Urdu Deccan

Friday, December 17, 2021

جون ایلیا

 یوم پیدائش 14 دسمبر 1925


ہجر کی آنکھوں سے آنکھیں تو ملاتے جائیے

ہجر میں کرنا ہے کیا یہ تو بتاتے جائیے


بن کے خوشبو کی اداسی رہیے دل کے باغ میں

دور ہوتے جائیے نزدیک آتے جائیے


جاتے جاتے آپ اتنا کام تو کیجے مرا

یاد کا سارا سر و ساماں جلاتے جائیے


رہ گئی امید تو برباد ہو جاؤں گا میں

جائیے تو پھر مجھے سچ مچ بھلاتے جائیے


زندگی کی انجمن کا بس یہی دستور ہے

بڑھ کے ملیے اور مل کر دور جاتے جائیے


آخرش رشتہ تو ہم میں اک خوشی اک غم کا تھا

مسکراتے جائیے آنسو بہاتے جائیے


وہ گلی ہے اک شرابی چشم کافر کی گلی

اس گلی میں جائیے تو لڑکھڑاتے جائیے


آپ کو جب مجھ سے شکوا ہی نہیں کوئی تو پھر

آگ ہی دل میں لگانی ہے لگاتے جائیے


کوچ ہے خوابوں سے تعبیروں کی سمتوں میں تو پھر

جائیے پر دم بہ دم برباد جاتے جائیے


آپ کا مہمان ہوں میں آپ میرے میزبان

سو مجھے زہر مروت تو پلاتے جائیے


ہے سر شب اور مرے گھر میں نہیں کوئی چراغ

آگ تو اس گھر میں جانانہ لگاتے جائیے


جون ایلیا


ارشد شرفی

 یوم پیدائش 13 دسمبر 1963


دل کو سنا رہا ہوں میں اک داستانِ خوف

پھر چھا رہا ہے سر پہ مرے آسمانِ خوف


دیوانگی شوق پہ سکتہ سا چھا گیا

راہ جنوں میں مل گئے کچھ کارونِ خوف


خوفِ خدا پہ کرتے تھے تنقید رات دن

آئی وبا تو کانپ اٹھے ناقدانِ خوف


بے خوف پھر رہے تھے زمانے میں سارے لوگ

سب کے دلوں پہ چھا گیا پھر اک جہانِ خوف


جاری ہیں فتنہ سازیاں ایوانِ شاہ میں

اور ڈر کے مر رہے ہیں یہاں صاحبانِ خوف


خوفِ خدا سے دل ہے ہمارا بھرا ہوا

کیا لے گی ہم سے زندگی اب امتحانِ خوف


خوفِ خدا نکل چکا جن کے قلوب سے

 ارشد وہ بن کے بیٹھے ہیں اب ترجمانِ خوف

 

ارشد شرفی


چندر بھان کیفی دہلوی

 یوم پیدائش 1878


کیا حسن ہے یوسف بھی خریدار ہے تیرا

کہتے ہیں جسے مصر وہ بازار ہے تیرا


تقدیر اسی کی ہے نصیبہ ہے اسی کا

جس آنکھ سے کچھ وعدۂ دیدار ہے تیرا


تا زیست نہ ٹوٹے وہ مرا عہد وفا ہے

تا حشر نہ پورا ہو وہ اقرار ہے تیرا


برچھی کی طرح دل میں کھٹکتی ہیں ادائیں

انداز جو قاتل دم رفتار ہے تیرا


کیا تو نے کھلائے چمن بزم میں کیفیؔ

کیا رنگ گل افشائی گفتار ہے تیرا


چندر بھان کیفی دہلوی


رشید قیصرانی

 یوم پیدائش 13 دسمبر 1930


چاہت کا سنسار ہے جھوٹا پیار کے سات سمندر جھوٹ

ساری دنیا بول رہی ہے کتنے سندر سندر جھوٹ


اشکوں کو موتی کہتا ہوں رخساروں کو پھول

میں لفظوں کا سوداگر ہوں میرے باہر اندر جھوٹ


کھوٹے سکے لے کر گھومیں ہم دونوں بازاروں میں

تیری آنکھ کے موتی جھوٹے میرے من کا مندر جھوٹ


میں نے کہا جلووں کا مسکن اجلے چہرے اونچی ذات

سب نے کہا تم سچ کہتے ہو بولا ایک قلندر جھوٹ


دنیا بھر میں ایک حقیقت سچا ایک وجود رشیدؔ

ورنہ سارے جنگل پربت صحرا اور سمندر جھوٹ


رشید قیصرانی


پنڈت برج موہن دتاتریہ کیفی

 یوم پیدائش 13 دسمبر 1866


اک خواب کا خیال ہے دنیا کہیں جسے

ہے اس میں اک طلسم تمنا کہیں جسے


اک شکل ہے تفنن طبع جمال کی

اس سے زیادہ کچھ نہیں دنیا کہیں جسے


خمیازہ ہے کرشمہ پرستئ دہر کا

اہل زمانہ عالم عقبیٰ کہیں جسے


اک اشک ارمیدۂ ضبط غم فراق

موج ہوائے شوق ہے دریا کہیں جسے


باوصف ضبط راز محبت ہے آشکار

عقدہ ہے دل کا عقد ثریا کہیں جسے


برہم زن حجاب ہے خود رفتگی حسن

اک شان بے خودی ہے زلیخا کہیں جسے


عکس صفائے قلب کا جوہر ہے آئینہ

وارفتۂ جمال خود آرا کہیں جسے


رم شیوہ ہے صنم تو ہے رم آشنا یہ دل

حاصل ہے مجھ کو عیش مہیا کہیں جسے


خونی کفن یہ سینت کے رکھا ہے کس لیے

قاتل وہ ہے کہ رشک مسیحا کہیں جسے


سب کچھ ہے اور کچھ بھی نہیں دہر کا وجود

کیفیؔ یہ بات وہ ہے معما کہیں جسے


  پنڈت برج موہن دتاتریہ کیفی


عبد المجید سالک

 یوم پیدائش 13 دسمبر 1894


جو مشت خاک ہو اس خاکداں کی بات کرو

زمیں پہ رہ کے نہ تم آسماں کی بات کرو


کسی کی تابش‌ رخسار کا کہو قصہ

کسی کے گیسوئے عنبر فشاں کی بات کرو


نہیں ہوا جو طلوع آفتاب تو فی الحال

قمر کا ذکر کرو کہکشاں کی بات کرو


رہے گا مشغلۂ یاد رفتگاں کب تک

گزر رہا ہے جو اس کارواں کی بات کرو


یہی جہان ہے ہنگامہ زار سود و زیاں

یہیں کے سود یہیں کے زیاں کی بات کرو


اب اس چمن میں نہ صیاد ہے نہ ہے گلچیں

کرو تو اب ستم باغباں کی بات کرو


عبد المجید سالک


اسد ملتانی

 یوم پیدائش 13 دسمبر 1909


ان عقل کے بندوں میں آشفتہ سری کیوں ہے

یہ تنگ دلی کیوں ہے یہ کم نظری کیوں ہے


اسرار اگر سمجھے دنیا کی ہر اک شے کے

خود اپنی حقیقت سے یہ بے خبری کیوں ہے


سو جلوے ہیں نظروں سے مانند نظر پنہاں

دعویٔ جہاں بینی اے دیدہ وری کیوں ہے


حل جن کا عمل سے ہے پیکار و جدل سے ہے

ان زندہ مسائل پر بحث نظری کیوں ہے


تو دیکھ ترے دل میں ہے سوز طلب کتنا

مت پوچھ دعاؤں میں یہ بے اثری کیوں ہے


اے گل جو بہار آئی ہے وقت خود آرائی

یہ رنگ جنوں کیسا یہ جامہ دری کیوں ہے


واعظ کو جو عادت ہے پیچیدہ بیانی کی

حیراں ہے کہ رندوں کی ہر بات کھری کیوں ہے


ملتا ہے اسے پانی اشکوں کی روانی ہے

معلوم ہوا کھیتی زخموں کی ہری کیوں ہے


الفت کو اسدؔ کتنا آسان سمجھتا تھا

اب نالۂ شب کیوں ہے آہ سحری کیوں ہے


اسد ملتانی


امجد اسلام امجد

 یہ کون آج مِری آنکھ کے حصار میں ہے

مجھے لگا کہ زمیں میرے اختیار میں ہے


چراغِ رنگِ نوا‘ اب کہیں سے روشن ہو

سکوتِ شامِ سفر‘ کب سے انتظار میں ہے


کچھ اِس طرح ہے تری بزم میں یہ دل‘ جیسے

چراغِ شامِ خزاں‘ جشنِ نو بہار میں ہے


مِری حیات کے سارے سفر پہ بھاری ہے

وہ ایک پل جو تری چشمِ اعتبار میں ہے


جو اُٹھ رہا ہے کسی بے نشان صحرا میں

نشانِ منزلِ ہستی اُسی غبار میں ہے


ہماری کشتی ٔ دل میں بھی اب نہیں وہ زور

تمہارے حسن کا دریا بھی اب اُتار میں ہے


کبھی ہے دُھوپ کبھی ابرِ خوش نما امجد

عجب طرح کا تلون مزاجِ یار میں ہے


امجد اسلام امجد


ناز خیالوی

 یوم پیدائش 12 دسمبر 1947 


دل کا ہر زخم جواں ہو تو غزل ہوتی ہے 

درد نس نس میں رواں ہو تو غزل ہوتی ہے 


دل میں ہو شوق ملاقات کا طوفان بپا 

اور رستے میں چناں ہو تو غزل ہوتی ہے 


شوق حسرت کے شراروں سے جلا پاتا ہے 

جان جاں دشمن جاں ہو تو غزل ہوتی ہے 


کچھ بھی حاصل نہیں یک طرفہ محبت کا جناب 

ان کی جانب سے بھی ہاں ہو تو غزل ہوتی ہے 


شوکت فن کی قسم حسن تخیل کی قسم 

دل کے کعبے میں اذاں ہو تو غزل ہوتی ہے 


میں اگر ان کے خد و خال میں کھو جاؤں کبھی 

وہ کہیں ناز کہاں ہو تو غزل ہوتی ہے


ناز خیالوی


مفتی صدرالدین آزردہ

 یوم پیدائش 12 دسمبر 1789


نالوں سے میرے کب تہ و بالا جہاں نہیں

کب آسماں زمین و زمیں آسماں نہیں


آنکھوں سے دیکھ کر تجھے سب ماننا پڑا

کہتے تھے جو ہمیشہ چنیں ہے چناں نہیں


اس بزم میں نہیں کوئی آگاہ درد کب

واں خندہ زیر لب ادھر اشک نہاں نہیں


افسردہ دل نہ ہو در رحمت نہیں ہے بند

کس دن کھلا ہوا در پیر مغاں نہیں


لب بند ہوں تو روزن سینہ کو کیا کروں

تھمتا تو مجھ سے نالۂ آتش عناں نہیں


ملنا ترا یہ غیر سے ہو بہر مصلحت

ہم کو تو سادگی سے تری یہ گماں نہیں


اے دل تمام نفع ہے سودائے عشق میں

اک جان کا زیاں ہے سو ایسا زیاں نہیں


بے وقت آئے دیر میں کیا شورشیں کریں

ہم پیر و پیر میکدہ بھی نوجواں نہیں


کٹتی کسی طرح سے نہیں یہ شب فراق

شاید کہ گردش آج تجھے آسماں نہیں


آزردہؔ ہونٹ تک نہ ہلے اس کے روبرو

مانا کہ آپ سا کوئی جادو بیاں نہیں


مفتی صدرالدین آزردہ


محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...