Urdu Deccan

Thursday, December 30, 2021

شفیق سلیمی

 یوم پیدائش21 دسمبر 1942 


تیز آندھی نے فقط اک سائباں رہنے دیا

ہم زمیں زادوں کے سر پر آسماں رہنے دیا


لفظ وہ برتے کہ ساری بات مبہم ہو گئی

اک پردہ تھا کہ حائل درمیاں رہنے دیا


آنکھ بستی نے سبھی موسم مسافر کر دیے

ایک اشکوں کی روانی کا سماں رہنے دیا


خون کی سرخی اندھیروں میں اجالا بن گئی

ہم نے ہر صورت چراغوں کو جواں رہنے دیا


صد کمال مہربانی پانیوں نے اس دفعہ

کاغذی کشتی کو لہروں پر رواں رہنے دیا


لاکھ کوشش پر بھی گھر کو گھر نہ کر پائے شفیقؔ

اور پھر ہم نے مکاں کو بس مکاں رہنے دیا


شفیق سلیمی


طالب جے پوری

 یوم پیدائش 21 دسمبر 1911


درد دل پیدا کریں یا درد سر پیدا کریں

میری باتیں جانے ان پر کیا اثر پیدا کریں


زندگی ان کی ہے جو گلشن میں اپنے واسطے

آشیاں با وصف صد برق و شرر پیدا کریں


آئیے ہم رہبر و رہزن سے ہو کر بے نیاز

منزل مقصود تک خود رہ گزر پیدا کریں


آ کہ پھر دے کر پیام نو مذاق دید کو

ہر نظر میں ایک دنیائے دگر پیدا کریں


کھل ہی جائے گی حقیقت عالم اضداد کی

دیدۂ دل امتیاز خیر و شر پیدا کریں


ان کو پا کر خود کو کھو دینا تو ہے اک عام بات

ان کو پا کر خود کو پانے کا ہنر پیدا کریں


آہ بے تاثیر میں طالبؔ اثر آ جائے گا

درد دل پیدا کریں درد جگر پیدا کریں


طالب جے پوری


آسی غازی پوری

 یوم پیدائش 21 دسمبر 1834


حرص دولت کی نہ عز و جاہ کی

بس تمنا ہے دل آگاہ کی


درد دل کتنا پسند آیا اسے

میں نے جب کی آہ اس نے واہ کی


کھنچ گئے کنعاں سے یوسف مصر کو

پوچھئے حضرت سے قوت چاہ کی


بس سلوک اس کا ہے منزل اس کی ہے

اس کے دل تک جس نے اپنی راہ کی


واعظو کیسا بتوں کا گھورنا

کچھ خبر ہے ثم وجہ اللٰہ کی


یاد آئی طاق بیت اللہ میں

بیت ابرو اس بت دل خواہ کی


راہ حق کی ہے اگر آسیؔ تلاش

خاک رہ ہو مرد حق آگاہ کی


آسی غازی پوری


ساغر نظامی

 یوم پیدائش 21 دسمبر 1905

دوشاعر ایک مقطع


دشت میں قیس نہیں کوہ پہ فرہاد نہیں

ہے وہی عشق کی دنیا مگر آباد نہیں


رسمِ الفت میں روا شکوۂ بیداد نہیں

یہ تو کم ظرفیِ جذبات سے فریاد نہیں


وہ مری خاک نشینی کے مزے کیا جانے 

جو مری طرح تری راہ میں آباد نہیں


ڈھونڈھنے کو تجھے او میرے نہ ملنے والے

وہ چلا ہے جسے اپنا بھی پتہ یاد نہیں


ایک زنجیرِ طریقت میں بندھے ہیں دونوں

عشقِ پابند سہی حسن بھی آزاد نہیں


عرش والے نہ سنیں سری خدائی سن لے 

اس قدر پست مذاق لبِ فریاد نہیں


روحِ بلبل نے خزاں بن کے اجاڑا گلشن

پھول کہتے رہے ہم پھول ہیں صیاد نہیں


حسن سے چوک ہوئی اس کی ہے تاریخ گواہ

عشق سے بھول ہوئی ہے یہ مجھے یاد نہیں


بربط ماہ پہ مضرابِ فغاں رکھ دی تھی

میں نے اک نغمہ سنایا تھا تمہیں یاد نہیں


قفس بلبل و گل سب ہیں یہ فانوس خیال

کہ تری ذات سے بڑھ کر کوئی صیاد نہیں


لاؤ اک سجدہ کروں عالمِ بدمستی میں

لوگ کہتے ہیں کہ ساغرؔ کو خدا یاد نہیں


ساغر نظامی


ہے دعا یاد مگر حرف دعا یاد نہیں

میرے نغمات کو انداز نوا یاد نہیں


میں نے پلکوں سے در یار پہ دستک دی ہے

میں وہ سائل ہوں جسے کوئی صدا یاد نہیں


میں نے جن کے لیے راہوں میں بچھایا تھا لہو

ہم سے کہتے ہیں وہی عہد وفا یاد نہیں


کیسے بھر آئیں سر شام کسی کی آنکھیں

کیسے تھرائی چراغوں کی ضیا یاد نہیں


صرف دھندلائے ستاروں کی چمک دیکھی ہے

کب ہوا کون ہوا کس سے خفا یاد نہیں


زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے

جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں


آؤ اک سجدہ کریں عالم مدہوشی میں

لوگ کہتے ہیں کہ ساغرؔ کو خدا یاد نہیں


ساغر صدیقی


شبنم رومانی

 یوم پیدائش 20 دسمبر 1928


میں نے کس شوق سے اک عمر غزل خوانی کی

کتنی گہری ہیں لکیریں میری پیشانی کی


وقت ہے میرے تعاقب میں چھپا لے مجھ کو

جوئے کم آب قسم تجھ کو ترے پانی کی


یوں گزرتی ہے رگ و پے سے تری یاد کی لہر

جیسے زنجیر چھنک اٹھتی ہے زندانی کی


اجنبی سے نظر آئے ترے چہرے کے نقوش

جب ترے حسن پہ میں نے نظر ثانی کی


مجھ سے کہتا ہے کوئی آپ پریشان نہ ہوں

مری زلفوں کو تو عادت ہے پریشانی کی


زندگی کیا ہے طلسمات کی وادی کا سفر

پھر بھی فرصت نہیں ملتی مجھے حیرانی کی


وہ بھی تھے ذکر بھی تھا رنگ غزل کا شبنمؔ

پھر تو میں نے سر محفل وہ گل افشانی کی


شبنم رومانی


سنقر سامی

 یوم پیدائش 18 دسمبر


قربتیں دل کو بھگونے کا ہنر بھول گئیں

اب جو برسات ہوئی دشت میں بے حد نہ ہوئی


میں حریفوں کے مٹانے سے کبھی مٹ نہ سکا 

روشنی سایہ ء ظلمات میں بے قد نہ ہوئی


فہم میرا حدِ ادراک سے آگے نکلا  

سوچ میری کسی خانے میں مقید نہ ہوئی


سنقر سامی


مشفق خواجہ

 یوم پیدائش 19 دسمبر 1935


قدم اٹھے تو عجب دل گداز منظر تھا

میں آپ اپنے لیے راستے کا پتھر تھا


دل ایک اور ہزار آزمائشیں غم کی

دیا جلا تو تھا لیکن ہوا کی زد پر تھا


ہر آئینہ مری آنکھوں سے پوچھ لیتا ہے

وہ عکس کیا ہوئے آباد جن سے یہ گھر تھا


ہر اک عذاب کو میں سہ گیا مگر نہ ملا

وہ ایک غم جو مرے حوصلے سے بڑھ کر تھا


یہ وہم تھا کہ مجھے وہ بھلا چکا ہوگا

مگر ملا تو وہ میری ہی طرح مضطر تھا


ہزار بار خود اپنے مکاں پہ دستک دی

اک احتمال میں جیسے کہ میں ہی اندر تھا


تمام عمر کی تنہائیاں سمیٹی ہیں

یہی مرے در و دیوار کا مقدر تھا


اداس رستوں میں پیہم سلگتی صبحوں میں

جو غم گسار تھا کوئی تو دیدۂ تر تھا


مشفق خواجہ


Friday, December 17, 2021

ندیم اعجاز


 یوم پیدائش 18 دسمبر 1974


بدنامیوں کو نام کہو گے کہاں تلک

یوں پستیوں کو بام کہو گے کہاں تلک


اک اہل زر کا کھیل ہے دستورِ مملکت

اِس ظلم کو نظام کہو گے کہاں تلک


ڈھل جائے گی ہاں خود ہی یہ کیوں انتظار ہے

ظلمت کی شب کو شام کہو گے کہاں تلک


یہ جبر کا نظام کہو اب نہیں قبول

یوں تلخیوں کو جام کہو گے کہاں تلک


ندیم اعجاز

یاور ماجد

 یوم پیدائش 18 دسمبر


ہر طور ہر لحاظ سے ہی مرگِ ہست ہو

ہو وہ شکستِ خواب یا خوابِ شکست ہو


لاؤ گگن سے چاندنی جیسی کوئی شراب

پی کر جسے یہ راندۂ ظلمات مست ہو


کرتے ہو ہر پہر ہی شب و روز کا طواف

تم وقت کے پجاری ہو، لمحہ پرست ہو


آؤ ناں پھر سے یاد کی گلیوں کی سیر کو

بارش کی کوئی شب ہو مہینہ اگست ہو


خالی اگر ہے جیب تو افسوس کچھ نہیں

اک سانحہ ہے دِل بھی اگر تنگ دست ہو


یاؔور کہیں یہ اَن کِھلے گل مجھ سے بار بار

قوسِ قزح کے آنے کا کچھ بندوبست ہو


یاور ماجد


اظہر علی ملک

 یوم پیدائش 17 دسمبر 1976


وّفّورِ شوق میں لپٹی ہوئی حسیں آنکھیں

وہ نیل گّوں سے مناظر، وہ سرمگیں آنکھیں


وہ ایک ہجر کہ دہلیزِ جاں تلک پہنچا

نبھاتے اّسے کتنی ہی بہہ گئیں آنکھیں


متاعِ درد جہاں بھر میں بانٹتے نہ تھکیں

 وفا شعار، ہنر مند ، صندلیں آنکھیں

 

پھر اّس کے بعد کسے دیکھنے کی حسرت تھی

تجھی کو دیکھ کے تجھ پہ ہی مر مٹیں آنکھیں


فنا سے دارِ بقا تک ہزار رستے تھے

کسے خبر کہاں کس کس کی کھو چکیں آنکھیں


 نہ جانے کیسے مراحل تلک ہمیں لائیں

 یہ راہِ دل کی مسافت وہ عنبریں آنکھیں


اب اور چاھے بھلا کیا دلِ فقیر منش

نظر میں رکھتی ہیں ہر دم وہ نازنیں آنکھیں


نکل پڑی ہیں تعاقب میں ایک خوشبو کے

نہ جانے کتنے ہی رستوں سے شرمگیں آنکھیں


ہم اپنے فہم و بصارت کو کوستے ہی رہے

نگاہ والوں سے کیا کیا وہ کہہ گئیں آنکھیں


چھلکتے جام و سبو بھی نہ کر سکے اظہر

جو کام جھانکتی چلمن سے کر گئیں آنکھیں


 اظہر علی ملک


محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...