Urdu Deccan

Tuesday, November 1, 2022

تبسم گورو

یوم پیدائش 01 نومبر 1952

ہونٹوں پہ آ گئے ہیں پھر درد کے فسانے
آنکھوں سے بہہ نہ جائے آنسو اسی بہانے
 
خاموشیوں پہ میری وہ ان کا مسکراتا 
یادیں سمیٹ لائیں گذرے ہوئے زمانے 

اللہ لاج رکھنا اب میرے ضبط غم کی
وہ آ رہے ہیں اپنا درد نہاں سنانے

زخموں پہ کیوں نمک تم آخر چھڑک رہے ہو
پرسش کو آئے ہو یا آئے ہو مسکرانے

پھر تازہ کر دئے ہیں آثار گلستان نے
جائیں کہاں تبسم زخموں کو ہم چھپانے

تبسم گورو



عطا عابدی

یوم پیدائش 01 نومبر 1962

تماشا زندگی کا روز و شب ہے 
ہماری آنکھوں کو آرام کب ہے 

چمکتی ہے تمنا جگنوؤں سی 
اندھیری رات میں رونق عجب ہے 

ضرورت ڈھل گئی رشتے میں ورنہ 
یہاں کوئی کسی کا اپنا کب ہے 

زباں ہی تیرا سرمایہ ہے لیکن 
عطاؔ خاموش یہ جائے ادب ہے

عطا عابدی



کامل شطاری

یوم وفات 01 نومبر 1976

رسول‌ اللہ سے نسبت پے قسمت ناز کرتی ہے
در اقدس کے سجدوں پر عبادت ناز کرتی ہے

تمہاری ذات والا سے شرف ہے نسل آدم کو
تمہی وہ ہو کہ جس پر آدمیت ناز کرتی ہے

شرافت ہی شرافت تھی مکمل زندگی جس کی
اسی پر اب بھی دنیا شرافت ناز کرتی ہے

کہیں کیا اوس کی پاکی کے لئے الفاظ عاجز ہیں
کہ جس کے گھر کے لوگوں پر طہارت ناز کرتی ہے

تمہاری پاک سیرت نے دکھائے ہیں مقام ایسے
جہاں انسان پر انساں کی عظمت ناز کرتی ہے

میرے عصیاں نے دامن میرا باندھا اوس کے دامن سے
کہ جس کی ذات اقدس پر شفاعت ناز کرتی ہے

وہ دیکھو جمع ہیں سب انبیا میدان محشر میں
انہیں میں وہ بھی ہے جس پر رسالت ناز کرتی ہے

اک انساں اور پھر اتنے مکمل خد و خال اس کے
حسیں منہ تک رہے ہیں اور قدرت ناز کرتی ہے

مئے حب نبی کا کیف ہو جاتا ہے جب کاملؔ
محبت کرنے والے پر محبت ناز کرتی ہے

کامل شطاری



علقمہ شبلی

یوم پیدائش 01 نومبر 1930

زندگی سے مری اس طرح ملاقات ہوئی 
لب ہلے آنکھ ملی اور نہ کوئی بات ہوئی 

درد کی دھوپ نہیں یاد کا سایہ بھی نہیں 
اب تو قسمت میری بے رنگئ حالات ہوئی 

صرف کل ہی نہیں اس دور میں بھی دیدہ وری 
نذر اوہام ہوئی صید روایات ہوئی 

کل تو محور تھے مری ذات کے یہ کون و مکاں 
کائنات آج جو سمٹی تو مری ذات ہوئی 

سر کو پھوڑا کئے پتھر سے سمندر سے لڑے 
صبح یوں شام ہوئی شام سے یوں رات ہوئی 

گھر مرا دیکھ لیا سیل بلا نے شبلیؔ 
آگہی کیا ہوئی اک درد کی سوغات ہوئی

علقمہ شبلی



غیاث متین

یوم پیدائش 01 نومبر 1942

بارش ہوگی تو بارش میں دونوں مل کر بھیگیں گے 
ریت پہ ایک مسافر کا گھر اور سمندر بھیگیں گے 

اچھا میں ہارا تم جیتے آگے کی اک بات سنو 
اب کے برس جب بارش ہوگی سوچ سمجھ کر بھیگیں گے 

دھوپ کا اک ٹکڑا کیوں میرے سر پر سایہ کرتا ہے 
کیا مجھ کو منظر سے ہٹا کر سارے منظر بھیگیں گے 

کاغذ کی اک کشتی لے کر بارش میں کیوں نکلے ہو 
بھولے بسرے بچپن کی یادوں کے پیکر بھیگیں گے 

اچھے لوگوں کی بستی میں تم کیوں رہنے آئے ہو 
یاں ہونٹوں پر پھول کھلیں گے خون میں خنجر بھیگیں گے 

اس دن کی جب بارش ہوگی کون بچے گا ہم سفرو 
پھول پرند چراغ جزیرے کنکر پتھر بھیگیں گے 

اک فانوس ہے جس میں اپنی روح متینؔ سلگتی ہے 
بھیگنا جب ٹھہرا تو اسی فانوس کے اندر بھیگیں گے

غیاث متین



Sunday, October 30, 2022

ڈاکٹر نذیر قیصر

یوم پیدائش 30 اکتوبر 1922

سکوتِ شام میں جب کائنات ڈھلتی ہے
کسی کی یاد خیالوں کے رُخ بدلتی ہے

مری نگاہ نے وہ محفلیں بھی دیکھی ہیں
جہاں چراغ کی لَو تیرگی اُگلتی ہے

بڑھا ہے جب سے بہاروں کی سمت دامنِ شوق
خزاں بھی سرحدِ گلشن سے بچ کے چلتی ہے

ابھی سے راہزنوں کے سلوک پر تنقید
ابھی تو مشعلِ رہبر لہُو سے جلتی ہے

اب اور کون سنے گا صدائے زخم بہار
صبا بھی پیکرِ گلشن پہ خاک ملتی ہے

نہ جانے کس لیے گُھٹنے لگا ہے دم قیصرؔ
سماں بھی مہکا ہوا ہے ‘ ہوا بھی چلتی ہے

ڈاکٹر نذیر قیصر


 

ارشاد جالندھری

یوم وفات 30 اکتوبر 2015

خزاؤں میں تجھے پھولوں کی رانی لکھ رہا ہوں میں
بہاروں کو ترا عہدِ جوانی لکھ رہا ہوں میں

تری یادیں جو لکھتا ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے
کہ جیسے کوئی اپنی ہی کہانی لکھ رہا ہوں میں

فریبِ جستجو ہے یا اسے ذوقِ نظر سمجھوں
جو دانستہ سرابوں کو بھی پانی لکھ رہا ہوں میں

ذرا سا مسکرا کر تم بڑھا دو حوصلہ میرا
کہ چہرۂ خزاں پر گلفشانی لکھ رہا ہوں میں

یہ دنیا جو بھی کہتی ہے کہے اس کا کسے ڈر ہے
نہیں تیرا کہیں بھی کوئی ثانی لکھ رہا ہوں میں

کوئی تو ہوگی مجبوری کوئی تو ہے سبب آخر
کہ تیرے ہر ستم کو مہربانی لکھ رہا ہوں میں

وہی پر کیف لمحے جو گذارے تیری قربت میں
انہی لمحوں کو اپنی زندگانی لکھ رہا ہوں میں

گل و غنچہ ،صبا خوشبو، کرن شبنم، سحر نغمہ
یہ سب تیرے سراپا کے معانی لکھ رہا ہوں میں

بسا ارشاد یوں آنکھوں میں وہ اک پھول سا چہرہ
کہ زخموں کو سکونِ زندگانی لکھ رہا ہوں میں

ارشاد جالندھری


 

صابر براری

یوم پیدائش 30 اکٹوبر 1928

شہر میں تیرے مرا کوئی شناسا بھی نہیں 
کون ہوں میں یہ کسی شخص نے پوچھا بھی نہیں 

حسن مغرور کو آنکھوں میں بسایا بھی نہیں 
حرص کا زہر مری روح میں اترا بھی نہیں 

اس کی یادوں سے منور ہوئی دل کی دنیا 
چاند ایسا جو ابھی ابر سے نکلا بھی نہیں 

اپنی مرضی سے قفس ہم نے چنا تھا صیاد 
اس لئے تیرے ستم کا ہمیں شکوہ بھی نہیں 

دور دورہ ہے یہاں جور و جفا کا لیکن 
دوستو اہل وفا شہر میں عنقا بھی نہیں 

گلستاں کیسے تجھے سونپ دیں اے دشمن گل 
اس میں شامل تو ترے خون کا قطرہ بھی نہیں 

ناخدا غیر کی کشتی کا تجھے کیوں غم ہے 
دور گرداب سے کچھ تیرا سفینہ بھی نہیں 

پارسا گو کہ نہیں صابرؔ خستہ لیکن 
آپ جیسا اسے سمجھے ہیں تو ویسا بھی نہیں

صابر براری

آصف شفیع

یوم پیدائش 29 اکتوبر 1973

اور اب یہ دل بھی میرا مانتا ہے 
وہ میری دسترس سے ماورا ہے
 
چلو کوئی ٹھکانہ ڈھونڈتے ہیں 
ہوا کا زور بڑھتا جا رہا ہے 

مرے دل میں ہے صحراؤں کا منظر 
مگر آنکھوں سے چشمہ پھوٹتا ہے 

صدا کوئی سنائی دے تو کیسے 
مرے گھر میں خلا اندر خلا ہے 

زمانہ ہٹ چکا پیچھے کبھی کا 
اور اب تو صرف اپنا سامنا ہے 

میں چپ ہوں اب اسے کیسے بتاؤں 
کوئی اندر سے کیسے ٹوٹتا ہے

آصف شفیع


 

شیخ عبداللطیف تپش

یوم پیدائش 29 اکتوبر 1895

موت آتی نہیں قرینے کی 
یہ سزا مل رہی ہے جینے کی 

مے سے پرہیز شیخ توبہ کرو 
اک یہی چیز تو ہے پینے کی 

تمہیں کہتا ہے آئنہ خودبیں 
باتیں سنتے ہو اس کمینے کی 

ہو گیا جب سے بے نقاب کوئی 
شمع روشن نہ پھر کسی نے کی 

چشم تر آبرو تو پیدا کر 
یوں نہیں بجھتی آگ سینے کی 

اہل دنیا سے کیا بدی کا گلا 
اے تپشؔ تو نے کس سے کی نیکی

شیخ عبداللطیف تپش


 

محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...