Urdu Deccan

Sunday, March 28, 2021

اسامہ بابر ماحی

 ایک چہرہ کل سے آنکھوں میں سمایا ساقیا

ایک مدت بعد جس نے ہے سلایا ساقیا


کیا لکھوں تعریف میں اس مہ جبیں کے حسن کی

خوب فرصت سے جسے رب نے بنایا ساقیا


اس کی آنکھیں جھیل سی تھیں ڈوبنے کو من کیا

مجھ کو آکر کس لئے تو نے بچایا ساقیا


ہونٹ اس کے سرخی مائل پھول سا نازک مزاج

مجھ کو آکر تتلیوں نے سب بتایا ساقیا


جب سے اس کو دیکھا ہے، مجھ کو نہ جانے کیا ہوا

بھول بیٹھا ہوں میں اپنا اور پرایا ساقیا


بھول جانا یادِ ماضی کتنا مشکل تھا مگر

بھول جانے کا ہنر اس نے سکھایا ساقیا


اسامہ بابر ماحی


راغب مرادآبادی

 یوم پیدائش 27 مارچ 1918


ہٹ جائیں اب یہ شمس و قمر درمیان سے

میری زمیں ملے گی گلے آسمان سے


سینے میں ہیں خلا کے وہ محفوظ آج بھی

جو حرف ادا ہوئے ہیں ہماری زبان سے


وہ میرے ہی قبیلے کا باغی نہ ہو کہیں

اک تیر ادھر کو آیا ہے جس کی کمان سے


صیاد نے کیا ہے اسی کو اسیر دام

طائر جو دل گرفتہ رہا ہے اڑان سے


ناکامیوں نے اور بڑھائے ہیں حوصلے

گزرا ہوں جب کبھی میں کسی امتحان سے


کہلائے جس میں رہ کے ہمیشہ کرایہ دار

کیا انس ہو مکین کو ایسے مکان سے


کیوں پیروی پہ ان کی ہو مائل مرا دماغ

غالبؔ کے ہوں نہ میرؔ کے میں خاندان سے


راغبؔ بہ احتیاط ہی لازم ہے گفتگو

دشمن کو بھی گزند نہ پہنچے زبان سے


راغب مرادآبادی


صفیہ شمیم

 یوم پیدائش 27 مارچ 1920


وہ حسرت بہار نہ طوفان زندگی

آتا ہے پھر رلانے کو ابر بہار کیوں


آلام و غم کی تند حوادث کے واسطے

اتنا لطیف دل مرے پروردگار کیوں


جب زندگی کا موت سے رشتہ ہے منسلک

پھر ہم نشیں ہے خطرۂ لیل و نہار کیوں


جب ربط و ضبط حسن محبت نہیں رہا

ہے بار دوش ہستئ ناپائیدار کیوں


رونا مجھے خزاں کا نہیں کچھ مگر شمیمؔ

اس کا گلہ ہے آئی چمن میں بہار کیوں


صفیہ شمیم


زوار قمر عابدی

 یوم پیدائش 26 مارچ


وہ جو اترا تھا میری روح میں خوشبو بن کر

اب میری آنکھ سے ٹپکا ہے وہ آنسو بن کر


کرجیاں خواب ہیں تعبیر ہے ریزہ ریزہ

رقصِ تقدیر میں ٹوٹا ھوں میں گھنگرو بن کر


یاد کرتا ہوں تو اطراف مہک اٹھتے ہیں 

جیسے وہ آپ ہی آجاتا ہے خوشبو بن کر


گھیرے رکھتے ہیں مجھے یوں تیری یاوں کے حصار

بام و دیوار بھی ملتے ہیں مجھے تو بن کر


ہائے اُس دوش پہ وہ رات سے کالی زلفیں

جن پہ خورشید بھی منڈلائے ہے جگنو بن کر 


جنسِ بازار سمجھتے ہیں مجھے لوگ قمر 

جو بھی ملتا ہے وہ ملتا ہے ترازو بن کر 


زوار قمر عابدی


کہکشاں تبسم

 یوم پیدائش 26 مارچ 1960


ہمیں خانوں میں مت بانٹو

کہ ہم تو روشنی ٹھہرے

کسی دہلیز پر جلتے ہوئے شب بھر

کسی کا راستہ تکتے

چراغوں سے بھی آگے ہے جہاں اپنا

اجالوں کی کمک لے کر

اندھیرے کی صفوں کو چیر جاتے ہیں

یہ جگنو چاند اور تارے

ہماری صورتیں جیسے

ہمیں خانوں میں مت بانٹو

ہوا ہیں ہم

بھلا دیوار و در میں قید کیا ہوں گے

سنہری صبح ڈھلتی شام کی راحت ہمیں سے ہے

ہمیں میزان پر رکھنے سے پہلے

تولنے سے قبل اتنا سوچ لینا ہے

ہمارا بوجھ تیری بند مٹھی میں دبی رسی

اٹھائے گی بھلا کیسے

کہ ہم تو شش جہت میں

جس طرف نظریں اٹھاؤ

دیکھ لو پھیلی ہوئی بکھری ہوئی ہم کو

کہ ہم تو زندگی ہیں


کہکشاں تبسم


سراج الدین ظفر

 یوم پیدائش 25 جنوری 1912


میں نے کہا کہ تجزیۂ جسم و جاں کرو

اس نے کہا یہ بات سپرد بتاں کرو


میں نے کہا کہ بہار ابد کا کوئی سراغ

اس نے کہا تعاقب لالہ رخاں کرو


میں نے کہا کہ صرف دل رائیگاں ہے کیا

اس نے کہا آرزوئے رائیگاں کرو


میں نے کہا کہ عشق میں بھی اب مزا نہیں

اس نے کہا کہ از سر نو امتحاں کرو


میں نے کہا کہ اور کوئی پند خوش گوار

اس نے کہا کہ خدمت پیر مغاں کرو


میں نے کہا ہم سے زمانہ ہے سر گراں

اس نے کہا کہ اور اسے سر گراں کرو


میں نے کہا کہ زہد سراسر فریب ہے

اس نے کہا یہ بات یہاں کم بیاں کرو


میں نے کہا کہ حد ادب میں نہیں ظفرؔ

اس نے کہا نہ بند کسی کی زباں کرو


سراج الدین ظفر


حامد حسن قادری

 یوم پیدائش 25 مارچ 1887

نظم پیارا دیس


دیس اپنا ہم کو پیارا کیوں نہ ہو 

دل فدا اس پر ہمارا کیوں نہ ہو 


''ہند'' سے بڑھ کر نہیں کوئی زمین 

گو جہاں جنت ہی سارا کیوں نہ ہو 


کہتے ہیں جس چیز کو آب حیات 

پھر وہ شے گنگا کی دھارا کیوں نہ ہو 


جس نے پھیلایا جہاں میں نور علم 

آنکھ کا دنیا کی تارا کیوں نہ ہو 


کب مٹا سکتا ہے ہم کو آسماں 

گو وہ دشمن ہی ہمارا کیوں نہ ہو

 

ہندو و مسلم کو لڑتے دیکھ کر 

رنج سے دل پارا پارا کیوں نہ ہو 


ہم نے یہ مانا کبھی لڑ بھی لیے 

از سر نو بھائی چارہ کیوں نہ ہو

 

کیوں نہ ہو الفت عداوت کیوں رہے 

دشمنی کیوں ہو مدارا کیوں نہ ہو


ہم ہیں ہندوستان کے سچے سپوت

دیس کی خدمت گوارا کیوں نہ ہو


حامد حسن قادری


سائل دہلوی

 یوم پیدائش 25 مارچ 1864


ہوتے ہی جواں ہو گئے پابند حجاب اور

گھونگھٹ کا اضافہ ہوا بالائے نقاب اور


جب میں نے کہا کم کرو آئین حجاب اور

فرمایا بڑھا دوں گا ابھی ایک نقاب اور


پینے کی شراب اور جوانی کی شراب اور

ہشیار کے خواب اور ہیں مدہوش کے خواب اور


گردن بھی جھکی رہتی ہے کرتے بھی نہیں بات

دستور حجاب اور ہیں انداز حجاب اور


پانی میں شکر گھول کے پیتا تو ہے اے شیخ

خاطر سے ملا دے مری دو گھونٹ شراب اور


ساقی کے قدم لے کے کہے جاتا ہے یہ شیخ

تھوڑی سی شراب اور دے تھوڑی سی شراب اور


سائلؔ نے سوال اس سے کیا جب بھی یہ دیکھا

ملتا نہیں گالی کے سوا کوئی جواب اور


سائل دہلوی


ریاض خارم

 شمع دل تم بجھانے آئے تھے

دولتِ دل چرانے آئے تھے


زندگی ساتھ لے کے میری جاں

ہم تو تجھ سے نبھانے آئے تھے


غیر سے مل کے وہ بدل گئی تھی

پھر بنانے بہانے آئے تھے


کیا ستم تھے مرے مقدر میں

دوست مجھ کو مٹانے آئے تھے


اپنا سب کچھ سمجھ لیا تھا اسے

کیسے کیسے زمانے آئے تھے


پیار کا نام پھر لیا نہ کبھی

ہوش ایسے ٹھکانے آئے تھے


ریاض حازم


عبد الماجد عادل آبادی

 نہیں کرتے جو لوگ اوروں کی عزت

اٹھانی پڑےگی انھیں خودبھی ذلت


شمار انکا بھی کجیے ظالموں میں

کہ کرتے ہیں جو ظالموں کی حمایت


وہ اک قصۂِ غم ہی پڑھتے رہے ہم

نہ بدلے ہے راوی نہ بدلے روایت


نگاہیں ملانا ملاکر چرانا

 یہ معصومیت ہے یا کوئی شرارت


تم اک بار بولی لگاکر تو دیکھو

بکے گی صحافت عدالت حکومت


خدا دے گا بے شک تمہیں اس کا بدلا

کرو کام کوئی رکھو صاف نیت


یوں بیٹھے بٹھائے نہیں ملتا کچھ بھی

کہا سچ کسی نے ہے حرکت میں برکت


مزاج اپنا ہے دوستو سیدھا سادا

کہ کرتے نہیں ہم کسی سے سیاست


بڑا ہے وہ سب سے بڑی شان اس کی

بیاں کرسکے نہ کوئی اس کی عظمت


کسی کو بھی اپنے سے کم ترسمجھنا

حماقت ہے ہرگز نہ کرنا حماقت


حقیقت میں ہیں صاحبِ زر وہی لوگ

جنھیں مل گئی ہے ہدایت کی دولت


کٹے زیست حکمِ خدا کے مطابق

نہ ہو کام کوئی خلافِ شریعت


میں شاعر ہوں میرا فریضہ ہے ماجؔد

بیاں کرنا ہر دم حقیقت صداقت


عبدالماجد عادل آبادی


محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...