے نام میں نے کیا


وہ آفتاب جو دل میں دہک رہا تھا سعودؔ

اسے سپرد شفق آج شام میں نے کیا


سعود عثمانی


منظر علی سید

 یوم پیدائش:- 5 ڈسمبر 1929


بہت نحیف ہے طرز فغاں بدل ڈالو

نظام دہر کو نغمہ گراں بدل ڈالو 


دل گرفتہ تنوع ہے زندگی کا اصول

مکاں کا ذکر تو کیا لا مکاں بدل ڈالو 


نہ کوئی چیز دوامی نہ کوئی شے محفوظ

یقیں سنبھال کے رکھو گماں بدل ڈالو 


نیا بنایا ہے دستور عاشقی ہم نے

جو تم بھی قاعدۂ دلبراں بدل ڈالو 


اگر یہ تختۂ گل زہر ہے نظر کے لیے

تو پھر ملازمت گلستاں بدل ڈالو 


جو ایک پل کے لیے خود بدل نہیں سکتے

یہ کہہ رہے ہیں کہ سارا جہاں بدل ڈالو 


تمہارا کیا ہے مصیبت ہے لکھنے والوں کی

جو دے چکے ہو وہ سارے بیاں بدل ڈالو 


مجھے بتایا ہے سیدؔ نے نسخۂ آساں

جو تنگ ہو تو زمیں آسماں بدل ڈالو


مظفر علی سید


نجمہ شاہین کھوسہ

 یوم پیدائش 05 دسمبر 1973


درد کابوجھ ترے شہر سے لائے ہوئے لوگ

اب کہاں جائیں یہ زخموں کوسجائے ہوئے لوگ


ہیں اس آسیب کے ہر روپ سے انجان ابھی

یہ جو ہیں عشق حقیقت کوبھلائے ہوئے لوگ


کون کہتا ہے کہ زندہ ہیں بظاہر زندہ

روح کا بوجھ بدن میں ہی اٹھائے ہوئے لوگ


بنتے جاتے ہیں یہ تصویر گئے وقتوں کی

ہجرکے روگ کوسینے سے لگائے ہوئے لوگ


وہ جو کٹیا تھی جہاں عشق بسیرا تھا کبھی

وحشتوں کے ہیں وہاں اب تو ستایے ہوئے لوگ


ہیں یہی جن سے سلامت ہے محبت کاوجود

پھول پتھرمیں وفاؤں کے کھلائے ہوئے لوگ


حال پوچھونہ کبھی بچھڑے دلوں کاشاہیں

اپنے لاشوں کوہیں شانوں پہ اٹھائے ہوئے لوگ


نجمہ شاہین کھوسہ


ساگر اعجاز

 یوم پیدائش 05 دسمبر


نہ جنگِ اُحد، نہ خیبر، کوئی ، بدر، بھی نہیں

یہ دل میں کون سی ہے جنگ؟ کچھ خبر بھی نہیں


یہ قید و بند ، سلاسل، کی کس لیے زحمت ؟

ابھی تو پاس میرے توشَۂ مَفَر بھی نہیں


تری بقا کا ہوں شاعر، اے میرے پیارے وطن،

تو کیا ہوا جو مرے پاس اپنا گھربھی نہیں


تھکے ہوے سے مسافر، کو تھوڑا سونے دو

بخیر کوئٰی سفر، ساتھ ہم سفر بھی نہیں


ہمیشہ جیت کے مانی ہے ہار، اپنوں میں

گو ہار اپنا مقدرنہیں،ظفر بھی نہیں


میں اپنے غم کا خلاصہ نہ لکھ سکا اِس میں

وگرنہ قصَّۂ افلاس مختصر بھی نہیں


بھلا کہاں پہ اُگائیں ؟ غزل کے گُل ساگر 

ہمارے شہرِ تغزل میں بحر و بَر بھی نہیں


ساگراعجاز


محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...