Urdu Deccan

Wednesday, April 14, 2021

امتیاز علی نظر

 یوم پیدائش 09 اپریل 1957


تم کو یہ پھول کسی کو یہ قمر لگتا ہے

فرق آنکھوں کا یہ قدرت کا ہنر لگتا ہے


سمجھو ایماں کی حرارت ہے ابھی بھی باقی

کچھ تو احساس برائی کا اگر لگتا ہے


سر یہ جھکتا ہے عبادت کے لئے بھی لیکن

دل کہیں ہے تو کہیں پر مرا سر لگتا ہے


ظلم ہوتا ہے  پہ  ظالم نہیں ملتا کوئی

سب بری ہوتے ہیں انصاف سے ڈر لگتا ہے


موت آتی ہے اسے اور نہ شفا ہی ملتی

یہ تو مظلوم کی آہوں کا اثر لگتا ہے


جرم کرتا ہے کوئی بنتا ہے مجرم کوئی

قتل انصاف کا مجھ کو یہ نظر لگتا ہے


امتیاز علی نظر


منیر نیازی

 یوم پیدائش 09 اپریل 1928


بے چین بہت پھرنا گھبرائے ہوئے رہنا

اک آگ سی جذبوں کی دہکائے ہوئے رہنا


چھلکائے ہوئے چلنا خوشبو لب لعلیں کی

اک باغ سا ساتھ اپنے مہکائے ہوئے رہنا


اس حسن کا شیوہ ہے جب عشق نظر آئے

پردے میں چلے جانا شرمائے ہوئے رہنا


اک شام سی کر رکھنا کاجل کے کرشمے سے

اک چاند سا آنکھوں میں چمکائے ہوئے رہنا


عادت ہی بنا لی ہے تم نے تو منیرؔ اپنی

جس شہر میں بھی رہنا اکتائے ہوئے رہنا


منیر نیازی


ڈاکٹر شاہد

 یوم پیدائش 08 اپریل 1981


تھا زخم خوردہ ہر اک جس پری کی آنکھوں کا

نشانہ بن گئے ہم بھی اسی کی آنکھوں کا


یہ بات کہہ دے کوئی جاکے ان سے انکے بغیر

ادھورا خواب ہوں میں زندگی کی آنکھوں کا


نہ جانے کب کہاں کس وقت یہ بدل جائیں

بھروسہ کچھ بھی نہیں آدمی کی آنکھوں کا


کہ موج بن کے کبھی دل میں جسکے رہتا تھا

میں خشک دریا ہوں شاید اسی کی آنکھوں کا


ڈاکٹر شاہد


علی اسد لاشاری

 یوم پیدائش 08 اپریل 1986

 

میں کہہ رہا ہوں اسے بتاؤ تمہارے جیسا کہیں نہیں ہے

غزال آنکھوں کو مت چھپاؤ تمہارے جیسا کہیں نہیں ہے

 

تمہیں خبر ہے تمہارے ہونٹوں کا تل بھی شاید اداس ہوگا 

زرا سا تم بھی تو مسکراؤ تمہارے جیسا کہیں نہیں ہے

 

طویل مدت سے سن رہا ہوں تمہارے قدموں کی چاپ میں بھی 

تمہیں قسم ہے کہ لوٹ آؤ تمہارے جیسا کہیں نہیں ہے 


یہ خواہش ِ وصل جانے کب سے ہمارے دل میں مچل رہی تھی 

سو جب بھی آؤ گلے لگاؤ تمہارے جیسا کہیں نہیں ہے


چلا گیا ہے تو کیا ہوا ہے تم اس کی خاطر حسین لڑکی

یہ اشک اپنے نہ یوں بہاؤ تمہارے جیسا کہیں نہیں ہے 


علی اسد لاشاری


صادقہ نواب سحر

 تمہاری یاد میں ڈوبے کہاں کہاں سے گئے

ہم اپنے آپ سے بچھڑے کہ سب جہاں سے گئے


نئی زمین کی خواہش میں ہم تو نکلے تھے

زمین کیسی یہاں ہم تو آسماں سے گئے


زمانے بھر کو سمیٹا تھا اپنے دامن میں

پلٹ کے دیکھا تو خود اپنے ہی مکاں سے گئے


یہ کھوٹے سکے ہیں الفاظ اس صدی کی سنو

یہ ان کا دور نہیں یہ تو اس جہاں سے گئے


سحر فضول کی خواہش ہے زندگی جینا

مرے تو لوگ نہ جانیں گے کس جہاں سے گئے


صادقہ نواب سحر


ناصر زیدی

 یوم پیدائش 08 اپریل 1943


وہ ایک شخص کہ جس سے شکایتیں تھیں بہت

وہی عزیز اسی سے محبتیں تھیں بہت


وہ جب ملا تو دلوں میں کوئی طلب ہی نہ تھی

بچھڑ گیا تو ہماری ضرورتیں تھیں بہت


ہر ایک موڑ پہ ہم ٹوٹتے بکھرتے رہے

ہماری روح میں پنہاں قیامتیں تھیں بہت


پہنچ گئے سر منزل تری تمنا میں

اگرچہ راہ کٹھن تھی صعوبتیں تھیں بہت


وہ یوں ملا ہے کہ جیسے کبھی ملا ہی نہ تھا

ہماری ذات پہ جس کی عنایتیں تھیں بہت


ہمیں خود اپنے ہی یاروں نے کر دیا رسوا

کہ بات کچھ بھی نہ تھی اور وضاحتیں تھیں بہت


ہمارے بعد ہوا اس گلی میں سناٹا

ہمارے دم سے ہی ناصرؔ حکایتیں تھیں بہت


ناصر زیدی


علیم اسرار

 تابِ نظر کہ سانسوں کا ارتعاش دیکھوں 

کیسے حسین پیکر کی میں تراش دیکھوں 


عادت بری مگر یہ عادت ہے میری اپنی

پہلو کسی بھی منظر کا دلخراش دیکھوں


موجود ہر طرف ہر ہر جگہ ہے تو ہی تو

کیونکر بتا میں اوروں کے بود و باش دیکھوں 


ہے کیا عجب تماشا بتلا اے رہبرِ جاں 

فرقت میں اور کتنے دل پاش پاش دیکھوں 


کردے قریب منزل یا پھر تو رہبری کر 

بے سمت راستوں کی کب تک تلاش دیکھوں 


سب کاروبار ہیں الٹے دھندے ہیں سارے چوپٹ

مسند نشین کو میں دستِ فراش دیکھوں 


اسرار گرچہ ایسا ممکن نہیں ہے لیکن 

کہتی ہے حسرتِ دل جلوہ اے کاش دیکھوں 


علیم اسرار


طاہر

 زندگی نے جب آکر ، کچھ سوال رکھے تھے

ہم نے اپنے لفظوں پر فتوے ڈال رکھے تھے


رابطے محبت میں ، وصل کے تناسب سے

اُس نے میرے حصے میں ، خال خال رکھے تھے


اس سفر کی راہوں میں ، سسکیاں ہیں آہیں ہیں

ہم نے اُن کے آگے یہ ، سب ملال رکھے تھے


ضابطے بھی کیسے اُس ، لازوال بندھن نے

باکمال رکھے تھے ، بے مثال رکھے تھے


ڈس رہے ہیں گر ہم کو ، اِس میں کیا تعجب ہے

ہم نے آستینوں میں ، سانپ پال رکھے تھے


چاہتوں کے سب تحفے ، ہم نے ساتھ میں طاھر

خوش جمال رکھے تھے ،خوش خیال رکھے تھے


طاھر


کشمیری لال ذاکر

 یوم پیدائش 07 اپریل 1919


یہ اور بات کہ آگے ہوا کے رکھے ہیں

چراغ رکھے ہیں جتنے جلا کے رکھے ہیں


نظر اٹھا کے انہیں ایک بار دیکھ تو لو

ستارے پلکوں پہ ہم نے سجا کے رکھے ہیں


کریں گے آج کی شب کیا یہ سوچنا ہوگا

تمام کام تو کل پر اٹھا کے رکھے ہیں


کسی بھی شخص کو اب ایک نام یاد نہیں

وہ نام سب نے جو مل کر خدا کے رکھے ہیں


انہیں فسانے کہو دل کی داستانیں کہو

یہ آئینے ہیں جو کب سے سجا کے رکھے ہیں


خلوص درد محبت وفا رواداری

یہ نام ہم نے کسی آشنا کے رکھے ہیں


تمہارے در کے سوالی بنیں تو کیسے بنیں

تمہارے در پہ تو کانٹے انا کے رکھے ہیں


کشمیری لال ذاکر


فیصل عجمی

 یوم پیدائش 07 اپریل 1951


تیری آنکھیں نہ رہیں آئینہ خانہ مرے دوست

کتنی تیزی سے بدلتا ہے زمانہ مرے دوست


جانے کس کام میں مصروف رہا برسوں تک

یاد آیا ہی نہیں تجھ کو بھلانا مرے دوست


پوچھنا مت کہ یہ کیا حال بنا رکھا ہے

آئینہ بن کے مرا دل نہ دکھانا مرے دوست


اس ملاقات میں جو غیر ضروری ہو جائے

یاد رہتا ہے کسے ہاتھ ملانا مرے دوست


دیکھنا مجھ کو مگر میری پذیرائی کو

اپنی آنکھوں میں ستارے نہ سجانا مرے دوست


اب وہ تتلی ہے نہ وہ عمر تعاقب والی

میں نہ کہتا تھا بہت دور نہ جانا مرے دوست


ہجر تقدیر میں لکھا تھا کہ مجبوری تھی

چھوڑ اس بات سے کیا ملنا ملانا مرے دوست


تو نے احسان کیا اپنا بنا کر مجھ کو

ورنہ میں کیا تھا حقیقت نہ فسانہ مرے دوست


اس کہانی میں کسے کون کہاں چھوڑ گیا

یاد آ جائے تو مجھ کو بھی بتانا مرے دوست


چھوڑ آیا ہوں ہواؤں کی نگہبانی میں

وہ سمندر وہ جزیرہ وہ خزانہ مرے دوست


ایسے رستوں پہ جو آپس میں کہیں ملتے ہوں

کیوں نہ اس موڑ سے ہو جائیں روانہ مرے دوست


فیصل عجمی


محمد دین تاثر

 یوم پیدائش 28 فروری 1902 غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں عشق...