Urdu Deccan

Friday, December 31, 2021

مرزا غالب

 یوم پیدائش 27 دسمبر 1797


سادگی پر اس کی مر جانے کی حسرت دل میں ہے

بس نہیں چلتا کہ پھر خنجر کف قاتل میں ہے


دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا

میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے


گرچہ ہے کس کس برائی سے ولے باایں ہمہ

ذکر میرا مجھ سے بہتر ہے کہ اس محفل میں ہے


بس ہجوم ناامیدی خاک میں مل جائے گی

یہ جو اک لذت ہماری سعیٔ بے حاصل میں ہے


رنج رہ کیوں کھینچیے واماندگی کو عشق ہے

اٹھ نہیں سکتا ہمارا جو قدم منزل میں ہے


جلوہ زار آتش دوزخ ہمارا دل سہی

فتنۂ شور قیامت کس کے آب و گل میں ہے


ہے دل شوریدۂ غالبؔ طلسم پیچ و تاب

رحم کر اپنی تمنا پر کہ کس مشکل میں ہے


مرزا غالب


سلیمان خطیب

 یوم پیدائش 26 دسمبر 1922

نظم چھورا چھوری


بولو خالہ مزاج کیسے ہیں؟

 کتنے برسوں کے بعد آئی ہو؟

مِسّی ہونٹوں پہ آنکھ میں کاجل

جیسے پیغام کوئی لائی ہو؟


لڑکے کی ماں

میرے چھورے کو چھوری ہونا ہے

میرا چھورا تو پکا سونا ہے

تمیں دل میں ذرا نکو سوچو

ہاتھ آیا تو ہیرا سونا ہے

چار لوگاں میں اس کی ابرو ہے

جیسے کیوڑے کے بن میں خوشبو ہے

کھلّے دل کی ہوں سب بتاتی ہوں

کھلّا مکھلاج میں سناتی ہوں

تھوڑا ترپٹ ہے اور لُلّا ہے

سیدھی آنکھی میں اس کی پھلّا ہے

منہ پہ چیچک کے خالی داغاں ہیں

رنگ ڈامر سے ذرّا کھلّا ہے

ناک نقشے کا کِتّا اچھا ہے

میرا بچہ تو بھور بچہ ہے

اس کے دادا بھی سو پہ بھاری تھے

یوں تو کم ذات کے مداری تھے

کنولے جھاڑاں کی سیندھی پیتے تھے

کیا سلیقے کا جینا جیتے تھے

پی کو نکلے تو جھاڑ دیتے تھے

باوا دادا کو گاڑ دیتے تھے

اچھے اچھے شریف لوگاں تھے

جڑ سے پنجے اکھاڑ دیتے تھے

پہلا دروازے بند کرتے تھے

بچے گوداں میں ڈر کو مرتے تھے


لڑکی کی ماں

خالہ!


یہ تو دنیا ہے ایسا ہوتا ہے

کوئی پاتا ہے کوئی کھوتا ہے

ایسے ویسوں کے دن بھی پھرتے ہیں

سر سے شاہوں کے تاج گرتے ہیں

میری بچی تو خیر جیسی ہے

بولو مرضی تمہاری کیسی ہے؟


لڑکے کی ماں


چھوری پھولاں میں پھول دِسنا جی

بھولی صورت قبول دِسنا جی

اس کے لکّھن سے چال نَئِیں پڑنا

چاند پاواں کی دھول دِسنا جی

منہ کو دیکھے تو بھوک مَرجانا 

پیاسی انکھیا سے پیاس مَر جانا

لچکے کمّر تو بید سرمانا

 لپکے چوٹیاں تو ناگ ڈر جانا

زلفاں لوبان کا دھواں دِسنا

لال ہونٹاں کو غنچے مَرجانا

اچھی غنچی ہو اچھا پاؤں ہو

گھر میں لچھمی کے سر کی چھاؤں ہو

ہنڈیا دھونے کی اس کو عادت ہو

بوجھا ڈھونے کی اس کو عادت ہو

سارے گھر بار کو کِھلا دے وہ

بھکّا سونے کی اس کو عادت ہو

پاک سیتا ہو سچّی مائی ہو

پوری اللہ میاں کی گائی ہو

گَلّا کاٹے تو ہنس کے مرجانا

 بیٹی دنیا میں نام کر جانا

باہر والے تو بہت پوچھیں گے

گھر کا بچہ ہے گھر کا زیور دیو

ریڈیو سئیکل تو دنیا دیتِچ ہے

اللہ دے رہا ہے تو ایک موٹر دیو

بہت چیزاں نکّو جی! تھوڑے بس

ایک بنگلہ ہزار جوڑے بس

گھوڑا جوڑا کیا لے کو دھرنا ہے؟ 

خالی 25 لاکھ ہونا ہے


لڑکی کی ماں


تمیں کتّے ذلیل لوگاں ہیں

 تمیں کتّے ذلیل لوگاں ہیں

 

اتنے میں لڑکی کا باپ اندر آتا ہے اور اپنی پگڑی لڑکے کی ماں کے قدموں میں رکھ دیتا ہے اور کہتا ہے:


جس کی بچی جوان ہوتی ہے 

کس مصیبت میں جان ہوتی ہے؟

بوڑھے ماں باپ کے کلیجے پر

 ایک بھاری چٹان ہوتی ہے

بہنیں گھر میں جوان بیٹھی ہیں

 بھائی چپ ہے کہ کہہ نہیں سکتا

ماں تو گھل گھل کے خود ہی مرتی ہے

باپ بیٹی کو سہہ نہیں سکتا

جی میں آتا ہے اپنی بچی کو

اپنے ہاتھوں سے خود ہی دفنا دیں

لال جوڑے تو دے نہیں سکتے 

لال چادر میں کیوں نہ کفنا دیں

یہ بھی دلہن ہے گھر سے جاتی ہے

موت مفلس کو کیا سہاتی ہے

یہ سہاگن ہے اس کو کاندھا دو

ہم نے خونِ جگر سے پالا ہے

اِس کی تربت پہ یہ بھی لکھ دینا

زرپرستوں نے مار ڈالا ہے


سلیمان خطیب


Thursday, December 30, 2021

عین تابش

 یوم پیدائش 26 دسمبر 1958


میری تنہائی کے اعجاز میں شامل ہے وہی

رقص میں ہے دل دیوانہ کہ محفل ہے وہی


یہ الگ بات نہ وہ تمکنت آرا ہے نہ میں

ہے چمن بھی وہی اور شور عنادل ہے وہی


وہی لیلائے سخن اب بھی سراپائے طلسم

میری جاں اب بھی وہی ہے کہ مرا دل ہے وہی


دشت حیرت میں وہی میرا جنوں محو خرام

آ کے دیکھو کہ یہاں گرمی محفل ہے وہی


اس میں جو ڈوب گیا پار اتر جائے گا

موج در موج وہ دریا ہے تو ساحل ہے وہی


آج بھی اس کے مرے بیچ ہے دنیا حائل

آج بھی اس کے مرے بیچ کی مشکل ہے وہی


عین تابش


اعزاز احمد آذر

 یوم پیدائش 25 دسمبر 1942


درخت جاں پر عذاب رت تھی نہ برگ جاگے نہ پھول آئے

بہار وادی سے جتنے پنچھی ادھر کو آئے ملول آئے 


نشاط منزل نہیں تو ان کو کوئی سا اجر سفر ہی دے دو

وہ رہ نورد رہ جنوں جو پہن کے راہوں کی دھول آئے 


وہ ساری خوشیاں جو اس نے چاہیں اٹھا کے جھولی میں اپنی رکھ لیں

ہمارے حصے میں عذر آئے جواز آئے اصول آئے 


اب ایسے قصے سے فائدہ کیا کہ کون کتنا وفا نگر تھا

جب اس کی محفل سے آ گئے اور ساری باتیں ہی بھول آئے 


وفا کی نگری لٹی تو اس کے اثاثوں کا بھی حساب ٹھہرا

کسی کے حصے میں زخم آئے کسی کے حصے میں پھول آئے 


بنام فصل بہار آذرؔ وہ زرد پتے ہی معتبر تھے

جو ہنس کے رزق خزاں ہوئے ہیں جو سبز شاخوں پہ جھول آئے 


اعزاز احمد آذر


لبنی صفدر

 یوم پیدائش 25 دسمبر


موت سے بھی بڑی قیامت ہے

سچ کہوں زندگی قیامت ہے


دُکھ سے کُھلتی نہیں ہیں آنکھیں اب

خواب کی یہ گھڑی قیامت ہے


صاف دکھنے لگے سبھی چہرے

اب یہی روشنی قیامت ہے


راکھ جسموں کی اُڑ رہی ہے اب

عشق کی آگہی قیامت ہے


آج بولے نہیں پرندے بھی

اس قدر خامشی قیامت ہے


لبنیٰ صفدر


رضا ہمدانی

 یوم پیدائش 25 دسمبر 1910


یہ دور مسرت یہ تیور تمہارے

ابھرنے سے پہلے نہ ڈوبیں ستارے


بھنور سے لڑو تند لہروں سے الجھو

کہاں تک چلو گے کنارے کنارے


عجب چیز ہے یہ محبت کی بازی

جو ہارے وہ جیتے جو جیتے وہ ہارے


سیہ ناگنیں بن کے ڈستی ہیں کرنیں

کہاں کوئی یہ روز روشن گزارے


سفینے وہاں ڈوب کر ہی رہے ہیں

جہاں حوصلے ناخداؤں نے ہارے


کئی انقلابات آئے جہاں میں

مگر آج تک دن نہ بدلے ہمارے


رضاؔ سیل نو کی خبر دے رہے ہیں

افق کو یہ چھوتے ہوئے تیز دھارے


رضا ہمدانی


عشرت آفرین

 یوم پیدائش 25 دسمبر 1956


اپنی آگ کو زندہ رکھنا کتنا مشکل ہے 

پتھر بیچ آئینہ رکھنا کتنا مشکل ہے 


کتنا آساں ہے تصویر بنانا اوروں کی 

خود کو پس آئینہ رکھنا کتنا مشکل ہے 


آنگن سے دہلیز تلک جب رشتہ صدیوں کا 

جوگی تجھ کو ٹھہرا رکھنا کتنا مشکل ہے 


دوپہروں کے زرد کواڑوں کی زنجیر سے پوچھ 

یادوں کو آوارہ رکھنا کتنا مشکل ہے 


چلو میں ہو درد کا دریا دھیان میں اس کے ہونٹ 

یوں بھی خود کو پیاسا رکھنا کتنا مشکل ہے 


تم نے معبد دیکھے ہوں گے یہ آنگن ہے یہاں 

ایک چراغ بھی جلتا رکھنا کتنا مشکل ہے 


داسی جانے ٹوٹے پھوٹے گیتوں کا یہ دان 

سمے کے چرنوں میں لا رکھنا کتنا مشکل ہے


عشرت آفرین


شمیم فاروقی

 یوم پیدائش 25 دسمبر 1943


کتاب کون سی ہے اور کس زبان میں ہے

سنا ہے ذکر ہمارا بھی داستان میں ہے


اسی نے دھوپ میں چلنے کی جیت لی بازی

وہ ایک شخص جو مدت سے سائبان میں ہے


زمیں کو جو بھی اگانا ہے وہ اگائے گی

مجھے پتہ ہے مرا رزق آسمان میں ہے


وہ لوٹ آئے تو اپنی بھی کچھ خبر دوں گا

مرے لہو کا پرندہ ابھی اڑان میں ہے


اسے بھی چھوڑ کہ اب حوصلہ نہیں باقی

وہ ایک تیر جو اب تک تری کمان میں ہے


یہیں کہیں نہ کہیں ہے شمیمؔ فاروقی

اگر یقیں میں نہیں ہے تو پھر گمان میں ہے


شمیم فاروقی


سیف زلفی

 یوم پیدائش 25 دسمبر 1934


سائے جو سنگ راہ تھے رستے سے ہٹ گئے

دل جل اٹھا تو خود ہی اندھیرے سمٹ گئے


دن بھر جلے جو دھوپ کے بستر پہ دوستو

سورج چھپا تو چادر شب میں سمٹ گئے


وہ کرب تھا کہ دل کا لہو آنچ دے اٹھا

ایسی ہوا چلی کہ گریبان پھٹ گئے


وہ فکر تھی کہ دیدہ و دل مضمحل ہوئے

وہ گرد تھی کہ گھر کے در و بام اٹ گئے


آئی جو موج پاؤں زمیں پر نہ جم سکے

دریا چڑھا تو کتنے سفینے الٹ گئے


پھیلا غبار غم تو کہیں منہ چھپا لیا

آندھی اٹھی تو گھر کے ستوں سے لپٹ گئے


کہتے تھے جس کو قرب وہی فاصلہ بنا

بدلا جو رخ ندی نے کئی شہر کٹ گئے


گمنام تھے تو سب کی طرف دیکھتے تھے ہم

شہرت ملی تو اپنی خودی میں سمٹ گئے


دستک ہوئی تو دل کا دریچہ نہ کھل سکا

آئے اور آ کے یاد کے جھونکے پلٹ گئے


میں خود ہی اپنی راہ کا پتھر بنا رہا

ہر چند آپ بھی مرے رستے سے ہٹ گئے


دل کو کسی کی یاد کا غم چاٹتا رہا

یوں میری زندگی کے کئی سال گھٹ گئے


زندان غم کا دھیان بھی خنجر سے کم نہ تھا

زنجیر کی کھنک سے مرے پاؤں کٹ گئے


رستے رہیں گے دیدۂ حسرت سے عمر بھر

زلفیؔ جو زخم پائے طلب سے چمٹ گئے


سیف زلفی


فرحت احساس

 یوم پیدائش 25 دسمبر 1952


مرے ثبوت بہے جارہے ہیں پانی میں

کسے گواہ بناؤں سرائے فانی میں


جو آنسوؤں میں نہاتے رہے سو پاک رہے

نماز ورنہ کسے مل سکی جوانی میں


بھڑک اٹھے ہیں پھر آنکھوں میں آنسوؤں کے چراغ

پھر آج آگ لگادی گئی ہے پانی میں


ہمی تھے ایسے کہاں کے کہ اپنے گھر جاتے

بڑے بڑوں نے گزاری ہے بے مکانی میں


بے کنار بدن کون پار کر پایا

بہت چلے گئے سب لوگ اس روانی میں


وصال و ہجر کہ ایک اک چراغ تھے دونوں

سیاہ ہو کے رہے شب کی بے کرانی میں


بس ایک لمس کہ جل جائیں سب خس و خاشاک

اسے وصال بھی کہتے ہیں خوش بیانی میں


کہانی ختم ہوئی تب مجھے خیال آیا

ترے سوا بھی تو کردار تھے کہانی میں


فرحت احساس


محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...